ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

آزمائش – بتول جنوری ۲۰۲۲

پورے گائوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ گھر گھر مٹھائیاںتقسیم ہونے لگیں ۔ چوہدری احتشام نے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ حویلی کے بڑے دروازے پر شیریںکے پتوںکا سہرا باندھ دیا گیا جو اس بات کی نشانی تھی کہ چوہدری کے گھر بیٹا پیداہؤا ہے ۔ بچے تو پہلے بھی تھے لیکن یہ فرزند تین بیٹیوں کے بعد دنیا میںآیا تھا ۔ حوشی منانا توبنتی تھی ۔
چاروں طرف سے جہاںمبارکبادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا وہیںپردیکھنے والی عورتیں عجب چہ مگوئیاں کر رہی تھیں۔
’’ ارے نہیں ! تین بیٹوں کے بعد پیدا ہؤا ہے اللہ خیر کرے۔ سب سلامت رہیں اللہ اس گھر کو آزمائش سے بچائے ‘‘۔
’’ اری بہن ! ہم نے اپنے بڑوں سے سن رکھا ہے کہ تین لڑکیوں کے بعد آنے والا لڑکا آزمائش ساتھ لے کر آتا ہے ‘‘۔
غرض جتنے منہ اُتنی باتیں پورے گائوں میںسراسیمگی حیاتی ہوئی تھی ۔ سب کسی انہونی کے انتظار میں نگاہیں لگائے بیٹھے تھے ۔ توہمات اور خرافات کاایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا ۔ ابااِن باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔
چند دن خیریت سے گزر گئے ۔ ابا نے گھر میں بھینس رکھی ہوئی تھی جو سب کو بہت پیاری تھی ۔ دودھ بھی باقی جانوروںسے بہت زیادہ دیتی تھی ۔ سب کے ساتھ مانوس بھی بہت تھی ۔ کرنا خدا کا کیا ہؤا کہ بیٹے کی پیدائش کے چند دن بعد کھڑے کھڑے وہ بھینس یکدم بیمار ہوئی ۔ قصائی جوکہ جانوروں کے ڈاکٹر سمجھے جاتے تھے ان کو فوراً بلایا گیا ۔ سر توڑ کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ہو سکی ۔ اور آناً فاناً اس بھینس کی موت واقع ہو گئی۔
چہ مگوئیاں مزید بڑھ گئیں ۔ چودھرائن بھی پریشان تھی۔ چوہدری کی تسلیاں بھی خاطر خواہ کام نہیں کررہی تھیں ۔ چودھرائن کے چھوٹے بھائی بھی ان کی حویلی کے ایک کونے والے کمرے میںرہتے تھے ۔ ان کے دوبیٹے تھے ایک پانچ سال کا اوردوسرا سات آٹھ ماہ کا اوربیٹی آٹھ سال کی تھی ۔ ان کو اپنا مکان ابھی نہیںملا تھا ۔ وہ چوہدری کی زمینوںپر کام کرتے تھے۔
بھینس والے واقعہ سے گھر کی عورتیں پریشان ہو گئی تھیں ۔ چوہدری کا ایک بڑا دالان تھا ۔ ساتھ چھوٹی کوٹھڑی اور اس کے ساتھ نسبتاً بڑا کمرہ ۔ دالان کی چھت پانچ شہتیر کی چھوٹی کوٹھڑی کا ایک شہتیر اور درمیانہ کمرے کی چھت تین شہتیریوں پرمشتمل تھی ۔ عورتیں درمیانے کمرے میں سوتی تھیں ۔ کونے والے شہتیر کے نیچے چوہدری کی بیوی اپنے نومولود بیٹے کے ساتھ لیٹتی تھی ۔ جبکہ دوسرے خانے میںنومولود سے دونوں بڑی بہنیں جوپانچ اور ڈھائی سال کی تھیں ایک ہی چار پائی پر سوتی تھیں ۔ باقی بڑی بیٹیاں ارد گرد چار پائیاںبچھا لیتیں۔
چوہدری کا بیٹا جب بیس دن کا ہؤا تو ایک اور نا گہانی آفت اس خاندان پر آ پڑی ۔ چوہدرانی کا بھائی اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ اپنی کوٹھڑی میں لیٹا ہؤا تھا ۔ ٹھنڈی میٹھی رُت تھی ۔ دیہاتی لوگ کمروں میںسوتے تھے ۔ کمروں کی چھتیں لکڑی کے شہتیر اور بالوں سے بنی تھیں اورچھت کے اوپر کچی مٹی کی لپائی کی جاتی تھی ۔
