بتول فروری ۲۰۲۵

غیبت ،مردہ بھائی کا گوشت کھانا ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مسلسل تربیت فرماتے ہیں، ایسی تربیت جس سے فرد کو غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں سے باز رکھنے کی تلقین ہو اور اسلامی سوسائٹی کی بھی تطہیر ہوتی رہے، اور وہ پاک ہو کر بلند مقام پر پہنچ جائے۔
اسلام لوگوں کی جان مال اور عزت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اور اس کے لیے راہ دکھاتا ہے۔لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات اور خوشگوار رویوں کی تلقین کرتا ہے۔اور مسلمانوں کے حقوق سے متعلق آگہی پیدا کرتا ہے۔ جان اور مال کا تحفظ ہی انسان کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کی عزت وآبرو کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔دوسروں کی عزت کا خیال نہ رکھنے سے باہمی تعلقات میں کشیدگی اور کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے، اور ناگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے اسلام نے ایسے اخلاقِ مذمومہ کی مذمت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔ (الحجرات،۱۲)
غیبت کی تعریف
غیبت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی…

مزید پڑھیں

کم خرچ بالانشین نیکی ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

اللہ رب العزت نے فرمایا:
’’ہرشخص کسی نہ کسی (عمل) کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ پس (تمہیں چاہیے کہ) نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کرو‘‘۔ (سورة البقرہ: 2)
عمومی طور پہ ہر ہوش مند مسلمان نیکیوں میں سبقت لے جانے والا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ مگر دنیا میں ہم ہر طرح کی نیکی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہر انسان کی قابلیت، صلاحیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔
مال دار، مال خرچ کر سکتا ہے مفلس نہیں کر سکتا۔ عالم علم پھیلا سکتا ہے جاہل سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ صحت مند دوسروں کے لیے جسمانی بھاگ دوڑ کر سکتا ہے مریض کے لیے یہ ممکن نہیں۔ گونگا زبان سے تقریر نہیں کر سکتا نابینا راستہ نہیں بتا سکتا اسی طرح بے شمار باتیں ہو سکتی ہیں جو ہر کسی کے دائرہ کار میں نہیں ہوں۔
اللہ الرحمان الرحیم نے اسی لیے انسانوں کو باور کروا دیا کہ:
’’اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا‘‘۔ (سورة البقرہ: 286)
اور بازپرس اسی صلاحیت کی ہوگی جو عطا کی گئی ہوگی۔ مگر مومن تو نیکیوں کا حریص ہوتا ہے ہر قسم کی نیکی میں حصہ دار بننا چاہتا ہے۔
اس خواہش کو پورا کرنے کا…

مزید پڑھیں

خوابوں کی دنیا کا سفر ۔ منیبہ عثمان

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
خوابوں کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ ہم سب خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کی دنیا کا سفر تقریباً ہماری زندگیوں میں معمول کی بات ہے۔ اس لیے ہم بہت کم خوابوں کی گہرائی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ کبھی ایسا ہو کہ کوئی ان ہونا خواب، ڈراؤنا خواب یا حد سے اچھا خواب دیکھ لیں تبھی ہماری توجہ خوابوں کی طرف جاتی ہے ورنہ صبح اٹھتے ہی، آنکھیں ملتے ملتے خواب فراموش کر دیے جاتے ہیں اور ہم اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔
خواب کی حقیقت کیا ہے؟ خواب کتنی اقسام کے ہوتے ہیں؟ ماہرین خوابوں کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اور احادیث میں خوابوں کا ذکر کن الفاظ میں موجود ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
خوابوں کی حقیقت
خواب وہ ذہنی تصورات، خیالات، احساسات، اور آوازیں ہیں جو انسان نیند کے دوران دیکھتا یا محسوس کرتا ہے۔ خواب کا تعلق نیند کے گہرے مراحل سے ہے جن کو اصطلاحی زبان میں REM (Rapid Eye Movement) کہا جاتا ہے۔
ماہرین کی رائے
آسٹریائی نیورولوجسٹ اور نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کے مطابق خواب انسان کے لاشعوری خیالات، جذبات اور خواہشات کے عکاس ہوتے ہیں۔ سگمنڈ کہتے…

مزید پڑھیں

منزل تخلیق کے لمحوں میں وہ صرف اپنے ضمیر کے آگے جواب دہ تھا۔ ایک نوجوان کی کہانی جسےاپنا راستہ خود بنانا تھا ۔ سلوت ملک

ناشتہ کرتے ہوئے ، وہ چولہے کے قریب پیڑھی پر بیٹھا، ایک ہاتھ میں چائے کی پیالی اور دوسرے ہاتھ میں اخبار تھامے، نوکریوں کے اشتہاروں کا صفحہ انہماک سے پڑھ رہا تھا۔ یہ روز ناشتے کی روٹین تھی۔ کچھ جگہیں نوٹ کر لیتا اور تلاش میں نکل کھڑا ہوتا۔ شام کو نامراد لوٹتا لیکن چہرے پر کوئی شکن، کوئی ملال نہ ہوتا۔ اگلے دن پھر اسی انہماک سے شروع ہو جاتا۔
اماں قریب پیڑھی پر بیٹھیں چائے میں روٹی ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں پنکھا اٹھا کر اسے جھل دیتیں چاہے کوئی مکھی مچھر نہ بھی ہو۔ بس ان کی تسلی ہو جاتی۔
گھر میں بچوں کا شور و غل مچا تھا۔ تینوں بڑی بہنیں بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔
اخبار میں چند ایک اشتہاروں نے اسے متوجہ کیا۔ غور سے انہیں پڑھنے لگا۔ پھر پیالی ایک طرف رکھ کے پنسل اٹھائی اور نشان لگانے لگا۔
’’انہیں چیک کیا جا سکتا ہے‘‘وہ ذہن میں سوچ رہا تھا۔
ابا کچھ دور چارپائی پر بیٹھے، حقہ ہاتھ میں پکڑے، کن اکھیوں سے اسے گھور رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بولے۔
’’کیوں میاں؟ کوئی خوش خبری ہے تمہارے لیے؟‘‘
وہ ان کے لہجے کا طنز محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا، لیکن مسکرا کر…

مزید پڑھیں

محشر خیال ۔ پروفیسر امینہ سراج

پروفیسر امینہ سراج ۔ اسلام آباد
جنوری 2025کے’’چمنِ بتول‘‘ نے اہل قلم و قرطاس میں سے ایک اور اہم شخصیت کے’’خفتگانِ خاک‘‘ میں شامل ہونے کی خبر سنادی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لےساقی
محترمہ فرزانہ چیمہ جن کی تحریریں ہم عرصۂ دراز سے پڑھتے آ رہے تھے….خوش قسمت ہیں وہ لوگ جوخاک میں مل کر پنہاں نہیں ہو جاتے ۔ ان کے نقشِ پا عالم آب و خاک میں نہ صرف نظر آتے رہتے ہیں بلکہ لالہ و گل کی صورت بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔ قانتہ رابعہ نے اپنی تعزیتی تحریر کو کیا خوب عنوان دیا ہے’’اے رہبرِ فرزانہ!‘‘ اے مالکِ دو جہاں ! اے ربِّ کریم ! اس رہبرِ فرزانہ کے ساتھ جن لوگوں کی دعائیں شامل ہیں ان میں اس ناچیز کی دعائیں بھی شامل کر لینا۔ ان کی دینی و علمی وقلمی خدمات کو قبول فرمانا اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دینا۔ آمین
٭٭٭
پروفیسر خواجہ مسعود ۔ اسلام آباد

اُودے اودے رنگوں کے پیارے پھولوں سے مزین جنوری کا ٹائٹل بہت دیدہ زیب ہے ۔دیکھ کے پاکیزگی اور نفاست کا احساس ہو رہا ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ آپ…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

سالانہ لاکھوں لوگ ہالینڈ کی سیر صرف پھولوں کے کھیتوں کی وجہ سے کرنے آتے ہیں۔’’ ہارلیم‘‘نامی علاقے کو پھولوں کا مرکز کہا جاتا ہے لیکن پھولوں کی سالانہ پریڈ اور سینکڑوں اقسام کے پھولوں کے ’کیوکن ہاف پارک‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں آٹھ سو سے زیادہ قسموں کے ٹیولپ اگائے جاتے ہیں ۔
اصل میں ہالینڈ اور ٹیولپ کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ ٹیولپ اس ملک کا پھول نہیں ہے۔ اسے 15ویں صدی کے عثمانی دور میں قیمتی ترین پھول سمجھا جاتا تھا۔ اس خوبصورت گل کو پہلی مرتبہ 1555ء میں ویانا کے بادشاہ ’’فرڈینانڈ اول‘‘ کا ایک سفارت کار استنبول سے یورپ لایا تھا اور وہاں سے پھر یہ وسطی یورپ کے شہزادوں اور بادشاہوں کے باغوں تک پہنچا۔ بعدازاں سولھویں صدی میں انہیں ترکی سے باقاعدہ ہالینڈ درآمد کیا جانے لگا۔
بہار کے موسم میں یہ ملک رنگ برنگے پھولوں کی وجہ سے پورے جوبن پر ہوتا ہے- خاص طور پر اپریل اور مئی کے مہینوں میں یہاں قسم قسم کے پھولوں کی خوشبو عروج پر ہوتی ہے- ہالینڈ سے تقریباً ساٹھ فیصد سے بھی زاید پھول پوری دنیا کو مہیا کیے جاتے ہیں-
ایمسٹرڈیم کے گرد و نواح میں بہار کے موسم میں ٹیولپ کے کھیت…

مزید پڑھیں