قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ۔
’’ مومنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے اپنے عہد کو سچ کر دکھایا ہے ۔ان میں کچھ اپنی نذر پوری کر چکے اور کچھ وقت آنے کے منتظر ہیںاورانہوںنے اپنے رویے میںکوئی تبدیلی نہیں کی‘‘ (الاحزاب۲۳)
آپا زہرہ وحید اللہ تعالیٰ سے اپنے وعدے کو پورا کر کے اپنی ساری نذرور نیاز مکمل کرنے کے بعد کامیاب و کامران اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئی ہیں۔ ایک عہد تھا جو ان کے جانے کے بعد ختم ہوگیا ۔ وہ نو عمری میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئیںاور پھر پوری زندگی اپنے مقصد کی تکمیل کی خاطر جدوجہد میں مصروف رہیں ۔ دنیا کی کوئی مصروفیت کوئی خوف کوئی لالچ اورکوئی ترغیب انہیں اپنے مقصد سے بیگانہ نہ کر سکی ۔ وہ خوشحالی اورتنگی میں غم اورخوشی میں ہر لمحہ خدمت دین میںمصروف رہیں ۔ انہیںاپنے مقصد کی حقانیت پرپورا یقین تھا اوراس اعتماد نے زندگی بھر انہیں سکون سے نہ بیٹھنے دیا ۔مولانا مودودیؒکی جماعت سے تعلق جوڑا تو جماعت کے ساتھ ساتھ مولانا محترم کی محبت کا حق بھی ادا کیا ۔انہوںنے قرآن کا علم براہ راست مولانا سے حاصل کیا اوراس علم نے انہیں قوت فیصلہ ، جرأت اور اپنے دین کی کاملیت پر پورا یقین عطا فرمایا۔ اگر تحریک حرکت کا نام ہے تو وہ اس کی زندہ مثال ہیں۔
آپا زہرہ نے عوام کے ہر طبقے میں کام کیا ۔ اپنی تمام قوتیں صلاحیتیں اوروسائل دعوتِ دین کی خاطر وقف کر دیے ۔ اپنے محلہ کی خواتین کی ہرمعاملے میںمدد کے لیےپیش پیش تھیں اور انہیںقرآن کے علم سے آراستہ کرنے کا ذریعہ بھی ۔ان کے گھر میںہر وقت خواتین کا جمگھٹا لگا رہتا ۔کارکنان بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے ان سے رجوع کرتیں ۔ موثر طبقات میں کام پورے اعتمادسے کیا ۔ ہر ایک کے لیے مہربان اورشفقت سے پر ۔ہر شخص سے اس قدر شفقت سے پیش آتیں کہ ان سے ملنے والا ہی سمجھتا کہ وہی ان کا سب سے زیادہ پیاراہے ۔اپنے گھر کو دعوت دین کامرکز ثابت کیا ۔ جماعت کے پیشتر پروگرام ان کے گھر پر ہوتے تھے اورمہمان کی خاطر تواضع بہت خوش دلی سے کرتی تھیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک خاتون خانہ کا کردار بخوبی نبھایااوراپنے بچوں کواس کام میںمدد گار بنا لیا۔
اچھرہ میں آپا زہرہ کے گھر کی بنیاد مولانا مودودی ؒ نے رکھی ۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شادی مولانا ؒ نے طے کی اوراس کےسارے انتظامات اپنی نگرانی میں کروائے۔
اقامت دین کے کام کے سلسلے میں انہوںنے بیگم مودودی سے بھی تربیت حاصل کی اور آپا جی زبیدہ بلوچ اورآپا حمیدہ بیگم کے ساتھ بھی کام کیا ۔تمام مرکزی ناظمات کی ہر معاملے میں مدد گار رہیں اور وہ جوہم سب کی استاد تھیں اپنے آپ کوان بزرگوںکا شاگرد مان کر فخر محسوس کرتی تھیں ۔مجھے اللہ کی توفیق سے لاہور میںان کے ساتھ کام کرنے کا جو موقع ملا میںنے انہیں معاملات میںکھرا دبنگ اور صاف گو پایا ۔ اپنے کارکنوںسے کام لینا اورانہیںگائیڈ کرنا یہ بہت عمدہ طریقہ سے کرتیں۔ خواتین کی ذمہ داریوںکا بہت خیال رکھتی تھیں۔
ان کے کام کا نمایاںپہلو خدمت خلق کا شعبہ ہے ۔ دیہاتوں میںدرس قرآن کے ساتھ ساتھ فری ڈسپنسری کااہتمام کیا ۔اپنے ساتھ ایک یادولیڈی ڈاکٹروں کو لے جاتیں اورمفت علاج اورادویات کی سہولت مہیا کرتیں ۔اچھرہ میں اپنے محلے میں ایک زچہ بچہ سنٹر کھولا جہاں خواتین کو مفت علاج کے ساتھ ساتھ فری گھی وغیرہ بھی فراہم کیا جاتا تھا ۔ سیلاب کاعلاقہ ہو یا وبائی امراض کاحملہ وہ خود ہر موقع پر رفاہی کام سرانجام دیتی رہیںاوراس سلسلے میںکارکنان بھی ان سے بہترین تعاون کرتی تھیں۔
