حج بیت اللہ اسلام کا ایک رکن ہے جو ایک معین اور مقرر وقت پر خاص مذہبی قصد اور ارادہ کے ساتھ مقدس سفر اور اس میں عائد کردہ مناسک کی ادائیگی کا نام ہے۔ یہ سفر مکہ شہر میں داخل ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی عبادت گاہ خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانے اور مکہ کے مختلف مقدس مقامات میں حاضر ہو کر کچھ آداب اور اعمال بجا لانے کا نام ہے۔ یہ انسان کی خدا پرستی اور عبادت کا سب سے پہلا اور قدیم طریقہ ہے۔ اللہ کے دیوانے پوری دنیا کے اطراف و اکنار سے ذی الحج کے مہینے میں مقرر کردہ وقت کے دوران اللہ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں اور اللہ کے خلیل ’’ابراہیم علیہ السلام‘‘ کی اداؤں اور طور طریقوں کی نقل کر کے ان کے سلسلے اور مسلک سے اپنی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دیتے ہیں اور اپنی استعداد کے مطابق ابراہیمی جذبات اور کیفیات سے مناسکِ حج ادا کرتے ہیںاور اپنے آپ کو ان کے رنگ میں رنگتے ہیں۔
کعبے کی اہمیت
کعبے کی تعمیر تقریباً چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم ؑ واسماعیلؑ کے ہاتھوں ہوئی۔ اس کی تعمیر اور حکم دونوں اللہ کی جانب سے تھے۔یہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو خدا کی عبادت کے مرکز کی حیثیت سے بنایا گیا۔ اس گھر کی اہمیت سے متعلق قرآن میں آیا ہے کہ :
’’اور جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے مرجع اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ ابراہیمؑ کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو‘‘۔ (البقرۃ،۱۲۵)
حج کے معنی
لغوی طور پر حج کے معنی ’’کسی چیز کا ارادہ یا قصد کرنا ‘‘ہے۔شرعی اصطلاح میں حج سے مراد ’’مخصوص مناسک کی ادائیگی کے لیے ذی الحج کے مقرر کردہ دنوں میں بیت اللہ کا قصد کرنا‘‘ ہے۔شریعت کی زبان میں اس عبادت کو حج کہا گیا ہے کہ اس میں انسان کعبہ کی زیارت کا ارادہ رکھتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو بھی استطاعت رکھتا ہو، اس کے گھر کا حج کرے اور جس نے کفر کی روش اختیار کی (اسے جان لینا چاہیے کہ) اللہ سارے جہان والوں سے بے نیاز ہے۔ (آل عمران،۹۷)
یہ آیت حج کی فرضیت کے لیے نصِ قاطع ہے۔ حج ہر بالغ اور صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض کیا گیا ہے، اور یہ ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو استطاعت رکھتے ہوں۔اور جو شخص حج کی استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا وہ اپنے مسلمان ہونے کو جھٹلاتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے: ’’جس شخص کو کسی بیماری یا واقعی ضرورت یا ظالم حکمران نے روک نہ رکھا ہو اور اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو چاہے وہ یہودی مرے یا نصرانی‘‘۔
فرضیتِ حج
حج بالاتفاق اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ جمہور کی رائے میں حج سن ۶ ہجری میں فرض ہؤا اور ابن القیم ؒ کی رائے میں یہ ۹ یا ۱۰ ہجری میں فرض ہؤا۔
مسلمانوں پر حج وعمرہ کے لازم ہونے کی شرطیں درج ذیل ہیں:
۱ اسلام؛کسی غیر مسلم سے حج و عمرہ و دیگر عبادات کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، کیونکہ عبادات کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے۔
۲ عقل؛مجنون اور فاتر العقل شرعاً مکلف نہیں۔
۳ بالغ؛ بلوغت سے پہلے وہ فرائض کی ادائیگی کا مکلف نہیں۔ (مجنون اور کم سن افراد مرفوع القلم ہیں۔)
۴ استطاعت؛ سفر خرچ اور سواری کا انتظام۔بلا استطاعت حج فرض نہیں۔ اگر سفر خرچ ہو لیکن راستے کا امن میسر نہ ہوتو بھی اسے استطاعت کا فقدان ہی کہا جائے گا۔(منہاج المسلم،ص۴۶۰)
رسول اللہ ﷺ نے حج نہ کرنے والوں اور اس معاملے میں سستی اختیار کرنے والوں کو ڈرایا ہے: ’’جو شخص حج نہیں کرتا اور اسے ضروری کام، بیماری یا ظالم حکومت کی رکاوٹ بھی نہیں، وہ چاہے تو یہودی ہو کر مرے یا نصرانی‘‘۔ (مسند احمد)
حضرت عمربن خطابؓ نے فرمایا: ’’میں نے ارادہ کیا ہے کہ شہروں میں اپنے نمائندے بھیجوں کہ وہ ان لوگوں کو دیکھیںجنہوں نے وسعت کے باوجود حج نہیں کیا ہے، تاکہ ان پر جذیہ لاگو کر دیں۔ اس لیے کہ یہ مسلمان نہیں، مسلمان نہیں‘‘۔ (سنن بہیقی وسنن سعید بن منصور)
فرضیت وفضیلتِ حج
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن خطبہ دیا اور فرمایا: ’’اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے لہذا اسے ادا کرنے کی فکر کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے؟ آپؐ نے اس کے جواب میں سکوت اختیار فرمایا اور کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، تو آپؐ نے( ناگواری کے ساتھ) فرمایا کہ :اگر میں ’’ہاں‘‘ کہہ دیتا تو اسی طرح (ہر سال) فرض ہو جاتا اور تم ادا نہ کر سکتے‘‘۔ (رواہ مسلم،۱۳۳۷)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا اور پوچھا: ’’کیا چیز حج کو واجب کر دیتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’سامانِ سفر اور سواری‘‘۔ (رواہ الترمذی وابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کفارہ ہو جاتا ہے گناہوں کا۔ اور ’’حج مبرور‘‘ (پاک اور مخلصانہ حج) کا بدلہ تو بس جنت ہے‘‘۔ (رواہ البخاری، ۱۷۷۳ ومسلم،۱۳۴۹)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے حج کیا اور اس میں نہ تو کسی شہوانی اور فحش حرکت کا ارتکاب کیا اور نہ کوئی اللہ کی نافرمانی کی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہو کر پلٹا جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘۔ (رواہ البخاری،۱۸۲۰)
ارشادِ الہی ہے: ’’جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرے اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعمل، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو، اور جو نیک عمل تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہو گا‘‘۔ (البقرۃ،۱۹۷)
