ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

اک ستارہ تھی میں -قسط6 – بتول مارچ ۲۰۲۳

پوّن گرفتار ہو چکی ہے ۔ بی بی شدید بے چینی اور گھبراہٹ کاشکار ہیں ۔ تھانے داران کے سامنے پون کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر کرتا ہے اور یہ بھی کہ اس سارے معاملے کو اب خفیہ والے دیکھیں گے ۔ زرک صلاح الدین جس کا تعلق ایک خفیہ ادارے سے ہے ، اس پر اس کا کوئی دشمن سوتے میں حملہ کرتا ہے مگر وہ بچ جاتا ہے ۔ پون کا نام سن کر اسے شک ہوتا ہے کہ یہ لڑکی یونیورسٹی میں اس کی کلاس فیلو تھی ۔ وہ اس سے تفتیش کے بہت سخت انداز اختیار کرتاہے ۔ جب وہ اس کے سیل سے باہر جاتاہے تو پون جو شدید خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہے بے ہوش ہوجاتی ہے۔

وہ بڑی دیر سے اپنی پسندیدہ راکنگ چیئر پر بیٹھا آگے پیچھے جھول رہا تھا ۔ نظریں سامنے دیوار پر مگر ذہن دور کہیں بہت پیچھے جا چکا تھا۔جب سے وہ آفس سے آیا تھا اسی طرح بیٹھا تھا کپڑے نہیں بدلے تھے جوتے تک نہیں اُتارے تھے جیسے ابھی کہیں اٹھ کر چل دے گا ۔
’’ صاحب کھانا ابھی لگا دوں یا تھوڑی دیر تک کھائیں گے ؟‘‘ شاہد اس کا ملازم اس کے پاس کھڑا پوچھ رہا تھا ۔
’’ہاں…نہیں ‘‘ اس کا ذہن اُس کی آواز پر جیسے بڑی دور سے سفر کرتا ہؤا واپس آیا تھا ۔’’ ابھی بھوک نہیں تم جانا چاہو تو چلے جائو میں بعد میں خود ہی کھا لوں گا ‘‘۔
شاہد چھ بجے تک اپنے گھر چلا جاتا تھا وہی اس کے گھر اور دوسرے تمام معاملات کی دیکھ بھال کرتا تھا ، کھانا بھی وہی بناتا تھا ۔ ایک صفائی والی ہفتے میں تین دن آتی تھی اس سے صفائی بھی کرواتا تھا ۔
’’ ٹھیک ہے صاحب پھر میں چلتا ہوں اب صبح ہی آئوں گا ‘‘۔
’’ ہاں تم جائو ‘‘۔
’’ بھائی آپ کا زخم اب کیسا ہے ؟‘‘ اُسے اچانک خیال آیا تھا ۔
’’ اب ٹھیک ہے میں دفتر سے واپسی پر ڈاکٹر کے پاس گیا تھا ‘‘۔
’’ اچھا سنو‘‘ اُس نے اُسے جاتے ہوئے پکارا ’’ آج کیا تاریخ ہے ؟‘‘
’’ جی اٹھائیس‘‘ وہ سوچتے ہوئے بولا تھا ۔
’’ تو پھر اپنی تنخواہ لیتے جائو ‘‘ اس نے والٹ نکال کر نوٹ گنے ۔
’’ مگر صاحب ابھی تو پہلی میں دو تین دن ہیں ‘‘۔
’’ تو کیا ہؤا دو تین دن بعد بھی تو دینے ہیں ناں تو ابھی کیوں نہیں ‘‘
اُس نے پیسے لے کر جیب میں ڈال لیے ۔ اُسے اپنے صاحب کی یہی باتیں بڑی اچھی لگتی تھیں ۔ وہ دینے دلانے کے معاملے میں نہ تو کنجوسی کرتا تھا اور نہ ہی دیر کا قائل تھا ۔ اُسے اکثر تنخواہ پہلی سے پہلے ہی مل جاتی تھی۔
