شاہدہ سحر

غزل زمانے سے بغاوت کیوں کریں ہم ملیں، چھپ چھپ کے لیکن کیوں ملیں ہم یہ کب لازم ہے سب، سب کو خبر ہو دلوں کی آنکھوں آنکھوں میں کہیں ہم تمہیں بھی شعلہ سا کر دیں تو کیسا محبت میں اکیلے کیوں جلیں ہم جو ڈسنا ہو ڈسیں گے سامنے سے کسی کی آستیں […]

حمد اللہ سب کا مالک ہے رازق ہے اور خالق ہے ارض و سما ہیں سارے اُس کے سورج چاند ستارے اُس کے وہی تو سب کا والی ہے باغ کا وہ ہی مالی ہے بارش وہ برساتا ہے ہوا بھی وہ ہی چلاتا ہے بیماری دے، شفا بھی دے کبھی نہ چھوڑے ،ندا بھی […]

دریا کی سیر اِک دن ابا ہم کو لے کر گئے دریا کے پار خوشی خوشی سے بھاگے ہم توگلوں کے لے کے ہار بریانی بھی ساتھ میں رکھی، بیٹ بال بھی رکھا گلی ڈنڈا رہ نہ جائے، سر پرہیٹ بھی رکھا دسترخوان وہاں پرجا کر آپی نے بچھایا چکن کڑاہی والا ڈونگا اماں نے […]

پٹھو گرما گرم کھیلیں گے آج ہم تو پٹھو گرما گرم بنیں گی اب دو ٹولیاں کوئی نہیں ہے کم کھیلیں گے آج ہم تو پٹھو گرما گرم کھیلنے کو ہیں تیار میری ساری ہی سکھیاں گیند پکڑی ہاتھوں میں بِٹوں پہ جمی اکھیاں بے ایمانی ہو گی نہیں کسی سے ہضم کھیلیں گے آج […]

کوئی دارو تو اس مرضِ کہن کا بھی خدارا دو جو خدمت گار کا حق ہے، اسی کو حق وہ سارا دو غلام اب ہے کوئی، کوئی نہ آقا اب کسی کا ہے انہیں اس آخری خطبے کا وہ پیغام پیارا دو جہالت، درد، غربت کی نہ چکی پیس دے ان کو اخوت، عدل، شفقت […]

امیدِ صبحِ بہار رکھنا سدا گلوں پہ نکھار رکھنا بُھلا کے رکھنا خزاں کا موسم بہار یوں ذی وقار رکھنا سہانی رُت ہے اب آنے والی یہ زرد پتے اتار رکھنا اچھلتی موجیں سمندروں میں یونہی دلِ بےقرار رکھنا چھلکنے پائے نہ چشمِ پُرنم چھپا کے غم صد ہزار رکھنا اداس موسم کے رتجگوں میں […]

ساون آیا، برسی برکھا، رت یہ سہانی آئی ہے ڈالی ڈالی کوکے کوئل، کیا یہ سندیسہ لائی ہے سکھیوں نے ڈالیں پینگیں اور اُڑیں فلک کو چھونے رنگ برنگے آنچل بکھرے، قوس ِ قزح سی چھائی ہے ساون آیا برسی برکھا، رت یہ سہانی آئی ہے پیار کا موسم آ پہنچا، ہے ساون کا پیغام […]

غزل ہم سفر پھر نئے سفر میں ہیں ہم اسی آرزو کے گھر میں ہیں حالِ دل کی خبر نہ پھیلا دیں وہ جو بے تابیاں نظر میں ہیں بیش قیمت ہیں ہر گہر سے وہ سچے موتی جو چشمِ تر میں ہیں غم نہ کر ان دیوں کے بجھنے پر ساعتیں چند اب سحر […]

حمد کتنا حسیں اس نے انساں بنایا فرشتوںسے سجدہ بھی اس نے کرایا یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے بھٹکے ہوئوں کو ہے رستہ دکھایا دوزخ میں گرنے سے ہم کو بچایا یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے رہِ زندگی میں ہدایت عطا کی محمدؐ کی صورت شفاعت عطا کی یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے فہم دین و دنیا کا اُس نے دیا ہے عمل کا بھی سامان اُس نے کیا ہے یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے ہوا میں پرندوں کو اُڑنا سکھایا ترانۂ حمد مل کر ان سب نے گایا یہ اُس کا کرم ہے یہ اُس کا کرم ہے