بشریٰ ودود

آخری مریض دیکھ کر اس نے تھک کر بابر کو آواز لگائی بابر… جلدی سے سب کچھ سمیٹ لو آج بہت دیر ہو گئی ہے افف گیارہ بج رہے ہیں۔ ’’جی میڈم بس آپ پندرہ منٹ مجھے دیں میں نے کافی کچھ سمیٹ لیابس پندرہ منٹ اور….‘‘ یہ سیما کا ڈینٹل کلینک تھا اور بابر […]

ہ بہت دیر سے تکیہ پر سر رکھے، چہرہ دوپٹے میں چھپائے روئے جا رہی تھی۔ اپنا دُکھ کہتی بھی تو کِس سے؟ اس کی تو کوئی بہن بھی نہ تھی۔ بس ایک بھائی تھا۔ پھپھو کا بیٹا! وہ بھی اتنا چھوٹا تھا۔ ابھی تیسری کلاس میں پڑھتا تھا۔ اسے بھلا کیا سمجھ آنی تھی۔ […]