آخر بلاوا آ ہی آگیا – روزینہ خورشید

کوئی تبصرہ نہیں

خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺپر حاضری ہر مسلمان کے دل کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ لیکن اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک رب کی طرف سے بلاوا نہیں آجا تا آپ نہیں جا سکتے۔ میرے اندر بھی یہ تڑپ موجود تھی کیونکہ بچپن سے ہی نعتیں پڑھنے کا شوق تھا تو دل میں ایک خواہش ہمیشہ جنم لیتی تھی کہ کاش یہ نعتیں نبیؐ کے روضہ مبارک پر کھڑی ہو کر پڑھ سکوں۔ لہٰذا جب بھی کسی کے عمرے پر جانے کا سنتی ، دل میں ایک ہوک سی اٹھتی تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی دل شکوہ کناں ہو جاتا تھا کہ اللہ ان کا بلاوا تو آگیا میرا کب آئے گا ۔پھر اپنے دل کو تسلی دیتی تھی کہ شاید رب کو میرے مانگنے کا انداز پسند نہیں یا ابھی وقت نہیں آیا اس لیے دیر ہو رہی ہے۔ آخر کار سال 2023 ء میں اللہ نے دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور میری تڑپتی روح کو اپنے دربار میں حاضری کی اجازت دے ہی دی۔ بے شک وہ بڑا مہربان رب ہے جس نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے،میں بھی اپنے وقت مقررہ پر عمرے کے لیے روانہ ہو گئی۔
23 اگست 2023 میری زندگی کا خوش نصیب ترین دن تھا جب اپنے ہمسفر کے ساتھ سعودی ایئر لائنز میں عمرے کی غرض سے محو پرواز تھی۔ یقین تب بھی نہیں آرہا تھا جب گھر سے نکلی، اس وقت بھی نہیں ، جب جہاز میں بیٹھی لیکن جب عمرے کی نیت کی تو دل نے صدا لگائی اللہ تیرا شکر ہے میرا انتظار ختم ہؤا اور میرا بلاوا بھی آ ہی گیا۔ ہم نے پاسپورٹ تو پہلے ہی بنا لیا تھا مگر بچوں کی یونیورسٹی اور اسکول کی مصروفیات کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ انہیں کیسے چھوڑ کر جائیں۔ لہٰذا جیسے ہی چھوٹا بیٹا میٹرک کا امتحان دے کر فارغ ہؤا اور دونوں بڑوں کی یونیورسٹی میں سمسٹر بریک آیا تو اسی دوران ہم نے ویزا کے لیے اپلائی کر دیا اور ساتھ ہی یوٹیوب سرچ کرنا شروع کر دیا کہ عمرے کی تیاری کیسے کرنی ہے، کن چیزوں کی خریداری کرنی ہے، پیکنگ کیسے کرنی ہے ،کتنا وزن لے جا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔یہ ساری معلومات میں نے مختلف وی لاگز دیکھ دیکھ کر اکٹھی کر لی تھیں۔
دو دن کے اندر ہمارا ویزہ آگیا۔ جب انہوں نے گھر آ کر بتایا کہ میں نے دفتر سے چھٹی لے لی ہے اور 23 تاریخ کو ہماری فلائٹ ہے، ہم کرہ ارض کی سب سے مقدس سرزمین پر جا رہے ہیں جہاں جانے کے لیے تم تڑپتی ہو، تو خوشی اور حیرت کی کیفیات نے ایک ساتھ گھیراؤ کر دیا، بخار بھی آگیا نزلہ، کھانسی،کمزوری غرض کہ عجیب کیفیت ہو گئی جو بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ٹرانس میں آگئی ہوں ۔دواؤں اور دعاؤں کے ذریعے اپنے آپ کو سیٹ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کوئی افاقہ نہ ہؤا ۔عزیز و اقارب اور دوستوں کو فون پر ہی اپنے جانے کی اطلاع دے دی کیونکہ ملنے جانے کے لیے وقت بھی نہیں تھا اور صحت بھی اجازت نہیں دے رہی تھی ۔ تین دن کے اندر جو ضروری سامان خریدنا تھا اس کی لسٹ بنا کر خریداری مکمل کی،جن میں سوٹ کیس، عبایا، جوگرز ، دوائیں شامل تھیں، خاص کر شوگر اور کولیسٹرول وغیرہ کی دوائیں کیونکہ ایک ہفتہ پہلے ہی بلڈ ٹیسٹ کروایا تھا اور رپورٹس خراب آنے کی وجہ سے ڈاکٹر نےساری دوائیں دوبارہ شروع کروادی تھیں۔ میں اس وجہ سے بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی کہ کہیں طبیعت وہاں جانے کے بعد مزید خراب نہ ہو جائے لیکن اپنے مہربان رب کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ سر زمین مقدس پہنچنے کے بعد ایک دن بھی ان دواؤں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ۔
میری دوست جو کہ حال ہی میں عمرہ ادا کر کے آئی تھی اس نے مشورہ دیا کہ چائے کا سامان اور الیکٹرک کیٹل ساتھ لے جاؤ کیونکہ وہاں چائے اچھی نہیں ملتی اور ہمارا تو حال یہ ہے کہ جب تک صبح اچھی سی چائے نہ پئیں دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا۔کھانے کے لیے ٹن پیک خریدے تھے لیکن وہ گھر پر ہی بچوں کے لیے رکھ چھوڑا کیونکہ شوہر صاحب نے کہا مکہ اور مدینہ میں ریال خرچ کرنے کا اجر اللہ دیتا ہے تم کھانے کی فکر نہ کرو وہاں ہوٹل سے لے لیا کریں گے تھوڑا زبان کا ذائقہ بھی بدلے گا ۔اور واقعی وہاں کے کھانوں کا ذائقہ آج بھی محسوس کرتی ہوں،آلو پالک، مندی، بروسٹ، مٹن کا سالن ہر چیز کا ذائقہ اور خوشبو دماغ میں جیسے رچ بس گئی ہے۔
22 اگست کی رات حرم میں طوفانی بارش ہوئی تھی۔ میں اور میرا بھائی ٹی وی پر لائیو دیکھ رہے تھے۔ صبح پانچ بجے ہمیں گھر سے نکلنا تھا بھائی نے کہا گھبراؤ نہیں تمہیں اللہ کی امان میں دیا ہے انشاءاللہ بخیر و عافیت دوبارہ اپنے بچوں سے ملو گی ۔ جانے سے پہلے بڑے بیٹے کو ذمہ داری سونپی تھی کہ گھر کے ساتھ ساتھ، بھائیوں کا، اپنا ، اور دادی کا خیال رکھنا جو کہ اس نے بڑے ہی احسن طریقے سے نبھائی، اللّٰہ اسے دین و دنیا دونوں کی بھلائیاں وکامرانیاں عطا کرے ۔ میری غیر موجودگی میں بھائی اور بھابھی نے بھی بچوں کا بہت خیال رکھا اللہ انہیں بھی جزائے خیر عطا کرے، آمین ۔
23 اگست کی صبح پانچ بجے ہم نے فجر کی نماز ادا کی پھردو رکعت نفل نماز ادا کر کے ہم گھر سے ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے -6 بجے چیک ان شروع ہو گیا۔ کھڑکی کی طرف سیٹ ملی تو خوشی ہوئی کہ اب جہاز کو بلند ہوتا ہؤا دیکھ سکوں گی ۔ جہاز فضا میں بلند ہونا شروع ہوتا ہے تو زمین پر گھر ماچس کی ڈبیہ کی مانند نظر آتے ہیں اور جب بلندی پر پہنچنے کے بعد اپنی پوزیشن سنبھال لیتا ہے تو ایسا لگتا ہے ہم ہؤا میں معلق ہیں۔ دل بے اختیار اپنے رب کی کبریائی اور حمد وثنا بیان کرنے لگا، سورہ ملک کی آیت یاد آئی :
’’کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو پروں کوپھیلائے رہتے ہیں اور سکیڑ بھی لیتے ہیں ۔ رحمٰن کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے‘‘( سورہ ملک ،19)۔
ہم نے ائر پورٹ پر دو رکعت نماز احرام کے لیے ادا کر لی تھی پھر جہاز میں بیٹھنے کے بعد جب عمرے کی نیت کی تو زبان صرف لبیک کے کلمے کا ورد کرنے لگی اور آنکھیں شکرانے کے موتی برسانے لگیں ۔
تقریباً 4 گھنٹے کے ہؤائی سفر کے دوران درود وسلام ،ذکر اذکار اور مختلف دعاؤں کے ذریعے اپنے بے قابو ہوتے دل کو سکون دینے کی کوشش کرتے رہے ۔گھر سے نکلتے وقت کچھ کھایا ہی نہیں گیا تھا ائر پورٹ پر صرف چائے بسکٹ لیے تھے تو اب ہماری شوگر لو ہونے لگی۔ اتنے میں جہاز کا عملہ ریفریشمنٹ کا سامان لے آیا ۔چائنیز ائر ہوسٹس کا سلام کرنا اور اللہ حافظ کہنا حافظے میں محفوظ ہو گیا۔
جدہ ائیرپورٹ پر اترنے کے بعد جب ہم باہر آئے تو معلوم ہؤا کہ گرمی کس کو کہتے ہیں ۔گرم ہؤا کے تھپیڑے چہرے کو جھلسا رہے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پسینہ سر سے نکل کر زمین میں جذب ہو رہا ہے۔ وہاں سب سے پہلے ہم نے اپنے لیےسِم خریدے تا کہ رابطہ ممکن ہو سکے، اس کے بعد بس کے ذریعے تقریباً دو گھنٹے کا سفر کر کےہو ٹل پہنچے ،سامان رکھنے کے بعد کچھ کھا پی کر تازہ دم ہوئے پھر وضو کر کے عمرہ کی ادائیگی کے لیے ہوٹل سے نکلے۔ گو کہ ہوٹل حرم سے تھوڑے فاصلے پر اجیاد روڈ پر تھا مگر ان کی شٹل سروس بہت زبردست تھی ۔پانچ سے سات منٹ کے اندر ہی شٹل نے ہمیں مطلوبہ مقام پر اتارا ۔
وہاں سے ایک جم غفیر کے ہمراہ ہم حرم کی طرف روانہ ہوئے زبان اور آنکھیں حاضر ہوں ،حاضر ہوں ،اے اللہ میں حاضر ہوں کا ورد کر رہی تھیں ۔ گیٹ نمبر تھری پر پہنچ کر جوتے اتارے مسجد میں داخلے کی دعا پڑھی اور اعتکاف کی نیت کر کے سر جھکا کر چلنا شروع کر دیا۔ ایسکلیٹر کے ذریعے نیچے آئے اور مطاف پر پہنچنے کے بعد جب سر اٹھایا تو خانہ کعبہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ سامنے موجود تھا اس وقت دل کی کیا کیفیت تھی قلم لکھنے سے قاصرہے کیونکہ جذبات کی ترجمانی کے لیے الفاظ ہی نہیں ہیں ان سطور کو بھی کاغذ پر منتقل کرتے ہوئے بار بار اشکوں کو صاف کرنا پڑ رہا ہے۔
اللہ اکبر !
ایک کونے میں کھڑے ہو کر جو کچھ مانگنا تھا اس وحدہ لا شریک سے مانگنے کی کوشش کی ۔اس وقت پورا وجود ہی سوالی بناہؤا تھا دل ،دماغ آنکھیں، ہاتھ، زبان سب اس مالک حقیقی کے سامنے سراپا التجا تھے ۔
دعا مانگنے کے بعد بیت اللہ کے طواف کی نیت کی ، حجر اسود کے قریب پہنچ کر پہلے استقبال حجر اسود ،پھر استلام کیا اور خانہ کعبہ کا طواف شروع کر دیا۔مختلف دعائیں اور ذکر اذکار کا ورد کرتے ہوئے سات چکر مکمل کیے پھر دو رکعت نماز واجب الطواف مقام ابراہیم کے قریب ادا کرکےآب زم زم پینے چلے گئے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کی شفا رکھی ہے۔
حدیث نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے کہ’’مومن آب زمزم پیٹ بھر کر پیتا ہے جبکہ منافق اسے تھوڑا پیتے ہیں‘‘۔ہم نے بھی خوب سیر ہو کر پیا سر اور چہرے کوبھی آبِ زمزم سے تر کیا پھر ملتزم کے قریب جا کر دعا مانگی اور حجر اسود کا آخری استلام کرکےسعی کے لیے صفا و مروہ کی طرف چلے گئے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:
’’بے شک صفا و مروہ اللّٰہ کے شعائر (نشانیوں) میں سے ہیں ‘‘۔
سعی مکمل کرنے کے بعد دو رکعت نفل نماز ادا کر کے ہم باہر نکل آئے میں نے تو اپنے بال ایک انگلی کے برابر کاٹ لیے جبکہ شوہر صاحب اوپر کی طرف لائن سے بنے ہوئے باربر شاپ سے حلق کروانے چلے گئے اس طرح رات کے تقریبا تین بجے ہم نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی الحمدللہ، اللہ بار بار یہ سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین)
