فرحی نعیم

نئے نویلے دولھا صاحب اپنے لیے کولڈ ڈرنک لینے کمرے سے جیسے ہی باہر نکلے، ادھر عشنا نے فوراً ہی پرس سے موبائل نکالا۔ عجلت میں اس نے واٹس ایپ کھولا تو گروپ پر اس کی سہلیوں کے کئی میسجز آئے ہوئے تھے۔ اگر ایک طرف وہ بے تاب تھیں تو دوسری طرف اس کو […]

وہ اس فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھتی ایک گہری نظر اوپر نیچے ڈال رہی تھی ، دوسری منزل کے آخری زینے پر آکر اس کا یہ فیصلہ حتمی تھا کہ یہ وہ محل وقوع ہر گز نہیں جہاں روما گھر لینا چاہتی تھی ۔ انگلی گھنٹی پر رکھ کر اب وہ دروازہ کھلنے کا انتظار کر […]

گھرمہمانوں سے بھرا پڑاتھا۔ ایک افراتفری کا سماں تھا۔ ہر کوئی مصروف، کوئی تیاری میں توکوئی باتوں میں، ایک شور تھا جو سارے گھر میں بپاتھا۔ لڑکیاں اپنی ادھوری تیاری کو مکمل کرنے میں سرگرداں تو مائیں اپنے بچوں پر برس رہی تھیں جویہاں سے وہاں بھاگے دوڑے پھر رہی تھے۔مہمانوں کے بیٹھنے کا انتظام […]

سوتے سوتے اچانک ہی ان کی آنکھ کھلی تھی ۔کمرے میں اندھیرا تھا ۔ گھڑی کی سوئی کے ساتھ ان کے ذہن میں بھی خیالات کی یلغار آنی شروع ہوئی تھی ۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئیں تھیں ۔ جاتی سردیوں کے دن تھے ۔ موسم میں تبدیلی آ رہی تھی ۔ کسی وقت ہلکی […]

شادی کا گھر تھا لیکن مجال ہے جو کسی کام کی بھی کوئی ’’ کل ‘‘ سیدھی ہوئی ہو۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا ہر کام جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے اتنے ہی اپنے مخالف سمت کی طرف سفرکررہا ہو۔شادی میں صرف ایک ماہ رہ گیا تھا دلہن سمیت کسی کے بھی کپڑے تیار […]

تینوں بچیوںکو سکول بھیج کر اب جمیلہ گھر کے کاموں میں لگی ہوئی تھی۔ میلے کپڑے سمیٹ کر اس نے ٹب میں ڈالے اور سرف ڈال کر بھگونے رکھ دیئے اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگی۔ سبزی وہ گلی میں آنے والے سبزی والے سے پہلے ہی خرید چکی تھی۔ اس نے چھری اور […]

مددگار نمبر کے لیے تحریر لکھنے بیٹھی تو سوچ کے پنچھی کو آزاد چھوڑ دیا، اس نے اڑا ن بھری اور کئی برس پیچھے تیزی سے مسافت طے کرتا چلا گیا اور پھر اچانک ٹھٹک کر ایک ڈال پر بیٹھ گیا، اور میری یادداشت نے ایک بھولی بسری کہانی یاد دلائی۔ یہ ملازمین ، خدمت […]

سال نو کا آغاز اس لحاظ سے خوشگوار رہا کہ حریم ادب کراچی کی فعال ٹیم نے اپنی قلم کار بہنوں اور پڑھنے لکھنے کی شیدائی خواتین کے لیے حسبِ روایت ، جاتے جاڑوں کی ایک دلفریب سہ پہر کو الخدمت کے نرم گرم خوبصورت گوشے میں مدیرہ بتول محترمہ صائمہ اسما کے ساتھ ایک […]

آخر وہی ہؤا نا جس کا ڈر تھا ۔ سندس کے منہ پھٹ ہونے میں اگرچہ عنبر کو پہلے بھی کبھی کوئی شبہ نہ تھا لیکن آج تواس نے حد ہی کر دی تھی ۔ آپا کیسے مسکرامسکراکر سب سے باتیں کر رہی تھیں ۔ اپنے گھر اور میاں کی تعریف میں رطب اللسان تھیں […]