غزل ۔ حبیب الرحمٰن
بدلہ جو وقت جینے کی صورت بدل گئی
پل بھر میں میری تیری ضرورت بدل گئی
بدلیں گی روح و جاں کی خزائیں بہار میں
واللہ محبتوں میں جو نفرت بدل گئی
بس اک تری نگاہ اٹھانے کی دیر تھی
اک پل میں چاہتوں میں کدورت بدل گئی
میں جب ہنسا تو پل میں نظر آسمان کی
یہ بات کب ہے باعثِ حیرت بدل گئی
اے دل، اگر تھا دل کا عوض دل تو کیوں بتا
بازارِ عشق میں تری اُجرت بدل گئی
دل میں مچل رہے تھے جو ارماں بدل گئے
عمروں کے ساتھ سطوت و حسرت بدل گئی
عادت، چلن، کسی کا بدلنا صحیح مگر
لیکن کبھی سنا ہے کہ فطرت بدل گئی
بن کر تری نگاہ میں اچھے سے ہم برے
بس یہ ہؤا کہ صورتِ شہرت بدل گئی
کیا کیجیے زمانے کا شکوہ حبیبؔ سے
رونا تو یہ ہے غیرتِ عترت بدل گئی

