پیاری زہرہ آپا – ثریا اسما

کوئی تبصرہ نہیں

اللہ آپ کی قبر کو نور سے بھر دے ۔
صائمہ بیٹی کئی دنوں سے مجبور کر رہی تھی کہ امی پرچہ تیار ہوتا جا رہا ہے آپ کی طرف سے ابھی تک کچھ نہیں آیا ۔ میں کچھ لکھنے کی ہمت نہیں کرپا رہی تھی ۔ لوگوں کی نگار شات پڑھ کر سوچتی تھی کہ سبھی کچھ تو لکھا ہؤا آ رہا ہے ایک سے ایک بڑھتا چڑھتا ، میں دل کو دُکھی نہ کروں ۔ مگر پھر خود ہی سوچا ان کا ایک استحقاق ہے میرے اوپر ، مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور گواہی دینی بنتی ہےاور پھر :
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
کے مصداق لکھنے کی ہمت کی۔
سب سے اہم واقعہ میرا ایک خواب ہے ۔ میں نے دیکھا ایک بہت بڑی لمبی اونچی دیوار ہے جسے تازہ پالش کیا گیا ہے ۔ اس ساری دیوار میں دو دو انچ کے مربع (Squares) بنے ہوئے ہیں اور اُن میں ایک گولڈن کیل فٹ کیا ہؤا ہے جو بڑا نمایاں ہے عین دیوار کے بیچ میں ایک گول دائرہ ہے جس میں چابی لگانے کانشان ہے جس نے اُسے ایک دیوار کی بجائے دروازے کی شکل دے دی ہے ۔میں اس دروازے سے بڑی متاثر ہو کر زور سے کہتی ہوں، اس دروازے کی چابی کس کے پاس ہے؟ میری بائیں طرف ایک زینہ ہے جس کی سیڑھیاں نیچے اتر رہی ہیں، وہیں نیچے سےمجھے اپنی امی جان کی آوازآتی ہے ( جو بڑی زاہدہ ، عابدہ اور جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والی خاتون تھیں ) ’’ اس دروازے کی چابی زہرہ آپا کے پاس ہے (واضح رہے کہ یہ آواز نیچے سے آئی ہے اور امی نے زہرہ آپا کو دیکھا ہؤا بھی نہیں تھا )۔
اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔ میں نے حیرت زدہ ہو کر تھوڑی دیر خواب پر غور کیا ، والدہ کی گواہی پر سوچا اورصبح ہوتے ہی زہرہ آپا کو فون کیا ۔ وعدہ لیا کہ آپ آئیں گی تو ایک خواب سُنائوں گی ۔ چونکہ وہ روزانہ نکلتی تھیں اس لیے آنے کا وعدہ کر لیا ۔
آتے ہی میںنے انہیں لائونج میں ہی بٹھا لیااور سارا خواب سنایا ۔ انہوں نے بڑے تاثر سے یہ خواب سنا اور کچھ تحقیق کی ، مثلاً دروازہ کتنا بڑا تھا پالش کس رنگ کا تھا،کیل کس طرح کے تھے اور پھر بڑی فکر مندی سے سوچ میںپڑ گئیں ۔ میرے مجبور کرنے پر بولیں یہ علم کی فضیلت کا واقعہ ہے لیکن میں تو کوئی ایسا کام نہیں کر رہی ،آپ سب بھی تو میری طرح ہیں۔ جب میںنے مجبور کیا کہ نہیں کوئی کام تو ہوگا آپ بتائیں تو کہنے لگیں ، کچھ عرصہ ہؤامولانا عبدالمالک صاحب نے مجھے بلایا ، یا فون کیا ( یہ مجھے یاد نہیں ) کہ آپا میںنے سنا ہؤا ہے کہ آپ نے ملک غلام علی صاحب(چیف جسٹس) سے فقہ پڑھی ہوئی ہے ۔ میرا جواب اثبات میں تھا ۔ بولے ’’ ہمارے لڑکوں کے پورے گروپ کو آجکل فقہ پڑھانے کی کسی کو فرصت نہیں ( واضح رہےکہ ملکی حالات ان دنوں بھی بڑے زیرو زبر تھے ، ظاہر ہے اس میںجماعت کے مخصوص لوگوں کی ذمہ داریا ں بڑ ھ جاتی ہیں) کیا آپ انہیں اتنا ٹائم روزانہ دے سکتی ہیں؟‘‘
مولانا صاحب کے مدرسہ میںسات آٹھ سال کے عرصہ میں یہ ایک بڑا گروپ قرآن وحدیث ،فقہ اور حفظ کا تیار ہوتا ہے جن کوشہروں کے پڑھے لکھے علاقوں کی مسجدوںمیںنمازوںکی امامت ، جمعہ کے خطبات ، تراویح ، عیدین اور سوال و جواب کے لیے تیار کیا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے یہ بڑا اہم کام تھا میںانکار نہ کر سکی اور کافی عرصہ ان کو فقہ پڑھائی۔ میرے ساتھ حمیرا بیٹی ہوتی ۔ تمہیںپتہ ہے میںزیادہ لکھ نہیںسکتی اس لیے وہ بلیک بورڈ پر لکھتی جاتی ۔ شاید اللہ تعالیٰ کو یہی بات پسند آئی ہو!