وہ اس کی طالب علمی کے زمانے سے یہاں کام کر رہا تھا ۔ دونوں کی عمروں میں بھی کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ بیگم صاحبہ نے خود اس کی تربیت کی تھی ۔ وہ بھی اس پر اسی طرح مہر بان تھیں اور اب صاحب بھی ۔ اُسے یہ بھی اندازہ تھا اس کا صاحب کوئی غیر معمولی نوعیت کی نوکری کر رہا تھا ۔ اُس کے آنے جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا کبھی وہ صبح کے تین چار بجے اٹھ کر چلا جاتا ہے کبھی دوپہر کو کبھی شام کو کبھی سارا دن کہیں نہ جاتا اورکبھی کئی کئی دن کے لیے غائب ہو جاتا۔ مگر اُس نے کبھی کوئی سوال نہیں کیا تھا اور شاید اسی وجہ سے اُس کا صاحب اُسے پسند کرتا تھا ۔ اس کے اندر تجسس نہیں تھا اور اگر تھا بھی تو اُس نے کبھی ظاہر نہیں کیا تھا ۔ اتنا تو اُسے بھی پورا یقین تھا وہ جوکچھ بھی کر رہا تھا غلط نہیں تھا۔
شاہد سلام کر کے جا چکا تھا اور وہ پھر سے اسی سوچ میں پڑ گیا تھا ۔ وہ یہ گُتھی سلجھا نہیں پا رہا تھا کہ آخر وہ یہاں پہنچی کیسے ۔ وہ بار بار سیل نمبر ۲ کی اُس قیدی کو یونیورسٹی کی اُس لڑکی سے ملانے کی کوشش کر رہا تھا جو اُس کے ساتھ پڑھتی رہی تھی ، یونیورسٹی میں تو وہ کافی خوشحال اور مطمئن نظر آتی

تھی پڑھائی میں بھی اچھی تھی۔ ہاں اُس کا ایک مخصوص پس منظر تھا مگر یونیورسٹی میں جہاں طرح طرح کے لوگ موجود تھے یہ بات اہم نہیں تھی ، نہ ہی اس وجہ سے اس کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک ہوتا تھا۔
اُسے یاد آیا اُس نے ایک دو دفعہ اُسے اظفر کے ساتھ بھی دیکھا تھا ۔ وہ بھی اُن کا کلاس فیلو تھا بلکہ اُس نے تو اُن کے متعلق یہاں تک سنا تھا کہ وہ دونوں شادی کرنے والے ہیں اور اس بات سے نہ صرف اس کو بلکہ باقی سب کو بھی سخت حیرت ہوئی تھی ۔ وہ دونوں دو مختلف دنیائوں کے لوگ تھے ۔ کون کس کے لیے اپنی دنیا چھوڑے گا یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا ۔ یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی اپنی دنیا نہ چھوڑے ۔ ہاں آجکل یہ بھی تو ہو رہا تھا ۔ لوگ اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے تعلق بنا لیتے ہیں ۔
وہ بہت سوچ سوچ کر ذہن پر خوب زور ڈال ڈال کر اُس کے متعلق ایک ایک بات یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ شاید اس کے متعلق مزید کچھ معلوم ہو سکے مگر وہ ناکام رہا تھا ۔ اب اُس کے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کے دو ہی طریقے تھے ۔ یا تو وہ سب کچھ خود اپنے منہ سے بتائے یا پھر وہ ہر اُس جگہ جائے ہر اُس شخص سے ملے جہاں وہ رہی جس کسی کے ساتھ رہی۔
اُسے لگتا تھا اُسے سب سے پہلے اظفر کو ڈھونڈنا ہوگا ۔ وہ کہاں تھا؟ اس کے ساتھ کیوں نہیں تھا ؟ دونوںنے شادی کی یا نہیں کی ؟ اگر نہیں کی توکیوں نہیں کی ؟ اور یہ بھی تو ہو سکتا تھا وہ بھی اُس کا ساتھی ہو ، در پردہ طور پر آخر اتنا برا کام وہ اکیلے کیسے کر سکتی ہے اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اظفر کی جگہ کسی اورنے لے لی ہو ۔ اُس نے اپنا کام بدلا تھا تو ہو سکتا ہے ساتھی بھی بدل لیے ہوں!
پھر بھی اس کا خیال تھا کہ اظفر کو بھی ڈھونڈنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اس لڑکی کا منہ کھلوانا ۔ پھر ایک بات اور بھی تھی جو وہ مسلسل سوچ رہا تھا مگر ابھی تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پایا تھا ۔ پوّن مہر اس کی کلاس فیلو تھی ۔ انہوں نے پورے دو سال ایک ہی یونیورسٹی کے ایک ہی ڈیپارٹمنٹ میں اکٹھے پڑھا تھا ، یہ بات اُسے اپنے اعلیٰ افسران کو بتانی چاہیے یا چھپانی چاہیے ، وہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا ۔ وہ بہت دیر سے بتانے اور چھپانے کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کیا درست ہوگا کیا غلط۔ بتانے کی صورت میں اُسے یہ اندیشہ تھا کہ وہ چاہے کتنی ہی ایمانداری سے تفتیش کرے اُس پر جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے ، یوں وہ یکسوئی کے ساتھ اپنا کام نہیں کر سکے گا ، اُس کا ذہن مختلف قسم کے خدشات کا شکار رہے گا ۔ اور اگر وہ نہیں بتاتا تو ہو سکتا ہے بات کھلنے پر اُس پر حقیقت چھپانے کا الزام لگ جائے ۔
اُس کا ذہن اُلجھ چکا تھا ۔ اس ذرا سی لڑکی نے اُسے کتنی بڑی مصیبت میں ڈال دیا تھا ۔ وہ نہ پیچھے ہٹ سکتا تھا نہ آگے بڑھ سکتا تھا ۔
لیکن نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے بھلا !اُسے ایک دوسرا خیال آیا تھا کہ مجھ پر شک کیا جائے ۔
وہ ایک عرصے سے یہاں کام کر رہا تھا ۔ اُس کا ریکارڈ بہترین تھا۔وہ ایک ایماندار اور فرض شناس افسر کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ وہ ایک باصلاحیت انسان تھا اس کا ماضی بے داغ تھا ۔
نہیں ! اُسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں جو وہ سوچ رہا تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ وہ ابھی پوّن کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائے گا ۔ بہت سوچنے کے بعد اُس نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ بڑی دیر تک مختلف قسم کے منصوبے بناتا رہا ۔ اُسے ہر حال میں جلد از جلد اس پر رپورٹ تیار کرنا تھی تاکہ اُسے اس کے گناہوں کی قرار واقعی سزا ملے اور اُس کا بھی فرض پورا ہو جائے ۔
٭
وہ بہت تیزی سے کسی بہت گہرے کنویں میں گرتی جا رہی تھی اور پھر اُسی تیزی سے کسی نے اس کو واپس بھی کھینچ لیا ۔ وہ بہت دیر تک بے ہوش پڑی رہی تھی مگر اُسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ محض چند لمحوں کی بات تھی کہ وہ گری اور پھر بچا لی گئی ۔ کوئی آواز اس کے ذہن کے ساتھ ٹکرا رہی تھی۔ اُس کا دماغ جاگنے کی کوشش کر رہا تھا مگر نقاہت کی وجہ سے اس میں آنکھیں کھولنے کی ہمت نہیں تھی۔
’’ یہ تمہارا کھانا!‘‘

اُس نے بمشکل سامنے دیکھا تھا ۔ وہاں کوئی کھڑا تھا یا شاید کھڑی تھی ، وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی ۔ کمرے میں اندھیرا تھا یا پھر اس کی آنکھوں کے سامنے ، سارا منظر دھندلا سا لگ رہا تھا ۔ وہ جو کچھ بھی دیکھ رہی تھی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ وہ جو بھی تھا باہر جا چکا تھا ۔ سیل کا دروازہ بند ہو گیا تھا اُس نے دیکھا سامنے ایک لوہے کی ٹرے جس کا رنگ اتر چکا تھا اس میں ایک روٹی رکھی تھی اور پلیٹ میں شوربہ نما کوئی چیز ۔ پانی کا ایک گلاس بھی تھا وہ بڑی دیر تک اس ڈنر کو دیکھتی رہی ۔ دنیا میں اس طرح کا کھانا بھی ہوتا ہے ! وہ پہلی بار اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔ باوجود شدید بھوک اور کمزوری کے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ یہ لکڑی جیسی روٹی اور سالن کے نام پہ یہ محلول کیسے کھائے گی ۔ وہ کھانے پینے اور رہن سہن کے معاملے میں نہایت نفاست پسند تھی ، وہی چیزکھاتی تھی جو اُسے پسند ہوتی ، نا پسند ہوتی تو چھوڑ دیتی بھوکی رہ لیتی ، اسی طرح لباس اور دوسرے معاملات میں بھی اُس کا مزاج بہت نازک تھا ۔ مگر آج جب سب کچھ چھن چکا تھا تو زندگی سے زیادہ بری چیز کوئی نہ تھی۔
کمزوری سے اُس کی جان نکل رہی تھی ، وہ بڑی مشکل سے خود کو گھسیٹ کر کھانے تک لائی تھی ۔ کھانا کھا کر اور پانی پی کر اُسے کافی بہتر محسوس ہو رہا تھا ۔ اُس نے برتن دیوار کے ساتھ رکھ دیے اور خود لیٹ گئی ۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔ وہ سو جاناچاہتی تھی کہ شاید ان تکلیف دہ سوچوں سے نجات مل جائے ۔ بار بار وہ غصیلا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا ۔ یونیورسٹی میں کئی بار ان کا آمنا سامنا ہؤا تھا مگر وہاں اسے دیکھ کر اُس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ بے نیاز اور لا تعلق نظر آنے والا لڑکا ایک دن اُسی کا جیلر بنے گا اور اُسے اذیت پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گا ۔
اُسے یاد آیا اس کے بارے میں مشہور تھا کہ اسے اپنی قابلیت پر بہت غرور ہے ، وہ ایک خود پسند انسان ہے کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ عین وقت پر کلاس میں آتا تھا اور کلاس ختم ہوتے ہی غائب ہو جاتا ۔ نجانے وہ پہلی اور دوسری کلاس کے بیچ کا آدھا گھنٹہ کہاں گزارتا تھا ۔ پھر ساڑھے گیارہ بجے والی کلاس میں وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوتاپورے دو سال میں دو تین دفعہ ہی ایسا ہؤا تھاکہ اُس نے اُسے لڑکوں کے ایک گروپ کے ساتھ دیکھا تھا ، وہ بھی ہنستے ہوئے ۔ اسے ہنسنا بھی آتا ہے ! اسے سخت حیرت ہوئی تھی یہ دیکھ کر ۔ کاش وہ اُسے تھوڑا اور جانتی ہوتی تو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی کہ وہ کس مزاج کا ہے اس کی بات سمجھ بھی سکتا ہے یا نہیں ، یا اس کی کہانی کو محض ایک ڈرامے کا نام دے گا ۔
بات سمجھنے سمجھانے کا خیال آتے ہی اسے بی بی بہت یاد آئیں ۔ کس طرح اس کے بغیر کہے ہی وہ سب کچھ سمجھ گئی تھیں ۔ نہ کوئی شکوہ نہ شکایت نہ سوال ۔ کیسا سیدھا مزاج بنایا تھا اللہ نے ان کا … کس قدر معصوم اور مخلص تھیں وہ … انسان آنکھیں بند کر کے ان کا اعتبار کر سکتا تھا۔ انہیں دیکھ کر اُسے کبھی کبھی خیال آتا تھا کہ یہ تو بالکل نبیؐ کے زمانے کی عورت لگتی ہیں ۔ ایک دفعہ سلمیٰ نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار آزمائشیں دیکھی تھیں وہ سسرال والوں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بہتر تھیں اور یہی ان کی سب سے بڑی خامی بن گئی ۔ اُن کی زندگی میں طرح طرح کی مشکلیں اور مصیبتیں آئی تھیں مگر کوئی چیز ان کے دل او روح کی خوبصورتی کو گہنا نہیں سکی تھی ، کوئی ان کے صبر کو نہ توڑ سکا تھا اور اس بات کی تو خود وہ بھی گواہ تھی کہ ان کے حوصلے پہاڑ جتنے بلند تھے ۔
بی بی کی جس بات نے اُسے بہت زیادہ متاثر کیا تھا وہ تھی اُن کی خوش اخلاقی جس پر کسی بھی حال میں کوئی فرق نہ پڑتا تھا ۔ اُس نے انہیں کبھی بھی غصے میں نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ہر حالت میں خوش اور مطمئن تھیں ۔ پتہ نہیں میرے سکول کے بچوں کا کیا حال ہوگا !
بی بی کے بعد اُسے سب سے زیادہ سکول کے بچوں کی فکر ہو رہی تھی پتہ نہیں وہ اُسے یاد کر بھی رہے ہوں گے یا نہیں، کون انہیں پڑھاتا ہوگا ۔ یا میڈم کے ڈنڈے کے خوف سے اب تک سکول سے بھاگ چکے ہوں گے ۔ پتہ نہیں میرے لگوائے ہوئے پودوں کو کسی نے پانی دیا ہوگا یا نہیں کچھ بعید نہیں تھا کہ چوکیدار انہیں چپکے سے اُکھاڑ پھینکے تاکہ اسے روز روز انہیں پانی نہ د ینا پڑے ۔
سوچوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جوچلتا ہی جا رہا تھا ۔ پھر اس کی آنکھ کب لگی اسے پتہ ہی نہ چل سکا۔

وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گم تھا اسے احساس ہی نہیں ہؤا رات کے آٹھ بج رہے تھے اور دروازے کی گھنٹی بھی بج رہی تھی ۔ اُس نے اٹھ کر دروازہ کھولا ، اسد تھا ۔
’’ میں بہت بور ہو رہا تھا سوچا تم سے کچھ گپ شپ ہو جائے اور کھانا بھی ساتھ کھا لیں گے ‘‘ وہ اندر آکر بیٹھتے ہوئے بے تکلفی سے بولا تھا۔
’’ اچھا خیال ہے ‘‘ وہ بھی اس کے سامنے آ بیٹھا تھا ’’ کھانا تو میں تمہیں کھلا سکتا ہوں مگر تمہاری بوریت کا میرے پاس کوئی علاج نہیں میں خود ایک بور انسان ہوں ‘‘ وہ اُسے ڈرا رہا تھا۔
’’ چلو ایک سے دو بھلے‘‘ اسد لا پروائی سے بولا تھا‘‘ ارے ہاں یاد آیا وہ اچانک بولا ’’ آج صبح تم نے کس کی پٹائی کی تھی ؟ میں توتمہیں شریف آدمی سمجھتا تھا ‘‘ ۔
’’یہ کیا بات ہوئی ۔ اگر آپ کے گھر میں گھس کر حملہ کرنے والے کسی ظالم کا ہاتھ پکڑ کر اسے دو چار لگا دیتے ہیں تو آپ شریف آدمی نہیں رہتے کیا ؟ اب ایسے شخص کے گلے میں پھولوں کے ہار تو نہیں ڈالیں گے ناں جو آپ کی جان لینے آیا ہو‘‘۔
’’ارے بھئی میں تو مذاق کر رہا تھا تم تو سنجیدہ ہی ہو گئے ۔ چلو بتائو کیا ہؤا تھا ؟‘‘ اسد نے بات بدل دی تھی۔
’’ ویسے تو ہمارے دشمنوں کی کمی نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ کون ہو سکتا ہے !‘‘ اسد سارا واقعہ سن کر اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف تھا ’’ کہیں یہ اسلحے کا وہ ڈیلر تو نہیں جس کا کروڑوں کا اسلحہ تم نے برآمد کیا تھا اور و ہ خود ابھی تک مفرور ہے ؟‘‘
’’ ہوسکتا ہے ‘‘ زرک اُس کی با ت سن کر بولا تھا’’ مگر یقین سے کچھ بھی کہنا مشکل ہے کیونکہ بیک وقت کئی طرح کے معاملات چل رہے ہیں جو سب خطر ناک بھی ہیں اور پیچیدہ بھی ۔ یہاں جس کے مفادات کو زک پہنچے گی وہی جانی دشمن بن جائے گا تو بہتر ہے ان چیزوں کو ذہن سے نکال دیا جائے جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔ چلو میں تمہارے لیے اچھی سی کافی بناتا ہوں ‘‘وہ بات ختم کر کے اٹھ گیا تھا ۔
٭
شدید گرمی اور پسینے کی وجہ سے جلد ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ رات کا نجانے کون سا پہر تھا ۔ ہر طرف گھپ اندھیرا اور خاموشی تھی اور اس خاموشی میں اسے لگ رہا تھا وہ اپنے سانس لینے کی آواز تک سن سکتی ہے۔ اندھیرے اور سناٹے سے اُسے شدید خوف محسوس ہو رہا تھا ۔ اُسے لگ رہا تھا اُس کے آس پاس بہت سے کیڑے مکوڑے رینگ رہے ہیں ۔ وہ بے حس و حرکت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھ رہی تھی مگر اُسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
