بیاد زہرہ وحید
خیر کا استعارہ تھیں زہرہ وحید
ایک روشن ستارہ تھیں زہرہ وحید
نورِ توحید سے جگمگایا ہؤا
صبحِ کاذب کا تارا تھیں زہرہ وحید
عالمِ کہکشاں میں تھیں بدرالنساء
بزم میں ماہ پارہ تھیں زہرہ وحید
اک سمندر سخاوت کا تھا موجزن
بےکسوں کو سہارا تھیں زہرہ وحید
سرو قامت تھیں وہ سب کوتھامے ہوئے
ڈوبتوں کو کنارا تھیں زہرہ وحید
دردِ امت میں گھلتے ہوئے روز و شب
یوں دلِ پارہ پارا تھیں زہرہ وحید
حلقۂ سرو و لالہ میں مہکا گلاب
کیا نظر، کیا نظارا تھیں زہرہ وحید
رہروِ کاروانِ ادب ہے’’بتول‘‘
اور مجسم ادارہ تھیں زہرہ وحید
آپا جی
یہ اس دنیا کا انمٹ اصول ہے کہ لوگ گزر جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں ہمارے ساتھ ہمارے دل میں روز اول کی طرح باقی رہ جاتی ہیں ۔
میں جن کے بارے میں لکھ رہی ہوں ان کی حیثیت میری زندگی میں بہت خاص ہے وہ میری ماں تو نہیں تھیں لیکن میرے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ ماں سے بڑھ کر تھا زندگی گزارنے کا ہر اصول اور ہر ایک گر سکھایا اور بھرپور طریقے سے سکھایا یہ ان کی تربیت ہی تھی کہ زندگی کے سارے مشکل ترین مراحل ہمیشہ میں نے خوش اسلوبی سے انجام دیے ہمارے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ مشفقانہ اور محبت بھرا ہوتا تھا وہ اپنی بے شمار مصروفیت کے باوجود ہمارے لیے وقت نکالتی تھیں جس کو نشست کہتے تھے، اس نشست میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا انہوں نے ہمیشہ ہمارے کھانے پینے کا خاص خیال رکھا کبھی ہمیں ٫خاص طور پر مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں پردیس میں ہوں .کبھی ہمیں زمین پر بستر لگانے کی اجازت نہیں دی -ہمارے لیے سیرو تفریح کا انتظام کرتیں ، غرض وہ ہمیشہ ہمیں خوش دیکھنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ ہماری ’’ماں‘‘ تھیں- اللّٰہ تعالیٰ ان اپنی بےشمار رحمتوں کے زیر سایہ رکھے آمین ثم آمین۔
میری ان سے ملاقات آج سے 25سال قبل ہوئی…وہ سادہ سے لباس میں تھیں۔ایک پروقار شخصیت کی مالک…بہت مخلص سچی خیر خواہ اور ہر ایک کا درد محسوس کرنے والی تھیں…میں جب ان سے ملی تو اتنی اپنائیت سے ملیں لگا کہ برسوں کی شناسا تھیں۔
مجھے ان سے مل کہ تحریک ملی کہ اللہ کے دین کے کام کےلیے خود کو وقف کیسے کیا جاتا ہے۔
میں نے ان سے ایک جامعہ کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا۔میں نے کہا آپا جی وسائل نہیں ہیں کہ یہ کام کیا جا سکے بہت محبت سے مجھے دیکھا میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور مسکرا کہ بولیں …بیٹی…اللہ اپنے دین کے کام کے لیے خود راستے کھولتا ہے ۔ صرف اخلاص نیت رکھو اور اللہ کا نام لے کے اس نیک کام کا آغاز کرو۔
یوں ان کے ان الفاظ نے ہمت و حوصلہ دیا اور ہم نے جامعہ تفہیم آلقران کی بنیاد رکھی ۔۔آپا جی نے اس جامعہ کی تعمیر کے لیے خود جگہ دیکھی …اسی جگہ ہم نے ایک افتتاحی تقریب رکھی اور آپا جی نے اپنے انفاق فی سبیل اللہ سے جامعہ کے کام کا آغاز کر دیا۔ اور مسلسل ادارہ ھذا کے مکمل اخراجات کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائے رکھی…ادارہ کے لیے ضرورت کا جملہ سامان بھیجتی رہی۔سٹاف کے لیے عید کے سوٹ ۔غرباء کےلیے راشن پیکیج بھیجتیں… ہر قدم پہ آپا جی نے رہنمائی دی کبھی لاہور بُلا کرکبھی فون پر،
جامعہ تفہیم القرآن سے پہلا بیج 65بچیوں کا فارغ ہؤا جو ان کےلیے صدقہ جاریہ ہیں۔اور پھر تسلسل کے ساتھ بچیاں قرآن و حدیث پڑھ کے نکلتی رہی اور یقیناً یہ بچیاں مرحومہ کے لیے بہترین صدقہ جاریہ ہیں۔
میری شادی ہوئی آپا جی نکاح کا بہت خوب صورت جوڑا میرے لیے لائیں…پھر مجھے راشدہ بھابی، ندیم بھا ئی اور میرے شوہر ضیاء صاحب ہم چاروں کو لاہور بلایا کہ کچھ دن سیر و تفریح کرو ۔ ہمارے لیے گاڑی اور ڈرائیور مختص کر دیا کہ پورا لاہور میرے ان بچوں کو دکھاؤ
ہر سال ماؤں کی طرح عیدی بھیجتی تھیں۔
آج جب ان کےلیے لکھنے بیٹھی ہوں تو باتیں اور ان کے ساتھ گزارے پل کے لیے الفاظ نا کافی ہو رہے ہیں ۔ ان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے اور آنسوں ہیں کہ ان کی یاد میں تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔میری پیاری مشفق ماں کہاں چلی گئیں۔ہم ان کو کبھی نہیں بھول سکیں گے ۔
آج وہ ہم میں نہیں رہیں
لیکن ہماری دعاؤں میں ہمیشہ رہیں گی
واقعی آپا جی۔ کی زندگی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے۔
سعادت کی زندگی گزاراپنے رب کی جنتوں میں پہنچ گئیں۔۔یقینا ًان کی قبر میں جنت کی کھڑکی کھولنے کا حکم فرشتوں کو ملا ہو گا ۔۔
اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے اور جنتوں میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے آمین
سرخ وسفید مہربان چہرہ
سرخ و سفید مہربان چہرہ، ہلکی سی مسکراہٹ ، میرے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہوئے دعائیں دینا، یہ ہے میری پہلی یادداشت آنٹی سے متعلق، جب وہ اسلام آباد میں واقع میرے گھر پر آئیں، اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے لیے میرا رشتہ لینے…اور اس کے بعد اُنیس برس ان کی بے پایاں شفقت اور محبت سے اپنا دامن بھرا، مجھے ان کی سب سے چھوٹی بہو ہونے کا اعزاز ملا۔ میں اسے اعزاز ہی کہوں گی کیونکہ انہوں نے میرے ساتھ ہمیشہ خصوصی نرمی کا برتاؤ رکھا،ان کی گوناں گوں خوبیوں میں سرفہرست ان کا انتہائی فراخ دل ہونا اور مہمان نوازی ہے۔ کسی اجنبی کو بھی اپنے گھر سے کبھی تہی دست نہ لوٹایا۔ بہت پائے کی عالمہِ دین تھیں۔ دین اور فقہ کے متعلق ہر مسئلے کا حل ہمیشہ ان سے پوچھا اور اطمینان بخش جواب پایا۔ میرے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ شفقت سے پیش آتیں میرے بچوں میں بڑے بیٹے سےا ن کا خصوصی لگاؤ تھا۔ جب بھی بچے ان سے ملنے جاتے، ان کی پسندیدہ ڈشز بنواتیں، ان کے ساتھ ان کے مطلب کے موضوعات پر گفتگو کرتیں۔ لڈو کھیلتیں، کبھی اتفاقاً ان کے سامنے اگر کسی بچے سے اظہار برہمی ہوتا تو ان کو بہت ناگوار خاطر گزرتا، اور بچے بھی فوراً دادی کی مہربان آغوش میں جا پہنچتے، کیوں کہ جوائے لینڈ لے جاتیں، ان کے پسندیدہ برگر ان کو کھلاتیں، غرضیکہ اچھرہ جانا بچوں کے لیے عید کی مانندہوتا۔
ان کی رحلت سے ایک نہ پُر ہونے والا خلا ہماری زندگیوں میں پیدا ہوا۔ وہ ہمیںہر وقت کی دعائیں اور ان کی بزرگانہ شفقت بہت یاد آئے گی۔ اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین
غزل
خوشی سے جھوم اٹھی ہے جفا ٹھہر جاؤ
بھٹک گئی ہے وفا راستہ ٹھہر جاؤ
زیادہ زور بھنور میں ہے یا ہے بازو میں
ذرا خدا کے لیے ناخدا ٹھہر جاؤ
یہی کہا تھا فقط کب کہا نہیں جانا
جب آئے ہو تو خدارا ذرا ٹھہر جاؤ
چلے ہو چھوڑ کے صحرا میں کیوں مجھے تنہا
نہ کہہ سکی کہ تھا حکمِ خدا ٹھہر جاؤ
قدم نہ باپ کے بیٹے کے رک سکے، شیطاں
ہر ایک گام یہ کہتا رہا ٹھہر جاؤ
ہر ایک فیل کا بھوسا بنے گا کہتا تھا
تمام جُھنڈ ابابیل کا ٹھہر جاؤ
ستم کی حد پہ بھی اصحاب سے یہی کہتے
کہ انتظار کرو اذن کا ٹھہر جاؤ
ہے کتنی دور، ملا کر دو انگلیاں بولے
ہے مجھ میں حشر میں کل فاصلہ ٹھہر جاؤ
اگر جلے تو تمہاری تو میں خبر لوںگی
یہ کہہ رہی تھی دیے سے ہوا ٹھہر جاؤ
ستم شعارو بہت ہو گیا اٹھو دیکھو
پلٹ رہی ہے رخ اپنا ہوا ٹھہر جاؤ
جگر کے خون سے روشن کیا جسے کیوں کر
بجھا سکے گی ہوا وہ دیا ٹھہر جاؤ
ہوا بجھائے جلاتے رہیں اگر، کیسے
بجھا رہے گا کوئی بھی دیا ٹھہر جاؤ
خطوں میں فون پہ چھوڑو حبیبؔ سے مل کر
کریں گے بیٹھ کے شکوہ گلا ٹھہر جاؤ