شیطان حیلہ جُو ہے
شیطان کی ایک اور صفت جو بتائی جاتی ہے ٗ وہ یہ ہے کہ وہ بڑاحیلہ جُو ہے۔اسے اس بات کی بڑی مشق ہے کہ چکر کھا کھا کر انسان کے سامنے آئے اور فریب دے دے کر اسے مطمئن کر دے کہ جس راہ کی طرف وہ اسے لے جا رہا ہے ٗ وہ برائی کی راہ ہے ہی نہیں ٗ وہ تو عین بھلائی ہے۔
دنیا میں بڑے بڑے ظالم حکمران ایسے گزرے ہیں جو ظلم توڑتے ہوئے یہی سمجھتے رہے کہ وہ تو ملک میں نظم و نسق اور امن و امان قائم کر رہے ہیں اور شریر عناصر کا استیصال کرکے اہلِ ملک پر احسان کر رہے ہیں حالانکہ ان کے ظلم کی چکی میں شریر عناصر سے زیادہ بے گناہ پستے رہے اور ملک میں امن و امان انصاف کرنے سے قائم ہوتا ہے نہ کہ ظلم کرنے سے۔
بے شمار خوش عقیدہ لوگ دیکھنے میں آتے ہیں جو بزرگوں کی قبروں پر جا جا کر سجدے کرتے ٗ چڑھاوے چڑھاتے اور کھلے کھلے مشرکانہ اعمال کرتے ہیں مگر شیطان ان سے یہ سب کام کراتے ہوئے انہیں بالکل مطمئن رکھتا ہے کہ یہ سب کچھ عین دینداری ہے!
بہت سے ایسے ’’دیندار‘‘ موجود ہیں جو اپنی دینداری کے زعم میں لوگوں کے لیے انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہیں ٗ کسی پر نکتہ چینی کرتے ہیں ٗ کسی کی عیب جوئی کرتے ہیں ٗ کسی کے چھپے ہوئے اعمال کو الم نشرح کرکے اسے معاشرے میں رسوا کرتے ہیں ٗ اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کے لیے ’’بدعتی‘‘ ’’مشرک‘‘ بلکہ ’’کافر‘‘ تک کے الفاظ بے تکلف استعمال کرتے ہیں ٗ طعن و تشنیع سے لوگوں کے سینے چھلنی کرتے ہیں اور راہ چلتوں سے جھگڑا شروع کر دیتے ہیں—– شیطان ان سے وہ سب اعمال کرواتا جاتا ہے ٗ جو حضورؐ کے اس فرمان مبارک کے خلاف ہوتے ہیں کہ:
’’آسانی کا معاملہ کرو اور تنگی اور سختی نہ کرو اور خوش خبری سنائو اور نفرت نہ پیدا کرو۔‘‘ (بخاری و مسلم)
مگر ان سے یہ سب ناپسندیدہ کام کرواتے ہوئے بھی شیطان ساتھ ساتھ انہیں یقین دلاتا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ تو ’’مومنانہ بے باکی‘‘ ہے جو مومن کی ایک بہت بڑی صفت ہے۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ بزعمِ خود بڑی لگن سے تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں مگر درحقیقت اسلام کو دنیا میں متعارف کرانے سے بہت زیادہ ان کی توجہ اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ اپنے اپنے فرقے کے نظریات کو مسلمانوں ہی کے دوسرے فرقوں کے نظریات سے درست ثابت کر دیں۔ اس طرح ان کی پوری توجہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی طرف نہیں بلکہ مسلمانوں ہی کے مختلف فرقوں کو کافر ثابت کرنے کی طرف لگی رہتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ کرتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو شاباش دیتے رہتے ہیں کہ واہ بھئی واہ کیا بات ہے ہماری! ہم کتنی زیادہ خدمت دین کر رہے ہیں۔!