اسی خوف اور سراسیمگی کی حالت میں اُسے اندھیرے میں غیر محسوس طریقے سے شامل ہوتی روشنی کا احساس ہؤا ۔ اب صبح قریب تھی مزید روشنی ہونے پر اس کے سیل کا دروازہ کھلا تھا اور کسی نے ایک پلیٹ میں رکھی سوکھی روٹی اور ایک کپ اندر سرکا دیا تھا ۔ اُس نے دیکھا چائے کے نام پر ایک مٹیالہ سا محلول تھا ۔ مگر اُس نے روٹی اس میں ڈبو ڈبو کر کسی طرح کھا لی۔
اب روشنی پوری طرح سے پھیل چکی تھی ۔ رات کے خوف سے جان چھٹی تو صبح آنے والے کا ڈر سا تھ لائی تھی ۔ وہ اب تب میں آتا ہی ہوگا ، یہ سوچ کر ہی اس کی جان نکل رہی تھی۔
یا اللہ آتے ہوئے راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہو جائے اور اس کی ٹانگیں ٹوٹ جائیں … اندھا ہوجائے وہ … یا پھر کوئی اُسے گولی مار دے وہ ایک گھنٹے تک ارد گرد سے بے نیاز لگا تار یہی دعا مانگتی رہی ۔
دروازے پر کھٹکا ہؤا تھا اور وہ چونک گئی تھی اور پھر اس کا دروازہ کھل گیا تھا ۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نظریں اوپر اٹھائیں ۔ اس کی توقع کے بالکل برعکس وہ سامنے کھڑا تھا ۔ تیار ، تازہ دم صحیح سلامت !
آج اس کی دعائوں کی قبولیت کا دن ہی نہیں تھا ۔نہ اس کی ٹانگ ٹوٹی تھی نہ آنکھ پھوٹی تھی اور نہ ہی کسی نے اسے گولی ماری تھی۔وہ اُس سے شدید نفرت محسوس کر رہی تھی اور خوف بھی مگر کوئی جائے فرار نہیںتھی۔ اس کے لیے ایک بار پھر یوم حساب آچکا تھا ۔ قیامت کی گھڑی تھی اور وہ تنہا کھڑی تھی۔

’’ امید ہے میں مخل نہیں ہؤا آپ اپنے پر تکلف ناشتے سے لطف اندوز ہو چکی ہوں گی ‘‘ اس نے آتے ہی برتن دیکھ لیے تھے اور اب اسی پر طنز کر رہا تھا۔
پوّن نے نفرت سے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔
’’ اس طرح منہ پھیر کر تم میرے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتیں ‘‘ اُس کا یوں منہ پھیرنا اسے تپا گیا تھا ۔’’ آج میں تم سے سب کچھ اگلوا کر چھوڑوں گا چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے ‘‘۔
اُس کے ارادے صاف ظاہر تھے مگر پوّن اُس پر اپنا خوف کسی صورت ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اسے اس کے سامنے خود کو مضبوط اور بے خوف ثابت کرنا تھا ورنہ وہ اس کی کمزوری سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکتا تھا ۔ اسے مزید خوفزدہ کر کے اس سے وہ باتیں کہلوا سکتا تھا جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
’’ تمہارے لیے خوشخبری ہے تمہارے بہت سارے ساتھی گرفتار ہو چکے ہیں امید ہے اب تم یہاں تنہائی محسوس نہیں کرو گی ‘‘ وہ جیسے بڑی اہم اطلاع دے رہا تھا ’’ اور ان سے نہایت اہم معلومات بھی ملی ہیں ،لگتا ہے تم ہی ان کی لیڈر ہو ۔ وہ تمہاری آنکھوں سے دیکھتے اور تمہارے دماغ سے سوچتے تھے۔ تمہارے گرفتار ہوتے ہی پکے ہوئے پھل کی طرح ہماری جھولی میں گرنا شروع ہو گئے ‘‘۔