احرام کی حالت میں تو غلافِ کعبہ اور رکن یمانی کو چھو نہیں سکتے کیونکہ اس پر خوشبو لگی ہوتی ہے لہٰذا دوسرے دن ہم نے سخت دھوپ میں (کیونکہ اس وقت رش کم ہوتا ہے) نفلی طواف ادا کیے تا کہ حجر اسود اور رکن یمانی کا بوسہ لے سکیں رکن یمانی کو تو ہم چھونے میں کامیاب ہو گئے مگراس وقت بھی حجر اسود کے قریب جانا نا ممکنات میں سے تھا لہٰذا دوران طواف جگہ بنا کر ہم نے خانہ کعبہ کی چوکھٹ پکڑ لی اور اسے گواہ بنا کر فریاد کی یا رب کعبہ ایک حقیر و فقیر، عاجز و مسکین بندی تیرے در پر آئی ہے روز محشر میری لاج رکھ لینا ،میرا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دینا، یا ربی اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ نصیب فرمانا، خانہ کعبہ کی دیواروں سے لپٹ کر جب اپنے آنسو غلاف کعبہ پر ثبت کیے اس کیفیت کو لکھنے کے لیے قلم میں تاب نہیں۔ اس وقت زبان سے صرف یہی دعا نکل رہی تھی اے اللہ ان آنسوؤں کے ذریعے مجھے گناہوں سے پاک کر دے، یا رب جنت پکی کر دےاور میرا شمار بھی ان لوگوں میں کر دے جن کے چہرے روز قیامت خوشی سے دمک رہے ہوں گے۔
اس کیفیت سے میں اس وقت باہر آئی جب شرطے نے آواز لگائی ’’حاجی حاجی یلہ یلہ‘‘ یہ الفاظ ہم نے وہاں اتنی بار سنے کہ کان ان سے مانوس ہو گئے تھے۔ نفلی طواف کرنے کے بعد ہم حرم کے اندرونی حصے میں آگئے تاکہ کچھ کھا پی لیں پھر تازہ دم ہو کر دوبارہ سے اس عظیم عبادت کا حصہ بن جائیں کیونکہ خانہ کعبہ کا طواف ہی وہ واحد عبادت ہے جو کہیں اور نہیں کیا جا سکتا۔پہلے صرف سنا کرتے تھے کہ پرندے( ابابیل) بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں ،حرم میں جب خود مغرب،عشاء اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا مشاہدہ کیا تو اپنے نصیب پر بڑا رشک آنے لگا کہ اللہ نے اپنی آنکھوں سے ایسے مناظر دیکھنے کی توفیق عطا فرمائی بے شک میرا رب بڑا ہی عظمت والا ہے.
اگلے دن ہم نے غار حرا، غار ثور، جبل رحمت، مسجد نمرہ، میدان عرفات منی،مزدلفہ، تمام جگہوں کی زیارت کی۔ جبل رحمت اور مسجد نمرہ میں نفل نمازیں ادا کیں پھر مسجد جن کی زیارت کرتے ہوئے واپس آگئے۔دوران سفر نگاہیں صرف غار حرا اور غار ثور کی بلندیوں کو ناپنے کی کوشش کرتی رہیں اور سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کتابوں میں پڑھے ہوئے تمام واقعات ذہن میں گردش کرتے رہے ۔دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ کسی صورت ان پہاڑوں کے قریب جاؤں اور اپنے آپ کو بھی تصور کی آنکھ سے دور نبوی میں دیکھوں مگر ٹیکسی ڈرائیور نے کہا اوپر چڑھنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں میں اتنی دیر انتظار نہیں کر سکتا لہٰذا آپ دور سے ہی زیارت کر لیں، چنانچہ ہم دور سے ہی زیارت کر کے واپس ہوٹل آگئے ۔
27 اگست کو ہماری مدینہ کے لیے روانگی تھی۔صبح تقریباً آٹھ بجے بس ہمیں لینے آگئی اور مختلف ہوٹلوں سے زائرین کو لیتے ہوئے چاربجے ہمیں ہوٹل پہنچا دیا دوران سفر ہر طرف پہاڑ ،ٹیلے اور صحرا دیکھ کر شدت سے احساس ہؤا کہ ہم تو ائر کنڈیشنڈ بس میں سفر کر رہے ہیں میرے نبیؐ رحمت نے آج سے چودہ سو سال پہلے اونٹوں پر سفر کیسے کیا ہوگا ،گرمی کی حدت اور بھوک کی شدت کیسے برداشت کی ہو گی، لاکھوں درود و سلام ہو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔
ہوٹل پہنچنے کے بعد کھانا وغیرہ کھایا پھر تازہ دم ہوکر ان کے روضہ پر حاضری دینے اور سلام عرض کرنے کے لیے نکلےجو محبوب رب دو جہاں ہیں ،ساقئ کوثر ہیں ،جن پر اللہ اور اس کے فرشتے درود وسلام بھیجتے ہیں ، جن کی نعتیں پڑھتے ہوئے آنکھیں اشک برساتی ہیں۔
گیٹ نمبر 365 سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب جنت البقیع اور بائیں جانب گنبد خضرا نظر آتا ہے ۔ ہم نے گنبد خضرا کےسامنے کھڑے ہو کر درود و سلام کے نذرانے پیش کیے ،رشتہ داروں اور دوست احباب کی طرف سے رسول ؐاللہ کو سلام پہنچایا پھر مسجد نبوی کے اندرونی حصے میں داخل ہوئے ۔اللہ اللہ کیا شان ہے مسجد نبوی کی! دونوں جہانوں کے سردار کا محل ہے جہاں لوگوں کا ایک اژدھام ہر وقت موجود رہتا ہے جو اپنے نبیؐ کی کی محبت میں سرشار ،پروانہ وار ان کے روضہ مبارک پر حاضری دینے کے لیے آئے ہوئے تھے ۔مجھے اس وقت وہ واقعہ یاد آگیا کہ جب نبیؐ کریم کے صاحب زادوں کا انتقال ہوگیا تھا تو کس طرح مشرکین مذاق اڑایا کرتے تھے کہ اب آپؐ کا نام لیوا کون ہوگا۔ آج ابو جہل کے واررثین دیکھ لیں کہ لاکھوں کی تعداد میں شمع رسالت کے پروانے دنیا کے کونے کونے سے کیسے ان کے پاس کھنچے چلے آ رہے ہیں اور پوری دنیا کے چپے چپے میں اذان کے اندر محمد ؐرسول اللہ کا نام ہر وقت گونج رہا ہے جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ اللّٰہ نے اپنے محبوب نبی کا نام قیامت تک کے لیے جاوداں کر دیا ہے۔
مغرب کی نماز کے بعد خواتین سے بات چیت کی تو معلوم ہؤا کہ عشاء کی نماز کے بعد گیٹ نمبر 38 سے روضہ رسول پر حاضری دے سکتے ہیں لہٰذا میں بھی وہیں پہنچ گئی۔ وہاں میں نے شرطیوں کو دیکھا جو ہر ایک کو بیٹھنے کے لیے آواز لگاتی تھیں’’باجی بیٹھ جاؤ،باجی بیٹھ جاؤ ‘‘اور بعض اوقات غصے میں تیز آواز میں کہتی تھیں’’ بیٹھ جاؤ انڈین پاکستانی باجی بیٹھ جاؤ‘‘ کیونکہ ان کی بات نہ ماننے والوں میں زیادہ تر انڈین اور پاکستانی خواتین ہی ہوتی تھیں ۔
پہلی بار جب روضہ مبارک پر حاضری دی تو اپنی تمام دلی کیفیات کو اور ان تمام نعتوں کو جو گھر میں پڑھا کرتی تھی اشکوں کی زبانی رسولؐ اللہ کو نذرانہ پیش کیا اور اللّٰہ کریم کا بے حد شکر ادا کیاجس نے مجھ ناچیز کو اپنے محبوب نبیؐ کے روضہ مبارک پر حاضری کی توفیق بخشی ورنہ میں نے اپنے جاننے والوں میں ہی ایسی کئی خواتین دیکھی ہیں جو مدینہ پہنچ کر اتنی شدید بیمار ہوگئیں کہ انھیں ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرنا پڑا اور وہ روضہ رسول ؐپر حاضری سے محروم رہ گئیں کیونکہ جب ان کی طبیعت سنبھلی تو مدینہ سے رخصت ہونے کا وقت آگیا ۔
دوسرے دن صبح صبح ناشتے کے بعدہم بس کے ذریعے مدینے کی زیارتوں کے لیے نکلےاور شہر نبیؐ کے گلی کوچوں میں گھومنے کی سعادت حاصل کی۔سب سے پہلے مسجد قباء میں نفل نماز ادا کی جس کا ثواب رسولؐ اللہ نے ایک عمرہ کے برابر بتایا ہے پھر مسجد قبلتین کی زیارت کی جہاں قبلے کی تبدیلی کا حکم ہؤا تھا وہاں بھی دو رکعت نفل نماز ادا کی،اس کے بعد غزوہ خندق جس مقام پر ہوئی تھی اور جہاں صحابہؓ کرام کے خیمے لگے تھے اب وہاں ان کے نام سے مسجدیں تعمیر کر دی گئی ہیں، ان مساجد میں نماز کا موقع نہ مل سکا کیونکہ ان کی زیارت دور سے ہی کروائی گئی ۔احد پہاڑ کے دامن میں موجود شہدائے احد اور حضور کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مزارات پر فاتحہ پڑھنے کا موقع ملا، وہاں ہم نے وہ گھاٹی بھی دیکھی جس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر انداز تعینات کیے تھے اور انھیں اپنی جگہ پر ڈٹے رہنے کا کہا تھا لیکن آپؐ کا حکم نہ ماننے کی صورت میں مسلمانوں کو کتنا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا ۔یہ گھاٹی ابھی بھی ہمیں اس بات کا سبق دے رہی ہے کہ اطاعت رسولؐ سے رو گردانی دراصل دنیا اورآخرت میں باعث ذلت ورسوائی ہے۔اسی دن عشاء کی نماز کے بعد NUSK ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ میں عبادت کرنے کا موقع بھی مل گیا جس کو آقاؐ نے جنت کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔
اگلے دن عشاء کی نماز کے بعد ہم گیٹ نمبر 338 سے عقیق شاپنگ مال کی طرف نکل گئے کسی نےبتایا تھا کہ وہاں مناسب قیمت پر اچھی کوالٹی کی کھجوریں ملتی ہیں لہٰذا ہم نے بھی وہیں سے کھجوریں خریدیں اور نیچے دکانوں سے عزیز و اقارب اور دوستوں کے لیے جائے نماز اور ٹوپیاں وغیرہ خریدیں اور کھانا کھا کر واپس اپنے ہوٹل آگئے ۔
مدینے میں سات روزہ قیام کے دوران میں نے الحمدللہ مسجد نبوی میں ایک قرآن شریف مکمل کر لیا ۔دعا کرتی ہوں کہ یا رب العالمین! اس قرآن مجید کی تلاوت کو روز قیامت میرے لیے حجت بنا دیجیے گا(آمین )۔ مغرب کی نماز کے بعد میں ہمیشہ مسجد نبوی کے صحن کی طرف چلی جاتی تھی۔ وہاں مقامی خواتین مختلف قسم کے قہوے بنا کے لاتی تھیں جنھیں پی کے کافی سکون ملتا تھا ۔پھر تازہ وضو کر کے عشاء کی نماز کے لیے مسجد نبوی کے اندرونی حصے میں آ جاتی تھی ۔ایک رات جب آسمان پر چودھویں کا چاند چمکتا ہؤا نظر آیا تو بے ساختہ منہ سے نکلا’’ اے چاند تمہیں تو میں اکثر واک کرتے ہوئے کراچی سے دیکھا کرتی تھی اور خواہش کیا کرتی تھی کہ ایک دن انشاءاللہ تمہیں مکہ، مدینہ کی سرزمین سے جا کر دیکھوں گی تم گواہ رہنا آج اللہ نے مجھے مسجد نبوی کے صحن سے تمہیں دیکھنا نصیب کر ہی دیا‘‘ ۔
میں یہ سب باتیں کر ہی رہی تھی کہ پیچھے سے شوہر صاحب آ گئے اور کہنے لگے’’تمہیں یہاں بھی چاند مل گیا باتیں کرنے کے لیے‘‘ حقیقت تو یہ ہے کہ مسجد نبوی میں جو سکون واطمینان قلب نصیب ہوتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے پیاسی اور بے چین روح کو قرار آگیا ہو جبکہ خانہ کعبہ کا جاہ وجلال انسان کو اپنی اوقات یاد دلا دیتا ہے کہ اس کی حیثیت زمین پر موجود ایک حقیر کیڑے سے زیادہ نہیں ہے وہ خوف اور امید کی حالت میں ہوتا ہے خوف اس وجہ سے کہ اگر خانہ کعبہ کے گرد طواف کرنے کےباوجود بھی اس کے گناہ معاف نہ ہوئے اور رب کو راضی کرنے میں ناکام ہؤا تو اس کا کیا بنے گا اور امید اس بات کی کہ انشاءاللہ اگر وہ رب کعبہ کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا تو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اس کے مقدر میں لکھ دی جائیں گی اور وہ گناہوں سے پاک ہو کر لوٹے گا ۔
گردشِ لیل ونہار نے بڑی تیز رفتاری سے اپنا سفر طے کیا اورآخر کار 2 ستمبر کو مدینہ سے رخصت لینے کا وقت آگیا ۔فجر کی نماز کے بعد روضہ رسولؐ پر آخری سلام عرض کیا اور اشکبار آنکھوں سے گنبد خضرا کو الوداع کہہ کر ہوٹل کا رخ کیا تا کہ واپس مکہ جانے کے لیے تیاری کر سکیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعدبس آگئی اور مختلف ہوٹلوں سے زائرین کو لیتے ہوئے چار بجے جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئی تو ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا روتے روتے ہچکی بندھ گئی،شوہر صاحب نے تسلی دی اور کہا ’’مت روؤ انشاءاللہ جلد ہی تمہارا پھر بلاوا آ جائے گا‘‘ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں اپنا دل وہیں مسجد نبوی میں چھوڑ کر جا رہی ہوں میری زندگی کا اب کوئی مقصد نہیں ہے بس اب مجھے موت آ جائے اور میں جنت البقیع میں دفن کر دی جاؤں لیکن ہمارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے ۔
