بتول فروری ۲۰۲۵

غزل ۔ حبیب الرحمٰن

بدلہ جو وقت جینے کی صورت بدل گئی
پل بھر میں میری تیری ضرورت بدل گئی
بدلیں گی روح و جاں کی خزائیں بہار میں
واللہ محبتوں میں جو نفرت بدل گئی
بس اک تری نگاہ اٹھانے کی دیر تھی
اک پل میں چاہتوں میں کدورت بدل گئی
میں جب ہنسا تو پل میں نظر آسمان کی
یہ بات کب ہے باعثِ حیرت بدل گئی
اے دل، اگر تھا دل کا عوض دل تو کیوں بتا
بازارِ عشق میں تری اُجرت بدل گئی
دل میں مچل رہے تھے جو ارماں بدل گئے
عمروں کے ساتھ سطوت و حسرت بدل گئی
عادت، چلن، کسی کا بدلنا صحیح مگر
لیکن کبھی سنا ہے کہ فطرت بدل گئی
بن کر تری نگاہ میں اچھے سے ہم برے
بس یہ ہؤا کہ صورتِ شہرت بدل گئی
کیا کیجیے زمانے کا شکوہ حبیبؔ سے
رونا تو یہ ہے غیرتِ عترت بدل گئی

 

 

 

 

مزید پڑھیں

قرآنی معاہدات اللہ اور انسانوں کے درمیان تعلق کے قانونی زاویے ۔ احمر بلال صوفی؎۱

اجتماعی زندگی کا معاہدہ
قرآن جہاں ہر شخص کے ساتھ اللہ کا براہ راست معاہدہ ہے وہاں یہ ہر نوعیت کے اجتماع کے نظم کا ایک آئین بھی ہے۔
یہ اجتماعی زندگی گزارنے کی ایک دستاویز ہے اور ایک ساتھ رہنے کے عمرانی معاہدے کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس کا مقصد تمام گروہوں کے لیے ایک سٹینڈرڈ آئین ، ایک سماجی چارٹر ، ایک معاشرتی قانون یادین کے طور پر کام کرنا ہے ۔چاہے وہ گروہ چھوٹا ہو، ایک خاندان ہو یا قبیلہ ہو ، شہری علاقہ ہو ، یا کسی ملک یا بہت سے ممالک کے رہائشی ہوں ۔ قرآن پڑھتے ہوئے ، ہر شخص محسوس کر سکتا ہے کہ یہ بیک وقت افراد اور گروہوںسے مخاطب ہوتا ہے ۔ قرآن بنیادی طور پر لوگوں کو ’گروہوں‘ کی شکل میں بھی نصیحت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، اس کی ہدایات، اگرچہ فرد واحد کے لیے نظر آتی ہیں ، مگر قرآن اجتماعی انسانی زندگی کے لیے ایک لائحہ عمل رکھتا ہے ، چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
اسی تناظر میں قرآن نے ذاتی معاملات،(الحجرات ،12، البقرہ ،60 ،النسا،36)باہمی احترام،(لقمان ،18) دوسروں کا استحصال نہ کرنے اور ان کے احترام کو برقرار رکھنے ، (الحجرات، 11) منصفانہ…

مزید پڑھیں

سدا مسکراتے رہیے ۔ فریدہ خالد

آج سے کوئی ڈھائی تین سال پہلے اپنےاندر ہونے والی بیماری کے اثرات کو میں نے معمولی اور عام خیال کیا اور کوئی خاص توجہ نہ دی۔ بہرحال اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اور بیماری بھی باعثِ اجر بن جاتی ہے اگر انسان صبر کرے ۔دو سال پہلے علاج شروع کیا اور وہ کہتے ہیں نہ کہ مرض بڑھتا رہا جوں جوں دوا کی ۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہؤا ۔ شاید یہ اس لیے ہؤا کہ میں نے یہ قبول ہی نہ کیا تھا کہ میں بیمار ہوں۔ رفتہ رفتہ جب یقین آگیا تو بیماری کے ساتھ سمجھوتہ کرتی چلی گئی۔ مجھے اپنی بیماری کے فائدے نظر آنے لگے ۔ ظاہر ہے سب سے بڑا فائدہ تو یہی تھا کہ علاج کے ساتھ ساتھ صبر سے تکلیف کو برداشت کرتی رہوں اور ہر حال میں شکر ادا کروں۔ اور دوسرا بڑا فائدہ یہ ہؤا کہ بیماری میں اللہ کی دی ہوئی ان بہت سی نعمتوں کا احساس ہونے لگا جو اس سے پہلے کبھی نظر ہی نہ آئی تھیں۔ صحت کی قدر تو ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کی فکر بھی لاحق ہوئی کہ اب زندگی سے غیر ضروری کام نکالتے چلے…

مزید پڑھیں

تبصرہ کتب ۔ ثمن عباس

نام کتاب:نقش گر(افسانے)
مصنف:محمد حامد سراج
پبلشرز : بک کارنر جہلم
صفحات : 208
قیمت: 600 روپے
سر اٹھاتی ہے وہ تجدید کی خواہش مجھ میں
نقش گر سوچنے لگتا ہے دوبارہ مجھ کو
ہر تحریر کے پس منظر میں ایک اور کہانی ضرور چھپی ہوتی ہے۔یہ مصنف پرمنحصر ہے کہ وہ اپنی لکھاوٹ کی بنت میں سچائی کی گہرائی اور گیرائی کو شامل کرتا ہے یا مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہوئے خود کو بازی گر دکھانے کی کوشش میں منہمک نظر آتا ہے ۔ ایک افسانہ نگار کی شخصیت اور سوانح سے واقفیت حاصل کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر اس کی تخلیقات اور عہد تک مکمل رسائی ناممکن امر ہے ۔
محمد حامد سراج کا تعلق میانوالی کے معروف قصبہ کندیاں کے قریب بستی خانقاہ سراجیہ سےتھا۔مصنف کا حسب نسب صوفیا اور اولیاء کے خاندان سے تھا ان کے پڑدادا ابوالسعد احمد خان خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے ۔ ان کے والد محمد عارف عالم دین تھے اور والدہ رضیہ بی بی متقی خاتون تھیں ۔علامہ محمد اقبال نے اپنی والدہ کی وفات پر دکھ کے اظہار کے لیے والدہ مرحومہ کے عنوان سے نظم موزوں کی اور محمد حامد سراج نے اپنی والدہ سے انسیت ظاہر کرنے کے لیے اردو ادب…

مزید پڑھیں

تلاش جاری ہے ۔ نصرت یوسف

مئی کی چلچلاتی دھوپ اور بائیک کا سفر، زندگی کو گھنٹہ بھر میں ہی شکووں سے بھر دیتا ہے، بڑبڑاہٹ، غصہ، ناگواری کے ساتھ بلڈنگ کے گیٹ پر جھٹکے سے سواری روکتے اس نے پیچھے بیٹھی بیوی کو ترشی سے کہا ۔
’’اب اتر بھی جاؤ، بائیک اوپر نہیں جائے گی‘‘۔
حفصہ نے اپنے بیگ کو سنبھالتے حیرت سے اسے دیکھا جو پچھلے ماہ تک تو بہت ہی مہذب تھا لیکن اب ناگواری جیسے ناک پر دھری رہنے لگی تھی۔
’’مجھے پتہ ہے کہ تمہارے پاس بائیک ہے جہاز نہیں‘‘ بظاہر تو یہ بات اس نے ہنستے کہی تھی لیکن انس کی بھنویں تن گئیں،وہ تیز قدم بڑھاتا لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔ وہ یونیورسٹی بیگ سنبھالے اس کےپیچھے لپکی لیکن لفٹ پانچویں منزل کی جانب روانہ ہو چکی تھی۔
گھر تو وہ پہنچ گئی لیکن انس کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا دل نہ تھا۔
بدتمیز، جاہل، گنوار!! دل میں اس کو القابات دیتی وہ دہی پھینٹنے لگی۔ دوپہر کھانے کے لیے اس نے دہی پھلکیاں گزشتہ رات بنا کر فرج میں رکھ دی تھیں، کچھ سالن بھی تھا، اچھا بھلا کھانا اس گرم دوپہر کو میسر تھا لیکن انس کے رویے نے حفصہ کو بد دل کر دیا۔
وہ خود بیس برس کی نئ…

مزید پڑھیں

زیب النساء ۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی

یہ کہانیاں زندگی کے سچے واقعات پر مبنی ہیں جن میں ہم اپنے معاشرے کا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور بہت ساری خرابیوں کا علاج کر سکتے ہیں۔کلینک کا ٹائم دو بجے تک ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر زوبیہ کو اکثرچار بلکہ پانچ ہی بج جاتے ۔ ایک تو جس علاقے میں ان کا کلینک تھا وہاں دور دور تک کسی لیڈی ڈاکٹر کا ملنا محال تھا دوسرا گائنی کے سارے کیس دور دراز علاقوں سے ان کے پاس آتے تھے اس طرح دوپہر کے کھانے پر ان کے بچے اور شوہر انتظار کرتے رہتے لیکن اس کا کوئی حل نہیں تھا ۔چنانچہ انہوں نے یہ طے کر لیا کہ رات کا کھانا سب اکٹھے کھایا کریں گے ۔
ان کے شوہر ڈاکٹر زرغم کی تجویز تھی کہ وہ دن کو گھر رہیں اور شام کو کلینک میںبیٹھیں لیکن نزدیکی قصبوںاور دیہاتوں سے جو لوگ آتے ان کے لیے شام کو آنا مشکل تھا ۔ دونوں میاں بیوی کی اپنی اپنی مصروفیات اندازے حوصلے اور فیصلے تھے ۔
یہ 4 اکتوبر بدھ کا دن تھا جب نرس نے آکر بتایا کہ ایک اماں جی آئی ہیںکہتی ہیںتم سو روپے کی بجائے دو سو روپے فیس لے لو لیکن مجھے ڈبل ٹائم چاہیے…

مزید پڑھیں