پتہ نہیں کن بے گناہوں کو اس نے اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے اس کی باتیں سن کر پوّن نے یہی سوچا تھا ۔’’ویسے بائی داوے تمہارے بڑوں نے تمہارے ذمے کون سا کام لگا رکھا ہے … تخریب کاری ، اسلحے کی تجارت ، منشیات کی سمگلنگ یا پھر صرف جاسوسی … بولو ؟ بتائو ؟ ‘‘ وہ اچانک ہی اُس کے سرپر آکر چیخا تھا ۔
اصل میں تو وہ اسے خوف اور بوکھلاہٹ میں مبتلا کر کے اس کا منہ کھلوانا چاہتا تھا ۔ مگر ساری باتیں سن کر بھی پوّن کے سکون میں کوئی فرق ہی نہیں آیا تھا۔
’’ جس علاقے سے تمہیں گرفتار کیا گیا ہے وہاں کچھ عرصے سے بڑی تیزی سے اسلحہ اور نشہ پھیل رہا ہے ۔ کیا اس کے پیچھے تمہارا ہاتھ ہے ؟ پچھلے دنوں وہیں ایک حساس ادارے کے مین گیٹ پر خود کش دھماکہ بھی ہؤا تھا ۔ مجھے تو لگتا ہے تم اس میں بھی ملوث ہو… بولو بولتی کیوں نہیں ہو… آج سب جرائم کے اعتراف کا دن ہے … تمہاری خاموشی تمہیں نہیں بچا سکے گی ‘‘۔
اُس کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا اور وہ اُسے خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا کیونکہ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی اور پھر پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے جا لگی تھی ۔ اُس کی آنکھوں سے جھلکتا شدید غصہ اس کی جان لینے پر تلا ہؤا تھا۔
اُس کا خوف اس کے چہرے سے عیاں تھا ۔
’’ تو تم کچھ نہیں بولو گی‘‘ وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گیا تھا ’’ تو پھر ٹھیک ہے کل تمہارے ماں باپ بہن بھائی سب کو یہاں لایا جائے گا ، انہیں تمہارے سیاہ کارناموں سے آگاہ کیا جائے گا اور پھر انہیں یہاںلٹکا کر تمہارے سامنے ان کی کھال اُتاری جائے گی … پھر تو تم طوطے کی طرح بولو گی ناں !‘‘
’’ اللہ کرے تمہیں موت آجائے ‘‘ وہ اذیت کی آخری حدوں پر کھڑی چیخی تھی ‘‘ مر جائو تم اور موت کا فرشتہ تمہیں بھی اتنی ہی اذیت دے کر تمہاری جان نکالے جتنی تم مجھے دے رہے ہو ‘‘۔
اُس کے پاس آخری ہتھیار بد دعائیں ہی تھیں جنہیں وہ دل کھول کر دے رہی تھی۔ اور وہ مٹھیاں بھینچے دانت پر دانت جمائے نجانے کس طرح اس کے کوسنے برداشت کر رہا تھا ۔
’’ اللہ کا نام مت لو اپنی ناپاک زبان سے میں تمہارا منہ توڑ دوں گا‘‘وہ شدید نفرت اور حقارت سے اس کے ساتھ مخاطب تھا ۔
’’ تم ایک گھٹیا ظالم اور بے رحم انسان ہو تمہارے ماں باپ بھی…‘‘
پوّن کا جملہ اس نے مکمل نہیں ہونے دیا تھا۔ اس سے پہلے ہی وہ زور سے اس کا بازو پکڑ چکا تھا اور اب اسے جھٹکوں پہ جھٹکے دیے جا رہا تھا ۔
’’ تم سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو ؟ کیا اس طرح کی بکواس کر کے تم بچ جائو گی ؟جو میں پوچھ رہا ہوں وہ توتمہیں ہر حال میں بتانا ہوگا … بولو ؟‘‘

