ہ بہت دیر سے تکیہ پر سر رکھے، چہرہ دوپٹے میں چھپائے روئے جا رہی تھی۔ اپنا دُکھ کہتی بھی تو کِس سے؟ اس کی تو کوئی بہن بھی نہ تھی۔ بس ایک بھائی تھا۔ پھپھو کا بیٹا! وہ بھی اتنا چھوٹا تھا۔ ابھی تیسری کلاس میں پڑھتا تھا۔ اسے بھلا کیا سمجھ آنی تھی۔ […]
’’مجھے سب یاد ہے جو آپ نے ہم لوگوں کے ساتھ کیا۔ میری بیوی کا ذرا خیال نہ کیا۔وہ بے چاری بیمار تھی اور آپ نے‘‘۔ غصہ کے مارے اس کی آنکھیںسرخ ہورہی تھیں۔مریم سخت حیرت سے اس کی شکل دیکھ رہی تھی۔اسے یقین نہیں آرہا تھا یہ اس کا بیٹا بول رہا تھا۔ ’’آہستہ […]