جماعت کے تنظیمی معاملات ہوںیا بیت المال کی ذمہ داریاں انہوںنے سب کام بطریق احسن انجام دیے ۔ ملکی الیکشن میں ما ہر سیا ست دانوں کی طرح منصوبہ بندی کرتیں ۔الیکشن مہم سے لے کرپولنگ اسٹیشنوں تک کام بہت عمدہ طریقے سے ہوتا تھا ۔ قیمتی مسائل میں کا ر کنا ن اور عام خواتین کی رہنمائی کرتی تھیں ۔ دوسری جماعتوں کی خواتین سے سارے معاملات بھی انہی کے ذمہ تھے۔
اپنے گھر میں کافی عرصہ تک بچوں کا سکول کھولے رکھا ، جہاں بچوںاوراساتذہ کی دینی تربیت کا بھی انتظام تھا ۔ شام کو وہیں دستکاری سکول تھا محلے کی بچیاں سلائی سیکھتی تھیں۔
ان کی ذات ریا کاری سے پاک تھی نمود و نمائش نہ ان کی ذات میں تھی اور نہ ان کے گھر میںاس کا شائبہ تک تھا ۔ سادہ طرز زندگی ، سادہ مزاج ہرتکلف سے پاک ۔ میں نے انہیں ہمیشہ سردی گرمی کے دو یاتین جوڑوں میںدیکھا ۔ لیکن دوسروں کے لیے بہت اچھا پسند کرتی تھیں ۔ ہرعیدپر ارکان بہنوں کو خوب صورت تحفوںسے نوازتیں اپنے کارکنان سے گہری محبت تھی ۔ مغل پورہ کی فرخ شہناز ہوں،جیا موسیٰ کی آپا شہناز یا دھرم پورہ کی اشرف خاتون ، سب سے یکساںمحبت ۔ان کی ذات کسی سے مرعوب یا دنیوی سٹیٹس سے متاثر نہ تھی ۔ ان کے دائرہ کار میں گھریلو خواتین بھی تھیں ڈاکٹر اورپروفیسرزبھی، سب سے یکساںمحبت سے پیش آتی تھیں ۔ہسپتالوں میںمریضوں کی امداد کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرخواتین کے لیے درس قرآن کا بھی سلسلہ جاری رکھا ۔ مال و دولت سے بے نیازی اور دنیوی اسباب سے بے رغبتی ان کا خاصہ تھی۔ دنیا ان کے قدموںمیںڈھیر ہوتی لیکن کبھی اس کی پروا نہ کی ۔ ایک نو مسلم بچی کی شادی اپنے گھر میں کی اور اپنی بیٹیوںسے زیادہ بڑھ کر اس کا انتظام کیا۔آپا جی زبیدہ بلوچ کا فریکچر ہؤا تو ہسپتال میں ان کی تیمار داری کرتی رہیں ۔ بیگم ملک غلام علی کا آپریشن ہؤا تو ان کے پاس بھی رہیں۔
مولانا محترم کو ایک مرتبہ ڈاکٹروں نے چکی کا آٹا تجویز کیا ،یہ زہرہ آپا ہی تھیں جو ہر روز ہاتھ کی چکی سے آٹا پیس کر مولانا کے ہاں لے جاتی تھیں۔
آپا زہرہ کے والد جماعت کےابتدائی ارکان میں سے تھے۔ پاکستان بننے سے قبل انہوںنے ہمارے دادا جان چوہدری نذیر احمد کے ساتھ سرسہ( ہندوستان) میں کام کیا ۔ مجھے بتاتی تھیں کہ میں تمھارے والدڈاکٹر ظہور احمد کے ساتھ بچپن میں کھیلا کرتی تھی ۔ اس تعلق کی بناپر ہم سے بہت محبت کرتی تھیں۔
جماعت کے ڈرائیور حضرات کا اپنے بیٹوں کی طرح خیال رکھتیں۔ ان کا ناشتہ کھانا سب ان کے ذمہ تھے ۔ ان کی اپنی اولاد کے ساتھ ان کی ان گنت روحانی اولاد موجود ہیںجوان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
آپا زہرہ کی بڑی بیٹی نسرین کی شادی طے ہوئی توبیگم مودودی سے اسے ملوانے لے گئیں۔بیگم صاحبہ نے نسرین کو اپنا سونے کا سیٹ تحفہ میںدیا جومولانا نے اپنی شادی کے موقع پر بیگم صاحبہ کو دیا تھا ، اورنسرین کو نصیحت کی کہ ’’ بیٹی دنیا کا ہرمرد احساس برتری لے کر پیدا ہوتا ہے، تم اس بات کا خیال رکھنا ۔‘‘
توکل کی ایک مثال سنیے ۔ ایک مرتبہ حکومت پاکستان نے کچھ صحافیوںکو گرفتار کر کے جیل بھیج دیاان میں عبد الوحید خان بھی شامل تھے۔ تو کچھ دنوں بعد پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر آپا زہرہ کے ہاں آئے اورکہا کہ ہم حکومت سے ان صحافیوں کی رہائی کے لیے اپیل کرنا چاہ رہے ہیںتو آپ اس درخواست پردستخط کر دیں ۔ آپا زہرہ نے کہا کہ میرا رزق اللہ کے اختیار میںہے ،میںرہائی کی کسی اپیل پر دستخط نہیںکروںگی ۔ اور ہوایوںکہ اگلے روز صبح سویرے وحیدخان صاحب شادمان جیل سے رہا ہو کر جیل کے لباس میںملبوس اپنے گھر آگئے ۔
کسی نے ایک مرتبہ آپا زہرہ سے پوچھا کہ صبر کی انتہا کیا ہے۔ برجستہ جواب ملا :
’’ صبرکی انتہا شکر ہے !‘‘
خدارحمت کندایں عاشقان پاک طینت را٭