اس موقع پر مجھے وہ بابا جی یاد آ گئے جو ہوٹل میں ہمارے پڑوسی تھے۔وہ اپنے کمرے کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھتے اور کراہتے رہتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا بابا کیا آپ کے کمرے کا اے سی کام نہیں کر رہا تو کہنے لگے’’ میں بیمار آ ں، میں بیمار آ ں‘‘سمجھ میں تو آگیا تھا کہ یہ بیمار ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہؤا کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا ۔معلوم کرنے پر پتہ چلا پنجاب کے کسی گاؤں سے اپنی مسجد کے امام کے ساتھ آئے ہوئے ہیں ،یہ بیمار پڑ گئے تو ان لوگوں نے انہیں کمرے میں اکیلا ہی چھوڑ دیا۔ تیسرے دن ان بابا جی کا انتقال ہو گیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر متنفس کے بارے میں پہلے ہی لکھ دیا ہے کہ اس کی روح کہاں قبض کی جائے گی اور اس کی تدفین کہاں ہوگی ۔بعد میں پتہ چلا کہ ان کے وارثین سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کو جنت البقیع میں دفن کیا جا سکے۔یعنی’’ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘۔
دوسرے عمرے کی نیت ہم نے ہوٹل سے نکلتے وقت ہی کر لی تھی راستے میں مغرب کی اذان ہوئی تو مسجد کے پاس بس رکی سب نے نماز ادا کی اور دوبارہ سفر کا آغاز ہؤا ۔جیسے ہی سورج نے اپنا سفر مکمل کیا اور رات کی تاریکی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا تو گھپ اندھیرا چھا گیا ایسے میں لق ودق صحرا اور سیاہ پہاڑوں کو دیکھ کر قدرے خوف محسوس ہونے لگا کہ اتنے میں آندھی کے ساتھ بارش بھی شروع ہو گئی۔ اب تو لوگوں نے بلند آواز سے دعائیں مانگنی شروع کر دیں۔ خیر کچھ ہی دیر میں بارش رک گئی تو راستے میں ایک ہوٹل پر ڈرائیور نے بس روکی تاکہ لوگ کھانا وغیرہ کھا لیں ۔
ہم بھی نیچے اترے۔ہلکی پھوار پڑ رہی تھی اور موسم بہت خوشگوار ہو گیا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم نے پانچ ریال کے آدھا کلو کیلے خریدے اور دوبارہ سفر کا آغاز ہؤا۔ رات کے تقریبا 12 بجے ہم مکہ پہنچ گئے اس دفعہ ہوٹل چونکہ حرم کے نزدیک ہی کبوتر چوک پر تھا تو سامان رکھتے ہی فوراً دوسرے عمرے کی ادائیگی کے لیے نکل پڑے ۔کبوتر چوک سے یاد آیا کہ میں اپنے لیے بُھنے ہوئے چنے پاکستان سے لے گئی تھی وہ سب کے سب میں نے حرم کے کبوتروں کو کھلا دیے اور اس وقت دل کو جو خوشی و سکون ملا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ دونوں شہروں میں اس وقت گرمی بھی اپنے عروج پر تھی مکہ میں تقریبا 44 ڈگری سینٹی گریڈ اور مدینہ میں 43 ڈگری سینٹی درجہ حرارت تھا۔ میری کوشش ہوتی تھی کہ ہوٹل سے پیدل حرم آتے جاتے لمبے لمبے سانس لوں تاکہ مکہ کی ہؤاؤں کو اپنے اندر جذب کر لوں ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ مجھے حرم کے اندر جانے کے بعد کچھ یاد نہیں آ تا نہ بچے نہ کھانا پینا، بس صرف یہ یاد رہتا کہ میرایہاں گزرا ہؤا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، میں کیسے اپنے رب کو راضی کر لوں ۔ کوشش کرتی تھی کہ زیادہ تر وقت یا تو طواف میں گزرے یا خانہ کعبہ کے سامنے عبادت میں گزرے کیونکہ پتہ نہیں اگلی حاضری کب نصیب ہو۔
