ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

اوکھی – بتول جون ۲۰۲۳

مددگار نمبر کے لیے تحریر لکھنے بیٹھی تو سوچ کے پنچھی کو آزاد چھوڑ دیا، اس نے اڑا ن بھری اور کئی برس پیچھے تیزی سے مسافت طے کرتا چلا گیا اور پھر اچانک ٹھٹک کر ایک ڈال پر بیٹھ گیا، اور میری یادداشت نے ایک بھولی بسری کہانی یاد دلائی۔ یہ ملازمین ، خدمت گار ، مددگار …کیسی کیسی کہانیاں ان کی زندگیوں سے جڑی ہیں، جنھیں سوچ کر ہی دل اداس ہو جائے ۔
ایسی ہی ایک کہانی میرے ذہن کے کسی کونے میں نقش ہے۔ جب یادوں کی پٹاری کھلی تو ایک کے بعد ایک پرت ہٹتی چلی گئی ۔
٭
وہ ہماری کام والی باجی کی منجھلی بیٹی تھی، کم عمر، خوش مزاج، شوقین اور زندگی سے بھر پور ، کبھی کبھی ماں کے ساتھ آجاتی ، ماں کا ہاتھ بٹا دیتی، ہنستی مسکراتی آتی اور کام کرکے چلی جاتی ۔ وقت کے ساتھ عمر بڑھی، قد نکلا اور اس کی ماں کو بیٹیوں کی شادی کی فکر نے ستانا شروع کر دیا ۔اپنی برادری کی روایت کو دیکھتے ہوئے اس نے بھی اپنے گاؤں میں ،خاندان میں رشتے تلاشے اور پھر جلد ہی کامیابی حاصل ہو گئی ۔ برادری سے رشتہ مل گیا ، رشتے کا بھائی تھا ، جس نے اپنے دو بیٹوں کا رشتہ اس کی دونوں بیٹیوں کے لیے دیا تھا ۔ بس پھر کیا تھا ، اس نے فوراً تیاریاں شروع کردیں ۔ اپنے ہیں، رشتے برادری کے ، لہٰذا زیادہ چھان بین کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی ،اور سال کے اندر دونوں کو رخصت کر دیا ۔
٭
ابتدا میں تو معاملات ٹھیک چلتے رہے لیکن چند ماہ بعد ہی مسائل کا آغاز ہو گیا ۔ لڑکے ڈھنگ سے کماتے نہیں تھے۔ بڑا والا تو پھر بھی مزاج کا ٹھیک تھا لیکن مسرت کا میاں تو لاپروابھی تھا ۔ ایک سال بعد دونوں کے ہاں بیٹے ہوئے اور چند دن بعد آگے پیچھے فوت ہوگئے۔ دونوں بیٹیاں روتی پیٹتی گاؤں سے ماں کے گھر غمزدہ آگئیں ۔
’’ ارے مگر کیسے …؟‘‘میں نے کیا ،جس نے بھی سنا، حیران تھا ۔
’’کیا بتائیں باجی، جادو کردیا تھا میری بچیوں پر ، خاندان والوں نے ، بس جی دونوں بچے چٹ پٹ ہوگئے …‘‘وہ میلی چادر سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی ۔
’’بیمار تو …‘‘
’’نہیں باجی …‘ اس نے بات کاٹی ۔
’’لیکن …!‘‘میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی ، لیکن الفاظ زبان پر ہی اٹک گئے ۔
اس واقعے کے چند ماہ بعد بڑی بیٹی تو میاں کو لے کر شہر، ماں کے پاس آگئ اور وہ دونوں میاں بیوی کسی بنگلے میں رات دن کی نوکری کرنے لگے ، وہیں رہائش اختیار کر لی ۔ لیکن مسرت نہ آسکی ، وہ وہیں سسرال میں ہی رہتی رہی۔ اس کے اگلے سال مسرت کو پھر خوشی ملی لیکن چند ماہ بعد ہی بجھ گئی۔ اس کے بعد وہ بھی شہر آگئی ، یہاں گھروں میں کام کاج ڈھونڈ لیا۔ہمارے ہاں بھی کام پہ آنے لگی۔ میاں کبھی گاؤں میں تو کبھی شہر میں ، لگ کر کام نہ کرتا۔
تیسری مرتبہ وہ پھر امید سے ہوئی ، بہت خوش تھی کہ میں دوائیاں بھی پابندی سے کھاؤں گی، آپ لوگ دعا کریں۔اللّہ نے بیٹا دیا ، لیکن نہ جانے بچے کو کیا بیماری ہوئی کہ دو ماہ بعد ہی چل بسا اور وہ پھر سونی گود اور ویران آنکھوں کے ساتھ کام پر آنے لگی، اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں ، چار سال تک ، ہر دوسرے برس سال خوشی کی نوید ملتی اور پھول کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتا، ماں کہتی دشمنوں نےبندش کردی ہے، ڈاکٹر کسی بیماری کا بتاتے، بہر کیف مسرت اس کے باوجود مایوس نہ ہوئی تھی ۔ دوسری طرف اس کی بڑی بہن اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ کسی بنگلے پر کام کر رہی تھی اور کسی حد تک مطمئن بھی تھی۔
مسرت کو اولاد کی خوشی تو نصیب نہ ہوئی لیکن اس نے اپنی دلچسپی کی دوسری سرگرمیاں ڈھونڈ لی تھیں ۔ ایک دفعہ بتانے لگی کہ اس نے بیوٹیشن کا کورس سیکھنا شروع کردیا ہے۔
’’اچھا کیا …‘‘میں نے حوصلہ دیا ۔
’’باجیوں کو عید یا شادیوں پر مہندی لگوانی ہوتی ہے ، کبھی تیار ہونا ہوتا ہے ، تو بس مجھے بلا لیں گی‘‘۔
’’چلوتم کم رقم میں کام کردو گی؟‘‘ میں ہنسی۔
اور جواب میں وہ بھی مسکرادی۔
اور پھر ایک دفعہ بتانے لگی،’’آج باجی کی بیٹی کے اسکول میں ایک پروگرام تھا ، وہ شہزادی بنی تھی ، میں نے صبح صبح آکر اس کے بال بھی سیٹ کیے اور تیار بھی کیا، باجی بہت خوش ہوگئیں‘‘۔
’’اور تم … ؟‘‘
’’جی میں بھی …‘‘ وہ جھینپ گئی تھی ۔
پھر چند ماہ بعد بتانے لگی’’ میں ڈرائیونگ سیکھ رہی ہوں‘‘۔
’’ہائیں …!!‘‘ میں ہکا بکا رہ گئی ۔’’ لیکن کیوں …؟‘‘
’’میری ساری باجیاں گاڑی چلاتی ہیں‘‘۔ لہجے میں کوئی خلش تھی۔
’’ہاں تو ان کے پاس گاڑی ہوتی ہے ، اسی لیے ڈرائیونگ بھی کرتی ہیں ۔ لیکن تم نے … ؟‘‘ میں سمجھ نہیں سکی۔
’’میرا بھی تو دل چاہتا ہے کہ میں بھی ان کی طرح …‘‘ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی اور میں افسردہ۔
’’یہ تو اللہ کی تقسیم ہے اور ہمیں اسی پر راضی رہنا چاہیے …‘‘ میں بس یہ سوچ کر رہ گئی ، لیکن کہہ نہ سکی۔
وہ پھر سے کام کرنے لگی اب ساتھ اپنی ماں کا کام جو وہ ہاتھ کی کڑھائی والے ملبوسات گاؤں سے منگواتی تھی، اسے بھی بیچنے میں مدد کرتی۔ ان دنوں وہ پھر امید سے تھی۔
’’تم آرام کرو، اس طرح کپڑے لیے وقت بے وقت نہ گھر سے نکلا کرو۔‘‘وہ مغرب کے بعد کا وقت تھا۔
’’باجی کپڑوں کا پوٹلہ تو میرا ابا یا میاں اٹھاتا ہے ۔ پیچھے گلی میں جو باجی رہتی ہے اس نے کپڑے دیکھنے کے لیے کہے تھے ، سوچا آپ کو بھی دکھادوں۔‘‘
وہ ہمیشہ کی طرح ہنسی ۔
’’ہاں لیکن تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ، تم آرام …‘‘ جواب میں اس نے ہمیشہ کی طرح ہنس کے سر ہلا دیا ۔
’’یہاں سے جاکر کرلوں گی‘‘۔
اور پھر وہی ہؤا، بچہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی اپنی سانسیں کھو بیٹھا ۔
’’تم سے کہا بھی تھا ، گھر میں بیٹھو ، آرام کرو۔‘‘ مجھے افسوس کے ساتھ غصہ بھی تھا ۔
’’آرام ہماری قسمت میں کہاں … آرام کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے‘‘ وہ سر جھکائے دکھ سے کہہ رہی تھی ، ’’پھر میری دوائیوں کا خرچہ کون اٹھائے گا ؟‘‘ وہ تلخی سے گویا ہوئی ۔
’’ اپنے میاں سے بولو، وہ ڈھنگ سے کماتا کیوں نہیں ، ہڈ حرام بنا دیا تم نے!!‘‘ میں برہم تھی۔
’’ کیا کریں، اپنی تو قسمت ہی اوکھی ہے‘‘ وہ بے بسی سے آنسو پیتے ہوئے بولی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
٭
پھر سنا میاں کے ساتھ گاؤں چلی گئی ، وہیں رہے گی ۔ کچھ عرصہ اسی طرح بیت گیا ۔اس کے نصیب واقعی اوکھے تھے۔
دو سال بعد مسرت پھر میرے سامنے تھی ، پورا ٹائم لگ رہا تھا ۔
’’ تم ٹھیک ہو؟‘‘ مجھے اسے دیکھ کر خوشی ہوئی ۔
’’ جی باجی، بس میرے لیے دعا کرنا‘‘۔ وہ ملتجی انداز میں کہہ رہی تھی ۔
’’ یہ بھی بھلا کہنے کی بات ہے‘‘۔ میں اداسی سے مسکرائی ۔
پھر اللہ نے ایک مرتبہ پھر اسے بیٹے کی نعمت سے نوازا ۔ بچہ اگر چہ کمزور تھا لیکن ہاتھ پیر اچھی طرح ہلا رہا تھا ، ڈاکٹر نے اسے اور بچے کو دو دن بعد ہسپتال سے فارغ کردیا تھا ۔
کتنی خوش تھی وہ اپنے صحت مند بچے کو پا کر ، کتنے طویل عرصہ کے بعد اسے ممتا میسر آئی تھی اور وہ اسے اپنے بچے پر نچھاور کرنا چاہتی تھی ، لیکن حقیقتاً اس کی قسمت اوکھی تھی، اس مرتبہ بچے کی زندگی تو تھی لیکن مقدر نے اس کی زندگی کے دن گننے شروع کر دیے تھے ۔
نہ جانے کیا ہؤا تھا کہ کب اس کو یرقان ہوا، مناسب توجہ اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے نہ جانے کیسے بگڑ گیا ۔ وہ آئی تو پہچانی نہیں جا رہی تھی ۔
میں نے آنکھیں پھاڑ کر دوبارہ دیکھا، پھرسہ بارہ، ہاں وہ مسرت ہی تھی، کالی، دبلی ، زندگی کی کوئی رونق اس کے وجود میں نہ تھی۔
’’مو …سر …رت …!!!‘‘ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا-
’’یہ تم … تم …ہو؟‘‘
’’باجی میں بہت بیمار ہوں، میرا یرقان بگڑ گیا ، ڈاکٹر کہتے ہیں بس آرام کرو، نہ بولو، نہ ہنسو، نہ کہیں آئونہ کہیں جاؤ ، بس بستر پر پڑی رہو،‘‘وہ دکھ سے مسکرائی ۔
’’باجی مجھے مدد چاہیے‘‘۔
’’تمھارا بیٹا؟ وہ ٹھیک ہے ؟‘‘ مجھے اس کے بیٹے کی فکر نے گھیرا۔
’’ جی۔ کرم ہے مالک کا، وہ ٹھیک ہے‘‘وہ گلوگیر لہجہ میں کہہ رہی تھی ۔ ’’پر باجی مجھے نہ جانے اچانک کیا ہؤا …میں علاج کر رہی ہوں ، تا کہ جلدی سے اپنے بچے کے لیے ٹھیک ہو جاؤں ، وہ میرے پاس آتا ہے ، لیکن میں اس کے کام نہیں کر پاتی ۔ اس کے کیا میں تو اپنے کام بھی نہیں کر سکتی، اماں ہی کے در پر پڑی ہوں۔‘‘وہ یاسیت سے کہہ رہی تھی ۔
’’اور تمھارا میاں؟‘‘
’’بس …!!‘‘ وہ دو حرفی لفظ کہہ کر چپ کر گئی ۔
پھر اس کی ماں نے چند دنوں بعد بتایا ،مسرت کی طبیعت مزید بگڑ گئی ، ڈاکٹر مایوس ہو گئے ہیں ۔
وہ جو جینا چاہتی تھی ، اپنے لیے ، اپنے بچے کے لیے ، زندگی نے اسے مہلت نہ دی ۔ وہ جو شادی کے کئ برس زندہ اولاد کے لیے ، اس کو کھلانے، اس کی معصوم باتوں کے لیے ترستی رہی، جب اولاد کا تحفہ اسے ملا تو اس کی پرورش اس کے نصیب میں نہ لکھی تھی ۔ وہ بیماری سے نہ لڑ سکی، ہار گئی ۔
نام تو مسرت تھا ، لیکن زندگی کی حقیقی مسرتیں اسے نہ میسر ہوئیں۔ جس اولاد کی خاطر اس نے کتنے کشٹ اٹھائے ، اسی اولاد کو اپنے ہاتھوں نہ پال سکی۔
کئی قطرے میری آنکھوں سے نکل کر گریباں میں جذب ہو گئے ۔
٭
اس کے بچے کو ماں تو نہیں لیکن نانی کی گود مل گئی تھی ۔ میاں اس کا واپس گاؤں چلا گیا تھا ، اس نصیب جلی کو بھول کر ایک اور گھر بسانے ۔
سال اسی طرح بیت گیا ۔
’’ خیریت تھی، تم دو دن سے کام پر نہیں آئیں‘‘۔ مسرت کی ماں جو ہمارے پاس کام کرتی تھی ، میں نے اس سے پوچھا ۔
’’ باجی، ہمارے گھر اگر چار دن بھی خیریت سے گزر جائیں تو سمجھو انہونی ہو گئی ‘‘۔ وہ سر جھٹک کر بولی۔
’’اب کیا ہؤا‘‘؟
’’ہونا کیا ہے ، مسرت کا میاں، چار دن سے آیا ہؤا تھا ، کہہ رہا تھا بچے سے ملنے آیا ہوں ۔ ہم نے کہا مل لے، ہم کو اعتراض تھوڑی ہے۔ پر جی اس نے کیا کیا ۔ تین دن پہلے دوپہر کو آیا کہ بچے کو گھمانے چڑیا گھر لے کر جارہا ہوں۔ شام تک لے آؤں گا۔ پر جی جب وہ رات تک نہ آیا تو میں اور میرا میاں بہت پریشان ہو گئے ۔ کئی جگہ ڈھونڈا، ساری رات گزر گئی پر وہ نہ ملا، اگلے دن دوپہر کو گاؤں فون کیا تو معلوم ہؤا کہ وہ تو گاؤں پہنچ گیا ۔ میرا میاں اور بڑا بیٹا بھی اسی وقت بس پکڑکر گاؤں گئے ۔ بڑی لے دے ہوئی ، جھگڑا ہؤا ، پر اس نے بچہ نہ دیا کہتا ہے میرا بچہ ہے میں پالوں گا، …پال لے جی ہمیں کیا اعتراض ، پر جی وہ کچھ تو بڑا ہو جائے ، سمجھ بوجھ کے قابل، ابھی تو کا کا ہے، ماں کوبلاتا ہے‘‘ وہ بھرائی زبان میں بول رہی تھی ۔
’’ پھر ؟‘‘ میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا ۔
’’پھر کیا جی، وہاں ساری برادری اس کی حمایتی بن گئی ۔ ہماری کس نے سننی تھی۔ بک جھک کر آگیا میرا میاں‘‘۔
اس کے لہجے میں درد ہی درد تھا ۔ اتنا کہہ کر وہ کام کرنے لگی اور میں …میں صدمے سے بوجھل دل لیے وہیں بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی۔
’’ آہ!! کیا بخت پایا تم نے مسرت ؟ مر کر بھی چین نہ لینے دیا ، نانی کچھ تو محبت دے دیتی، وہاں تو سوتیلی ماں ہوگی اور …اگرچہ دادی پھوپھی کے رشتے بھی موجود ہوں گے ، لیکن خدا جانے بن ماں کے بچے کے ساتھ کیا سلوک کریں! کئی سوالیہ نشان تھے جن کے جواب زندگی کے دائروں میں کھو چکے تھے ۔
کچھ عرصہ بعد اس نے بھی کام چھوڑ دیا اور یوں یہ باب ہمیشہ کے لیے میری یادداشت میں بند ہو گیا ۔پھر وقت کی ریت نے اس کو کہیں اندر ہی اندر دفن کردیا۔ آج پھر یہ بھولی بسری یاد آئی جس نے زخم تازہ کردیا ۔ اور میں دو آنسو اس کی یاد میں بہا کر اتنا ہی کہہ سکی۔
’’ مسرت تو واقعی اوکھی تھی ‘‘۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x