باتوں سے خوشبو آئے
حناسہیل۔جدہ
کل جب صبح چہل قدمی کے لیے نکلی تو مختلف انواع و اقسام کے پھولوں کو دیکھ کر ایسے ہی دل میں ایک خیال آیا ۔ ہماری زندگی میں کچھ لوگ بالکل کیکٹس کی طرح ہوتے ہیں، ان کے رویہ میں ، عادتوں میں، باتوں میں کانٹے کانٹے ہوتے ہیں ، ہم ان کی طرف دیکھتے ہیں حیران کن شخصیت لیکن پاس جانے کی ہمت نہیں کرتے ، کیونکہ چاروں اطراف غرور اور انا کے کانٹے نکلے ہوئے ہوتے ہیں جو چبھنے کا خدشہ رہتا ہے ، ریگستانوں میں لگنے والا پودا کیکٹس اگر آپ نے دیکھا ہو تو آپ کو حیران کر دینے والا پودا ہے کہ کم پانی کے ساتھ یا بغیر پانی کے ریگستان میں اگتا ہے اور خشک کانٹوں سے بھرا ہؤا ہوتا ہے ۔
ہماری زندگی میں کچھ لوگ گلاب کے پھولوں کی طرح بھی آتے ہیں جن کی خوشبو اور خوبصورتی ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ ہم ان کے ساتھ میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اکثر ان میں آپ کے استاد ہوتے ہیں یا جو آپ کو زندگی کے بارے میں سکھا رہے ہوتے ہیں۔ مگر یہ گلاب جن ڈالیوں پہ مہکتے ہیں وہ کانٹوں بھری ہیں۔ ان کی زندگی میں…
یہ دردوغم!
حنا سہیل۔ جدہ، سعودی عرب
ہر دور کے مختلف درد ہوتے ہیں !
بچپن کے درد بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں کہ میری سہیلی نے اگر کسی دوسری لڑکی سے بات کرلی یا اس کو دوست بنانے کی کوشش کی تو سارا دن دل میں کھدبد ہوتی رہتی تھی اور ایک درد سا محسوس ہوتا ۔اس کو ہم دکھ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کہیں میں اپنی عزیز ترین دوست کو کھو نہ دوں یا اس سے الگ نہ ہوجائوں ۔ ٹیچر نے کلاس میں ڈانٹ دیا ،اب یہ اتنا بڑا درد ہے کہ اگلے دن بھی دل میں رہے گا، رات کو بھی سوتے ہوئے یہ سوچ رہے گی کہ سب دوست کیا سوچیں گے۔
اگلی منزل جوانی کی ہے۔ اس کے تو سارے درد میٹھے میٹھے ہوتے ہیں ، محبت کا درد میٹھا اور سرور دینے والا ہوتا ہے، بندہ اس درد کو بہت عزیز رکھتا ہے ،اس درد میں جیتا ہے ۔اگر جس کو وہ چاہتا ہے کسی وجہ سے جدائی مقدر ٹھہرے تو یہ درداور سوا ہوجاتا ہے ، انسان بولایا بولایا پھرتا ہے اس کو سمجھ نہیں آتی کہ اس درد کا مداوا کیسے کرے، کس سے اس کا ذکر کرے یا چپ رہے دل میں اس…
کوئی قاتل ملا نہیں
حنا سہیل۔جدہ
منیبہ ایک سائکاٹرسٹ تھی۔ اس کے پاس بہت سے کیسز آتے رہتے تھے اور کچھ تو بہت زیادہ خراب کنڈیشن میں ہوتے تھے ۔اپنے آپ سے بیگانہ گندے حلیہ میں ، ان میں پڑھے لکھے مریض بھی تھے جنہیں زمانے کی چوٹوں نے اس حالت پر پہنچایا تھا اور کچھ ان پڑھ بھی تھے۔ مگر ان مریضوں میں ایک خاتون ایسی بھی تھی جو بولتی نہیں تھیں ،یعنی خاموش جیسے گونگی ہوں،انھیں بولنا نہیں آتا ہو۔ گھر کے سارے کام کرتی تھیں مگرروتی رہتی تھیں۔خاتون جن کا نام عطیہ تھا، انھیں گھر والے ڈاکٹر منیبہ کے پاس ہرہفتہ تھیرپی سیشن کے لیے لے کر آتے مگر ان کی حالت میں پانچ سال میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا _
عطیہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں ۔شوہر بھی ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز افسر تھے۔ اللہ کا کرنا کہ چھ سال تک یہ جوڑا اولاد کی نعمت سے محروم رہا ، شادی شدہ عورت میں اولاد کی خواہش اللہ نے فطری طور پر رکھی ہے اور جب دنیا والے طعنہ دینے لگتے ہیں تو یہ خواہش شدت اختیار کر جاتی ہے ، عطیہ تہجد میں اٹھ اٹھ کر اپنے اللہ سے گڑگڑا کر صالح اولاد کی نعمت…

