زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر – نزہت جمال نسرین

کوئی تبصرہ نہیں

کوئی دنیا میں رہا ہے نہ رہے گا باقی
اک تیرا نام کہ باقی ہے، رہے گا باقی
یا وہ اک صاحبِ دل جو تیری خاطر اُٹھے
ہاں وہ باقی ہے زمانے میں رہے گا باقی
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ۔اللہ تعالیٰ میرے والد ین کو جنت میں بہترین مقام عطا فرمائے آمین۔ میں اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی ہوں اور میری پیدائش 1951 میں ہوئی۔ ہم نو بہنیں اور چار بھائی ہیں، والدین نے بہت ہی محبت اور خیال سے ہم لوگوں کو پالا اور تربیت کی ۔دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم سے آراستہ کیا ،سب کچھ سکھایا ادب آداب سکھائے۔
ابا جی اور امی جماعت کے بانی اراکین میں سے تھے بلکہ ان کا رشتہ ہی اسی بنیاد پر ہؤا تھا اور محترم مولانا مودودی اور ان کی بیگم صاحبہ نے ان کی شادی کا اہتمام کیا تھا۔ جب اتنے نیک لوگ رشتے میں شامل ہوں تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالتا ہے۔ امی اور ابا جی دونوں نے اپنا تن من دھن جماعت اسلامی کے کاموں میں لگا دیا ۔گھر کے کاموں اور ذمہ داریوں کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی خوب نبھائی۔ یہ 1951 کی بات ہے۔ مجھے اپنا بچپن یاد ہے کہ 12 -بی شاہ جمال کی کوٹھی تھی ۔ میری پیدائش ادھر ہی ہوئی ۔اس کے تین پورشن تھے ،ایک پورشن میں ہم لوگ تھے، درمیان والے میں میاں طفیل محمد صاحب کی فیملی تھی اور تیسرے پورشن میں نعیم صدیقی صاحب کی فیملی تھی ۔ سب لوگ ایسے رہتے تھے جیسے ایک ہی گھر ہو ،سارے دروازے کھول دیں تو ایک پُورا گھر بن جاتا تھا ۔1952 میں مجھ سے چھوٹی بہن پروین کی پیدائش ہوئی۔
جب میں دو سال کی تھی تو مسئلہ قادیانیت پہ مولانا نے لکھا تھا۔ اس پر بہت سی گرفتاریاں ہوئیں۔ اس میں جماعت کے بہت سے شعبوں پہ پابندی بھی لگ گئی اور تمام لوگوں کو جیل میں ڈال دیا گیا سب لوگوں کو لمبی لمبی سزائیں سنائی گئیں۔ مولانا کو تو سزائے موت اور میاں طفیل صاحب کو 14 سال قید اور باقی تمام لوگوں کو نو اور گیارہ سال کی قید سنا دی گئی ۔
مولانا کی سزا پر ساری دنیا میں بہت شور مچا۔ اس زمانے میں کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا تو ٹیلی گرام اور خطوط کے ذریعے مہم چلائی۔ ہم تب بہت چھوٹے تھے مگر یہی ہماری تربیت کاآغاز تھا ۔ مولانا کی سزا کے خلاف جو خط بھیجنے ہوتے تھے ہم صبح سے نکلتے تھے اور دستخط کرواتے تھے۔ امی کی عمر اس وقت 18 سال تھی اور امی ہم دونوں بہنوں کو اور میری دادی اور ساتھ کے گھروں کی خواتین کو لے کرساتھ نکلتی تھیں اور گھر گھر جا کر دستخط کرواتی تھیں۔ امی میرا ہاتھ پکڑ لیتیں اور پروین کو گود میں اٹھا لیتیں ، شام کوہم گھر واپس آتی تھیں۔ سب کے شوہر جیلوں میں تھے سب خواتین کا یہی عالم تھا۔ آپا جان بیگم مودودی کا حوصلہ بہت بلند تھا وہ کہتی تھیں کہ اگر اللہ نے موت لکھی ہے تو کوئی روک نہیں سکتا اور اگر زندگی ہے تو کوئی مار نہیں سکتا۔ان سب کا حوصلہ بھی آپا جان کو دیکھ کر بڑھ جاتا تھا ۔ کھانے پینے کو گھروں میں کچھ تھا ہی نہیں ۔ ہمارے چھوٹے ماموں جان ہمارے گھر کھانے کا سامان دے کر جایا کرتے تھے اور بہت خیال رکھتے تھے۔خطوط اور محضر ناموں کے ذریعےاس وقت ان لوگوں نے بہت احتجاج ریکارڈ کرایا جس کا اثر یہ ہؤا کہ حاکم وقت کو مولانا کی سزا ختم کرنا پڑی۔ مولانا کی سزا کو قید میں تبدیل کیا اور ابا جی کی نو سال کی قید کو نو ماہ میں بدل دیا۔ سب لوگوں کے ساتھ اسی طرح ہؤا اور آخر کار یہ لوگ رہا ہو گئے۔ اس وقت میری عمر دو سال کی تھی جب ابا جی جیل سے آئے تو مجھے ابھی تک وہ منظر یاد ہے کہ ان کے بیگ میں سے چیزیں نکال نکال کر میں اوپر چڑھ کے رکھ رہی تھی ،امی جی ابا جی بڑے حیران تھے کہ تمہیں ابھی تک یاد ہے۔ کچھ باتیں انسان کے ذہن پہ نقش ہو جاتی ہیں۔
1954 میں ہم ذیلدار روڈ والے گھر میں شفٹ ہو گئے تھے، وہ مولانا کی کوٹھی سے بالکل قریب تھا جہاں جمعیت کا دفتر ہوتا تھا۔ وہ بعد میں بنا تھا ،اس وقت اس گھر کو ہم مکتبے والا گھر کہتے تھے اب وہ جمعیت کا دفتر ہے۔سات اکتوبر 1958 کو مارشل لا لگا اور ایوب خان نے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کمان لی ۔پھر جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی۔اس کے دوران ہمارا ایک اور بھائی پیدا ہوا ناصر حمید خان ،مجھے یاد ہے جس رات مارشل لاء لگا تو ابا جی جماعت کے دفتر گئے ہوئے تھے اور میری امی اور دادی دونوں گھر کے دروازے پہ پریشانی کے عالم میں بیٹھی تھیں کہ انہیں لگ رہا تھا کہ گولیاں چل رہی ہیں لیکن دو آدمی رات کے وقت ٹرک سے اینٹیں اتار رہے تھے اور انہیں یوں لگ رہا تھا کہ جیسے گولیاں چل رہی ہیں ۔ہمارے مامو ں جان کا گھر سامنے تھا وہ آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ گولی نہیں چل رہی ہے بلکہ اینٹیں پھینکنے کی آواز ہے۔ اس سارے دور میں ہمارے گھریلو حالات بہت خراب رہتے تھے یعنی مالی طور پر بہت مشکل ہوتی تھی۔
1960-1970کے دور میں ابا جی نے پڑھائی وغیرہ کی بی اے بھی کیا اور پھر ایم اے جرنلزم کیا اور اخبار میں ملازمت شروع کر دی ، ساتھ جماعت کے کام میں بھی ہمہ وقت مصروف رہتے ۔امی اپنی جگہ گھر کی مکمل ذمہ داری نبھاتیں۔ پھر میں اور پروین ذرا بڑے ہو گئے یعنی نویں دسویں کلاس میں آگئے تو امی نے باقاعدہ جماعت کی رکنیت اختیار کر لی جبکہ بعد میں ان کو لاہور کی ناظمہ بنا دیا گیا۔تب ہم دونوں گھر کو سنبھال لیتی تھیں اور امی چلی جایا کرتی تھیں۔
1971کی جنگ میں ہمارے گھر میں فوجیوں کے لیے ساز و سامان پیک ہو کر جانا تھا اور نِٹنگ مشین پر فوجیوں کے سویٹر بھی بنائے گئے جس میں میں نے بھی حصہ لیا ۔مشین پر سویٹر بننا سیکھا اور پھر بُنے ۔امی کو ہاتھ سے بہترین سویٹر بنناآتا تھا، وہ مجھے بتاتی جاتیں اور میں بُن لیتی تھی ۔سوشل ورک بہت ہوتا تھا ۔ہمارے گھر میں جماعت کے اجتماعات بھی ہوتے تھے اور ہم سب بہنیں اس میں مصروف ہؤا کرتی تھیں۔
1977کی تحریک پی این اے کے پلیٹ فارم سے تحریک نظام مصطفیٰ چلائی گئی۔ اس میں سب نے بھرپور حصہ لیا۔ ہر جلسے میں امی کے ساتھ میں خود جایا کرتی تھی اور اسلام غالب آئے گا والی نظم پڑھا کرتی تھی۔ ان جلسوں میں ہی بیگم مولانا مودودی ، صاحبزادی محمودہ بیگم، عفیفہ ممدوٹ ،بیگم نسیم ولی خان، بیگم اصغر خان ،مہناز رفیع ہوتی تھیں، آپا نثار فاطمہ بھی ہؤا کرتی تھیں اور اس نظم کے پڑھنے کے لیے ان سب خواتین کی خواہش ہوتی تھی کہ امی مجھے ساتھ لے کر جائیں ۔تلاوت قرآن پاک بھی میں ہی کیا کرتی تھی ۔کیا ہی اچھا دور تھا ۔ان تمام خواتین سے میری بھی ملاقات رہتی تھی ۔اس تحریک میں ہمارے گھر سے امی ابا جی، سارے بھائی شامل ہوتے تھے ۔صبح کو جاتے تھے تو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کون بچ کر رات کوواپس آسکے گا ۔ڈائریکٹ گولی چلا کرتی تھی ۔ہم لوگ جو گھر ہوتے تھے تو ہر وقت دعائیں مانگتے رہتےتھے۔
1978 میں میری منگنی آپا ذاکرہ کے بیٹے ضرار احمد خان کے ساتھ ہوئی ۔اس کا استخارہ آپا ذاکرہ نے خود کیا اور انہیں خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوئی، آ نحضورؐ نے ہماری امی کا نام لے کر فرمایا کہ زہرا کا گھر بہتر ہے۔ یہ میری خوش قسمتی اور میری امی کی بھی خوش قسمتی تھی کہ ان کا نام خواب میں حضور ؐاکرم نے لیا ،انہیں منتخب کر کے بتایا۔ آپا ذاکرہ کے پاس چند لڑکیوں کے نام زیر غور تھے اس لیے وہ استخارہ کر رہی تھیں لیکن جب خواب دیکھا تووہ بیگم مودودی کے پاس گئیں اور ان کو اپنا خواب سنایا ۔انہوں نے فون کر کے امی کو بلایا اور پھر یہ ساری بات بتائی ۔امی نے آ کر ابا جی کو بتایا، اس طرح سے یہ بات طے ہو گئی ۔ پھر منگنی کے لیے آپا ذاکرہ نے بیگم مودودی سے مجھے انگوٹھی پہنوائی۔ جماعت کی بہت سی خواتین بھی اس میں شامل تھیں اور بیگم مودودی نے اپنے ہاتھ سے مجھے انگوٹھی پہنائی، امی مجھے لے کر مولانا کے پاس گئیں اور ان سے میرے سر پہ ہاتھ پھروایا اور ان کو بتایا کہ اس طرح سے بات ہوئی ہے ۔میری شادی بہت سادگی سے ہوئی ۔اس وقت کھانے پر پابندی تھی۔ بوتلیں اور ڈبے بنائے گئے تھے وہ بانٹے گئے۔ میری شادی میں 700 لوگ تھے ،سب جماعت سے منسلک تھے۔ میاں طفیل محمد صاحب بھی شامل ہوئے۔آپا ذاکرہ نے امی کو کہہ دیا تھا کہ جہیز کی ضرورت نہیں اور جوڑے جو رشتہ داروں کو دینے تھے ان سے بھی منع کر دیا تھا اور امی کو قسم دے کے گئیں کہ بالکل کچھ بھی نہیں کرنا ۔لہٰذا وہ جوڑے نہیں دیے گئے تھے ۔مجھے زیور بھی بیگم مودودی نے اپنا سیٹ دیا تھا اور میں نے وہی پہنا تھا۔
1980 میں میری شادی ہو گئی پھر میری مصروفیات اور طرح کی ہو گئیں۔ امی کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی۔ پھر بھی جماعت کے سالانہ اجتماع اور منگل کے درس منصورہ میں آپا ذاکرہ کے ساتھ جایا کرتی تھی۔میں تواپنے بچوں اور گھر میں مصروف ہو گئی لیکن امی نے اپنے تمام جماعت کے کام جاری رکھے۔ فی سبیل اللہ ٹرسٹ کے زیرِانتظام مدرسہ تعلیم القرآن کا آغاز کیا تومجھے امی نے کہا کہ اس میں آکر پڑھایا کرو۔ یوں اپنی شادی کے آٹھ سال بعد میں نے وہاں پڑھانا شروع کر دیا ۔پھر میری بہن پروین نے اسے سنبھالا اور کئی سال وہاں پر کام کیا ۔لڑکیوں کا مدرسہ اور سکول دونوں تھے۔ پھر چھوٹی بہن حفصہ اور حمیرا نے بھی ان اداروں میں کام کیا ۔امی نے اپنی آخری عمر تک اپنے آپ کو مصروف رکھا قرآن ترجمہ کی کلاسز میں بھی جاتی رہیں ۔ہزاروں خواتین مستفید ہوئیں۔ بہت بچیوں کو پڑھایا اور آگے ان بچیوں نے اپنے مدرسے چلائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں ان کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے اور اجر عظیم عطا فرمائے آمین ۔ہمارے بچوں کے ساتھ امی ابا جی دونوں کا بہت ہی مشفقانہ رویہ تھا ،انہوں نے بچوں کا بہت خیال رکھا۔میرے بیٹے کو اپنے ساتھ ہرجگہ لے کر جاتی تھیں۔ جلسوں میں جلوسوں میں اور اجتماعات میں ابا جی بھی لے کر جاتے تھے۔ بہت محبت کا سلوک کیا ۔اللہ ان دونوں کو غریق رحمت کرے آمین اور اعلیٰ جنتوں میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے،آمین۔
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
٭٭٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp