بد نصیب – عینی عرفان

کوئی تبصرہ نہیں

گلابی پشواز پہ بنفشی چنری اور چاند بالیاں پہنے کتنی ہی دفعہ آئینہ میں وہ خود کو نِہار چکی تھی۔ چہرے پہ پھیلتے دھنک رنگ لباس کا عکس معلوم ہوتے پر یہ تو اس کا دل ہی جانتا تھا کہ یہ ملن کی چمک ہے جو اس کے وجود سے پھوٹی پڑ رہی ہے۔
جس کے لیے دل انوکھی لے پہ دھڑک رہا تھا وہ اس سے چند ہی میل دور، غازہ مل کے چہرے پہ پڑنے والی وقت کی چھاپ چھپا رہی تھی۔ دس سال کم عرصہ نہ تھا ہیئت بدلنے کے لیے۔ جب آزمائش کی بھٹی بھڑکتی ہے تو صرف روح ہی نہیں جلتی، دلکشی ہو یا رعنائی سب جھلس جاتی ہے۔ فاصلے سمٹ رہے تھے۔ کچھ ہی گھر پرے وہ انہماک سے دو تحفوں پہ کاغذ لپیٹ رہی تھی۔ اس کو نہ سجنے کی فکر تھی نہ سنورنے کی ۔ دیکھنے والے کہتے کہ وقت اسے پیار سے چھو کے گزر گیا تھا۔ رکھنے والے نے اسے اپنے پیار کے قفس میں بڑا سنبھال کے رکھا تھا۔مگرقفس چاہے پیار کا ہی کیوں نہ ہو دل مردہ کر دیتا ہے ،پھر نہ ارمان مچلتے ہیں نہ خواہش۔
بچپن کی دہلیز کو اکھڑے قدموں سے اُلانگتی وہ تینوں جڑواں تو نہیں مگر شاید روحوں میں گانٹھ پڑی تھی۔ جہاں اکٹھی ہوتیں منظر میں رنگ بھر دیتیں۔رج کے سوہنی۔ ایک نمکین ،سلونی تو دوسری مکھن کا پیڑا، چمکدار ستارہ آنکھیں،تیسری کی سنہری رنگت آفتاب کو شرمائے، مخمور نگاہوں میں بلا کی رعنائی۔ پیڑ تلے اونچی پینگ بھرتیں تو پیاروں کے دم حلق میں آتے۔ شرارتی آنکھیں جھلملاتیں اور نقرئی ہنسی کانوں میں شیرنی ٹپکاتی۔ دوستی ایسی انمول کہ ہر دیکھتی آنکھ صدقے اتارے۔ جو بھی ملتا ادھورا ہو جاتا، خود لوٹ جاتا پر اس کا دل ہمک کر وہیں رہ جاتا۔
وقت گھڑیال کے کانٹوں سے آزاد بگٹٹ دوڑ رہا تھا۔ بابل کے صحن میں چہکتی چڑیوں کا پیا دیس سدھارنے کا سمے آیا۔ دو سہیلیوں کا رشتہ ایک ہی خاندان میں چاچا تایا کے بیٹوں سے ہؤٗا۔ میکہ کی سنگت سسرال تک ساتھ چلنی تھی۔ اطمینان و سکون تھا۔ شادی میں دور کے سسرالی عزیز کو تیسری پسند آگئی۔ دونوں سکھیاں اس کی ہمراز بن گئیں۔ ملاقات کا موقع بھی فراہم کیا اور رشتے میں معاونت بھی کی۔
تینوں مسرور تھیں کہ ایک ہی برادری میں بیاہی گئیں پر یہ بدبخت ’’خوشی‘‘ اپنی عمر تھوڑی ہی لکھوا کے لائی ہے۔
خاندان کے دو سربراہ بالمقابل آگئے۔ دونوں سگے بھائیوں کے درمیان رنجش بڑھی تو زندوں کو مردہ گردان لیا گیا۔ جیتے جی منہ نہ دیکھنے کے قول و قسم نے دو سہیلیوں کے بیچ رابطے کی ڈور کاٹ دی۔ تیسری کی قسمت ہی نرالی۔ آنکھوں میں قید کرنے کا دعویدار قول کا پکا نکلا، واقعی قید کرلیا، مٹھی میں۔
جدائی کی تپش میں تین دل جھلستے رہے۔ گویا بنجر صحرامیں سوکھے کا موسم چھایا تھا۔
ایک عشرہ گزر گیا۔
سرپٹ دوڑتا وقت ہلکان نہیں ہؤا پر سوار ہانپ گئے۔ عمر نے بزرگی کی چادر اوڑھی تو سرپرستوں کے مزاج ڈھل گئے۔ قول سے پھر گئے، قسموں کا کفارہ دیا گیا۔ صلح کا طبل بجا تو ملن کی شہنائی بھی گونجنے لگی۔
جن کو موبائل پہ رابطہ رکھنا بھی ممنوع تھا آج ان کی بالمشافہ ملاقات تھی۔بے چینی حد سے سوا تھی۔ماضی کی یادیں چٹکیاں لیتی تھیں۔
جائے ملاقات پرانا محلہ ہی طے پایا جہاں تینوں کا میکہ آمنے سامنے تھا۔ وہاں بہت سی تعمیراتی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ بڑے بڑے صحن والے گھر ختم کر کے نئی سوسائٹی بنادی گئی۔اسکول، مسجد اور ایک چھوٹا سا پارک سب سوسائٹی کے اندر موجود تھا۔
مقررہ وقت، ہلکی سرد ہوا اور خنک سبزے کے بیچ وہ تینوں ایک دوسرے سے ملیں تو پرتکلف مسکراہٹ نے چہرے کا احاطہ کیا۔ سلام دعا کے بعد جب کوئی بات نہ سوجھی تو نظر چرا کے بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگیں۔
وہ تینوں اکیلی نہیں آئی تھیں۔ نئی نئی صلح کے بعد اپنے کاندھوں پہ بے شمار نصیحتوں کا بوجھ ساتھ لائی تھیں۔ منہ سے نکلا ایک بھی غلط لفظ پھر سے خاندانی تنازع کا باعث بن سکتا تھا۔ رسمی مسکراہٹ لیے نپی تلی گفتگو کرنے لگیں۔ موضوع بے شمار، پر کچھ کمی سی تھی۔
لمحے سرکتے رہے۔
وقت پھسلتا رہا۔
تشنگی ہوک بھر رہی تھی۔
لہجے میں کافور کی باس مہکنے لگی تووہ کھنکر دل اور خالی دامن سمیٹ کے واپس لوٹ گئیں۔
کتنا بدنصیب تھا وہ جس کی موت پہ ماتم بھی ممنوع تھا۔
ان کا بچپن مرگیا تھا!!
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp