ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ارمان – بتول جنوری ۲۰۲۲

جونہی ذکیہ بیگم کی سانس کی ڈور ٹوٹی، ان کے آس پاس موجود سب افراد نے سکھ کا سانس لیا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتاتھا کہ جیسے گزشتہ دوڈھائی سال سے وہ سب ذکیہ بیگم کی جیتی جاگتی لاش کو اپنے کندھوں پراٹھائے پھر رہے تھے۔ آج اچانک یہ لاش سرک گئی تھی اوران کے کندھے اس بوجھ سے آزاد ہوگئے تھے۔ اس آزادی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے گردنیں گھما کر ایک دوسرے کو کچھ اس انداز سے دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو یقین دلارہے ہوں کہ ذکیہ بیگم اب کبھی لوٹ کران کی دنیا میں واپس نہیں آئیںگی۔ پھر بڑی بہو نے اپنے میاں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
’’میں نے کہا، کفن خریدنے جائو گے تو ساتھ ہی گلاب کے پھولوں کی ڈھیر ساری پتیاں ضرور لیتے آنا۔ امی کو گلاب کی خوشبو بہت پسند تھی‘‘۔
منجھلی رقت طاری کرتے ہوئے کہنے لگی۔
’’اجی سنیے! ذرا جا کر مدرسے سے کچھ بچوں کو لے آئیے۔یہاں بیٹھ کر وہ قرآن خوانی کرتے رہیں گے تاکہ امی کی روح کو سکون ملے‘‘۔
چھوٹی بہو نازیہ نے اپنے دوپٹے کو سرپر جماتے ہوئے اعلان کیا۔
’’میں نہلانے والی ماسی کو لینے جارہی ہوں۔ میت کو نہلانے کی ذمہ داری میری ہے‘‘۔
طاہرہ نے حیران ہو کرتینوں بھابھیوں پر نظرڈالی۔نہ جانے ان کے دلوں میں اچانک ذکیہ بیگم کے لیے خوابیدہ محبت کیسے بیدار ہوگئی تھی۔ پھر اس نے اپنی ماں کے بے جان چہرے کو دیکھا۔ اس کے دل سے ہوک اٹھی اور وہ سوچنے لگی کہ زندگی کے آخری دنوں میں امی اسی خیرخواہی کو ترس کر رہ گئی تھیں لیکن اب توجہ کا مرکز بن کر وہ سب کی ہمدردی سے بے نیاز ہوگئی ہیںاس کے ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ اسے بھی اپنے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہر وقت امی کی فکر لاحق رہتی تھی کہ نہ جانے امی نے کچھ کھایا ہوگا یا نہیں؟خدا جانے را ت بھر نیند آئی ہوگی یا نہیں؟اللہ جانے درد کو افاقہ ہؤا یا نہیں؟خدامعلوم کتنی دفعہ دل ہی دل میں مجھے پکارا ہوگا؟کسی نے ان کی پیاس کو بجھایا ہوگا یا نہیں؟
توآج وہ بھی ان سب فکروں سے آزاد ہو گئی تھیں۔ امی سب رشتوں سے منہ موڑ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئی تھیں۔
ذکیہ بیگم پچھلے کچھ عرصہ سے علیل تھیں۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے پچک گئے تھے، جس کی وجہ سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا تھا۔ اور وہ بسترکا ایک حصہ بن کر رہ گئی تھیں۔ ہر وقت بیٹھے یا لیٹے رہنے کی وجہ سے وزن بھی بے تحاشہ بڑھتا چلا جارہاتھا اور یہ موٹاپا انہیں اندر ہی اندر سے کھوکھلا کررہاتھا۔
شروع شروع میں تو وہ لاٹھی کا سہارا لے کر بمشکل غسل خانے تک چلی جاتی تھیں لیکن کچھ عرصے کے بعد لاٹھی کے ساتھ ساتھ انسانی سہارے کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگی لیکن جلدہی یہ سب سہارے بیکار ہوگئے۔ انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا کہ اس کے سوا چارہ نہ تھا اور بستر پر لیٹے لیٹے موت کی راہ دیکھنے لگیں۔
ذکیہ بیگم تین بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں تھیں۔سب بچے شادی شدہ تھے۔بڑی بہو ڈاکٹر تھی اور منجھلی بہو ایک سکول میں پڑھاتی تھی۔ چھوٹے بیٹے عامر کو اپنی ماں سے بہت محبت تھی۔ دونوں بڑے بھائیوں کی شادی کے بعد جب عامر کی باری آئی توا س کی خواہش کے مطابق ذکیہ بیگم نے اس کی شادی ایک دیندار گھرانے میں کردی اور وہ نازیہ کو بہو بنا کر لے آئیں۔
بیٹوں کی شادیوں کے باوجود ذکیہ بیگم نے گھر کی بیشتر ذمہ داریاں بخوشی اٹھائی ہوئی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ جب تک ان میں دم خم موجود ہے وہ اپنے بچوں کو ہرممکن سہولت بہم پہنچائیں۔ا ن کے رویے کی وجہ سے اہل خانہ بہت خوش اورمطمئن تھے۔ وہ گھر کانظام بہت سلیقے سے چلا

