پیاری خالہ جان – شازیہ عبد اللہ

کوئی تبصرہ نہیں

اللہ پاک خالہ جان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین۔ غالباً جنوری بروز جمعرات صبح 9:30بجےواٹس ایپ پر راحیل باجی کا Farwardedپیغام موصول ہؤا کہ ہماری پیاری خالہ جان زہرہ آپا صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ہر ذی روح نے اپنی مدت عمر پوری کر کے اپنے ابدی گھر سدھارنا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیںہماری زندگی میںجن کی جدائی آپ کے لیے بہت ہی تکلیف کا باعث ہوتی ہے ۔ خالہ زہرہ بھی میرے لیے ایسی ہی ایک ہستی تھیں۔
آپا زہرہ کا نام سامنے آتے ہی بچپن سے لے کر شادی تک کی میری زندگی کی پوری کہانی آنکھوںکے سامنے ایک فلم کی طرح چلنے لگ گئی ۔ میرے گھر کے چھوٹے بڑےمعاملات حتیٰ کہ میری شادی تک کے تمام مراحل میںان کی مشاورت ، رہنمائی اوربھرپورتعاون شامِل حال رہا ۔یہ 1988ء میںآنے والے تباہ کن سیلاب کے دنوںکی بات ہے جب ہمارے چچا جان عنایت اللہ روز گھر آکر شاہدرہ میں آئے ہوئے سیلاب اوراس میں جماعتِ اسلامی کی جفا کش خواتین خاص طور پر آپا زہرہ اور گلفرین خالہ جان کا بہت ذکر کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ کس طرح یہ خواتین پانی اورکیچڑ میںسے گزر کر سیلاب زد گان تک پہنچتی ہیں اور ہرممکن طریقے سے ان کی امداد کرتی ہیں ،چاہےوہ کھانا فراہم کرنا ہو، کپڑے پہنچانے ہوں ،طبی امداد ہو یا رہائش کے مسائل ہوں۔
ہم بچے بہت شوق اور دلچسپی کے ساتھ ان کی روزانہ کی یہ روداد سنا کرتے تھے ۔ان مجاہد خواتین کےبارے میںکم از کم میرے ذہن میں توسلف صالحین کی خواتین کانقشہ بنتا جاتا تھا۔ اورہم نے ذہن بنا لیا تھا کہ یقیناً جنت کی حقدار یہی خواتین ہیں ۔اللہ پاک انہیں حقیقتاً اعلیٰ جنتوں سے نوازے آمین۔
پھر ایک دن کیا ہؤا کہ ابو جان ( محمد عبد اللہ صاحب منیجر ادارہ بتول)نے نویدسنائی کہ ’’ آپا جان زہرہ وحید صاحبہ آج ہمارے گھر افطاری کےلیے تشریف لا رہی ہیں ۔ ساتھ میںخان صاحب یعنی آپا کے شوہرنامدار ( عبد الوحید خان صاحب) بھی ہوں گے ۔ بہت ذوق وشوق سے سارا دن سارے گھر والوںنے افطاری کی تیاری کی۔ اس دور میںادارہ بتول کے منیجر کی کیا تنخواہ ہو گی سب بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیںلیکن آپا جان اور ان کی فیملی سےاس قدر عقیدت تھی ہم سب کی کہ دل چاہتا تھا کوئی کمی نہ رہے ۔ الحمد للہ سب بہت اچھا بنا اور اللہ کے یہ منکسر مزاج بندے ہمارے غریب خانے تشریف لائے تو آپا کی بیٹی راحیلہ باجی بھی ساتھ تھیں ۔ہم بچیوں اور امی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