آخری چار دن مکہ میں گزارنے کے بعد آخر کار بیت اللہ سے بھی رخصت لینے کا وقت آگیا۔ خانہ کعبہ کا آخری مرتبہ طواف کر کے جب ہوٹل کے لیے نکلی تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جسم تو ساتھ جا رہا ہے لیکن روح وہیں خانہ کعبہ کا طواف کر رہی ہے۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا تا کہ ہوٹل پہنچ کر سامان وغیرہ پیک کرسکوں ۔پھر انتہائی غمزدہ دل کے ساتھ جدہ ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے جہاں کراچی کی طرف اڑان بھرنے کے لیے جہاز تیار کھڑا تھا۔
اپنے اس بابرکت سفر میں جو بات میں نے محسوس کی وہ یکجہتی وبھائی چارہ ہے، دنیا کے ہر رنگ و نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے سب ایک اللہ کے آگے سر بسجود ہیں ،نہ کوئی رنگ کی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہے اور نہ کوئی احساس برتری محسوس کر رہا ہے۔ سب اللہ رب العالمین کو راضی کرنے کے لیے گڑگڑاتے نظر آئے ۔اسی طرح مسجد نبوی میں بھی ہر طرف حب رسول ؐمیں ڈوبے ہوئے لوگ محبتوں کے نذرانے نچھاور کرتے نظر آئے۔کس چیز نے ان سب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے؟ یقیناً سب کے سب ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قرآن کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ وہاں ہم سب امت مسلمہ کی عملی تصویر بنے نظر آتے ہیں جنہیں حدیث میں جسد واحد کہا گیا ہے۔ سب ایک دوسرے کا درد محسوس کرتے ہیں اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہیں ہونے دیتے بلکہ آسانیاں فراہم کرتے ہیں گویا کہ علامہ اقبال کے ان اشعار کے عملی نمونے ہمیں جا بجا نظر آتے ہیں؎
یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری محبت کی فراوانی
بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
پھر کیا وجہ ہے کہ وہاں سے واپس آنے کے بعد ہم مختلف قوموں، قبیلوں، فرقوں اور مسلکوں کے اختلافات میں بٹ جاتے ہیں ایک دوسرے کا درد محسوس نہیں کرتے خواہ وہ مسئلہ فلسطین ہو یا مسئلہ کشمیر یک زبان ہو کر حق کی بات نہیں کرتے۔ کاش امت مسلمہ کے اندر حرم سے باہر بھی وہی جذبہ ایمانی بیدار ہو جائے جو ان کو حرم کے اندر جوڑے رکھتا ہے تو باطل قوتوں سے ٹکرانا اور انہیں شکست سے دوچار کرنا کتنا آسان ہو جائے۔ جہاز کے اندر بیٹھے بیٹھے میں یہی سب سوچتی رہی اور چار گھنٹے کا ہؤائی سفر اختتام پذیر ہو گیا۔ اس وقت رات کے ٹھیک 12 بج رہے تھے ، تاریخ بدل چکی تھی ،سات ستمبر 2023 کو کراچی ایئرپورٹ پر اتر کر اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اپنے شریک زندگی کے ساتھ اس بابرکت سفر کی سعادت نصیب فرمائی ۔لگیج بیلٹ سے سامان وصول کرنے میں ہمیں تقریباً دو گھنٹے لگ گئے، تھکن کے مارے کھڑا بھی نہیں ہؤا جا رہا تھا، ائرپورٹ سے باہر آئے تو اپنے دونوں بڑے بیٹوں کو منتظر پایا انھیں دیکھتے ہی ساری تھکن ہوا ہوگئی ۔رات کے تقریباًڈھائی بجے ہم گھر پہنچے تو دروازے پر چھوٹا بیٹا دادی کے ساتھ عمرے کی مبارک باد دینے کے لیے منتظر تھا۔
اللہ پاک ہماری تمام عبادات اور دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے ، بار بار حج و عمرے کی سعادت نصیب فرمائے ،ہمیں صحت وعافیت سے بچوں کا ساتھ دے اور جنت میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نصیب کرے( آمین )
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp