ایک مشہور شخص دورانِ انٹرویو : ”ٹھیک ہے کہ میں یہ اور وہ گناہ کے کام کرتا ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے معافی مل جائے گی کیونکہ وہ تو غفور الرحیم ہے“۔
ایک نوجوان : ”میں حرام ریلیشن شپ کو نہیں چھوڑ سکتالیکن مجھے اللہ الرحیم سے گمان ہے کہ وہ مجھے معاف کر دے گا“۔
یہ اور ایسے کئی جملے ہمیں عام سننے کو ملتے ہیں۔ ان کے پیچھے ایک مکمل سوچ ہے، کئی بہانے ہیں، جن میں سے ایک اس حدیث کی غلط سمجھ بوجھ ہے کہ :
” میں اپنے بندے کے ساتھ اپنے متعلق اس کے حسنِ ظن کے مطابق سلوک کرتا ہوں جیسا وہ چاہے مجھ سے گمان رکھے “۔ (حدیث قدسی ۔ مسند احمد)
بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ مطلب لے لیا ہے کہ چاہے ان کے اعمال جیسے بھی ہوں اور وہ جان بوجھ کر جو گناہ مرضی کریں، لیکن سب کچھ کرتے ہوئے اگر وہ اللہ سے معافی کا صرف ”گمان“ ہی رکھ لیں گے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔جب کہ اسلام کی دیگر تعلیمات بتاتی ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ حسن ظن نہیں، غلط گمان ہے جو خود سے گھڑ لیا گیا ہے۔ دراصل ایسا سوچنے والےاللہ کو ٹھیک طریقے سے سمجھے ہی نہیں۔ انہوں نے اس کی چند صفات کو پکڑ لیا اور چند کو بھلا دیا۔ جبکہ مومن کو اللہ کے بارے میں بالکل درست گمان ہوتا ہے کہ وہ جہاں بخشنے والا ہے ، وہیں سزا دینے والا بھی ہے۔
حسن بصری ؒنے حدیث کا گمان والا اصول بہت خوبصورتی سے بیان فرمایا:
” مومن اپنے پروردگار کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے اس لیے وہ اچھا عمل کرتا ہے اور فاسق و فاجر آدمی اپنے پروردگار کے ساتھ برا گمان رکھتا ہے اس لیے وہ بد عملیاں کرتا ہے “۔
اللہ کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ صرف غفور الرحیم ہے اور قہار و جبار نہیں ہے، حسن ظن نہیں، بلکہ ’غلط‘ گمان ہے جو خود سے گھڑ لیا گیا ہے۔ دراصل یہ لوگ اللہ کو ٹھیک طریقے سے سمجھے ہی نہیں۔ انہوں نے اس کی چند صفات کو پکڑ لیا اور چند کو بھلا دیا۔جبکہ مومن کو اللہ کے بارے میں بالکل درست گمان ہوتا ہے کہ وہ جہاں بخشنے والا ہے ، وہیں سزا دینے والا بھی ہے۔ اور چونکہ رب کا حکم ماننے میں عافیت ہے، وہ غلطی سے ہو چکے گناہ معاف کرنے والا ہے، رحیم ہے، نیک اعمال پر بے انتہا اجر دینے والا ہے تو وہ خوف اور خوشی دونوں کے بہترین توازن کے ساتھ نیکی اور اطاعت کے کاموں میں لگا رہتا ہے۔
مومن کا اچھا گمان یہ ہے کہ چونکہ رب کا حکم ماننے میں عافیت ہے، وہ غلطی سے ہو چکے گناہ معاف کرنے والا ہے، رحیم ہے، نیک اعمال پر بے انتہا اجر دینے والا ہے تو وہ خوف اور خوشی دونوں کے بہترین توازن کے ساتھ نیکی اور اطاعت کے کاموں میں لگا رہتا ہے۔
جبکہ نافرمان کے ساتھ دو معاملات ہیں:
1۔ اس کے دل میں اپنے گناہوں کی وجہ سے دہشت اور خوف غالب رہتا ہے، وہ اللہ سے اچھا گمان نہیں کر سکتا۔
اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لے لیں۔ کلاس میں سب سے بااصول ٹیچر کو سب سے زیادہ کون ناپسند کرتا ہے؟ بدتمیز اور نالائق ترین طلبہ۔ وہ اس سے بچتے ہیں، دور بھاگتے ہیں۔ یہی حال گنہگار کا ہے۔
2۔ دہشت اور خوف کے علاوہ دوسری چیز عبادت سے نفرت ہے جو گنہگار میں پیدا ہوتی ہے۔ بالکل ایسے جیسے نالائق طلبہ کے دل میں بااصول استاد کے خلاف عناد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔
اور یہ اصول ابن القیم ؒ کی کتاب ”دوائے شافی“ میں یوں لکھا ہے کہ:
” گناہوں کی وجہ سے انسان کو طاعات الٰہی اور عبادت خداوندی سے نفرت ہو جاتی ہے اوروہ طاعات و عبادات سے دور بھاگنے لگتا ہے “۔
گناہ کرنے ، اس پر اصرار کرنے اور پھر معافی کی امید رکھنے کے اس رویے کو عقل کی بنیاد پر پرکھیں تو یہ بڑا نا معقول سا رویہ ہے۔ بہت عجیب بات ہے کہ ہمیں کسی کے سامنے جواب دہی کا خوف ہو لیکن ہم اس کی اطاعت نہ کریں۔ یہ رویہ کیا کہلاتا ہے؟ ڈھٹائی۔ گویا گنہگار بندہ جسے ’اللہ سے اچھا گمان یا حسن ظن‘ کہتا ہے ، وہ دراصل اس کی ڈھٹائی اور عاقبت نااندیشی ہے۔ ورنہ قرآن تو کہتا ہے: یاایھاالانسان ما غرک بربک الکریم۔
” اے انسان! تجھے کس چیز نے تیرے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا“۔ (الانفطار:6)
اس دھوکے میں اللہ کو تمام صفات کے ساتھ نہ جاننا مرادہے۔ اس کے رحم وکرم اور اس کی پکڑ،غیظ و غضب دونوں کے بارے میں دھوکہ کھانا انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔
حسنِ ظن اور اطاعتِ الٰہی کے بارے میں بہت واضح دو ٹوک بات جو ”دوائے شافی“ میں تحریر ہے:
” اللہ سےحسنِ ظن حسنِ عمل ہی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ بندے کو حسنِ عمل پر یہی عقیدہ آمادہ کرتا ہے کہ اللہ اس کے اعمال و افعال کا بدلہ دے گا“۔
لہٰذا یہ بہت کم عقلی کی بات ہے کہ نیتوں اور اعمال کو درست کرنے کے بجائے صرف اچھے گمان پر جنت کی توقع رکھی جائے۔
٭ ٭ ٭