بڑے بڑے سخت گیر اور ظالم خاوند ایسے دیکھے جاتے ہیں جو اپنے رشتہ داروں کے کہے سنے میں آکر بیویوں کے شرعی حقوق غضب کرتے اور ان پر وہ بوجھ ڈالتے ہیں جن کے لیے شریعت نے کوئی جواز نہیں رکھا ٗ مگر ایسا کرتے ہوئے بھی وہ سمجھ یہی رہے ہوتے ہیں کہ ہم بڑے اطاعت شعار بیٹے اور بڑے جاں نثار بھائی ہیں اور ہماری جنت پکی ہے۔ حالانکہ ماں باپ کی خدمت کرنے اور رشتہ داروں سے محبت رکھنے کے لیے یہ قطعی ضروری نہیں کہ ساتھ ہی انسان ظالم خاوند بھی بن جائے۔
غرضیکہ شیطان جو کامیاب چالیں چلتا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ نادان لوگوں سے خدا کی نافرمانی کے کام کرواتا ہے ٗ مگر ساتھ ہی انہیں پورا یقین دلائے رکھتا ہے کہ یہ تو عین اطاعت ہے۔ بڑے سے بڑا گنہگار بھی اگر گناہ کو گناہ سمجھ کر کرے گا تو امکان ہے کہ کسی دن وہ ڈر جائے اور توبہ کر لے ٗ مگر جب انسان گناہ کو ثواب ہی سمجھ لے تو پھر اس نے کہاں توبہ کرنی ہے۔!
ایسے ہی بسا اوقات شیطان لوگوں سے غیر شرعی قدم اٹھواتا ہے مگر ساتھ ساتھ انہیں مطمئن کرتا رہتا ہے کہ اس میں ملک و ملت کا فائدہ ہے حالانکہ کوئی غیر شرعی قدم کبھی ملت کی بھلائی کا باعث نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ شریعت اسلامیہ نے انہیں نظریات اور اعمال کو غلط قرار دیا ہے جو تھے ہی ملت کے لیے مضر۔
تاریخ اسلام میں بنو امیہ کا گورنر حجاج بن یوسف بہت مشہور ہے۔ وہ بعض امور میں بڑا قابل تھا مگر وہ ظالم بے انتہا تھا اور اپنے زیر حکومت علاقوں کا بندوبست کرنے کے سلسلے میں اس نے بعض ایسے قدم اٹھائے جو اسلامی احکام کے خلاف تھے۔ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں پر ایک ٹیکس لگایا جاتا ہے جسے جزیہ کہتے ہیں۔ جب کوئی غیر مسلم شخص مسلمان ہو جائے تو یہ ٹیکس فوراً معاف ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی غیر مسلموں کے پاس جو زمینیں تھیں ٗ ان پر خراج لیا جاتا تھا اور مسلمانوں کے پاس جو زمینیں تھیں ان پر عشر لیا جاتا تھا۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر خراجی زمین مسلمان کے پاس آجائے تو وہ خراجی سے عشری ہو جائے گی۔ حجاج بن یوسف نے ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نو مسلموں سے بھی جزیہ لینا شروع کر دیا اور جن خراجی زمینوں کو مسلمانوں کے قبضے میں آجانے کے باعث عشری ہو جانا چاہیے تھا ٗ ان سے بدستور خراج لیتا رہا۔ یہ بڑی ناروا حرکات تھیں۔ مگر حجاج نے اپنے زعم میں ملک کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے یہ عمل جاری رکھا۔
حجاج کی وفات کے کچھ عرصہ بعد جب بنو امیہ کی حکومت حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے قبضے میں آئی تو انہوں نے حکم دے دیا کہ نو مسلموں سے جزیہ لینا بند کر دیا جائے اور مالی امور میں بنو امیہ کے سابق حکمرانوں کے عہد میں جتنی بدعنوانیاں ہوتی تھیں سب منسوخ کر دیں۔ ایک عام شخص یہی سمجھے گا کہ اس سے حکومت کی آمدنی کم ہو گئی ہو گی اور نو مسلموں سے جزیہ ختم کر دینے کے باعث اس کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے کہ بعض جگہ شکایت پیدا ہوئی بھی کہ آمدنی کم ہو گئی ہے ٗ مگر انجام کار جو کچھ سامنے آیا ٗ وہ یہ تھا کہ آمدنی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔ مورخ بتاتے ہیں کہ حجاج رعایا پر ظلم کرکے جتنی مال گزاری وصول کرتا تھا ٗ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ظالمانہ ٹیکس معاف کرکے اور لوگوں پر نرمی اور شفقت برت کر اس سے بہت زیادہ مال گزاری وصول کی۔ وہ خود فرماتے تھے کہ:
حجاج پر خدا کی لعنت ہو ٗ اسے نہ دین کی لیاقت تھی نہ دنیا کی۔ اس نے اپنے ظلم کے باوجود عراق سے صرف دو کروڑ اسی لاکھ درہم وصول کیے اور جب عراق میرے قبضے میں آیا ٗ تو میں نے اس سے ۱۰ کروڑ ۲۴ لاکھ درہم وصول کیے۔
شیطان کی سکھائی ہوئی حیلہ سازی کی ایک بدترین شکل وہ ہے جس میں انسان کسی شرعی حکم سے جان بچانے کے لیے کوئی ایسا طرزِ عمل اختیار کرتا ہے جس سے بظاہر قانونی طور پر وہ اس حکم سے واقعی بچ جاتا ہے ٗ مگر اس شرعی حکم پر نہ عمل کرنے کے جو برے نتائج پیدا ہونے ہوتے ہیں ٗ وہ پیدا ہو جاتے ہیں۔
اسلامی شریعت میں اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت فرض ہوتی ہے جب زکوٰۃ والے مال کو قبضے میں آئے ایک سال گزر چکا ہو۔ بعض لوگ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے یوں حیلہ کر لیتے تھے کہ گیارہ مہینے تک وہ مال خاوند اپنی ملکیت میں رکھتا اور بارہویں مہینے اسے بیوی کے نام ہبہ کر دیتا۔ اب جب تک اس مال کو بیوی کے قبضے میں آئے سال نہ گزر جاتا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہو سکتی تھی۔ اب بیوی بھی گیارہ مہینے اسے اپنی ملکیت میں رکھ کر بارہویں مہینے پھر اسے خاوند کو دے دیتی۔ اس طرح چکر چلا کر وہ زکوٰۃ سے محفوظ ہو جاتے۔ مال رہتا بھی اسی گھر میں اور اس پر زکوٰۃ بھی عائد نہ ہوتی۔ میاں بیوی مطمئن ہوتے کہ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ٗ مگر زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی انفرادی اور اجتماعی خرابیاں برابر قائم رہتیں۔ مال والوں کے دلوں سے مال کی حرص بھی کم نہ ہوتی اور معاشرے کے جن محتاجوں اور ضرورت مندوں نے اس زکوٰۃ سے فائدہ اٹھانا تھا ٗ وہ بھی محروم رہتے اور خدا کے ایک حکم سے بچنے کے لیے ان چکر چلانے والوں کو اللہ کے ساتھ چالاکیاں کرنے کا جو گناہ ہوتا وہ علیحدہ۔
شیطان کینہ توز ہے
شیطان کی ایک مزید صفت یہ ہے کہ وہ کینہ توز ہے۔اس موجودات میں حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے مگر اس کی منشاء کو پورا کرنے کے لیے مختلف ہستیاں ذرائع کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ شیطان اپنی نافرمانی کے باعث اللہ کی رحمت سے دور ہؤا اور اس کے اللہ کی رحمت سے دور ہونے کا ذریعہ انسان بنا ٗ جس کو سجدہ کرنے سے انکار کرنے کے باعث وہ خدا کے غضب کا مستحق ٹھہرا۔
انسان نے بھی دنیا میں آنے سے پہلے بہشت میں بیٹھ کر ہی خدا کی نافرمانی کرکے اس کی ناراضی مول لے لی اور اس کے ساتھ خدا کے ناراض ہونے کا ذریعہ شیطان بنا جس نے اسے ممنوعہ پھل کھلایا۔
