غیبت ،مردہ بھائی کا گوشت کھانا ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مسلسل تربیت فرماتے ہیں، ایسی تربیت جس سے فرد کو غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں سے باز رکھنے کی تلقین ہو اور اسلامی سوسائٹی کی بھی تطہیر ہوتی رہے، اور وہ پاک ہو کر بلند مقام پر پہنچ جائے۔
اسلام لوگوں کی جان مال اور عزت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اور اس کے لیے راہ دکھاتا ہے۔لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات اور خوشگوار رویوں کی تلقین کرتا ہے۔اور مسلمانوں کے حقوق سے متعلق آگہی پیدا کرتا ہے۔ جان اور مال کا تحفظ ہی انسان کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کی عزت وآبرو کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔دوسروں کی عزت کا خیال نہ رکھنے سے باہمی تعلقات میں کشیدگی اور کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے، اور ناگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے اسلام نے ایسے اخلاقِ مذمومہ کی مذمت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔ (الحجرات،۱۲)
غیبت کی تعریف
غیبت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی…

