یہ مضمون جناب ابو الحسن کی تازہ شائع شدہ کتاب’’ سقوط ڈھاکہ کی حقیقت‘‘(اکتوبر 2020) سے لیا گیا ہے ۔ انہوں نے چشم دیدہ گواہ کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب کا جائزہ لیا ہے ۔ اس کے لیے وہ آغاز میں برصغیر میں برطانوی راج ، تحریک پاکستان اور مابعد حالات […]
فوجی جوان نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہاکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہمیں گاڑی میں بٹھا کر فوجی کیمپ میں موجود ایک فوجی بیرک میں لے جایا گیا جہاں ہمارے لیے رہائش کانتظام تھا۔ دو سال بھارتی قید کے بعد شاید جسم کی چارپائی سے شناسائی تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ بس فرش […]
اپنے وطن میں اجنبی 16دسمبر1971ء کو جب پاک فوج سے ہتھیار ڈلوائے گئے تو نتیجے میں ہم جنگی قیدی بن کر دو ہفتے تک اپنے ہی ملک میں قید رہے۔ مادر وطن ہمارے لیے اجنبی بن چکی تھی۔ اس وقت بنگلہ دیش میں انڈین فوج کی تعداد اتنی کم تھی کہ وہ پاک فوج کی […]
ابوجان بخیریت واپس ڈھاکہ پہنچ چکے تھے۔ اپنے بڑے بیٹے کے ہاں چند دن قیام کرکے وہ اپنے آبائی گھر چٹاگانگ چلے گئے۔ میرے والد جتنا عرصہ لاہور میں ہمارے ساتھ رہے ہمیں اپناگھر بنانے کی ترغیب دیتے رہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو خاص طور پر نصیحت کرتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ بچت […]
ہوسٹل لائف اور چار کی منڈلی خیر میرا داخلہ اسلامیہ کالج سول لائنز میں ایم اے اکنامکس میں ہوگیا۔ میں سول لائنز کے ہاسٹل میں منتقل ہوگیا ۔ یہاں بھی میرے لیے ہر لحاظ سے آزاد زندگی گزارنے کی سہولت موجود تھی مگر میں نے یہاں بھی قید کی زندگی ہی گزاری ۔ ہاسٹل کے […]
( قسط ۲ شمارہ مارچ میں آخری پیراگراف سے پہلے ایک پورا صفحہ میری غلطی کی وجہ سے کمپوز ہونے سے رہ گیاتھا، جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ مدیرہ صاحبہ نے اس کمی کو اپنی بہترین صلاحیت سے پُر بھی کردیاتھا مگر تشنگی باقی رہی لہٰذا اس کو آج کی قسط میں شامل کیاجارہا […]