وہ اب اُسے ایسے جھٹک رہا تھا جیسے کپڑے میں سے مٹی نکالنے کے لیے اُسے جھاڑا اور جھٹکا جاتا ہے اور پوّن کو لگ رہا تھا وہ اسی طرح جھٹک جھٹک کر اس کی جان نکال دے گا ۔ اُس کا سارا جسم زلزلوں کی زد میں تھا ۔ اُس نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر اپنا بازو اس کے ہاتھ میں سے چھڑوانے کی کوشش کی تھی مگر بے سود۔اس کی انگلیاں جیسے لوہے کے راڈ تھے جو اس کے بازو کے ارد گرد فٹ ہو چکے تھے ۔ اُسے اور تو کچھ نہ سوجھا اپنے کئی دنوں کے بڑھے ناخن اُس کی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان گوشت میں پوری قوت سے پیوست کر دیے ۔
اُس کا خیال تھا وہ درد سے بلبلا اٹھے گا اور اس کا بازو چھوڑ دے گا مگر اس پر تو جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہؤا تھا ۔ وہ اسی طرح اُسے جھٹکے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ بے دم ہو کر فرش پر گر گئی ۔ اُسے لگ رہا تھا اُس کا بازو ٹوٹ گیا ہے اور جسم بے جان ہو چکا ہے ۔
زرک کو بھی معلوم ہو گیا تھا کہ آج کے لیے اتنی ڈوز کافی ہے ۔ اس سے زیادہ اگر اس نے کچھ کیا تو کہیں وہ مر ہی نہ جائے ضدی ہی سہی مگر تھی تو بہر حال ایک لڑکی۔ اور اس کا مقصد اس کی جان لینانہیں بلکہ اس سے معلومات لینا تھا وہ کس مقصد کے تحت اس علاقے میں بھیجی گئی تھی ،اُسے کس نے بھیجا تھا ، کس نے اس کی تربیت کی تھی ، وہ آج تک کیا کچھ کر چکی تھی اور آئندہ کیا کرنے والی تھی ۔ اسے ان سب سوالوں کے جواب حاصل کرنا تھے ۔ اس کے بعد وہ شوق سے مر جاتی اسے کوئی پروا نہیں تھی۔
وہ کپڑوں کی سلوٹیں جھاڑتا تیز تیز قدم اٹھاتا سیل سے باہر نکل گیا تھا ۔ چلتے چلتے اس کی نظر اپنے دائیں ہاتھ پر پڑی تھی جہاں پوّن کے ناخنوں کے کافی گہرے نشان تھے جن میں سے خون بھی رس رہا تھا اور جلن بھی کافی شدید تھی ۔ جنگلی بلّیوں کی نسل سے تعلق ہے اس کا … زخم میں ہونے والی جلن اور اس کی گہرائی دیکھ کر اس نے یہی سوچا تھا ۔یہ گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکلے گا اتنا تو اسے پتہ چل ہی چکا تھا ۔ اور ٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکالنا میرا پیشہ ہے ، اسے اپنے آپ پر پورا یقین تھا ۔ اگر وہ اس سے سب کچھ اگلوانے میں کامیاب ہو جاتا تو پھر باقی کام نہایت آسان ہو جاتا ، پورا نیٹ ورک ایک ہی دفعہ قابو میں آجاتا اس کے اندازے کے مطابق پوّن اس نیٹ ورک کا نہایت اہم پرزہ تھی ۔ جو کام ان تخریب کاروں اور وطن دشمنوں کے لیے لڑکیاں کر سکتی تھیں وہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا ۔ ان تربیت یافتہ جاسوس لڑکیوں کے لیے کسی بھی جگہ پہنچنا اور لوگوں کو استعمال کر کے مرضی کی معلومات اور فائدے حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیںتھا ۔ مگر جو چیز اس کے غصے کو بڑھا رہی تھی وہ یہ تھی کہ وہ ابھی تک کوئی قابل ذکر معلومات حاصل نہیں کر پایا تھا یہ ذرا سی لڑکی اس کے لیے چیلنج بن رہی تھی اور اسے جلد از جلد اس مسئلے کا حل تلاش کرنا تھا۔
(باقی آئندہ )
٭…٭…٭

 

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x