اکیلے ابو جان کمانے والے اور چار بچے جن کے کھانے پینے اور تعلیم کے اخراجات بھی اورساتھ میںکرائے کا گھر ،بجلی ، گیس ، پانی کے بلز اورگائوںمیں بھی دادا ، دادی اور گھر کی ذمہ داریاں ۔ ایسے میں آپا جان کی نوازش یہ ہوئی کہ ہم بہن بھائیوں کے لیے پیش کش تھی کہ ان کے سکول میں داخل کرا دیا جائے ۔ میں،مجھ سے چھوٹی بہن اورچھوٹا بھائی ہم تین بچے زہرہ آپا کے سکول میںزیر تعلیم رہے ، میٹرک بھی وہیں سے کیا ۔ حفصہ باجی ، راحیلہ باجی ، نسرین باجی ، سعدیہ اورعاشی باجی سے مختلف مضامین پڑھنےکاشرف حاصل رہا ۔ ادب و احترام کا حامل بہت ہی مضبوط رشتہ رہاان باجیوںسے اور آج تک قائم ہے الحمد للہ ، اب ہم سارے بہن بھائی ماشاء اللہ بچوں والے ہیں۔میرے توبچے بھی سب جواں ہیںماشاء اللہ لیکن جبکہ کبھی باجیوںسے ملاقات ہوئی ہے سکول کے زمانے میںپہنچ جاتی ہوں ۔اپنا آپ ان کے سامنے ہمیشہ ایک سٹوڈنٹ ہی کی طرح محسوس ہوتا۔
مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے عید اور رمضان میں ہمارے گھر بھر کے لیے آپا جی کی طرف سے تحفے آتے تھے ۔ان کے سکول میںپڑھنا کسی سعادت سے کم نہ تھا ۔ قرآن کا ترجمہ اورتعلیم حاصل کرنے کا مقصد وہیںسے جانا ۔ رمضان میںآپا کے ساتھ جمعہ کے جمعہ تسبیح نماز پڑھنا یادگار لمحات میں سے ایک ہے ۔شاید اسی اسکول اور اساتذہ کی برکت تھی کہ چھٹی جماعت سے لے کر ( جب میرا آپا کے سکول میںداخلہ ہؤا) میٹرک تک پہلی پوزیشن برقرار رہی اور الحمد للہ جب وحدت کالج سے گریجویشن کر کے نکلی تو بھی کالج بھر میں پہلے نمبر پر آئی تھی جبھی توپنجاب یونیورسٹی میں (IER)ایجوکیشن میںٹاپ پانچ سٹوڈنٹس میںداخلہ ہؤا ۔ اللہ پاک بہت جزا دے ہمارے ان محسنوںکو۔
تعلیم کے بعد جب عملی میدان میں داخل ہوئی تو اپنے بچوں کو بھی انہی خطوط پر پروان چڑھانے کی کوشش کی ۔ گھر میں تیاری کرا کر اعلیٰ سکولوںمیںداخلے کے امتحانات دلا کر میرٹ پر ایڈمیشن کرائے ۔ آج الحمد للہ بچے خودبولتے ہیں کہ ماماآپ نے ہماری تعلیمی بنیاد بہت اچھی رکھی جس کی وجہ سے ہمیں آج تک نہ گرامر میںوہ اردو ہو یا انگریزی اور نہ کسی اور تعلیمی معاملے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
بھلاجس کے استاد اتنے قابل ہوں ، ان کی دعائیں ساتھ ہوں وہ طالب علم ناکام کیسے ہو سکتا ہے ۔
میری تو زندگی میں جتنی بھی راحتیں اور آسانیاں آئیںوہ یقیناً ماںباپ کی دعائوں اوران اساتذہ کی شفقتوں اور مہر بانیوںکانتیجہ ہیں ۔ ہم نے تو آپا جی زہرہ وحید کی سر پرستی میںرہتے ہوئے جانا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اساتذہ روحانی ماںباپ ہوتے ہیں۔ اللہ پاک پیاری خالہ جان اوران کی تمام اولاد کو جزائے خیر کثیر سے نوازے اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین
میں آج ایک سکول ٹیچر ہوں۔جب کبھی اپنے سٹوڈنٹس یا ان کی مائوں کے منہ سے سننے کو ملتا ہے کہ آپ بیسٹ ٹیچر ہیںتو یوں لگتا ہے کہ استعریف میںایک کثیر حصہ میرے انہی اساتذہ کی شفقتوں اور محنتوں کاہے ۔
اللہ تعالیٰ نے یقیناً ان کے لیے بہت بلند درجے پسند کر رکھے ہوںگے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان کا استقبال بھی مبارک سلامت کے شور کے ساتھ فرشتوںکے جلوس میں ہؤا ہوگا ۔ اللہ سے دعا ہے کہ :
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp