زیب النساء ۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی
یہ کہانیاں زندگی کے سچے واقعات پر مبنی ہیں جن میں ہم اپنے معاشرے کا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور بہت ساری خرابیوں کا علاج کر سکتے ہیں۔کلینک کا ٹائم دو بجے تک ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر زوبیہ کو اکثرچار بلکہ پانچ ہی بج جاتے ۔ ایک تو جس علاقے میں ان کا کلینک تھا وہاں دور دور تک کسی لیڈی ڈاکٹر کا ملنا محال تھا دوسرا گائنی کے سارے کیس دور دراز علاقوں سے ان کے پاس آتے تھے اس طرح دوپہر کے کھانے پر ان کے بچے اور شوہر انتظار کرتے رہتے لیکن اس کا کوئی حل نہیں تھا ۔چنانچہ انہوں نے یہ طے کر لیا کہ رات کا کھانا سب اکٹھے کھایا کریں گے ۔
ان کے شوہر ڈاکٹر زرغم کی تجویز تھی کہ وہ دن کو گھر رہیں اور شام کو کلینک میںبیٹھیں لیکن نزدیکی قصبوںاور دیہاتوں سے جو لوگ آتے ان کے لیے شام کو آنا مشکل تھا ۔ دونوں میاں بیوی کی اپنی اپنی مصروفیات اندازے حوصلے اور فیصلے تھے ۔
یہ 4 اکتوبر بدھ کا دن تھا جب نرس نے آکر بتایا کہ ایک اماں جی آئی ہیںکہتی ہیںتم سو روپے کی بجائے دو سو روپے فیس لے لو لیکن مجھے ڈبل ٹائم چاہیے…