اب شیطان کی کینہ توزی کا یہ عالم ہے کہ اسے یہ بات کبھی نہیں بھولی کہ اسے خدا کی رحمت سے دور کروانے والی ہستی انسان تھا۔ چنانچہ وہ برابر اس سے کھلی کھلی دشمنی کیے جاتا ہے اور اپنی مانند اسے بھی خدا کی رحمت سے دور کروا دینے کی سعی میں مصروف رہتا ہے۔دوسری طرف انسان ایسا بھلکڑ ہے کہ اس کی اکثریت کو سرے سے یاد ہی نہیں کہ شیطان نے اس سے کیا دشمنی کی تھی۔
شیطان تو اپنے زیاں کو اتنا پہچانتا ہے کہ اس زیاں کے ذریعے کے خلاف اس کا دل بغض و عداوت سے کبھی خالی نہیں ہؤا مگر انسان ایسا زیاں کار ہے کہ اپنے زیاں کے ذریعے سے دوستیاں کرنے سے بھی نہیں شرماتا بلکہ بعض اوقات اس دوستی پر بہت کچھ فخر و مباہات کا اظہار بھی کرتا ہے—– اب اسے انسان کی بے غیرتی کے سوا اور کیا کہا جائے کہ جو دشمن ذلیل و رسوا کرنے کے در پے ہو اسی کے اشاروں پر ناچا جائے
وسواس اور خناس ہے
کلام پاک کی آخری سورت میں شیطان کے لیے دو نام استعمال کیے گئے ہیں۔تفہیم القرآن جلد ششم میں ان الفاظ کی تشریح یوں بیان کی گئی ہے:
’’وسواس کا مطلب ہے بار بار وسوسہ ڈالنے والا ٗ اور وسوسے کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقے یا طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی جا رہی ہو اسے یہ محسوس نہ ہو سکے کہ وسوسہ انداز اس کے دل میں ایک بری بات ڈال رہا ہے۔ وسوسے کے لفظ میں خود تکرار کا مفہوم شامل ہے جیسے زلزلہ میں حرکت کی تکرار کا مفہوم شامل ہے۔ چونکہ انسان صرف ایک دفعہ بہکانے سے نہیں بہکتا بلکہ اسے بہکانے کی پے در پے کوشش کرنی ہوتی ہے۔ اس لیے ایسی کوشش کو وسوسہ اور کوشش کرنے والے کو وسواس کہا جاتا ہے۔
رہا لفظ خناس ٗ تو یہ خنوس سے ہے جس کے معنی ظاہر ہونے کے بعد چھپنے یا آنے کے بعد پیچھے ہٹ جانے کے ہیں۔ اور خناس چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس لیے اس کے معنی یہ فعل بکثرت کرنے والے کے ہوئے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے کو بار بار وسوسہ اندازی کے لیے آدمی کے پاس آنا پڑتا ہے اور ساتھ ساتھ جب اسے خناس بھی کہا گیا تو دونوں الفاظ کے ملنے سے خودبخود یہ مفہوم پیدا ہو گیا کہ وسوسہ ڈال کر وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پھر پے در پے وسوسہ اندازی کے لیے پلٹ کر آتا ہے۔ بالفاظ دیگر ایک دفعہ جب اس کی وسوسہ اندازی کی کوشش ناکام ہوتی ہے تو وہ چلا جاتا ہے۔ پھر وہی کوشش کرنے کے لیے دوبارہ سہ بارہ اور بار بار آتا رہتا ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن ٗ جلد ششم)
شیطان کی ان صفات پر غور کرنے کے بعد اب اس بات پر غور کیجئے کہ جب دشمن ہوشیار بھی ہو اور موقع شناس بھی ہو اور حیلہ جو بھی ہو اور کینہ توز بھی ہو اور وسواس اور خناس بھی ہو تو پھر کیا کیا جائے اس نادان کا ٗ جو ایسے زبردست دشمن کے ساتھ رہتے ہوئے غفلت اور لاپروائی کو شعار بنائے رکھے— پھر کیوں نہ اس کے نفس میں خرابیاں پیدا ہوں ٗ کیوں نہ وہ خسارے کا شکار ہو اور کیوں نہ اسے دنیا میں بھی غم و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے اور آخرت میں بھی عذاب و رسوائی کا!
خدائے بزرگ و برتر اور خدا کے مکرم رسولؐ نے انسان کو بار بار اس دشمن ازلی کی چالوں سے ہوشیار رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
سورۃ الاعراف آیت ۲۷ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو تنبیہہ فرمائی ہے:
’’اے بنی آدم ؑ ٗ ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا…‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے دل میں ایک خیال ڈالتا ہے اور فرشتہ بھی انسان کے دل میں ایک خیال ڈالتا ہے۔ شیطان کا خیال برائی کا وعدہ دینا اور حق کو جھٹلانے پر آمادہ کرنا ہے اور فرشتے کا خیال بھلائی کا وعدہ دینا اور حق کی تصدیق پر آمادہ کرنا ہے۔ پس جو کوئی (اپنے دل میں) یہ چیز (یعنی فرشتے کا ڈالا ہؤا خیال) پائے تو وہ جان لے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے پس اللہ کی تعریف کرے اور جو کوئی (اپنے دل میں) کوئی اور شے (یعنی شیطان کا ڈالا ہوا خیال) پائے تو وہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے…‘‘ (ترمذی)
حقیقت یہ ہے کہ ارادتاً ضد کے باعث برائیاں کرنے والے لوگ تھوڑے ہوتے ہیں۔ برائیوں کا شکار ہونے والوں میں سے غالب اکثریت انہیں لوگوں کی ہوتی ہے جو غفلت اور لاپروائی کے باعث اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔
لوگوں نے ایک دفعہ شیخ شبلیؒ سے پوچھا کہ حضورؐ کے اس قول کا کیا مطلب ہے:
(جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو مبتلائے بلا ہیں تو اپنے رب سے عافیت مانگو)
اس پر شیخ شبلیؒ نے فرمایا کہ ’’مبتلائے بلا وہ لوگ ہیں جو خدا کی طرف سے غافل ہیں۔‘‘
آپ کی مراد یہ تھی کہ چونکہ وہ غافل ہیں ٗ اس لیے آسانی سے ایسی حرکات کا ارتکاب کر لیں گے جو انہیں دنیا اور آخرت دونوں جگہ کی مصائب کا شکار بنا دیں گی۔ غفلت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اہم پہلوئوں پر کبھی غور نہ کرے۔ اسے کبھی یہ خیال نہ آیا ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں ٗ کہاں جائوں گا ٗ کس نے مجھے یہاں بھیجا ہے ٗ کیوں بھیجا ہے ٗ میرے یہاں آنے کا مقصد کیا تھا ٗ اگر میں نے وہ مقصد پورا نہ کیا تو کیا ہو گا۔
آخر انسان آئے دن لوگوں کو اس دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتا ہے۔ پھر بھی اگر اسے یہ خیال نہیں آتا کہ ایک دن میں نے بھی اسی طرح رخصت ہونا ہے۔ یہ جو میرے سامنے رخصت ہؤا ہے یہ کہاں گیا ہے۔ میں نے کہاں جانا ہے۔ وہاں کیا ہو گا۔ مجھے اس کے لیے کیا تیاری کرنی ہے۔ یہ سوال اگر اس کے دل میں نہیں اٹھتے تو اس کا دل غافل ہے۔ اگر لوگوں کو مرتے دیکھ کر بھی اس کے ذہن میں اپنی موت کا اور مابعدالموت کا خیال نہیں آتا تو یہی وہ غفلت ہے جس کی اسلام نے مذمت کی ہے۔ ان غافلوں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو فوری نکلنے والے نتائج کے سلسلے میں ازحد ہوشیار ہوتے ہیں۔ اپنی دنیوی زندگی کے مادی فوائد حاصل کرنے میں ان کا دماغ خوب چلتا ہے اور وہ بڑی سوجھ بوجھ اور ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہیں مگر چونکہ اپنے لازماً آنے والے انجام کی وہ بالکل پروا نہیں کرتے ٗ اس کی پروا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ٗ اس لیے وہ اپنی ساری مادی سمجھ بوجھ اور ہوشیاری کے باوجود پرلے درجے کے غافل ہوتے ہیں۔ اور یہ غفلت انہیں انواع و اقسام کی برائیوں میں مبتلا ہو جانے کے خطرے میں ڈالے رکھتی ہے۔
حضرت عثمانؓ کا فرمان ہے۔ ’’غریب آدمی ذلیل نہیں ہوتا بلکہ ذلیل وہ ہے جو اپنے مذہب کی طرف سے غافل ہے۔‘‘
ایسے دنیا پرست غافل انسان عموماً کسی خیر اندیش کی خیر خواہانہ نصیحتوں سے بھی کم ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے:
’’تیرے اور نصیحت کے درمیان بے توجہی کا پردہ حائل ہے۔‘‘
یہ بے توجہی انسان کے لیے انتہائی نقصان دہ شے ہے کیونکہ ہر لمحہ ٗ جو گزر رہا ہے ٗ انسان کی زندگی کے تاروں کو کاٹے چلا جا رہا ہے اور وہ لحظہ بہ لحظہ اپنے انجام سے قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں:
’’دنیا والے ان مسافروں کی طرح ہیں جنہیں قافلہ لیے جا رہا ہو اور وہ غافل سو رہے ہوں۔‘‘
٭…٭…٭