حج کرنے والے کو خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران کوئی بد فعلی کوئی جھگڑے اور لڑائی کی بات نہ سرزد ہو۔ رفث سے مراد جماع اور دواعی جماع کا تذکرہ ہے عورتوں کے سامنے یا عام محفلوں میں۔ جدال سے مراد لڑائی جھگڑا ہے جس سے فریقِ دوم کو غصّہ آجائے اور فسوق سے مراد تمام بدفعلیاں ہیں خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی۔ ان تمام افعال کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ ان تمام کاموں سے دورانِ حج بچنا چاہیے جو تحرج واحتیاط اور اللہ کی جانب تنہائی اور یکسوئی کی فضا کے خلاف ہوں، کیونکہ حج کے دوران انسان تمام دنیاوی معاملات ترک کر دیتا ہے، اور یہ پورا عرصہ تعلق باللہ کے قیام کی روحانی مشقوں کا عرصہ ہوتا ہے۔ یہاں اسے چاہیے کہ اس گھر کے شایانِ شان احترام اور ادب کو ملحوظ رکھے۔
برے افعال سے روکنے کے بعد فرمایا: ’’اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہو گا‘‘۔ کیا مومن کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اس کا آقا اس کے ہر اچھے کام کو ہر وقت دیکھتا رہتا ہے۔ یہ احساس زندہ رکھو کہ اللہ کہ اللہ دیکھ رہا ہے، اسی احساس کے ساتھ بڑھتے جاؤ اور زیادہ سے زیادہ بھلائی جمع کرتے چلے جاؤ۔ (فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیہ)
حج ابراہیمی یاد گار ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی کا جو خواب دیکھا اور اس پر لبیک کہا تھا اور جس کی تعمیل کے لیے وہ اس دور دراز مقام میں آئے تھے اور عین اس وقت جب چھری لے کر بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کرناچاہا تھا اور بیٹے نے بھی خدا کا حکم سن کر گردن جھکا دی تھی تو آواز آئی تھی:
’’اے ابراہیمؑ تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں‘‘۔ (الصافات، ۱۰۵)
اس وقت ان کو معلوم ہؤا کہ اس خواب کی تعبیر، بیٹے کو خدا کے گھر کی خدمت اور توحید کی دعوت کے لیے مخصوص کر دینااور اس کے ذریعے سے اس گھر کو دائرہ ارضی میں خدا پرستی کا مرکز بنانا ہے۔(سیرت النبی، علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، ج۵،ص۱۸۶)
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کے ذریعے امن کے مقام پر خدائے واحد کی پرستش کے لیے ایک گھر بنوایا جو قدیم گھر کی منہدم چاردیواری ہی پر قائم کیا گیااور اسے توحید کا مرکز اور عبادت گزاروں کا مسکن بنایا گیا۔
یہ مقام ویران اور پیداوار سے خالی تھا، ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کے ایک حصّے کو وہاں بسایا اور دعا کی کہ لوگوں کو اس جانب مائل کر دے اور اس جگہ کا مشتاق بنا دے۔ان کو رزق بہم پہنچا ، انہیں اپنا خالص عبادت گزار بنا، اور خداواندا! میری اولاد میں ایک رسول بھیجنا جو ان کو نیک تعلیم دے۔
قرآن کا دعوی ہے کہ اس مقام اور اس گھر میںحضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت سی یادگار نشانیاں ہیں اور ان کے کھڑے ہونے اور نماز پڑھنے کی جگہ اور قربانی کا مقام ہے اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ دور دور سے یہاں آئیں اور اپنے دینی اور دنیاوی فائدوں کو حاصل کریں اور اس قدیم خانہ خدا کا طواف کریںاور یہاں اسماعیل ؑ کی یادگار میں قربانی کر کے غریبوں کو کھلائیں، اور اپنی نذر پوری کریںاور اس حالت میں وہ امن وسلامتی کے مجسم پیکر ہوں نہ وہ کسی پر ہتھیار اٹھا سکتے ہوں، نہ ایک چیونٹی تک مار سکتے ہوں، اور وہ اس حالت میں ظاہری زیبائش اور عیش و آرام اور پرتکلف مصنوعی زندگی سے بھی پاک ہوں اور چند روز یہاں ابراہیمی یادگاروں پر ٹھہر ٹھہر کر ابراہیمی زندگی بسر کر کے ابراہیمی طریقہء خدا کو یاد کریں۔(سیرت النبیؐ، علامہ شبلی نعمانی وسید سلیمان ندوی، ج۵،ص۱۸۸۔۱۸۹)
لبیک بالعمرۃ
تورات کے فارسی اقتباس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کو قربانی کے لیے آواز دی تو انہوں نے جواب میں ’’لبیک‘‘ کہا، جس کے معنی ہیں : ’’میں حاضر ہوں‘‘۔ یہی حاجی کی صدا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ پکارتا ہے۔
قربانی کے حوالے سے بھی قدیم عمل یہی تھا کہ قربانی کو قربان گاہ کے چاروں طرف پھراتے تھے ، حج میں یہ طواف کہلاتا ہے۔ غرض انہیں سب ابراہیمی مراسم یا مناسک کے مجموعے کا نام اسلام میں حج رکھا گیا ہے۔
ارشادِ الہی ہے:
’’اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو تو اسے پورا کرو‘‘۔ (البقرۃ، ۱۹۶)
حقیقتِ حج
حج کی حقیقت خدا کی رحمتوں اور برکتوںکے موردِ خاص میں حاضری حضرت ابراہیمؑ کی طرح خدا کی دعوت پر لبیک کہنااور اس عظیم الشان قربانی کی روح کو زندہ کرنا ہے۔حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کس طرح اللہ کے حکم کے سامنے اپنا سر جھکا دیاتھا اور فرماں برداری اور اطاعت کیشی کی کیا عمدہ مثال پیش کی تھی۔اسی احساس کے ساتھ حاجی ان کی مثالوں کو زندہ کرتا ہے۔سادہ اوربن سلے کپڑے کی دو چادریں ان کے ( مرد حاجی کے) احرام کا لباس قرار پاتی ہیں، وہ خود کو حضرت اسماعیلؑ کی طرح خدا کے حضور میں نذر کرنے جاتے ہیں، اس لیے اتنے دنوں تک نہ سر کے بال منڈواتے ہیںنہ ترشواتے ہیں۔ دنیا کے عیش ونشاط اور تکلف کی زندگی سے پرہیز کرتے ہیں، نہ خوشبو لگاتے ہیں اور نہ رنگین کپڑے پہنتے ہیں نہ سر چھپاتے ہیں، اور اسی والہانہ انداز سے جس طرح ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ تین دن کے سفر کے گرد وغبار میں اٹے ہوئے اور دوڑے ہوئے خدا کے گھر میں آئے تھے آتے ہیں اور جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی پکار پر لبیک کہا تھا وہی تین ہزار برس پہلے کا ترانہ ان کے لبوں پر ہوتا ہے:
لبّیک اللھم لبّیک لبّیک لا شریک لک لبّیک۔انّ الحمد والنّعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ (صحیح مسلم)
یہ خدمت کی آمادگی کا ترانہ اور یہ توحید کی صدا ان تمام مقامات اور حدود میں بلند کرتے پھرتے ہیں، جہاں جہاں ان دو بزرگوں ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کے نقشِ قدم پڑے تھے اور چونکہ وہ خود اپنے آپ کو روحانی طور پر خدا کی قربان گاہ پر نذر کرنے چلتے ہیں اس لیے اپنے آپ کوسات دفعہ اس بیت اللہ کے چاروں طرف پھرا کر (طواف کر کے) تصدیق کرتے ہیں، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں (۔۔)جہاں سے جہاں تک ابراہیم ؑ صفا سے مروہ تک دوڑ کر گئے تھے پھر مروہ پہنچ کر بیٹے کر قربانی کریں گے، ہم وہاں دوڑتے اور دعا کرتے ہیںاور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں۔ پھر عرفات کے سب سے بڑے میدان میں جمع ہو کر اپنی تمام عمر کے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے ہیں، خدا کے حضور گڑگڑاتے ہیں، روتے ہیں قصور معاف کرواتے ہیں، اور آئندہ زندگی کے لیے خدا کے ہاتھ پر اس کی عبودیت، بندگی اور اطاعت کا نیا عہد وپیمان باندھتے ہیںاور یہی درحقیقت حج کا اصلی رکن ہے۔(سیرت النبیؐ، ج۵۔ص۱۹۰)
حج کے مراسم
جب کوئی حج کے لیے روانہ ہوتا ہے تو مکہ سے کافی دور پہلے حج کی نیت کرتا اور ’’احرام‘‘ باندھتا ہے۔ ۶ میقات میں سے کسی ایک مقام پر پہنچ کرغسل کر کے عام کپڑوں کے بدلے ایک تہبند اور چادر پہن لیتا ہے، اور تلبیہ کے کلمات ادا کرتا ہے۔
٭ اے اللہ میں حاضر ہوں کی صدا اب بار بار دہرایا جانے والا وظیفہ بن جاتا ہے۔
٭ احرام کے بعد عیش و عشرت کی ہر چیز اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
٭ زیب و زینت منع ہو جاتی ہے۔
٭مکہ پہنچ کر طواف کرتا ہے۔
٭ ۸ ذی الحجہ کو منی پہنچتا ہے۔
٭ ۹ ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں پہنچتا ہے، او ر ظہر و عصر کی نماز جمع کر کے ظہر کے وقت میں قصر ادا کرتا ہے۔
٭ غروب الشمس کے بعد مزدلفہ کی جانب جاتا ہے، وہاں رات کو مغرب اور عشاء کی جمع کردہ نمازیں قصر ادا کرتا ہے۔
٭ صبح شروق الشمس کے بعد منی میں پہنچتا ہے، اورجمرات میں کنکریاں مارتا، قربانی کرتااور سر کے بال اترواتا ہے۔
٭طوافِ افاضہ اور حج کی سعی کرتا ہے۔
٭ ایامِ تشریق میں منی میں اللہ کو خوب یاد کرتا اور تینوںجمرات کی رمی کرتا ہے۔
مناسکِ حج کی حکمتیں
۱ ۔حج کے تمام مراسم سے عبودیت اور بندگی کی تصویر ابھرتی ہے۔احرام ایک فقیرانہ لباس ہے۔کعبے کی جانب جانے والے کی ظاہری حالت خود پکار کر کہہ رہی ہوتی ہے کہ یہ اللہ کے راستے کا فقیر اور اس کے در کا بھکاری ہے۔اور اسی کی فوج کا کفن پہنے سپاہی !
۲ ۔احرام کا لباس اور تلبیہ کے الفاظ اسلام کے آفاقی ہونے کا اظہار ہیں۔ یہ امت مسلمہ کو ایک رشتے کی لڑی میں پرویا ہؤا دکھاتا ہے۔ یقیناً اسلام کا رشتہ تمام دنیاوی رشتوں سے زیادہ مضبوط، اور انہیں حقیقی طور پر جوڑنے والا واحد رشتہ ہے۔
۳ ۔حج کے موسم میں تلبیہ اور ذکر اللہ کی آوازیں حضرت ابراہیمؑ کی اس پکار کا جواب محسوس ہوتی ہیں جو انہوں نے اللہ کے حکم پر اذان اور پکار دی تھی: ’’اور لوگوں میں حج کی منادی کروا دو‘‘۔ (الحج،۲۷)
۴۔طواف بیت اللہ کی اللہ کی خاطر اپنے آپ کو قربان کرنے کا والہانہ جذبہ ہے۔بالکل ایسے جس طرح پروانے شمع پر گر گر کر فدا ہوتے ہیں۔ بندہ اللہ کے گھر آ کرعاجزی اور فرماں برداری کی تصویر بن جاتا ہے۔گویا اس کی محبت کے نشے میں ڈوب گیا ہو۔اس دربار میں ہر قومیت کے لاکھوں افراد ایک سے جذبات لیے کعبے کے گرد گھومتے ہیں تو ایک دین پر ایمان رکھنے والے ایک ہی ذات ِ حق کے لیے متحد نظر آتے ہیں۔
۵ ۔صفا اور مروہ کے درمیان سعی اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ حضرت ہاجر علیھا السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا راستہ ہی ہمارا راستہ ہے۔
۶ ۔ساتویں ذی الحج سے لے کر دسویں ذی الحج تک سارے حاجیوں کا ایک ہی امام کی قیادت میں سفر اور قیام ایک منظم فوجی زندگی کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ یہ لاکھوں احرام پوش گروہ کفن پہنے جانباز سپاہیوں کا عظیم لشکر نظر آتا ہے۔ امتِ مسلمہ کے ساتھ ایک منظم اجتماعیت اور فوجی زندگی کا تصور بالکل لازم ہے اور اس گروہ کی ساری کوشش اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف ہے۔
۷۔ جمرات کے ستونوں پر کنکریاں مارنا شیطانی بہکاووں سے بیزاری اور نفرت کا اظہار ہے جو کہ حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ نیز یہ کنکریاں مارنا پتھروں کی اس بارش کی یادگار ہے جس نے ابرھہ کے لشکر کو انہی مقامات پر تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا۔ان مقامات پر کنکریاں مارنا اس عزم کا اظہار ہے کہ جو اللہ کے دین کی طرف بری نظر سے دیکھے گاہم اس کا منہ پھیر کر رکھ دیں گے۔
۸۔ قربانی وہ’’ ذبحِ عظیم‘‘ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ قرار دیا تھا۔ اس لیے اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنادرحقیقت اپنے آپ کو قربان کرنے کا قائم مقام ہے۔ یہ اس بات کا خاموش اقرار ہے کہ ہماری جان اللہ کی راہ میں قربان ہونے کے لیے تیار ہے اور وہ جب اسے طلب کرے گا ہم فوراً پیش کریں گے۔
مراسمِ حج کے پیچھے کام کرنے والی ان ساری حقیقتوں کو دیکھیے۔ اللہ کی بندگی کا کونسا جذبہ ہے جو اس میں لہریں نہیں لے رہا ہے۔ خصوصاً جذبہء جہاد جو بندگی کا سب سے اونچا مقام ہے، وہ و ان سارے اعمال میں اس طرح سمویا ہؤا ہے کہ پورا حج جہاد کی علامتی مشق معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عورتوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں حصّہ لینے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے فرمایا کہ تمہارا بہترین جہاد حج ہے! (دیکھیے: اسلامی فلسفہء حیات، پروفیسر خورشید احمد، ۲۶۰۔۲۶۳)
زادِ راہ کے ساتھ حج
حاجی کو اللہ ترغیب دیتا ہے کہ وہ حج کے سفر میں زادِ راہ ہمراہ رکھے، ارشاد ہے: ’’سفرِ حج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاؤ اور سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے‘‘۔ (البقرۃ،۱۹۷)
اس سے مراد ہر قسم کا زادِ راہ ہے۔ روح کے لیے بھی اور جسم کے لیے بھی۔ احادیث میں آتا ہے کہ یمنیوں میں کچھ لوگ حج کے لیے ایسے حال میں چل پڑتے تھے کہ پاس کچھ بھی نہیں۔ وہ کہتے ہم تو اللہ کے گھر کی زیارت کو جائیں گے اور وہ ہمیں روٹی بھی نہ دے۔
اسلام کا مزاج یہ ہے کہ آدمی جو بھی کام کرے وہ پوری تیاری کے ساتھ کرے۔ دل کو بھی پوری طرح اس کی جانب متوجہ کرے اور اسی ذات پر اعتماد اور بھروسہ کرے۔ بغیر زادِ راہ گھر سے نکل پڑنا اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔ زادِ راہ ساتھ نہ لینا اور ایسی گفتگو اللہ کے ساتھ بات چیت میں ایک قسم کی بے باکی کا اظہار ہے، گویا یہ لوگ حج بیت اللہ کو ذاتِ باری پر ایک احسان سمجھتے تھے۔ چونکہ وہ حج کر رہے ہیں اس لیے وہ زادِ راہ کا ذمہ دار ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے زادِ راہ کی دونوں اقسام جسمانی زادِ راہ اور خدا خوفی اور تقوی کے زادِ راہ کا انتظام کرنے کا حکم دیا۔ (فی ظلال القرآن، تفسیر نفس الآیۃ)
تجارت اور حج
’’اور حج کے ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔ (البقرۃ،۱۹۸)
زمانہ جاہلیت میں حج کے دنوں میں عکاظ، مجنہ اور ذو المجاز کے میلے لگتے تھے، مسلمانوں نے خیال کیا کہ شاید اب ان میلوں میں تجارت کرنا جائز نہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم حج کے ساتھ اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
ابنِ جریر نے ابوصالح، حضرت عمرؓ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کی ہے کہ اس نے اس سے سوال کیا، امیر المومنین کیا آپ حج میں تجارت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ’’بھائی ہمارے لوگوں کی معیشت کا دارو مدار ہی حج پر تھا‘‘۔
آدابِ حج
٭ ضروری ہے کہ احرام پہننے سے لیکر احرام اتانے تک ہر حاجی نیکی وپاکبازی، اور امن وسلامتی کی تصویر ہو۔وہ لڑائی جھگڑا اور دنگا فسادنہ کرے، کسی کو تکلیف نہ دے، یہاں تک کہ چیونٹی تک کو نہ مارے ۔ شکار کرنا تو دور کی بات اس کی نشان دہی بھی نہ کرے۔
٭ یہ حاجی کا بھی حق ہے کہ اسے نہ ستایا جائے۔ ان کے مال اور سامان کو چرانا یا لوٹنا یا راستے میں انہیں تکلیف دینا منع ہے۔
٭ احرام کی حالت میں اگر حاجی احرام کی حرمت توڑ دے یا جانور کا شکار کر لے تو اس پر کفارہ یا دم آتا ہے۔ جس کی مقدار اس شے کے برابر ہو گی جو حرمت اس نے توڑی ہے، اور یہ کسی حلال جانور کی قربانی،یا چند محتاجوں کو کھانا کھلانا یا مقرر کردہ روزے رکھنے کی صورت میں ہو گی۔
سفرِ حج کے اخلاقی مصالح
۔ حج کے سفر سے پہلے انسان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنے ذاتی معاملات درست کرتا ہے۔ سفر سے پہلے گھر والے کے لیے پیچھے کے اخراجات اور نان نفقہ کا بندوبست کرتا ہے۔ اگر اس کے ذمہ قرض ہو تو بدرجہ اولی اسے ادا کرتا ہے۔
۔ معمول کی زندگی گزارتے ہوئے انسان کے معامالات کئی لوگوں سے اچھے نہیں رہتے، حتی کہ کئی لوگوں سے قطع تعلق اور دشمنی بھی پیدا ہو جاتی ہے، لیکن اللہ کی بمرگاہ میں جاتے ہوئے وہ سب سے بری الذمہ ہو کر جانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے دل کو بغض اور حسد سے پاک کر کے اپنے دل کو صاف کر لیتا ہے اور لوگوں سے بھی اپنے قصوروں کی معافی مانگ لیتا ہے۔
۔ حج بین الاقوامی اسلامی برادری سے روابط قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس سفر میں باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، دیگر دنیا کے افراد سے اجنبیت کی دیواریں گرتی ہیں اور مسلمان ایک بین الاقومای اخوت کی زنجیر میں جڑتے ہیں۔
۔ حج اسلامی مساوات کا عملی مظہر ہے۔حج کے زمانہ میں امیر وغریب، جاہل وعالم، بادشاہ ورعایا ایک لباس میں، ایک صورت میں، ایک میدان میںایک ہی طرح اللہ جل جلالہ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
۔ الغرض ’’حج‘‘ اسلام کا مذہبی رکن ہی نہیں بلکہ وہ اخلاقی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی یعنی ہر رخ اور ہر پہلو پر حاوی اور مسلمانوں کی عالمگیر بین الاقوامی حیثیت کا سب سے بلند منارہ ہے۔
٭٭٭