چوہدرانی کے بھتیجے نے اپنے باپ کے ساتھ لپٹے لپٹے یکدم یہ کہنا شروع کر دیا ۔
’’ابا جان پھو پھوکے کمرے کی چھت سے مٹی گر رہی ہے چھت گرنے لگی ہے ‘‘۔

یہ بھی حیرت کی بات تھی کہ کمرے میں لیٹے بچے کو دوسرے گھر میں حویلی کے دوسری طرف والے کمرے سے مٹی گرتی کیسے نظر آگئی ؟ بچے کے ابا نے جن کا نام نذر دین تھا ، بچے کو سہلایا اور اس کی بات کو نظر انداز کر دیا ۔ اگلے ہی لمحے ایک زوردار دھماکہ ہؤا اور شور مچ گیا ۔ سب لوگ ابھی سوئے نہیں تھے ۔ بستر وغیرہ بچھا رہے تھے ۔چوہدری کی بڑی بیٹی یہ کام سر انجام دے رہی تھی ۔ اس کی ایک سہیلی اور تین بہنوں میںبڑی بہن نو سال کی ، دروازے کے بالکل ساتھ والی چار پائی پر لیٹی ہوئی تھیں ۔ وہ تینوں فوراً باہر نکل گئیں۔ چوہدرانی والا شہتیر کھڑا رہا ۔ ماں بیٹا اُس کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ باقی دو شہتیرگرگئے جن میں ایک کے نیچے پیٹی اور ٹرنک رکھے ہوئے تھے جبکہ دوسرے کے نیچے چھوٹی دونوں بیٹیاںلیٹی ہوئی تھیں ۔ چھت کا سارا ملبہ ان کے اوپر گر گیا ۔ اور وہ دونوں اس میں دب گئیں ۔ چاروںطرف گھپ اندھیرا چھا گیا ۔ لالٹین اور دیے بھج گئے ۔
ساتھ والے دونوں گھرچوہدری کے بڑے بھائیوں کے تھے ۔ سب سے بڑے بھائی نے اپنے کوٹھے کی چھت پر کھڑے ہو کر گائوں کے لوگوں کی مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا ۔
’’ لوگو جلدی آئو ۔ میرے بھائی کا کوٹھا گر گیا ہے ‘‘۔ لوگ کلہاڑیاں، کسّیاں اورکدالیں لے کر دوڑے اور اندھیرے میں کدالیں چلانی شروع کردیں ۔چوہدری آگے بڑھا اور بولا ’’ لوگو، رُکو ، کدالیں مت چلائو ۔ میرے بال بچے نیچے دبے ہوئے ہیں‘‘ لوگوں نے اپنی اپنی لالٹینیں جلا کر ہاتھوں میںپکڑی ہوئی تھیں ۔ آہستہ آہستہ مٹی ہٹانا شروع کی۔ دونوں بیٹیوں کو جو زندہ دفن تھیںملبے کے نیچے سے نکالا گیا وہ بےہوش تھیں ۔ چار پائی ٹوٹ کر پنگھوڑے کی طرح بنی ہوئی تھیں اور وہ دونوں الٹی پڑی تھیں ۔ دونوں کے سروں سے خون بہہ رہا تھا ۔ گھر کے مرد اور عورتوںنے فوراً ان کی مرہم پٹی کی ۔ ان کو ہوش میں لایا گیا ۔
چوہدری نے گائوںوالوںکا شکریہ ادا کیا اور انہیںکہا کہ مجھے مالی نقصان کا کوئی غم نہیں ۔ اب جس طرح چاہو کدالیں چلائواورباقی سامان نکالو، اللہ کا شکر ہے کہ میرے بال بچے سلامت ہیں ۔
چوہدری کی بیوی اور بیٹا بالکل محفوظ تھے ۔بیٹیاں بھی سلامت تھیں ۔ دونوں کے سروںمیں بالکل ایک ہی جگہ پرگہرے زخم آئے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہو گئے ۔بیٹیاں بڑی ہوئیں تو اپنی ماں سے یہ واقعہ سنتیں، اپنے سروں کو ٹٹولتیں ۔ زخم کے نشان باقی تھے ۔ جواڑھائی سال کی تھی وہ بڑی ہوئی تو سوچتی کہ ہمارے ماموںکے بیٹے کوکیسے پتہ چل گیا تھا کہ ہمارے کوٹھے کی مٹی گر رہی ہے اور پورے گائوں کے خدشات کیسے حقیقت میں ڈھل گئے تھے ۔
آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ذہن کھلتاگیا ، غلط تصورات، خرافات اورتوہمات جوجہالت کی بنا پر جڑ پکڑ جاتے ہیںاور خوشی ، غمی کے موقع پرجب لوگ ہدایات ربانی کو بھول جاتے ہیں، صبر اور شکر کرنے کی بجائے جاہلانہ باتیں کرنے لگ جاتے ہیں تواکثر اوقات انہونی ، ہونی بن جاتی ہے ۔ زبانِ خلق سے ماشاء اللہ ، الحمد للہ جیسے کلمات کی بجائے جب بے اختیار ’’ ہائے ‘‘ نکلتی ہے تو آزمائش بن جاتی ہے ۔ کچھ ایسا ہی چوہدری کے خاندان کے ساتھ ہؤا اور معجزانہ طور پر اللہ نے سب کو محفوظ رکھا ، نصیحت بھی مل گئی اور شکر کا موقع بھی عطا فرمادیا۔
اللہ تعالیٰ سب کو ہر طرح کے حالات میں شکر گزاری ، دین مبین کا فہم اورعمل کی توفیق عطا فرمائے ( آمین )۔
قارئین کرام ! یہ سال 1955کی بات تھی ۔ آج 2021 ہے ۔ چوہدری کا وہ بیٹا جواپنے بھائیوں میںپانچویں نمبر پر تھا اور بڑی چار بہنوں اور تین اوپرتلے کی بہنوں یعنی سات بہنوں کے بعددنیا میں آیا تھا جس کی آمد پر گائوںکی عورتوںنے نجانے کیا کیا لایعنی قصے کہانیاں گھڑے تھے ، اس نے تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ۔ پرائمری کے بعد ہائی سکول سائیکل پر جاتا تو راستے میں کوئی بوڑھی دیہاتی خاتون شہر سے گائوں جاتی نظر آجاتی تو اپنے ساتھیوںکو چھوڑ کر ، اس کو بلا اصرار اپنے سائیکل کے پیچھے بٹھا کر گھرپہنچا کے آتا ۔ وہ خواتین چوہدرائن کے پاس آتیں ان کے بیٹےکی تعریفوں کے پل باندھ دیتیں ۔
’’بہن تمہارا بیٹا بڑا نیک ہے ۔ گائوں کے سب لڑکے میرے

پاس سے گزرے ۔ تمہارے بیٹے نے اپنی سائیکل کھڑی کرلی اور مجھے زبردستی اپنے ساتھ بٹھایا اور میرے گھر چھوڑا ‘‘۔
وہ بڑھیا تو دعائیں دیتی رخصت ہو جاتی اور چودھرائن کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ۔ اپنے بیٹے کودیکھ کر اس کے دل میں ٹھنڈک اُتر آتی ۔
بیٹا پڑھ لکھ کر نیورو سرجن بنا ۔ انگلینڈ ، امریکہ سے پڑھ کر اپنے آبائی علاقہ میںتعیناتی کرائی ۔ پاکستان کا مایہ ناز ’’ ماہر امراض دماغ‘‘ بنا ، اللہ نے اس کو انسانیت کی سچائی کے عشق پر تعینات کیا اور وہ اپنے ان گائوں ، گوٹھوں کی خدمت پر جتا ہؤا ہے جو اس کے بارے میں عجیب فرسودہ توہمات کا شکار تھے ۔ آج ہر کوئی اس کے اخلاق کو سراہتا ہے۔ اللہ نے اس کے ہاتھ میں شفا رکھی ہے ۔ وہ اپنے گائوں ، گوٹھ کے کسی مریض سے فیس نہیں لیتا بلکہ ادویات اور سفر خرچ بھی اپنی جیب سے ادا کرتا ہے ۔ گائوں کا ہر فرد بے دھڑک اس سے مل سکتا ہے۔ اُن کی زبانیں گواہی دیتی ہیں کہ یہ تو فرشتہ صفت انسان ہے ۔ اللہ اس کو سلامت رکھے ۔ کہاں تو پورے گائوں کی بد شگونیاں اس کے ساتھ منسوب کردی گئی تھیں اور کہاں وہ آج سب کی دعائوں کا محورو مرکز بنا ہؤا ہے۔
اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اس نے زندگی اور موت کو آزمائش کے لیے بنایا ہے کہ کون اچھے عمل کرتا ہے ۔ اچھے برے حالات میں سب کا امتحان لیا جا رہا ہوتا ہے ۔ کامیاب کون ہے ، بس یہی تدبر کرنا ہے۔
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x