بتول فروری ۲۰۲۵

زیب النساء ۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی

یہ کہانیاں زندگی کے سچے واقعات پر مبنی ہیں جن میں ہم اپنے معاشرے کا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور بہت ساری خرابیوں کا علاج کر سکتے ہیں۔کلینک کا ٹائم دو بجے تک ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر زوبیہ کو اکثرچار بلکہ پانچ ہی بج جاتے ۔ ایک تو جس علاقے میں ان کا کلینک تھا وہاں دور دور تک کسی لیڈی ڈاکٹر کا ملنا محال تھا دوسرا گائنی کے سارے کیس دور دراز علاقوں سے ان کے پاس آتے تھے اس طرح دوپہر کے کھانے پر ان کے بچے اور شوہر انتظار کرتے رہتے لیکن اس کا کوئی حل نہیں تھا ۔چنانچہ انہوں نے یہ طے کر لیا کہ رات کا کھانا سب اکٹھے کھایا کریں گے ۔
ان کے شوہر ڈاکٹر زرغم کی تجویز تھی کہ وہ دن کو گھر رہیں اور شام کو کلینک میںبیٹھیں لیکن نزدیکی قصبوںاور دیہاتوں سے جو لوگ آتے ان کے لیے شام کو آنا مشکل تھا ۔ دونوں میاں بیوی کی اپنی اپنی مصروفیات اندازے حوصلے اور فیصلے تھے ۔
یہ 4 اکتوبر بدھ کا دن تھا جب نرس نے آکر بتایا کہ ایک اماں جی آئی ہیںکہتی ہیںتم سو روپے کی بجائے دو سو روپے فیس لے لو لیکن مجھے ڈبل ٹائم چاہیے…

مزید پڑھیں

ذکر اور تلاوت قرآن کی فضیلت ۔ امام نوویؒ

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا : جس آدمی نے کسی مومن کی دنیا کی تکلیف میں سے ایک تکلیف کو دور کردیا اللہ تعالیٰ اُس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دور کردے گا اور جس آدمی نے کسی مصیبت میں گرفتار آدمی کے ساتھ آسانی کا معاملہ کیا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمائیں گے اور جس آدمی نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ۔ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔ جب تک کوئی آدمی بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ بھی اس کا مدد گار رہتا ہے اور جو آدمی حصول علم کے لیے سفر اختیارکرتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب بھی کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے درس و تدریس کا اہتمام کرتے ہیں ، تو لازماً ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ…

مزید پڑھیں

زبیر کی کہانی ۔ نادیہ سیف

بھوکا پیاسا ، پسینے سے شرابور ،وہ بس چلتا چلا جا رہا تھا ۔ حالانکہ اس کی جیب میں لوہے کی چادروں کی رقم واپس کرنے کے بعد دو سو روپے بقایا موجود تھے۔لیکن فی الحال ان کو خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا۔ دل کی بے زاری عروج پر تھی۔ دنیا سے نفرت کی ہزار ہا وجوہات تھیں۔ معاشرتی نظام کی سو خرابیاں اس کے سامنے عیاں ہو چکی تھیں ۔ اپنی عمر کے مخلص دوستوں کو وہ کہیں پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ دوستوں کی آنکھوں میں اپنے حالات کے لیے ترحم نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔ وہ جب ان کے ساتھ تھاتو اپنی کلاس میں فرسٹ پوزیشن لیتا۔ کبھی ٹیسٹ ہوتے تو ان کی پڑھائی میں مدد کرتا ، اور آج….. وہ ان کو یاد کرنے کے باوجود ان سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔اس کی دوستی اپنے سے دگنی تگنی عمر کے لوگوں سے فورا ًہو جاتی ۔ ہم عمر لڑکے اسے اپنی ذہنی سطح سے کہیں کم نظر آتے ۔اسے یاد تھا کہ محلے کے اسکول میں پڑھنے والے لڑکے کبھی کنچے یا گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے اسے بھی کھیلنے کی دعوت دیتے ، تو وہ حقارت سے منہ موڑ لیتا ، وہ نارمل زندگی…

مزید پڑھیں

ظلم کا مفہوم ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

عدل اور ظلم باہم متضاد الفاظ ہیں؛ عدل دل اور روح کو روشن کرتا ہے اور سینے میں اطمینان بھر دیتا ہے، اور زندگی کے سیدھے راستے پر چلاتا ہے جبکہ ظلم تاریکی ہے،جو لوگوں سے حق کی جانب دیکھنے اور درست چیزتک پہنچنے کی طاقت چھین لیتی ہے۔ یہی تو اسلام کا راستہ ہے جسے ظلم نگاہوں سے اوجھل بنا دیتا ہے۔ ظلم کو اختیار کرنے اور اس کی راہوں پر چلنے کی شکلیں اور طریقے بہت سے ہیں۔اسلام کی بنیاد توحید ہے جو دلوں میں عدل اور اصحابِ عدل کی محبت پیدا کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔مومن کا دل ہمیشہ اس کا محاسبہ کرتا ہے کہ وہ اصحابِ عدل کا مدد گار ہے یا اصحابِ ظلم کا، وہ کس کا ساتھ دے رہا ہے اور کس کی نصرت کا متمنی ہے۔
ظلم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ’’ظ ل م‘‘ ہے، جس کے معانی کسی شے کو اس کی جگہ سے ہٹ کر رکھنا۔اسی طرح کسی حد سے تجاوز کرنا بھی ظلم کہلاتا ہے۔وضو کی حدیث میں بھی آیا ہے: ’’جس نے اس میں اضافہ کیا یا کمی کی تو اس نے برا اور ظلم کیا‘‘۔ (رواہ ابوداؤد،۱۳۵)
عربی الفاظ ظلم، ظلام اور ظلمۃ…

مزید پڑھیں

مثبت طرز فکر ۔ ڈاکٹر فلزہ آفاق

آج کی دنیا میں مثبت سوچ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔اس کی وجہ غالباََ زندگی کی تیز رفتاری اور دوڑ میں سکون کی کمی ہے۔ چنانچہ مختلف پلیٹ فارمز سےمثبت سوچ کے حصول کے لیے پروگرام تشکیل دیے جارہے ہیں۔
ہمارے دین کی تو بنیاد ہی یقین اورامیدکو، تعمیری اور مثبت سوچ کو پروان چڑھاتی ہے۔ پھر ہم کیوں منفی طرز ِفکر، منفی گفتگو،منفی طرز عمل میں الجھ جاتے ہیں؟اس سوال کا جواب اس لیے اہم ہے کہ ہم منفی سوچوں کی بنیاد کو سمجھ کر انہیں مثبت سوچ سے بدل سکیں۔
برصغیر میں ہمارے طرزِ عمل پر بہت سے اثرات دوسری قوموں کے ساتھ ہونے سے بھی آئے، جن کے عقائد ،زندگی کے متعلق طرز فکر و عمل یکسر مختلف تھا۔ہمیں ضرور اپنی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرنا چاہیے ۔ایسی سوچوں اور عمل کو چن چن کر خیر باد کہنا ہے جن کا ہماری اقدار اور تہذیب سے کو ئی تعلق نہیں ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ ہمیں انبیاؑ کرام کے جو واقعات بتاتے ہیں ان میں ہر قدم پرتوکل،امید، یقین کا سبق ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو شرمندہ نہیں کیا۔
کبھی کھانے میں نقص نہیں نکالا۔
کسی کی دل آزاری نہیں کی۔
ان کا چہرہ باوجود…

مزید پڑھیں