رہی تھیں اور کسی قسم کا مسئلہ نہ تھا۔ دونوں بڑی بہویں روزانہ صبح اپنی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں گھر سے نکل جاتیں۔ واپس آکر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اپنے اپنے بچوں کو ہوم ورک کروانے بیٹھ جاتیں۔ رات کو ٹی وی پروگرام دیکھے جاتے اور دن کا اختتام ہوجاتا۔
نازیہ محلے میں ہردلعزیز تھی۔ وہ گاہے بگاہے خواتین کو درس دیتی۔ محلے میں کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کے لیے چلی جاتی۔کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ ہرممکن مدد کے لیے آمادہ ہوتی ۔ کسی کو کوئی مشورہ درکار ہوتا تو وہ حاضر ہوتی۔کسی کی شادی کا موقع ہوتا تو بڑھ چڑھ کر خریداری اور سلائی کے کاموں میں حصہ ڈالتی۔کسی بچے کو پڑھائی کے سلسلہ میں کوئی مشکل پیش آتی تو وہ نازیہ بھابھی کے پاس بھاگا چلا آتا۔ غرض وہ دونوں بڑی بھابھیوں سے کہیں بڑھ کر مصروف تھی اور محلے بھر کی آنکھوںکا تارا تھی۔بعض اوقات عامر اس کی ایسی بے پایاں مصروفیات کی وجہ سے چڑجاتا ور اسے کہتا۔
’’بیگم صاحبہ! اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت اس غریب خانے کو بھی دے دیا کریں۔ آپ کی عنایت ہوگی‘‘۔
لیکن ایسے موقع پر ذکیہ بیگم آڑے آجاتیں۔
’’گھر کے سب کام بآسانی ہورہے ہیں۔اگر کبھی مجھے ضرورت ہوگی تو لامحالہ نازیہ کوہی مدد کے لیے پکاروں گی۔فی الحال کوئی مسئلہ نہیں۔ اس لیے تم خواہ مخواہ اس کی مصروفیت پر اعتراض نہ کیا کرو‘‘۔
ذکیہ بیگم کی حمایت پا کر نازیہ مسکرا اٹھتی اور عامر خاموش ہوجاتا۔
غرض جب تک ذکیہ بیگم تندرست رہیں، روزمرہ کے سب کام خوش اسلوبی سے ہوتے رہے اوران کی سلیقہ شعاری سے سب فیض یاب ہوتے رہے۔ لیکن جب ان کی ہمت جواب دے گئی تو آہستہ آہستہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کنارہ کش ہوتی چلی گئیں۔ چنانچہ ایک ادھیڑ عمر کی عورت کو کھانا پکانے کے لیے رکھ لیاگیا۔ ذکیہ بیگم باورچی خانے میں کرسی بچھا کر بیٹھ جاتیں اور اپنی نگرانی میں اس سے کا م کرواتیں لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔کچھ عرصہ کے بعد جب ان کے لیے کرسی پر بیٹھنا بھی دشوار ہوگیا تو وہ بستر سے جالگیں۔ باورچی خانہ کیالاورث ہؤا گھر کا نظام ہی تلپٹ ہوکر رہ گیا۔ اب سب کے لیے بے فکری سے بروقت اور من پسند ناشتے کی دستیابی بھی مسئلہ بن کررہ گئی لیکن جلد ہی گھروالوں نے اس نئی صورت حال سے سمجھوتہ کر لیا اورجوں توں گزارا کرنے لگے۔
شروع شروع میں سب نے ذکیہ بیگم کی خبر گیر ی میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی لیکن جوں جوں بیماری کا سلسلہ دراز ہوتا چلاگیا، توں توں اہلِ خانہ ان کی طرف سے غافل ہوکر اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہوتے چلے گئے۔
ذکیہ بیگم کی علالت کی ابتدا کے دوران بڑے بیٹے نے ان کے علاج پر اٹھنے والے تمامتر اخراجات کی ذمہ داری اٹھائی لیکن چند ماہ کے بعد جب اس کی بیوی نے اس کی توجہ مبذول کروائی تو وہ بھی تذبذب کاشکار ہوکررہ گیا ۔
وہ کہنے لگی۔’’اجی! ہمیں چاہیے کہ ہم ابھی سے اپنے بیٹے کی تعلیم اور بیٹی کے جہیز کے لیے ہر ماہ کچھ پیسے پس انداز کرلیا کریں۔ اگرچہ بیٹی آج چھوٹی ہے لیکن وقت گزرتے دیرنہیں لگتی۔ کل شادی کے لیے زیور درکار ہوگا۔ جانتے ہو سونے کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔آج پیسے بچائو گے تو کل کام آئیں گے‘‘۔
یہ کہہ وہ لمحہ بھر کے لیے رکی اورپھر رسان سے کہنے لگی۔
