خطبہ حجۃ الوداع کے اہم نکات – ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی

کوئی تبصرہ نہیں

آپؐ حجۃ الوداع کے لیے ۲۵ ذیعقدہ بمطابق ۲۲ فروری بروزہفتہ ۲۳۲ء کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ مدینہ سے تقریباً 9کلومیٹر ذی الحلیفہ(جواہل مدینہ کے لیے میقات ہے) پہنچ کر۲۶ ذیعقد کو احرام زیب تن فرمایا ۔ تمام ازواج مطہرات آپ ؐ کے ہمراہ تھیں ۔واقدی کے مطابق ہزاروں جانثاروں کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے یہ ذی الحجہ۱۰ بمطابق ۲ مارچ بروز اتوار ۶۳۲ ءمیں مکہ میں داخل ہوئے مکہ معظمہ میں چاردن قیام فرمانے کے بعد آپ ؐ جمعرات ۸ ذی الحجہ کومنیٰ کے لیے روانہ ہوئےجہاں ظہر،عصر ، مغرب ، عشاء کی نمازیں ادافرمائیں ۔نمازِ فجر اورطلوع آفتاب کے بعد منیٰ سے ۹ ذی الحجہ کو روانہ ہو کر عرفات میں وقوف فرمایا ۔ اسی دن آپ ؐ نے زوال آفتاب کے بعد اپنی اونٹنی قصویٰ پرسوارہو کرخطبہ ارشاد فرمایا۔ ظہراورعصر کی قصرنمازوں ،تکبیراور تلبیہ دعائوں اور غروب آفتاب کے بعد مزد لفہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ مزد لفہ پہنچ کر آپ ؐ نے مغرب اورعشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں ،کچھ دیر آرام فرما کرطلوع فجر کے ساتھ نماز فجر ادا فرما کرطلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہوکرمشعرالحرام اوردادی المحسر سےتیزی سے گزرتے ہوئے ۱۰ ذی الحجہ کو منیٰ میں حجرہ کبریٰ( یعنی بڑے شیطان) کے پاس تشریف لائے ۔ رمی حجارکے بعد قربانی کی حلق کرا کے طواف افاضہ کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۔بیت اللہ میں طواف زیارت کے بعد پھرمنیٰ کی طرف واپس آئے ۔منیٰ میں یوم النحر کو بھی خطاب فرمایا ۱۱،۱۲ذی الحجہ کو خطاب فرمایا ۔۱۳ ذی الحج کو زوال تک قیام فرمایا پھررمی جمرات کے بعد ۱۴ ذی الحجہ کوطواف وداع کے لیے کعبۃ اللہ تشریف لائے۔ اوراس طرح آپ ؐ نے فریضہ حج ادا فرمایا اورمناسک حج وعمرہ کی تعلیم مسلمانوں کو عطا فرمائی۔
آپؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پرجوخطبہ ارشاد فرمایا وہ قیامت تک کے لیے انسانیت کا ایسا عالمگیر منشورہے جو نافذ العمل بھی ہے اورقابل عمل بھی ۔یہ منشورانسانی حقوق اورانسانیت کی آزادی کی ضمانت ہے ۔ یہ خطبہ ہر قسم کے منفی رحجانات سے ماورا ہے۔ اس میں اسلام کی سیاسی ، سماجی ، مذہبی اورمعاشی و ثقافتی تعلیمات کوواضح کردیا گیا ہے۔یہ دین الٰہی کاعمل اورتعبیری نمونہ تھا جس کا مکمل عکس سیرت محمدیؐ کی شکل میں اس وقت لاکھوں مسلمانوں کی بصری گواہی میں موجود تھا۔
اس خطبہ عالیہ میں آپؐ نے وحدانیت ،تقویٰ و پاکیزگی کی فضیلت ، فخرو غرور، سودکی حرمت ، قصاص،مومن کا خون اوراس کی حرمت کی فضیلت بیان فرمائی ۔آپ ؐ کے خطبہ کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں ۔
(۱) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ اکیلا ہے اس کاکوئی شریک نہیں جس کواللہ ہدایت عطا کرے اس کوکوئی گمراہ نہیں کرسکتا اورجسے وہ گمراہ کردے اس کوکوئی ہدایت نہیں دے سکتا ۔
(۲) لوگو میری بات اچھی طرح سن لوکیا خبر آئندہ سال تم سے ملاقات نہ ہو سکے ۔لوگو حج کےمسائل مجھ سے سیکھ لو ۔میں نہیں جانتا شاید اس کےبعد مجھے دوسرے حج کی نوبت نہ آ ئے۔
(۳) لوگو! تمھارا رب ایک تمھارا باپ ایک ہے تم سب آدم کی اولاد ہو اورآدم مٹی سے بنے تھے ۔
(۴) اللہ کے نزدیک تم میں سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اورپرہیز گارہے ۔
(۵) کسی عربی کو عجمی پر اورکسی عجمی کوعربی پرکوئی فضیلت نہیں ہاں فضیلت کا معیارصرف تقویٰ ہے۔
(۶) جاہلیت کی ہر چیز کا لعدم اورساقط ہو گئی ہے۔یہاں تک کہ جاہلیت کے تمام خون بھی کالعدم ہیں میں سب سے پہلے اپنے خاندان ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کے بیٹے کا خون معاف کرتا ہوں ۔ جس کی رضاعت بنی لیث میں ہو رہی تھی کہ بنو ہذیل نے اسے قتل کردیا ۔ پس میں پہل کرتے ہوئے اس خون کا بدلہ معاف کرتا ہوں ۔
(۷) اللہ کے نزدیک سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں ۔ ان میں سے چار محترم ہیںذیعقدہ ذی الحج، محرم اوررجب ۔
(۸) زمانہ جاہلیت کے تمام سودی کاروبار اب باطل ہیں اورعباس بن عبد المطلب کے سود کومیں معاف کرتا ہوں۔ ہر قسم کا سود آج سے ممنوع ہے۔
(۹) نسئی کفرکا باعث ہے ۔اللہ نے جوگنتی حرام مہینوں کی مقرر کر رکھی ہے اسے ہی پورا کرو ۔ حج اب قیامت تک ذی الحجہ کے مہینے کے ساتھ مخصوص رہے گا ۔
(۱۰) تمہارا خون ، تمہارا مال ، تمہاری عزت و آبرو ، تمہاری کھال ایک دوسرےکے لیے معزز اورمحترم ہیں ۔ جس طرح آج کا دن ، آج کا مہینہ محترم ہیں۔
(۱۱) خبر دارامانت اگرکسی کے پاس رکھوائی جائے تواس کو لوٹایا جاناچاہیے ۔
(۱۲) قرض کو ادا کیا جانا چاہیے۔
(۱۳) ضامن ضمانت کا ذمہ دار ہے۔
(۱۴) عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طورپر حاصل کیا ہے عورتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔ کیونکہ وہ تمہاری پابند ہیں ۔
(۱۵) جان لو اولاد اس کی طرف منسوب کی جائے گی جس کے بسترپروہ پیدا ہو ۔
(۱۶) جس نے خود کواپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے منسوب کیا یا کسی غلام نے جان بوجھ کر اپنے آقا کے سوا کسی اورسے نسبت قائم کی اس پراللہ کی اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی اورقیامت کے دن اس سے کوئی بدلہ یا معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا ۔
(۱۷) غلاموں سےحسن سلوک کرو جوتم کھاتے ہو اس میںسے ان کو بھی کھلائو جوتم پہنتے ہو اس میںسے ان کوبھی پہنائو ۔اگروہ ایسی خطا کریں جسے تم معاف نہیں کر سکتےتو ان کوفروخت کردو ۔
(۱۸)لوگو! اچھی طرح سمجھ لوکہ میرے بعد نہ کوئی پیغمبر آنے والا ہےنہ تمہارے بعد کوئی امت ہو گی پس اپنے پر وردگار کی عبادت کرو ، نماز پنجگانہ ادا کرو،رمضان کے روزے رکھو ۔ اللہ کے گھر کا حج کرو اوراپنی زکوٰۃ خوشی خوشی ادا کیا کرو ۔اپنے حکام کی اطاعت کرو ۔ اللہ سے ڈرو ناپ تول میںکمی نہ کرو ۔ ملک میں فساد نہ کرو۔
(۱۹) خبردار دین میں غلوسے بچو۔ تم سے پہلے جو قومیں ہلاک ہوئیں وہ غلو کی وجہ سے ہوئیں ۔
(۲۰)اللہ نے میراث میں ہر وارث کا حق مقررکیا ہے۔ اس لیے وارث کے لیے تمام مال میں وصیت کرنا جائز نہیں ۔ کسی کوایک تہائی سے زاید مال کی وصیت کا حق نہیں ۔
(۲۱) لوگو میری بات سمجھو کیونکہ میں نے سب کچھ تم تک پہنچا دیا ہے ۔ میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑ دی ہے کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو گےاگر اسے مضبوطی سے تھامے رہے اوروہ ہے اللہ کی کتاب اورنبی کی سنت۔
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp