مجھےخالہ جان زہرا وحید کےایک صدقہ جاریہ کا پتہ چلا جو اس ہستی کی صورت میں تھا ۔ میرے پڑوس میں رہتی تھیں ۔ المیہ یہ ہے کہ زندگی میں ہم ایسے لوگوں کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔فرحت مختار مرحومہ کے بارے میں یہ باتیں ان کی بہو اور بیٹیوں نے بتائی ہیں ۔
22ستمبر کا دن طلوع ہورہا تھا۔فجر کی اذان ہورہی تھی اور مجھے احساس ہوا جیسے مؤذن رو رو کر اذان دے رہا ہے ۔ میں نے ماریہ سے پوچھا کیا مؤذن رو رہا ہے ؟ماریہ نے کہا ایسا ہی لگ رہا ہے ۔ تھوڑی دیر میں ماریہ نے بتایا شائستہ (فرحت خالہ کی نواسی ) کا میسج آیا ہے اس کی نانو فوت ہوگئی ہیں ۔ میں نے انا للّٰہ وانا الیہ رجعون پڑھا ۔فرحت مختار خالہ کا گھر ہمارے ہمسائے میں ہے ۔
لیکن مؤذن کا فرحت خالہ سے کوئی رشتہ ہے کیا ؟ میں نے سوچا اور بعد میں پتہ چلا وہ کوئی اور نہیں فرحت خالہ کے بڑے بیٹے صلاح الدین تھے،جومنصورہ ہسپتال کی ڈاکٹر عالیہ کے شوہر بھی ہیں۔ میرے پوچھنے پر فرحت خالہ کی بہو محمودہ نے بتایا، جب سے گلزار منصورہ کی مسجد بنی ہے ،فرحت خالہ کےوہی بیٹے صلاح الدین فجر کی اذان دیتے ہیں ۔ گھر میں ماں کی میت پڑی ہے اور بیٹا اذان دےرہا ہے رو کر، تو مجھے خالہ پر بہت رشک آیا۔ کیا گواہی مل رہی ہے نیک اولاد کی طرف سے ! اللہ قبول فرمائے آمین ثم آمین ۔
محمودہ نے بتایا کہ کافی دن سے طبیعت خراب تھی۔ بار بار بخار چڑھتا تھا ۔جسم بھاری ہونے سے اور ضعیفی کی وجہ سے واکر سے چلتی تھیں ۔ اذان ہوتے ہی نماز شروع کر دیتی تھیں ۔ اپنے آخری دن بھی انہوں نے عشاء کی نماز پڑھی ،بے چینی بہت زیادہ تھی، بار بار بے چینی کا اظہار کرتی تھیں ۔ گیارہ بجے محمودہ کو کہنے لگیں مجھے تیمم کرواؤ ۔ محمودہ نے کہا آپ نے عشاء کی نماز پڑھ لی ہے ،مگرانہوں نے مسح کیا اور لیٹ کر ہی نماز شروع کی اور وہ ان کی تہجد کی آخری نماز ثابت ہوئی ۔نماز کے بعد ایک بہت بڑی قے ہوئی اور اپنے بہو بیٹے کے ہاتھوں میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی ۔ انا للّٰہ وانا الیہ رجعون ۔ اللہ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو ان کا صدقہ جاریہ بنائے ،آمین۔
بیگم فرحت مختار مرحومہ چوہدری مختار احمد مرحوم کی اہلیہ تھیں ۔ مختار صاحب مرحوم و مغفور آٹھ سال پہلے انتقال کرگئے تھے ۔ اور دونوں میاں بیوی رکنِ جماعت تھے ۔فرحت خالہ کے شوہر ان کے تایا زاد تھےاور آٹھ بہن بھائی تھے ۔ مختار صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ ڈاکٹر عالیہ کے والد ان کے دیور تھے اور والدہ فرحت خالہ کی بہن تھیں ۔سسر محمد غوث دیو بند کے فارغ التحصیل تھے اور اپنے علاقے کے قاضی تھے ۔
فرحت خالہ کے اپنےوالد محمد یوسف انوری صاحب تبلیغی جماعت کے اکابرین میں سے تھے اور ریلوے کے اکاؤنٹس آفیسر تھے، بہت امیر لیکن ایماندار خاندان تھا ۔ اتنے امیر خاندان سے نکلی بیٹی ایک گاؤں میں بیاہی جائے اور اللہ کی رضا میں راضی ہو تو یہ بڑی بات ہے ۔ سسرال میں سات دیوروں کو پالا اور ان کی شادیاں کیں جبکہ خود ان کی شادی 16سال کی عمر میں ہوئی تھی ۔ اللہ نے بارہ بچوں سے نوازا تھا ۔ ان کو پالا جن میں ایک جوان بیٹا 21سال کی عمر میں روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیا ۔ اس وقت یہ لوگ وحدت کالونی میں رہتے تھے ۔ جب خالہ فرحت کو بیٹے کے ایکسیڈنٹ کا پتہ چلا وہ خود ہسپتال گئیں اور بیٹے کی میت سے کپڑا ہٹا کر دیکھا اور انا للّٰہ وانا الیہ رجعون پڑھا ۔ بڑے صبر کے ساتھ اور بڑے حوصلے کے ساتھ یہ غم برداشت کیا ۔ اس وقت خالہ جان زہراوحید مرحومہ ان کے بیٹے کے جنازے میں شریک ہوئیں اوردرس قرآن دیا۔ پھر خالہ جان زہرا کی صحبت میں فرحت خالہ جماعت اسلامی میں آئیں اور رکن جماعت بنیں ۔ میں سمجھتی ہوں یہ خالہ جان زہراکا صدقہ جاریہ تھیں ۔
دوسرا جوان بیٹا غیاث الدین 23 سال کی عمر میں کشمیر میں شہید ہؤا ۔ بیٹے کی شہادت پر بہت فخر تھا ۔ جب شہادت کی خبر ملی اور ان سے کہا گیا دریاں بچھائیں تو کہنے لگیں نہیں بلکہ بوتلیں لاؤ شہید کبھی نہیں مرتے ۔ اور تعزیت کے لیے آنے والوں کو خود بوتلیں کھول کھول کر پلائیں ۔ اپنے بیٹوں کوتحریک کا کارکن بنایا اور رات گئے پروگراموں میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا کیونکہ مختار صاحب رات کے وقت بیٹوں کے باہر ہونے کے خلاف تھے ۔ خالہ جان رات کے پروگراموں سے واپسی کے وقت خاموشی سے دروازہ کھولا کرتی تھیں ۔ جب بیٹے کی شہادت ہوئی تو مختار صاحب سے کہنے لگیں اس کی شہادت بھی میری وجہ سے ہوئی ہے ۔ اس کا کریڈٹ بھی مجھے جاتا ہے آپ کو نہیں کیونکہ جمعیت کا راستہ شہادت کی طرف جاتا ہے ۔
تیسرا بیٹا محمودہ کے شوہر ضیاء افغانستان گئے اور لاپتہ ہوگئے کوئی رابطہ نہیں رہا ۔ لیکن پھر بھی لبوں پر اللہ کا شکر تھا اور بالکل پریشان نہیں تھیں۔ یہ بات نظرۃ نعیم جو جامعہ المحصنات میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہی ہیں ،ان کی شادی کے بعد کی ہے ۔ نظرۃ نے بتایا بہنیں کبھی پریشان ہوکر روتیں تو وہ کہتیں میں ماں ہوکر پریشان نہیں ہوں تو تم لوگ صبر کیوں نہیں کرتیں ؟مدت بعد ایک دن اچانک فجر کے وقت فون آیا اور ضیا کو اللہ نے زندہ لوٹا دیا ۔ اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کیا ۔
ان کی بہویں محمودہ اور نظرۃ اور بیٹیاں باری باری ان کے لیے گواہیاں پیش کررہی تھیں کہ بطور ساس بہت اچھی تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بیٹوں کے رشتوں کے لیے کبھی کوئی لڑکی خاص طور پر جاکر نہیں دیکھی،کہتی تھیں لڑکیاں کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں جو جاکر دیکھیں ۔ ایک بہو ان کے دیور اور بہن کی بیٹی ہے،ڈاکٹر عالیہ ۔محمودہ بتاتی ہیں ان کی ساس نے ان کو بغیر دیکھے پسند کیا، بس یہی پوچھا نیک ہے دیندار ہے نمازی ہے بس ٹھیک ہے مجھے یہی بہت ہے ۔ منگنی کی اور محمودہ بتاتی ہیں جاتے وقت میرے کان میں کہہ گئیں ،بیٹی ہم سادہ سے لوگ ہیں رزق حلال کھانے والے ۔
فرحت خالہ کی دیورانی جو بہن بھی تھیں جب ان کا انتقال ہؤا تو ان کی چھے ماہ کی بیٹی تھی جو ڈاکٹر عالیہ کی چھوٹی بہن تھی ۔ خالہ جان نے اس کو اپنا دودھ پلایا اپنے بیٹے کا چھڑا کر، حالانکہ ان کا یہ بیٹا چار بیٹیوں کے بعد ہوا تھا ۔ اس بارے میں وہ کہتی تھیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچا لیا ۔ یہ بہت بڑی بات ہے ۔جب نظرۃ کی منگنی کرنے گئیں تو انگوٹھی پہنائی اور پھر دعا کروائی ۔ پھر شادی پر نظرۃ کہتی ہیں کہ میری امی نے ساس امی کو سٹیج پر دعا کرنے کا کہا ۔ اب گویا ہر خوشی میں دعا کی خوبصورت رسم ہوگئی ہے ۔
کام کرنے کا بہت شوق تھا ۔ رمضان کا چاند نظر آ تا تو ساری رات ہی بڑا اہتمام کرتیں۔ خود سالن بناتی تھیں اور ایک بڑی اہم بات جو بتائی گئی کہ وہ ہمیشہ ایک ہی سالن بناتی تھیں اور بڑا اہتمام کرتی تھیں ۔ کام والی جب کام ختم کرنے والی ہوتی تو ہمیں اشارہ کرتیں کہ اس کو کھانا کھلاؤ ۔ کام کے پیسے طے ہونے کے باوجود فالتو پیسے دیتی رہتی تھیں ۔اس پیرانہ سالی کے باوجود کرسی پر بیٹھ کر آٹا گوندھتی تھیں سبزی بنا دیتی تھیں منع کرنے کے باوجود ۔ بڑے بیٹے کو شکایت لگتی تو اس کے گھر سے جانے کے بعد بہو سے سبزی بنانے کے لیے اصرار کرتیں ۔ سبزی ایسے کاٹتی تھیں کہ ہر ٹکڑا ایک جیسا ہوتا ۔
ایک بیٹا ٹیپو سپیشل بچہ ہے ۔ اس کی بہت فکر رہتی تھی۔ اس کو اسپیشل سکول میں داخل کروایا تھا ۔ ابنارمل ہونے کے باوجود اس کی دینی تربیت کی۔ عام طور پر خواتین نارمل بچوں کی ایسی تربیت نہیں کرپاتیں جو انہوں نے اس بچے کی تربیت کی ۔ جمعہ کے روز جلدی چھٹی ہوتی تو ٹیپو صاحب سکول کی مسجد میں پہنچ جاتے ۔ باقی گاڑی میں بیٹھے بچے تنگ ہوتے دیر کی وجہ سے ۔ ٹیچر نے ٹیپو کو کہا آپ گھر جاکر نماز جمعہ پڑھ لیا کریں تو ٹیپو نے اپنی زبان میں کہا اس وقت نماز ختم ہو جائے گی ،اس پر اسکول کی انتظامیہ نے گھر والوں سے کہا آپ جمعہ کو اس کو چھٹی کروادیا کریں ۔ ٹیپو پوری اکیس تراویح وتر کے ساتھ پڑھتا تھا ۔ ایک دن بڑے بھائی تھکے ہوئے تھے ٹیپو سے کہا آج میں نے آٹھ تراویح پڑھنی ہے ، تو ٹیپو نے کہا میں نے اکیس پڑھنی ہے ۔ مجبوراً بھائی گھر واپس آگئے اور پوری نماز کے بعد ٹیپو کو دوبارہ لینے آئے ۔ٹیپو کو عادت ڈالی کہ کسی خاتون کے ساتھ ہاتھ نہیں ملانا کسی عورت کو دیکھنا نہیں نظر جھکا لینی ہے ۔ تو ایک دن ہسپتال میں خواتین کو دیکھ کر نظریں جھکائیں، گھر آکر بتایا تو خالہ جان بہت خوش ہوئیں اور اللہ کو مخاطب کرکے کہنے لگیں اے اللہ اس ابنارمل بچے کی میں نے جو تربیت کی ہے اس کو میرے حق میں گواہی کے طور پر لکھ لینا ۔
جب یہ ٹیپو پیدا ہؤا تو اس کے جسم کے کئی حصے بہت کمزور تھے ۔ بصیرت اور حکمت اتنی تھی کہ جو جسم کا حصہ کمزور تھا وہی چیزیں بکرے کی اس بچے کو کھلائیں، گردن زبان اور پھیپھڑے وغیرہ ،بچے کو طاقتور بنایا ، حالانکہ اس بچے سے ان کو کوئی دنیاوی فائدہ نہ تھا، صرف اللہ کی رضا کے لیے ۔ اللہ ان کی یہ کاوشیں قبول فرمائے آمین ۔
مختار صاحب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ریٹائر ہوئے ۔ وہ بتاتی تھیں کہ اس عہدے سے ریٹائر ہونے والے کئی کئی کاروں اور کوٹھیوں کے مالک ہوتے ہیں لیکن انہوں نے رزق حلال کے پیسوں سے چند مرلے کا گھر بنایا جو بہت چھوٹا سا ہے ۔ نظرۃ بتاتی ہیں کہ موت سے چند دن پہلے پوتے ملنے آئے تو اپنے پوتے حافظ عبد الباسط کو نصیحت کی کہ تمہارے داداجان نے اتنے بڑے عہدے پر ہونے کے باوجود دفتری معاملات میں کبھی کسی سے کچھ نہیں کھایا ۔ کہیں جانا ہوتا تو گھر سے کھانا ٹفن میں لے کر جاتے تھے ،بچوں کو ان کے دادا کی باتیں بتاتی ہوں کہ آگے دور فتن آرہا ہے، میں اپنی اگلی نسلوں کے لیے ایمان کی دعا کرتی ہوں ۔
ڈسپلن کی بہت پابند تھیں ۔ تحریکی زندگی اختیار کرنےکے بعد جس پروگرام میں کھانے کی پانی پلانے کی ڈیوٹی لگتی وہ خوش اسلوبی سےادا کرتی تھیں۔ کافی عرصہ تک مرکزی بک سٹور کی نگران رہی ہیں ۔ سیاسی کمپین پر نکلتی رہی ہیں ۔جو کام کیے بڑے جذبے اور شوق سے کیے ۔ نظرۃ نے بتایا کہ امی کے کپڑے سلوائے تھے آنے میں کچھ دیر ہوئی،رستے میں نظرۃ کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔ کافی بچت ہوگئی۔ جب امی کے پاس گئے اور سوٹ دیا تو بیٹے کو کہنے لگیں، صلہ رحمی کی نیت تھی اس لیے بچ گئے ۔کہا کرتی تھیں اونچی آواز میں تلاوت کیا کرو دیواریں گواہی دیں گی ۔ٹیپو کو بھی قرآن پڑھانے کے لیے استاد رکھ کر دیا ۔ایک ہزار فیس پر تو کچھ عرصے بعد استاد نے معذرت کرلی کہ یہ بچہ زیادہ نہیں سیکھ سکتا ۔ بہرحال ماں نے تو اپنی کوشش کی ۔ٹانگیں دبوانا پسند نہیں تھا ۔ لیکن آخری چند روز میں کہا میری ٹانگیں دبادو اور دم کردو ۔ ان پر دعائے جبریل پڑھ کر دم کیا تو کہا شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اور یہ دعا لکھوالی ۔
محمودہ نے بتایا کہ ہم تینوں بہوؤں کو ہلکے نمک مرچ کھانے میں پسند ہیں اور سسر کو بھی لیکن فرحت خالہ کو سپائسی کھانے پسند تھے ۔ کہتی تھیں تینوں بہوئیں سسر کی پسند کے کھانے بناتی ہیں تیز مصالحے کسی کو پسند نہیں۔ اپنے شوہر کا ہر کام خود کرتی تھیں ۔بہت مہمان نواز تھیں ۔ اپنی موت سے ایک گھنٹہ پہلے سب سے کھانے کا پوچھا ۔ بہوؤں کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔بڑی اہم بات کہ انہوں نے اپنا کفن اپنے سائز کا خود سی کر رکھا ہوا تھا آب زم زم میں بھگو کر اور ساتھ ایک پرچہ بھی تھا اس پر لکھا تھا یہ فرحت مختار کا کفن ہے ،ہر چیز سی کر اس کا نام لکھ رکھاتھاتاکہ کسی کو کسی چیز کی پریشانی نہ ہو ۔ اللہ ان کے لیےاس جہان بھی آسانیاں فرمائے ، آمین۔
نظرۃ کو دس تولے سونا ملا تھا لیکن انہوں نے کبھی نہیں پوچھا کہ اس کا کیا کیا، یا وہ کہاں ہے ۔ رشتے داروں کے بارے میں غائبانہ تعریفیں کرتیں۔ بیٹوں کے سسرال والوں کی قدر کرتیں اور بیٹیاں تو ماں کا پرتو ہوتی ہیں ،بیٹیوں کی بھی بہت اچھی تربیت کی ۔بہوؤں کے ساتھ اور آپس میں دل صاف ہونے چاہئیں یہ بات ان کو پسند تھی۔ بہت رکھ رکھاؤ والی خاتون تھیں ۔ دوسروں پر بوجھ ڈالنا پسند نہیں تھا ۔میں نے ان سے جب ملاقات کی بہت اچھی طرح ملاقات کی اور ہمیشہ نصیحت کرتی تھیں کہ بزرگو ں سے دعائیں لینی چاہیئں، وہ اسی صورت میں ہے کہ آپ ان سے ملاقات کریں ۔
اللہ کی نیک بندی اپنے ذمہ کاموں کو خوش اسلوبی سے سر انجام دئے کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اپنی اس نیک بندی کے تمام کام جو انہوں نے کیےخصوصاً شوہر کے ساتھ حلال روزی میں گزربسر، جوان بیٹوں کی شہادت پر صبر ،معذور بیٹے کی دل وجان سے صرف رب کی رضا کے لیے بہترین تربیت،تحریک کے کام، اور ایسے نیکی کے کام جو ہم نہیں جانتے، اے اللہ صرف آپ جانتے ہیں، ان سب کو قبول فرما اور ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرما اور ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنا، آمین۔ ٭