ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

آپ نے پوچھا – نور نومبر ۲۰۲۰

سلمان یوسف سمیجہ ۔علی پور
س:لوگ آپ کو دوسروں کی نظروں میں گرانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں ،آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
ج: جی بالکل درست ۔ مگر ایسے لوگوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔
’’ خلیفہ منصور کے حاجب ربیع نے ان کو امام ابو حنیفہ سے برگشتہ کرنے کی خاطر کہا کہ وہ آپ کے دادا حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ کسی معاملے پر حلف کرنے والا اگر ایک یادو دن بعد ان شاء اللہ کہہ دے تو جائز ہے جب کہ ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اسی وقت کہنا جائز ہے بعد میں معتبر نہیں ہوگا۔ امام ابو حنیفہ نے کہا کہ امیر المومنین ! ربیع چاہتا ہے کہ لوگوں کو آپ کی بیعت سے آزاد کر دے ۔ وہ آپ کے سامنے تو اطاعت کا حلف اٹھائیں گے اور گھروں پر واپس جا کر ان شاء اللہ کہہ دیں گے ۔‘‘ منصور ہنسنے لگا اور کہا ’’ اے ربیع ! ابو حنیفہ کو کبھی نہ چھیڑنا ،ورنہ منہ کی کھائو گے۔
سعدیہ آفتاب۔ کراچی
س: خواب کی تعبیر کیسے مل سکتی ہے ؟
ج: ایک مفکر کا قول ہے ’’ اگر تم اُڑ نہیں سکتے تو بھاگو، بھاگ نہیں سکتے تو چلو ، چل نہیں سکتے تو رینگو، مگر حرکت کرتے رہو۔‘‘
زریں گل ۔کوہاٹ
س: زندگی میں آخر سب کچھ اچھا کیوں نہیں ہوتا ؟
ج: یہ تو آپ پر منحصر ہے ۔ یاد رکھیے منفی سوچیں غلط نمبر کی عینک کی طرح ہوتی ہیں ۔ ہر منظر دھندلا ، ہر راستہ ٹیڑھا اور ہر چہرہ بگڑا ہونظر آتا ہے ۔
سعد عثمان ۔ فیصل آباد
س: آپ کی نظر میں دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے ؟
ج: پڑھانا۔
’’ ایک اسکول کے استاد نے ملازمت سے استعفیٰ دیا تو ہیڈ ماسٹر صاحب نے اس کی وجہ پوچھی۔ استاد نے جواب دیا ۔’’ آج کل اساتذہ ہیڈ ماسٹر سے ڈرتے ہیں ۔ ہیڈ ماسٹر انسپکٹر آف اسکولز سے ڈرتے ہیں ۔ انسپکٹرمحکمہ تعلیم والوں سے ڈرتے ہیں اور محکمے والے والدین سے ڈرتے ہیں ۔ والدین بچوں سے ڈرتے ہیں اور بچے کسی سے نہیں ڈرتے اس لیے میں ملازمت سے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔‘‘
مومنہ خان ۔ گوجرانوالہ
س: ذہانت اور حماقت میں کیا فرق ہوتا ہے ؟
ج: صرف یہ کہ ذہانت کی حد ہوتی ہے۔
تیمور ملک۔ لاہور
س: آج کل مقابلے کا دور ہے ۔ زندگی کے ہر میدان میں سخت کمپی ٹیشن ہے ۔ آپ کا کیا مشورہ ہے ، کیا لائن اختیار کروں کہ شان دار کامیابی حاصل کر سکوں ؟
ج: اچھا انسان بننے کی کوشش کریں ۔ اس میدان میں مواقع بہت ہیں اور مقابلہ کم۔
خالد جاوید ۔ صادق آباد
س: کیا وقت بھی دولت ہوہے ؟
ج: وقت اور دولت میں ایک بہت بڑا فرق ہے ۔ آپ کو یہ تو پتا ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے ، مگر آپ یہ نہیں جانتے کہ آپ کے پاس وقت کتنا ہے ۔

٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x