’’توبہ! آج کل دوا دارو بھی کس قدر مہنگا ہوگیا ہے۔ ہماری آمدنی کا خاصا بڑاحصہ تو امی کے علاج پر ہی اٹھ جاتاہے۔حالانکہ اصولاً تو سب بھائیوں کو مل کر یہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ وہ سب کی ماں ہیں، صرف تمہاری تونہیں ادھر سے کچھ رقم بچ جائے تو ہم وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک طرف رکھ دیں‘‘۔
وہ اپنی بیوی کی عقلمندی اور دوراندیشی کا قائل تھا۔ اب اس کا مشورہ سن کر دل ہی دل میں نادم ہوگیا کہ وہ ماں ہو کر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کیسے پیش بندی کررہی ہے اور وہ باپ ہوکر بھی اس انداز سے نہیں سوچ رہا تھا۔
چنانچہ اب اس نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا کہ وہ کس طرح اپنے بھائیوں کو بھی اس کارِخیر میں شریک کرکے اپنا دامن بچالے۔ جلد ہی اسے حل مل گیا۔ وہ بازار سے جَست کا بنا ہؤاپیسے جمع کرنے والا ایک گلہ خرید لایااور اسے ٹی وی لائونج کے ایک کونے میں رکھی گئی ایک گول تپائی

کے اوپر رکھ دیا۔ پھر اس نے اپنے دونوں بھائیوں کو بلا کرکہا۔
’’اب ہم تینوں اس گلے میں حسبِ استطاعت پیسے ڈال دیا کریں گے۔جب امی کے دوا خریدنے کی ضرورت ہوگی، اس میں سے پیسے نکال کر استعمال کرلیا کریںگے‘‘۔
بڑے بھیا کی تجویز عامرکوگراں گزری۔ اس نے سوچا کہ اب ماں کا علاج بھی چندے کی رقم سے کیا جائے گا؟ا س کا دل چاہا کہ وہ اس گلے کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دے لیکن وہ ایسا نہ کرسکا کیونکہ ذکیہ بیگم نے اسے ہمیشہ بڑے بھیا کے سامنے مودب رہنا ہی سکھایا تھا۔اس نے دبے لہجے میں صرف اتنا کہا۔
’’بڑے بھیا! آپ فکر نہ کریں۔امی کے علاج کے لیے میرے پاس کچھ رقم موجود ہے وہ پیسے جب ختم ہوجائیں گے تو پھر جیساآپ کا دل چاہے ویسا ہی کرلیجیے گا‘‘۔
لیکن بھیا نے کمال فراخدالی سے اس کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بھئی نہیں! وہ ہم سب کی ماں ہیں۔ اس لیے ان کے دوا دارو کا خرچہ ہم سب کو مل جل کر ہی اٹھانا چاہیے۔ اصول اور انصاف کا یہی تقاضا ہے‘‘۔
یہ کہہ کر بھیا نے عدالت برخاست کردی اور عامر گہری سوچ میں کھو گیا۔ نازیہ دونوں بھائیوں کی گفتگوسن رہی تھی۔ بڑے بھیا کے جانے کے بعد وہ عامر کے نزدیک آئی اور سمجھانے بیٹھ گئی۔
’’دیکھو! بڑے بھیا کی تجویز بہت اچھی ہے۔ وہ تم سب کی ماں ہیں اور تم سب کو مل کر ہی اس کام کا بیڑا اٹھانا چاہیے۔تم ان کے علاج کے تمامتر اخراجات اپنے ذمہ لے کر اپنے بھائیوں کو اس نیکی سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہو؟حالانکہ نیکی کے کاموں میں ہمیںا یک دوسرے سے تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔
عامر دکھی لہجے میں کہنے لگا۔
’’ہم نے امی کی خدمت اور ایثار کا فیض سالہا سال پایا ہے۔ انہوں نے اپنے وسائل ، وقت اور صلاحیتوں کا بہترین حصہ ہماری نذرکردیااور اب ہم اپنی آمدنی کا کمترین حصہ بھی ان پر خرچ کرنے کے لیے کس کرب سے گزر رہے ہیں۔بڑے بھیا ہمیشہ سے امی کی کمزوری تھے۔ اگر کبھی عزیز واقار ب یا پڑوس کی طرف سے ان کا پسندیدہ کوئی کھانا یا تحفہ گھر میں آجاتا تو اکثر امی ان ہی کو دے دیا کرتیں۔ اس وقت وہ بھول جاتے تھے کہ وہ ہم دونوں بھائیوں کی بھی ماں ہیں۔ اب اچانک ان کو کیسے یاد آگیا کہ ہم بھی ان کے بیٹے ہیں۔ عجب ماجرا ہے اب وہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کی ماں ہیں۔ تم بھی اعلان کرتی ہو کہ وہ ہم سب کی ماں ہیں۔ تمہاری یاددہانی کا شکریہ۔ تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں جب شعور کی آنکھ کھولی تھی تو سب سے پہلے اسی حقیقت کو جاناتھا، بے لوث محبت کے اسی پیکر کو پہچانا تھا‘‘۔
یہ کہتے کہتے عامر کی آنکھیں بھیگ گئیں اور اس کی آواز بھرا گئی۔
بیماری کے ابتدائی دنوں میں ذکیہ بیگم پُر امیدتھیں کہ وہ جلد ہی صحت یاب ہوکر حسب سابق اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی لیکن جب مرض میں افاقے کی بجائے اضافہ ہوتاچلاگیا تو انہوںنے بھی امید کا دامن چھوڑ دیا۔ جب گھروالے بھی ان کی طرف سے غافل ہوگئے تو بیماری کے ساتھ ساتھ انہیں تنہائی بھی ڈسنے لگی۔
عامر ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا۔ وہ صبح گھر سے نکلتا اور شام ڈھلے تھکا ہارا واپس آتا۔ گھر پہنچ کر وہ سیدھا ذکیہ بیگم کے کمرے میں جا کران کاحال احوال پوچھ کر اپنے کمرے کا رخ کرتا۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک جزوقتی ملازمہ رکھ لی گئی تھی جو گھر کے کاموں میں زیادہ مصروف رہتی اور ذکیہ بیگم کی ضروریات کا بھی مقدور بھر خیال رکھتی۔ ملازمہ کو ذکیہ بیگم کا کمرہ پسند نہیں تھا۔ گھر میں اس کمرے کی حیثیت ایک ہنگامے اور شورش سے بھرپور سمندرکے ایسے جزیرے کی سی تھی، جہاں اداسی اور ویرانی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اس کمرے کے باہر زندگی کی رونق اور توانائیاں بکھری پڑی تھیں۔ اس لیے ملازمہ کی کوشش یہی ہوتی کہ وہ انتہائی ضرورت اور مجبوری کے تحت ہی اس کمرے میں داخل ہؤاور کم سے کم وقت وہاں ٹھہر کر جلد از جلد وہاں سے نکل آئے۔ یوں ذکیہ بیگم کی تنہائی بڑھتی چلی گئی۔ ان کے لیے دن پہاڑ کی طرح بوجھل

اور طویل ہوجاتا اور ہر رات صدیوں کی طوالت لے کر آتی۔
ایک دن مہترانی گھر کی صفائی کر رہی تھی۔ اسی دوران اس نے دروازہ کھولاتو ایک بھولی بھٹکی چڑیا اڑتی ہو ئی گھر کے اندر ذکیہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوگئی۔ کمرے میں جا کر وہ بیقراری سے ایک کونے سے دوسرے کونے میں چکر لگانے لگی۔ چند چکر لگا کر وہ تھک کرنڈھال ہوگئی اور سانس لینے کے لیے کمرے کی دیوار پر چھت کے قریب لگے ہوئے سپلٹ کے اوپر بیٹھ کر حیران ہوکر دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ذکیہ بیگم کے کمرے کا جمود ٹوٹا۔ انہیں اپنے کمرے میں چڑیا کی آمد بہت اچھی لگی۔ انہوں نے محبت سے اسکی طرف دیکھا اور پھردل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوگئیں۔
’’خوش آمدید! منی چڑیا کیسی ہو؟باہر کا موسم کیسا ہے؟کیا باہر کی دنیا میں اب بھی بادل گرج کر برستے ہیں؟کیادھوپ پہلے جیسی ہی چمکیلی ہے؟کیا ہوائیں بھی مشکبار ہیں؟کیا چاندنی اب بھی آسمان سے چھن چھن کر تی ہوئی زمین پر اتر کر ویسے ہی بکھر جاتی ہے؟کیا رنگ برنگے اور خوبصورت پھول اپنے حسن اور خوشبو کے ساتھ اب بھی چمن میں جلوہ آرا ہیں؟کیا روزانہ علی الصبح باغ میں قسم قسم کے پرندے اکٹھے ہوکر بھانت بھانت کی بولیاں بول کر اپنے خالق کی حمدو ثنا کرتے ہیں؟اور چڑیا رانی! تمہیں یاد ہے کہ میں روزانہ صبح سویرے تمہارے لیے مٹی کے برتنوں میں باجرہ اور پانی رکھ دیا کرتی تھی۔ نہ جانے اب کوئی تمہارے دانے دنکے کا خیال رکھتا ہے یانہیں؟اللہ جانے اب خوراک کی تلاش کے لیے تمہیں کتنی لمبی اڑان بھرنا پڑتی ہے؟‘‘
ذکیہ بیگم یونہی چڑیا کے ساتھ محوگفتگو تھیں کہ بچوں کو بھی اس کی موجودگی کی خبر ہوگئی اور وہ خوشی سے شورمچاتے ہوئے ان کے کمرے میں داخل ہوگئے۔ا س ہنگامے کی وجہ سے ذکیہ بیگم کے سوئے سوئے، تنہا اور ویران کمرے میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ وہ اپنی بیماری کو بھول کر باری باری بچوں کے خوش سے تمتماتے ہوئے چہروں کو دیکھتی چلی جارہی تھیں اور ان کا دل چاہ رہاتھا کہ وقت تھم جائے لیکن جلد ہی بچوں کا شور سن کر منجھلی بہوکمرے میں آئی اور ڈانٹ ڈپٹ کر ساتھ لے گئی۔ چڑیا کو بھی ان کے کمرے سے بے دخل کردیاگیا۔ اب پھر کمرے کے وہی چپ چاپ سے ساکت وجامد درودیوار تھے، وہی وحشت تھی اور وہی تنہائی۔ذکیہ بیگم کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گرنے لگے اور انہوں نے آنکھیں موند لیں۔
عامر دفتر سے واپس آیا تو سیدھا ذکیہ بیگم کے کمرے کی طرف چل دیا۔وہ نیم غنودگی کے عالم میں ہلکے ہلکے کراہ رہی تھیں اور ان کا سانس دھونکنی کی مانند چل رہاتھا۔ عامر نے ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو حدت کی وجہ سے احساس ہؤا کہ انہیں تو تیز بخار نے آلیا ہے۔ اس نے گھبرا کر ان کو پکارا۔ذکیہ بیگم نے بمشکل آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا۔ عامر ان کی نظروں میں چھائی ہوئی بے بسی کی تاب نہ لاسکا اور اس نے آنکھیں جھکا کر پوچھا۔
’’امی! آپ کو تو بخار ہے۔کیا آپ نے دوالی ہے؟‘‘
وہ منہ سے کچھ نہ بولیں۔ بس دائیں ہاتھ کی انگلی سے نہ کا اشارہ کردیا۔ عامر نے میز پر رکھی ہوئی رنگ برنگی دوائیوں میں سے ایک بوتل اٹھا کر اسے کھول کر چمچے میں دوا انڈیلی اور آہستہ آہستہ ان کو پلا دی۔ پھر وہ پلنگ پر بیٹھ کر ان کی ٹانگیں دبانے لگا۔ کچھ دیر کے بعد نازیہ کمرے میں داخل ہوکر اسے کہنے لگی۔
’’میں نے تمہارا کھانا میز پرچن دیاہے۔ اٹھو کھانا کھالو‘‘۔
’’مجھے بھوک نہیں ہے‘‘۔اس نے اکتائے لہجے میں کہا۔
نازیہ نے چونکہ اپنا فرض اداکردیاتھا اس لیے اصرار نہ کیا۔
کچھ دیر کے بعد ذکیہ بیگم کی حالت قدرے بہترنظر آنے لگی اور وہ ہلکے ہلکے خراٹے لینے لگیں۔ عامر ان کی طرف سے قدرے مطمئن ہوکر کمرے سے باہر نکلا تو وہاں برآمدے میں نازیہ آرام کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اسکی پالتو بلی اس کی گود میں آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی اور نازیہ بہت محبت سے اسکی پشت سہلا رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر عامر سے رہا نہ گیا اور وہ بے اختیار بول اٹھا۔
’’نازیہ! کاش تم امی کا صرف اتنا ہی خیال کرلیا کرو جتنا اس خوش نصیب بلی کا کرتی ہو۔ مانا کہ ان سے تمہارا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ محبت اور الفت کا رشتہ نہیں، ہم عمری کا رشتہ نہیں لیکن انسانیت کا رشتہ تو ہے نا… اسی رشتے کے ناطے۔ اسی رشتے کے واسطے…‘‘

نازیہ نے اپنی نظریں بدستور بلی پر مرکوز کیے رکھیں اور سپاٹ لہجے میں کہنے لگی۔
’’عامر! میں انسانیت کے رشتوں کو نہیں مانتی۔یہ رشتہ تو ہمارا ملزموں اورمجرموں کے ساتھ بھی ہوتاہے تو کیا و ہ بھی ہماری توجہ اور محبت کے مستحق ہوجاتے ہیں؟میں تور شتوں کودین کی روشنی میں پرکھتی ہوں اورمیرے دین نے مجھ پر تمہاری ماں کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی۔ وہ تمہاری ماں ہیں،تم ذمہ دار ہو ان کے۔ تم ان کی جی جان سے خدمت کرو۔تمہیں کس نے روکا ہے؟ اپنا ملبہ دوسروں پرکیوں گراتے ہو؟‘‘
نازیہ کی بے حسی دیکھ کر اور اس کی تلخ گوئی سن کر عامر ضبط نہ کرسکا۔ کہنے لگا۔
’’یہ تم کس دین کا پرچار کرتی ہو؟میں کیسے ما ن لوں کہ جو دین، دینِ فطرت ہو، جس نے زندگی کے ہر پہلو اور ہر گوشے کے لیے بنی نوعِ آدم کی رہنمائی کی ہو، جو دین انسانوں کوجانوروں کے حقوق سے آگاہ کرے، جودین ہمسائے کے حقوق سے آگاہ کرے، جوپہلو کے ساتھی اور سفر کے ساتھی کے بارے تلقین کرے، جو رشتہ داروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے پراکسائے، جو اجنبی سوالی کے ساتھ حسن سلوک کرنا سکھائے،جوبھوکے کا پیٹ بھرنا سکھائے،جو دوستی کے انداز سکھائے، جو دشمنی کے آداب سمجھائے، جو پھلدار درختوں اور نباتات کے حقوق سے روشناس کرائے، جو میاں بیوی کے حقوق وفرائض واضح کرے، بہن بھائیوں کے آپس کے تعلقات پر روشنی ڈالے، جوحاکم کے فرائض سے آگاہ کرے، جو محکوم کے حقوق سمجھائے، جو ظالم کا ہاتھ پکڑنا سکھائے، جو مظلوم کی مدد کرنے کاحکم دے، جو مسافر کے لیے آسائش کی نوید ہو، جو آزاد ی کے حدودقیود کا تعین کرے، جو قیدی کے لیے بھی حسن سلوک کا حکم دے، جو کمزوروں کو جائے پناہ دے اور طاقتور کو جھکنا سکھادے، بیمار کے حقوق، قرضدار کے حقوق،یہاں تک کے مردہ انسانوں کے حقوق،ان سب کی وضاحت جو خوب کھول کھول کر بیان کردے توکیا ایسادین صرف ساس سے ہی لاتعلقی اور بے مروتی کا سبق دیتاہے۔ ناممکن ہے یہ ناممکن‘‘۔
’’عامر! تمہاری اس جذباتی تقریر سے دین کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسکی رو سے تمہاری ماں کی دیکھ بھال میری ذمہ داری نہیں۔ میرے لیے وہ تمہاری ماں ہیں اوربس‘‘۔ نازیہ نے بے نیازی سے جواب دیا۔
عامر روہانسا ہو کر کہنے لگا۔
’’دیکھو نازیہ !میری ماں میری جنت ہے۔ تم میری جنت کی توقیر نہیں کرسکتی تو اسکی تذلیل بھی نہ کرو۔ کیا یہ تمہارا فرض نہیں کہ میری خوشی اورمیرے سکون کاخیال رکھو۔ سوچوتو سہی تم میری شریکِ حیات ہو۔میری اعانت کرو تاکہ میں سکون اوراطمینان سے رزقِ حلال کے حصول کی کوشش میں لگا رہوں۔امی کی معذوری کی وجہ سے میں ذہنی طورپر اس قدر پریشان رہتاہوں کہ دفتر میں کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ دل چاہتاہے کہ نوکری چھوڑ کر خود ان کی خدمت کرو ں۔ میں ڈرتاہوں کہ نہ جانے کب ان کی سانس کی ڈور ٹوٹ جائے اورپھر کہیں میں ساری زندگی کے لیے حسرت اور پچھتاوے کا شکار نہ ہوکر رہ جائوں‘‘۔
اب نازیہ چمک کرکہنے لگی۔
’’نوکری چھوڑنے کا خیال تمہیں کیونکر آیا۔ میں اور بچے تمہاری ذمہ داری ہیں جیتے جی تم اس ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کرسکتے‘‘۔
عامر کہنے لگا۔
’’ہاں! تم ٹھیک کہتی ہو لیکن مجھے سمجھائو کہ میں کیاکروں۔ امی میری ذمہ داری ہیں اور ان کی دیکھ بھال میرا فرض ہے۔تمہاری ذمہ داری کی وجہ سے نوکری کرنا بھی لازم ہے۔ میں یہ دونوں کام بیک وقت کیسے کرسکتاہوں؟ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ سوچو تو سہی کہ تمہارے بہن بھائیوں کے آڑے وقت میں تمہاری خوشی کی خاطر میں مقدور بھر ان کے کام آتاہوں۔کیا یہ مجھ پر فرض ہے؟میری جان! ہم دونوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو حتی الوسع خوش رکھیں۔ اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں کہ ساس ہونے کے ناطے تم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں تو اس کے باوجود جب ہم ایک گھر میں ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں توکیا ان کو پڑوسی کی حیثیت سے دے کر ان سے حسن سلوک نہیں کیا جاسکتا؟ تم جانتی ہو کہ ہمیں زمین والوں پر رحم کاحکم دیا گیا ہے۔ کیا وہ اہلِ

’’ہاں! تم ٹھیک کہتی ہو لیکن مجھے سمجھائو کہ میں کیاکروں۔ امی میری ذمہ داری ہیں اور ان کی دیکھ بھال میرا فرض ہے۔تمہاری ذمہ داری کی وجہ سے نوکری کرنا بھی لازم ہے۔ میں یہ دونوں کام بیک وقت کیسے کرسکتاہوں؟ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ سوچو تو سہی کہ تمہارے بہن بھائیوں کے آڑے وقت میں تمہاری خوشی کی خاطر میں مقدور بھر ان کے کام آتاہوں۔کیا یہ مجھ پر فرض ہے؟میری جان! ہم دونوں کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو حتی الوسع خوش رکھیں۔ اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں کہ ساس ہونے کے ناطے تم پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں تو اس کے باوجود جب ہم ایک گھر میں ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں توکیا ان کو پڑوسی کی حیثیت سے دے کر ان سے حسن سلوک نہیں کیا جاسکتا؟ تم جانتی ہو کہ ہمیں زمین والوں پر رحم کاحکم دیا گیا ہے۔ کیا وہ اہلِ زمیں میں سے نہیں؟اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور جو شخص اس کے کنبے کا خیال رکھتا ہے، وہ اس سے راضی ہوجاتاہے۔میری ماں بھی اسی کنبے کا فر دہے۔ دیکھو دین کانام لے لے کر لوگوں میں بدگمانیاں اور دوریاں پیدا نہ کرو۔ ہاں دین کانام لے کرآس پاس کے لوگوں میں محبتیں اور خلوص بانٹو۔ اور اس نیکی کی ابتدا اپنے گھر سے کرو‘‘۔
اب نازیہ بھڑک اٹھی۔
’’واہ عامر صاحب واہ! میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم اتنے کم ظرف نکلو گے۔کیا ہؤا اگرکبھی تم میرے بہن بھائیوں کے کام آگئے۔ وہ بھی توتمہاری محبت کادم بھرتے ہیں۔اپنی ماں کی ایسی ہی فکر ہے تو تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ شہرمیں کئی home old peoplesکھل چکے ہیں۔ وہاں داخل کروا دوان کو۔ وہ لوگ بوڑھوں کی بہت اچھی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جب تمہارا دل چاہے تم ان کو ملنے وہاں چلے جایا کرنا‘‘۔
نازیہ کی تجویز سن کر عامر کے تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن وہ اپنے غصے کو پی گیا۔ اور دکھی ہو کر گھر سے باہر نکل گیا۔
بہو اور بیٹے کی تیزوتند آوازیں سن کر ذکیہ بیگم کی آنکھ کھل گئی اور نازیہ کی تجویز سن کر لرز اٹھیں۔ وہ اپنی بیماری کو بھول گئیں اور اسی خوف کاشکار ہوکر رہ گئیں کہ نہ جانے عامر کا ردِعمل کیاہوگا؟ کہیں وہ کسی اولڈہوم کی طرف تونہیں جانکلا؟کہیں اب مجھے اٹھا کر وہاں تو نہیں پھینک دیاجائیگا؟میری موت جواب میرے سرہانے کھڑی ہے،کہیں ایسی بے بسی اور بے چارگی کی حالت میں تو مجھے نہیں آن لے گی؟اجنبی ماحول،انجان درودیوار،ناشناس اورنامہربان چہروں کے درمیان!
یہ سوچتے سوچتے ذکیہ بیگم کا ذہن شل ہورہاتھا۔ وہ رونا چاہ رہی تھیں لیکن آنسوئوں نے بھی ان کاساتھ چھوڑ دیاتھا۔ وہ ایک ٹک چھت کوگھور تی چلی جارہی تھیں اور دل ہی دل میں اپنے مرحوم شوہر کی خوش بختی پر رشک کررہی تھیں کہ ایسی نو بت کے آنے سے پہلے ہی وہ عزت واحترام کے ساتھ چل بسے تھے۔
وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھیں کہ انہیں اپنی مونس اور غمخوار بیٹی طاہرہ کی آواز سنائی دی۔ طاہرہ ان کے کمرے میں داخل ہوئی اور حسبِ معمول اس نے جھک کر ان کی پیشانی چوم لی۔ طاہرہ کی شکل دیکھتے ہی نہ جانے کیوں ان کے رکے ہوئے آنسو ساون بھادوں کی طرح بہنے لگے۔ طاہرہ نے حیران ہو کر انہیں دیکھا اوربیقراری سے کہنے لگی۔
’’امی! کیا ہؤا؟آپ کا یہ روپ تومیں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ زندگی کی آزمائشوں کو آپ نے صبر سے سہہ لیا۔ اس بیماری کا مقابلہ بھی آپ کے کمال ہمت اور حوصلے سے کررہی ہیں۔ پھر آج ایسی کیاخاص بات ہوگئی کہ آپ ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ رہاہے؟‘‘
’’کچھ بھی تو نہیں۔ویسے ہی آج میں تم کو بہت یاد کررہی تھی کہ اچانک تمہیں اپنے سامنے پا کر مجھے خود پر اختیار نہ رہا‘‘۔ذکیہ بیگم نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
طاہرہ نے بھانپ لیا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہی تھیں۔ چنانچہ ان کا دھیان بٹانے کے لیے طاہرہ نے پرانے قصے چھیڑ دئیے۔
’’امی!آپ کو یاد ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ بڑے بھیا نے غصے میں آکرمیری گڑیا کی ٹانگ توڑدی تھی۔ میں نے رو رو کر براحال کرلیاتھا۔ آپ نے بھیا کو خوب ڈانٹا اور پھر سب کام چھوڑچھاڑ کر بازار سے جا کرمیرے لیے آنکھیں جھپکنے والی بہت خوبصورت سی گڑیا لے کر آئی تھیں۔ نئی گڑیا پا کر میں اتنی خوش ہوئی تھی کہ میں نے بھیا کا شکریہ ادا کیاتھا کہ اگروہ میری پرانی گڑیا کی ٹانگ نہ توڑتے تو مجھے ایسی حسین گڑیا کبھی نہ ملتی‘‘۔
ذکیہ بیگم کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ بکھرگئی۔
طاہرہ کہنے لگی۔
’’امی! آپ کو یاد ہے کہ عید کے موقع پر آپ نے فیروزی رنگ کا کپڑا ماسی درزن کو دیا تھا کہ وہ میرے لیے فراک سی دے۔ وہ بیمار ہوگئی اور عید سے ایک دن پہلے آپ نے وہ کپڑا واپس منگوا کر رات بھر جاگ کر میرے لیے فراک سیا تھا اور اس پر جابجا گوٹے کے پھول بنا کر ٹانک دئیے تھے۔ عیدوالے دن جب میں نے وہ فراک پہنا تو وہ میری سب سہیلیوں کے کپڑوں سے کہیں زیادہ دیدہ زیب تھا۔ سب نے اس کی بہت تعریف کی تھی اور آپ کی ہنرمندی کا خوب چرچا ہؤاتھا‘‘۔

بہت تعریف کی تھی اور آپ کی ہنرمندی کا خوب چرچا ہؤاتھا‘‘۔
طاہرہ کی بات سن کر ذکیہ بیگم کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اُن کی نظروں کے سامنے وہ ننھی منی سی طاہرہ فیروزی فراک پہنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔
ذکیہ بیگم کا چہرہ دیکھ کر طاہرہ کو یک گونہ سکون محسوس ہؤا۔وہ کہنے لگی۔
’’اور امی! یاد ہے جب میں نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کیا تھا تو آپ نے میری سہیلیوں کی کیسی شاندار دعوت کی تھی۔کیسے کیسے مزیدار کھانے بنائے تھے۔ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے تھے۔ خاص طورپر پلائو تو ایسا لذیذ تھا کہ کیاکہنے۔ اب آپ ذرا بہتر ہوجائیں تو پھر میں آپ سے بنوائوں گی ویسا ہی پلائو‘‘۔
اب ذکیہ بیگم ہنس کر کہنے لگیں۔
’’بھئی وقت وقت کی بات ہے۔اب وہ مولوی مدن کی سی بات کہاں‘‘۔
طاہرہ نے محبت سے ان کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’امی! آج میں نے آپ کو کتنی بھولی بسری باتیں یاد کروائی ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ آپ کیوں رو رہی تھیں؟‘‘
ذکیہ بیگم کہنے لگیں۔
’’بس یونہی کوئی خیال آگیاتھا۔ ذہن عجیب سی سوچ میں الجھ کر رہ گیاتھا‘‘۔
طاہرہ نے بے چینی سے پوچھا۔
’’کیا خیال تھا؟کون سی سوچ تھی ؟کیا وجہ تھی اس سوچ کی؟‘‘
ذکیہ بیگم کہنے لگیں۔
’’بھئی خیال اور سوچ کے لیے کوئی پابندی ،کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ ان کے لیے کوئی سرحد نہیں، کوئی پہرہ نہیں‘‘۔یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئیں۔
طاہرہ نے کریدتے ہوئے پوچھا۔
’’اچھا! یہی بتادیں کہ آپ کیا سوچ رہی تھیں؟‘‘
ذکیہ بیگم نے کہا۔
’’میں سوچ رہی تھی کہ اگرمیری بیماری نے مزید طول پکڑا تو ایسی نوبت نہ آجائے کہ سب لوگ اکتا جائیں اور اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے مجھے اولڈہوم میں داخل کروادیں‘‘۔
طاہرہ نے بیقرار ہوکر پوچھا۔
’’کیا ہؤا؟ایسا کسی نے کچھ کہا؟‘‘
ذکیہ بیگم نے سکون سے جواب دیا۔
’’نہیں بھئی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ بس یونہی مجھے خوف محسوس ہوتاہے کہ کہیں مجھے اجنبی ماحول اور انجان چہروں کے درمیان موت نہ آجائے۔ میرا ارمان ہے کہ جس گھر میں میں نے زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے،ا ب اسی گھر میں میر ی زندگی کی شام ہوجائے اور میری چارپائی اسی گھر سے نکل جائے۔ میں ڈرتی ہوں کہ اگرمیں اولڈ ہوم میں مرگئی تو قرب وجوار کے لوگ اور رشتہ دار میرے بچوں کو طعنے دے دے کر شرمسار کرتے رہیں گے۔ میں یہ سوچ کر خوفزدہ ہوجاتی ہوں کہ اگرمیری موت وہاں واقع ہو گئی توکل کلاں کو میرے پوتے پوتیاں جوان ہوکر اپنے باپوں کے سامنے حیرت سے یہ سوال اٹھائیں گے کہ ابو جب ہم سب ایک گھر میں ایک چھت تلے اکٹھے رہ رہے تھے توپھر آپ نے دادی کو وہاں کیوں جانے دیا؟آپ کا گھر ہوتے ہوئے ہماری دادی کوخیراتی پناہ گاہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ہم سب کے ہوتے ہوئے ہماری دادی نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں وہاں کیوں لیں؟یہاںکیوں نہیں؟ہم سب کے درمیان کیوںنہیں؟ اور یہ کہ جب ایسی حالت میں ہم آپ سے جدا ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تو پھر آپ نے دادی سے جدا ہونا کیسے گوارا کرلیا؟‘‘
یہ کہتے کہتے ذکیہ بیگم کی آنکھیں بھیگ گئیں اور وہ آس پاس سے بے نیاز ہو کر تہہ دل سے اللہ کے حضور فریاد کناں ہوگئیں۔
’’اے اللہ! میرے بچوں کی زندگی میں کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے شرمسار اور لاجواب ہوجائیں۔ توہمیشہ ان کی لاج

اور ان کا بھرم بنائے رکھنا‘‘۔
٭٭٭

 

 

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x