میںنے ان کے چہرے پر ایک تفکر اور نیم دلانہ خوشی بھی دیکھی۔
میں اکثر اُن سے ان کے پروگراموں کا پوچھتی رہتی اور بڑی دلچسپی سے لمبے لمبے فون کرتی رہتی۔کچھ عرصہ وہ بہاری کالونی ( بہار کے مہاجرین کی بستی ) میں درس کے لیے جاتی رہیں۔ کہتی ہیںہماری جیپ دیکھ کر چھوٹے چھوٹے بچے دوڑتے بستی میں شور مچاتے جاتے ’’ جیپ والے آگئے جیپ والے آگئے ‘‘ عورتیںفوراً گھروں سے نکل کر اُس گھر کی طرف بھاگتیں جہاں بڑا کمرہ درس کا ہوتا ، جلدی جلدی مکھیاںباہر نکالتیں، کمرہ سمیٹ کر دری بچھاتیں اوربیٹھ جاتیں ۔ میںبھی انہی کے ساتھ بیٹھ کر درس دیتی ۔ سچ ثریا ! بڑا ہی مزہ آتا ۔
ایسی ہی کئی بستیوں میں وہ رمضان المبارک میں درس کے علاوہ افطاری لےکر پہنچتیں۔ گرمیوںکے دن ہوتے ۔ ایک دن بڑا ہنسایا ، کہتی ہیں شام کے وقت اتنی گرمی تھی کہ شفیع ( ڈرائیور) نے افطاری کا بکس زمین پر رکھ دیا اور خود کپڑوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی۔
سیلاب کے دنوںمیںہر جگہ سامان لے کر جاتیں ، ایک دفعہ اخباروںمیں خبر آئی کہ بارڈر والے مہاجرین کو ہندو سکھ روٹیاں دیتے ہیں۔ سخت غصہ آیا ہؤا تھا ۔ چار بہادر عورتوں کو ساتھ لے کر جن میں مجھے بیگم عامر کا نام یاد رہا ، بی آر بی نہر پہنچ گئیں۔ وہاں جماعت کے ذمہ دار سے بات کی کہ نہر میںکون سا اتنا پانی ہے آپ اس میں اتر کر دوسرے کنارے پر جا کر کیوںمدد نہیں دیتے ۔ وہ کہنے لگے جی پانی توکم ہے مگر اس میں سانپ ہیں ۔ اس پر بہت خفا ہوئیں اور کہنے لگیں، شفیع صندوق اٹھائو اورہمارے ساتھ ساتھ چلو ۔
چنانچہ شفیع کی سر براہی میں چاروںعورتیںنہر کراس کر کے دوسرے کنارے پر گئیں مہاجرین کے حالات سنے ان میں کھانااور راشن تقسیم کیا اور پھر کتنا عرصہ ہی ان کی مدد ہوتی رہی ۔ میںنے سنا تو پوچھا آپا سچ بتائیںآپ کتنے کتنے پانی میں سے گزریں ، کہنے لگیں ہم برقعوں اور جوتوں سمیت اترے اور ٹانگ پر ہاتھ لگاکر بتایاکہ آدھی پنڈلی سے ذرا زیادہ پانی تھا ، ہمیں تو کسی سانپ نے نہیں ڈسا۔
ایک بڑی گاڑی عنایت اللہ ڈرائیور کے ساتھ مخصوص کردی ہوئی تھی جو ایک گائوں میں کسی حاصل کردہ جگہ پر ڈسپنسری میںہرہفتہ یادوبار ہفتہ میں چار پانچ خواتین اور دو ڈاکٹرز کو لے کر جاتی ۔ دو تین خواتین ڈاکٹروںکی مدد کرتیںاور دو تین خواتین جمع شدہ مریضوں اور ان کے ساتھیوںمیں بیٹھ کر انہیںوضو نماز اور قرآن پڑھاتیں۔یہ سلسلہ کئی عرصہ چلتا رہا۔
ہمارا بڑا بیٹا ڈاکٹر ابوبکر شاہد انمول میں جاب کر رہا تھا ۔ اسے یرقان ہؤا ۔تین ہفتے گزرگئے ، کھانا پینا بالکل بند ، ہر وقت متلی ہوتی رہتی اور ڈرپ لگی رہتی ۔ نہایت کمزور ہو گیا ۔ والدین پر عجب صدمے کی کیفیت تھی ۔ اُس کی بیوی اور دو چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے ، کسی کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھتا ، معدہ کوئی چیز قبول نہ کرنا، اگر زبردستی کچھ دیتے تو قے آجاتی ۔ کسی نے آزمائی ہوئی حکیمی دوائی لا کردی مگر اس دوائی نے تو بہت ہی بُرا اثر کیا ۔ اتفاقاً زہرہ آپا کا فون آیا ۔ میںنے روتے روتے اس ساری کیفیت کا ذکر کیا ۔ کہنے لگیں ایک مٹی کا کورا نیا پیالہ منگوا چھوڑنا میں کل دس بجے آئوں گی ۔ چنانچہ وہ آئیں ، مٹی کے کورے پیالےمیں آبِ زم زم ڈالا اور ہم دونوںنے باوضو ہو کر پیالے پر دائیں ہاتھ کی دو دو انگلیاںرکھ کر بسم اللہ شریف سو سو دفعہ پڑھی ۔ وہ پانی بیٹے کو پلایا ، پھر انہوںنے دم کیا ۔ پانی ہضم ہو گیا ۔ دوسرے دن پھر ایسے ہی کیا ۔ دم والا پانی پلا یا آپا نے بیٹے پر بھی دم کیا اور چلی گئیں ۔ ان کے جانے کے پندرہ بیس منٹ بعد بیٹے نے کہا امی جان مجھے بھوک لگی ہے ، اور سب کچھ کھانا شروع کر دیا ، ڈرپ اتر گئی ، متلی کا نام و نشان نہ رہا ۔
ایک دن بات چیت میں کسی ڈینٹسٹ کا ذکر آیا کہنے لگیں میں اس کے پاس سامنے کے دانت لگوانے کے سلسلہ میں گئی تھی ۔ میرے منہ سے ایک دم نکل گیا ہائے زہرہ آپا مجھے تو آپ آپا حمیدہ بیگم کے ساتھ اس مشابہت کی وجہ سے اور بھی اچھی لگتی ہیں۔بہت ہنسیں اور سر ہلا کر کہنے لگیں ’ ’ اب دانت نہیںلگیںگے‘‘۔
ہمیں آٹھ دس ماہ کے لیے سوڈان گورنمنٹ نے بلایا تھا مجھے اپنے حلقوں کی بڑی فکر تھی ۔ میںنے زہرہ آپا سے کہا کہ ہرہفتہ بدھ کے روز اسمااحمد کے ہاںدونوںحلقے (الفا سوسائٹی اور ٹیک سوسائٹی) جمع ہو جایا کریں گے آپ آجایا کریں ۔ بڑی خوشی سے آمادہ ہو گئیں اور میری عدم موجودگی میںنو دس ماہ باقاعدہ کلاس لیتی رہیں ۔ اس دوران خواتین کو تمام اماموں کی کار کردگی کے نوٹس فوٹو اسٹیٹ کروا کر ان کے رجسٹر بنوائے ۔ میری واپسی پر ایک دن تشریف لائیں کہ آج مجھے ان سے خاص بات کرنی ہے ۔ وہ بات سیرت کے پہلو کی تھی ۔ یہ لوگ درود شریف پڑھنے کے بارے میںبہت پوچھتی ہوں گی ،وہ ٹالتی رہیں جب اچھی طرح سیرت کے تمام پہلو واضح کر دیے تو آج وہ انہیں ایک مدلل درس سیرت سرورؐ عالم پر دینے کے بعد درود شریف کی اہمیت سمجھانا چاہتی تھیں ۔ چنانچہ یہ تقریر ان کے ذہنوں میں نقش ہو گئی کہ سیرت ِ رسولؐ کی روشنی میں درود شریف پڑھنے کی کیا اہمیت ہے۔
زہرہ آپا نرم طبیعت کی بھی تھیں مگر حق بات کہنے میں ان کا لہجہ بڑا سخت بھی ہوتا اور وہ کہہ گزرتیں ۔ بیت احسن میں ایک دفعہ حریم ادب کی میٹنگ کے بعد ہم جوادارہ بتول سے منسلک تھے بیٹھے آپس میں بات چیت کر رہے تھے ۔ سعیدہ آپا نے ادارے کی بات چھیڑ دی جس میں ذرا اپنا استحقاق جتلا دیا کیونکہ ہر کتاب چھپنے سے پہلے وہ عبد اللہ صاحب کو پوری رقم دیتی تھیں جس سے وہ کتاب چھپوا کر فروخت کرنے کے قابل ہوتے، لیکن ادائیگی وہ اس طرح نہ کر پاتے اور رقمیں جمع ہوتی رہتیں ۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ادارہ بتول پر اپنا حق جتلا دیا اور اس میں کوئی شک نہیںکہ ادارے کے اشاعت کے کام میں ان کی بہت کوششیں شامل رہیں،مگر زہر ہ آپا نے اس بات پر سخت زبان میں سعیدہ آپا کو ٹوکا کہ دیکھوننھی آپا ، آپ نے بھی مرنا ہے اور میں نے بھی ، ادارہ بتول جماعت اسلامی کی ملکیت ہے اور ہمیشہ رہے گا، افراد توآنے جانے والے لوگ ہیں۔ ننھی آپا بھی بڑی دبنگ شخصیت تھیں لیکن شکر ہے اس وقت انہوںنے اعتراف کر کے بات کو ختم کر دیا ، اللہ ان پر اپنی رحمت کرے لیکن میںکئی دنوں زہرہ آپا کی حق گوئی اور بےباکی سے متاثر رہی ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف کرے ، آمین
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp