ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ابتدا تیرے نام سے – بتول نومبر۲۰۲۰

!ورفعنا لک ذکرک 
قارئین کرام!عین ان دنوں جبکہ دنیا بھر میں مسلمان ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت پاک کے تذکروں میں مشغول ہیں، فرانس کا بدبخت صدر آزادیِ اظہار کے نام پہ توہینِ رسالت کا مرتکب ہؤا ہے۔ یہ سرکارِ دوعالم ،رحمت اللعالمین، آقائے دوجہاں، محبوبِ خلائق محمد مصطفی ﷺ کے لیے اپنا بغض نکالنے کا وہی بولہبی طریقہ ہے جس پر قرآن نے اس مجرم شخص کے ہاتھ ٹوٹ جانے اور ہلاک ہوجانے کی یقینی وعید سنائی تھی۔ اس مذموم حرکت سے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑگئی ہے۔ہر جگہ کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ میلاد النبی کی تقاریب اور جلسے نبیؐ کریم سے اظہار محبت اور فرانس کی مذمت کی تقریبات میں ڈھل گئے ہیں۔
فرانس میں حالیہ کشیدگی نے اس وقت جنم لیا جب فرانسیسی صدرنے ایک خطاب میں اسلام کے بارے میں منفی جملے کہے اور ان پر اسے تنقید کا سامنا ہؤا۔ اس کے بعد ایک استاد نے سکول میں آزادیِ اظہار کا درس دیتے ہوئے توہین آمیز خاکے دکھائے جس پر ایک طالب علم نے اس کو قتل کرڈالا۔جواباً صدر کے بیانات اور توہین آمیزاقدامات سے یہ کشیدگی دنیا بھر میں پھیل گئی۔وہ لوگ اس بات پر پریشان ہیں کہ ان کے پبلک سکول مختلف کمیونٹی کے لوگوں کے آپس میں سیاسی و ثقافتی طور پہ مربوط ہونے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود چارلی ایبڈو پر حملے اور استاد کے حالیہ قتل میں انہی سکولوں سے پڑھے ہوئے نوجوان ملوث تھے۔اہلِ مغرب جب تک اس معاملے میں تکبر، تعصب اور دشمنی سے باہر آکر نہیں سوچیں گے، اور آزادیِ اظہار کے معاملے میں اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کریں گے صورتحال مزید ان کے قابو سے باہر ہوتی جائے گی۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا آزادیِ اظہارکو اپنی بنیادی قدر کہنے والا مغرب اپنے لوگوں کو آزادیِ اظہار کا سلیقہ نہیں سکھا سکتا؟ کیا ایک تعلیم گاہ میں جذبات کو مجروح کرنا ایسے حساس معاملات پر گفتگو کرنے کا واحد طریقہ ہے ؟ کیا دوسروں کے مذہب کا تمسخر اڑا نا ایک حق ہے جس پر آنچ نہ آنے دینا اس وقت انــ’’ مہذب‘‘ معاشروں کی سب سے بڑی ضد بن گئی ہے؟کیا مل جل کر رہنے کے لیے ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام اہم قدر نہیں ہے؟ اہل مغرب کے لیے ضروری ہے کہ ان سوالات پر سر جوڑ کر غور کریں، نہ کہ دنیا کو نفرت کی آگ میں جھونک کر رکھ دیں۔کہا جا سکتا ہے کہ یہ انتہا پسندی کے جواب میں انتہا پسندی ہے ، مگر بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی کی امت کا سوادِ اعظم مذمت کرتا ہے ، اسلامی ریاستیں بھی اسلام کی اس تشریح کی مخالف ہیں،ایسے اقدامات کو کہیں بھی سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے ،حالیہ واقعے میں بھی ترکی کے صدر نے فرانسیسی استاد کے قتل کی مذمت کی۔ جبکہ دوسری طرف مغرب کی اس جوابی انتہا پسندی کو ریاستی پیمانے پر جنم اور فروغ دیا جارہا ہے اور فرانسیسی صدر کے اقدامات نے اس کی بھرپور تصدیق کر دی ہے۔مغربی ممالک اور یورپی یونین نے اس معاملے میں فرانسیسی صدر کا کھل کر ساتھ دیا ہے اور اس کی پیٹھ ٹھونکی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے عوام میں اسلام فوبیا خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ صدر کے توہین رسالت پرمبنی اقدامات کے بعد پیرس میں مسلمان خواتین پر چاقو کے وار کیے گئے اوران کے حجاب کھینچے گئے۔یہ سلسلہ نو گیارہ کے بعد سے شروع ہؤا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اپیل ماند پڑ جانے کے بعد اب مسلسل توہین اسلام کے ذریعے اس رویے کو زندہ رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے اس معاملے میں بے شک عوامی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اس سے آگے بڑھتے اور قومی سطح پر نبی اکرمؐ سے محبت کے ثبوت کے طور پران کی کسی سنت کو زندہ کرتے، ان کے کسی حکم کو اجتماعی نظام کا حصہ بناتے، ان کے کسی طریقے کو قومی اخلاقیات میں ڈھالنے کے عزم کا اعلان کرتے، ان کی ریاست ِ مدینہ کے کسی جز کو اپنے ملک میں نافذ کرنے کا آغاز کرتے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ انفرادی زندگیوں میں ہم توہین کے مرتکبین کے لیے سوشل میڈیاپر لعنت ملامت کی پوسٹیں ڈالنا ہی ایمان کا تقاضا نہ سمجھ لیں۔ بلکہ اپنے اس جرم ضعیفی کا مداوا کرنے کے لیے سوچ بچار کریں جس نے اسلام کے دشمنوں کو اتنی ہمت دے رکھی ہے۔اپنے زوال کے اسباب ڈھونڈیں اور ان کو دور کرنے کا لائحہِ عمل بنائیں۔ جن کی امت کو دنیا پر راج کرنا تھا، آج ان کے خاکے اڑائے جارہے ہیں تو قصوروار تو امت ہے جس نے دوسروں کا دست نگر ہونا منظور کرلیا۔جب خود کو اتنا گرا لیا تواب ایسے بھک منگوں کی کیا غیرت۔۔۔ کمزوروں کو غصہ کرنے کا کیاحق!

یہ بے سوادی یہ کم نگاہی بھلا انہیں کوئی کیا بتائے
بنے ہوئے ہیں چمن کے قیدی تھے جن کے دونوں جہاں، محمدؐ
وہی جو سرشارِ بے خودی تھے، وہی جو آزادِ رنگ و بو تھے
ستم ظریفی کہ ہائے قسمت ہیں وقفِ کوئے بتاں ، محمدؐ

اے پی ایس حملے کے بعد پشاور میں دہشت گردی کا ایک او ر المناک باب رقم ہؤا۔ دیر کالونی کے مدرسہ جامعہ زبیریہ میں بم دھماکے کے نتیجے میں آٹھ معصوم طالب علم موت کی آغوش میں چلے گئے اور ایک سو دس بچے زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں ایک بار پھر ملک میں سر اٹھا رہی ہیں۔ باجوڑ مدرسے پر امریکی میزائیل اور اسّی بچوں کی ہلاکت سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ ہمیں کتنے ہی زخم دے چکا ہے اور ابھی بھی اس عفریت سے ہماری جان نہیں چھوٹتی۔ اللہ غمزدہ والدین کو صبر دے، ہماری غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہمیں دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور توفیق دے آمین۔نجمہ ثاقب نے کیا خوب ترجمانی کی ہے:

صبح دم ناز سے ماؤں نے سنوارے بچے
لحد میں شام ڈھلے کس نے اتارے بچے
اپنے آنچل میں اٹھا لے گئی شب کی ڈائن
دن کی چادر پہ چمکتے ہوئے تارے بچے
کیسے تقدیر نے پت جھڑ کی ہوا سے پہلے
شاخِ سرسبز کے پندار پہ وارے بچے
خاک پر خاک کے ذروں کی طرح بکھرے ہیں
خوں میں ڈوبے ہوئے اوراق، غبارے، بچے
آج اے نوحہ گراں ہونٹوں پہ تالے کیسے
وہ جو اپنے تھے تو یہ بھی ہیں ہمارے بچے

کراچی میں جامعہ فاروقیہ کے سربراہ ڈاکٹر عادل کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔مرحوم ایک قیمتی انسان اور بلند پایہ علمی شخصیت تھے ۔ علوم اسلامیہ میں ڈاکٹریٹ کے بعد ملائشیا میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، کچھ سال پیشتر وطن واپس آئے اور جامعہ کی سربراہی سنبھالی۔ ٹارگٹ کلنگ کا یہ واقعہ واضح طور پہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرنے کی کوشش ہے جس میں پاکستان کے دشمن ملوث ہیں۔ پاکستان میں عراق کی طرز پر شیعہ سنی فسادات کے ذریعے خانہ جنگی کروانا مقصود ہے۔افسوس کہ عوامی احتجاج اور مطالبوں کے باوجود دونوں کارروائیوں میں قاتل پکڑے نہیں جا سکے حالانکہ ان واقعات کا تعلق قومی سلامتی کے معاملات سے ہے۔
عبد الغفار عزیز داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ بحیثیت ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان سالہا سال ان تھک خدمات انجام دیں۔دنیا بھر میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں سے مربوط رہے۔ عالم ا سلام کی صورتحال پر بروقت اور بہترین تجزیہ پیش کر کے رہنمائی کرتے۔ ان کے فعال کردار کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ دنیا بھر سے اسلامی تحریکوں کے نمایاں سربراہوں اور رہنماؤں نے تعزیتی اجلاس میں شرکت کی اور ان کی جدائی کے نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔اللہ مرحوم کی مساعی جمیلہ کو قبول و منظور فرمائے اور ہمیں ان کا بہترین نعم البدل عطا کرے آمین۔
قارئین سے شگفتہ بھٹی صاحبہ کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔وہ بڑی ہمت سے اپنی بیماری سے لڑ رہی ہیں۔ اللہ کے پاس کس چیز کی کمی ہے، وہ چاہے تو شفا لکھ دے، سب ممکن کردے۔نجمہ یاسمین یوسف صاحبہ نے محشر خیال میںیاد کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔اگلے ماہ تک اجازت دیجیے بشرطِ زندگی!

صائمہ اسما

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x