گمان غیر یقینی علم ہے۔ یہ انسان کے دل کی کیفیت ہے، جس کی بنیاد تردد اور شک پر ہے۔گمان کرنے والا معاملے کے دو پہلووں کے بارے میں متردد ہو تا ہے۔ابن منظور کہتے ہیں کہ ظن اور گمان شک اور یقین کے درمیان ہے کہ اس سے عین الیقین حاصل نہیں ہوتا۔اور اس کا یقین تدبر کے ساتھ ہے۔اور زبیدی کے نزدیک ظن اور گمان راجح تردد ہے، کیونکہ معاملے کے دونوں جانب غیر پختہ اعتقاد ہے۔
ظن علم کے درجات میں سے ایک درجہ ہے۔ یہ شک سے بڑا ہے اور یقین سے کم تر۔ یعنی کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کی جانب میلان۔
ظن اور گمان میں خطأ کا احتمال رہتا ہے۔راغب اصفھانی کا قول ہے کہ:’’ ظن اگر درست ہو تو یہ علم کو پختہ کرتا ہے اور جب یہ بہت کمزور ہو تو وہم کی حد سے آگے نہیں جاتا‘‘۔
قرآن کریم میں ’’ظن‘‘ کا لفظ تقریباً ۶۰ مرتبہ آیا ہے۔جن میں سے نصف میں اسم کے طور پر آیا ہے (الظن)، اور نصف میں فعل کے طور پر جیسے (یظنّون)۔
بد گمانی ایک قسم کا جھوٹا وہم ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو ہر ایک کے کام میں بد نیتی معلوم ہوتی ہے اور کسی کے کام میں اس کو حسنِ نیت نظر نہیں آتا۔دوسروں کی جانب ایسی باتیں منسوب کرنے لگتا ہے جو واقع ہی نہیں ہوئیں۔ بد گمانی اور سوء ظن میں انسان کا دل لوگوں کے بارے میں برے خیالات سے بھر جاتا ہے۔اور اسے ان پر بھروسہ نہیں رہتا۔اور اس بدگمانی کا اظہار اس کی زبان اور رویے سے ہونے لگتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘۔ (الحجرات،۱۲)
اس آیت میں اہلِ ایمان کو مخاطب کر کے بعض ایسی باتوں سے روکا گیا ہے جو بظاہر تو معمولی نظر آتی ہیں مگر انسان کے خود اپنے دل کو ایسے روگ میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ وہ تقویٰ کی روئیدگی کے لیے بالکل ناساز گار ہو جاتا ہے۔اس وجہ سے جن کو ایمان عزیز ہو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان آفتوں سے محفوظ رکھیں۔
یہاں پر مطلقاً گمان سے روکا نہیں گیا ہے بلکہ بہت زیادہ گمان کرنے اور ہر طرح کے گمان کی پیروی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
ایک قسم کا گمان وہ ہے جو اخلاق میں نہایت پسندیدہ ہے۔ اور دین کی نظر میں مطلوب و محمود ہے، مثلاً اللہ اور اس کے رسول اور اہلِ ایمان سے نیک گمان اور ان لوگوں سے بھی حسنِ ظن رکھنا جن سے اس کا میل جول ہو اور جن کے متعلق بدگمانی کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔
دوسری قسم کا گمان وہ ہے جس سے کام لینے کے سوا عملی زندگی میں کوئی چارہ نہیں ہے۔مثلاً عدالت کے معاملات جہاں جج اور قاضی غالب گمان کی بنا پر فیصلے کرتے ہیں۔ ان کا علم شہادتوںکی بنیاد پر ہوتا ہے جو زیادہ تر یقین نہیں بلکہ ظنّ ِ غالب پر مبنی ہوتا ہے۔
گمان کی تیسری قسم وہ ہے جو ہے تو بدگمانی، مگر جائز نوعیت کی ہے اور اس کا شمار گناہ میں نہیں ہو سکتا۔مثلاً کسی شخص یا گروہ کی سیرت وکردار میں ایسی واضح علامات پائی جاتی ہوںجن کی بنا پر وہ حسنِ ظن کا مستحق نہ ہو اور اس سے بدگمانی کرنے کے لیے معقول وجوہ موجود ہوں۔ایسی حالت میں شریعت کا یہ مطالبہ ہرگز نہیں ہے کہ آ ٓدمی سادہ لوہی برت کر ضرور اس سے حسنِ ظن ہی رکھے۔لیکن اس جائز بد گمانی کی آخری حد یہ ہے کہ اس کے امکانی شر سے بچنے کے لیے بس احتیاط سے کام لینے پر اکتفا کیا جائے۔محض گمان کی بنا پر کوئی کارروائی کر لینا درست نہ ہو گا۔
چوتھی قسم کا گمان جو درحقیقت گناہ ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی کسی شخص سے بلا سبب بدگمانی کرے، یا دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں ہمیشہ بدگمانی ہی سے ابتدا کیا کرے، یا ایسے لوگوں کے بارے میں بدظنی سے کام لے جن کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ وہ نیک اور شریف ہیں۔(تفہیم القرآن، ج۵،ص۸۷)
گمان کے حوالے سے پہلی بات یہ ارشاد ہوئی کہ انسان اپنے دل کو دوسروں سے متعلق بدگمانیوں کی پرورش گاہ نہ بنا لے کہ جس کی نسبت جو برا گمان بھی دل میں پیدا ہو جائے اس کو کسی گوشے میں محفوظ کر لے۔ انسان کو جن سے زندگی میں واسطہ پڑتا ہے ان سے متعلق کوئی اچھا یا برا گمان دل میں پیدا ہونا ایک امر فطری ہے۔یہی گمان آدمی کو آدمی سے جوڑتا یا توڑتا ہے۔اس پہلو سے یہ معاشرے میں وصل اور فصل کی بنیاد ہے۔اہلِ ایمان کو اسلام نے اس بارے میں یہ ہدایت دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھے الا آنکہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اس نیک گمان کا سزا وار نہیں ہے۔یہ نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضا ہے جس پر اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔اگر کوئی شخص یہ اصول ٹھہرا لے کہ جو رطب ویابس گمان اس کے دل میں پیدا ہوتے جائیں ان کو سینت سینت کر رکھتا جائے تو گمانوں کے ایسے شوقین کی مثال اس شکاری کی ہے مچھلیاں پکڑنے کے شوق میں ایسا اندھا ہو جائے کہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے سانپ بھی پکڑ لے۔ظاہر ہے کہ مچھلیوں کے شوق میں جو شخص ایسا اندھا بن جائے گا اندیشہ ہے اسی شوق میں کسی دن وہ اپنی زندگی بھی گنوا بیٹھے گا۔قرآن نے یہاں اسی خطرے سے مسلمانوں کو روکا ہے کہ گمانوں کے زیادہ درپے نہ ہو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔اس سے یہ تعلیم نکلی کہ ایک مومن کو بد گمانیوں کا مریض نہیں بن جانا چاہیے، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں سے حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔اگر کسی سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو بد گمانی پیدا کرنے والی ہوتو حتی الامکان اس کی اچھی توجیہہ کرے، اور اس کے برے پہلو کو اسی شکل میں اختیار کرنا جائز ہے جب اس کی اچھی توجیہہ نہ نکل سکتی ہو۔اگر بدگمانی کے سزاوار سے آدمی کو خوش گمانی ہو تو یہ بات اس کے مقابلے میں اہون ہے کہ وہ کسی خوش گمانی کے حق دار سے بدگمانی کرے۔حدیث شریف میں مومن کی یہ تعریف آئی ہے کہ ’’المؤمن عر کریم‘‘ یعنی مومن بھولا بھالا شریف ہوتا ہے۔(تدبر القرآن، امین احسن اصلاحی، ص۵۰۹۔۵۱۰)
اس آیت میں مطلقاً گمان کرنے سے روکا نہیں گیا، بلکہ بہت زیادہ گمان سے کام لینے اور ہر طرح کے گمان کی پیروی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
آنحضرتؐ نے جب بدگمانی سے بچنے کی تاکید کی تو اس کے ساتھ ہی بغض و حسد اور دوسروں کے معملات کے تجسس کی بھی ممانعت فرمائی کیونکہ وہ بدگمانی کے اسباب یا اس کے لازمی نتیجے ہیں، فرمایا: ’’تم بدگمانی سے بچو، کیونکہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے، تم دوسروں کے ٹوہ میں نہ رہا کروا ورنہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی بے جا ہوس کرو اور نہ آپس میں حسد رکھو اور نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو، اور اے اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ‘‘۔ (رواہ البخاری،۲۵۶۳، ومسلم)
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’جس نے اپنے بھائی سے متعلق بدگمانی کی بلا شبہ اس نے اپنے رب سے بدگمانی کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: (بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو)‘‘۔ (کنز الاعمال ،۷۵۸۲)
حضرت حارثہ بن نعمانؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ؐ نے فرمایا: ’’میری امت میں تین چیزیں لازماً رہیں گی؛ بدشگونی، حسد اور بدگمانی۔ ایک صحابیؓ نے عرض کی ،یا رسول اللہ! جس میں یہ تین خصلتیں ہوں وہ ان کا تدارک کس طرح کرے؟ فرمایا: جب تم حسد کرو تو اللہ سے استغفار کرو، جب بدگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب تم شگون لو تو اس کام کو کر لو‘‘۔ (المعجم الکبیر،۳۲۲۷)
بدگمانی کے مواقع پیدا کرنے سے بھی بچنا چاہیے، آپؐ نے فرمایا: ’’جب تین آدمی اکٹھے ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی نہ کریں‘‘۔ (رواہ البخاری،۶۲۸۸)
بدگمانی سے بچنا
بدگمانی کی ایک بڑی وجہ ان معاملات کے پیچھے پڑجانا ہے جن کا علم نہ ہو۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضح ہدایات دی ہیں، فرمایا:
’’کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے‘‘۔ (بنی اسرائیل،۳۶)
قرآن کریم یہ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل پوری تحقیق کرو اور معاملہ کو پایہ ثبوت تک پہنچاؤ۔ یہ اسلام کا نہایت ہی باریک طریقِ کار ہے۔جب دل اور دماغ اس منہاج پر گامزن ہو جائیں تو پھر وہم وگمان کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی۔اور معاملات اور فیصلوں کا مدار تحقیق اور ثبوت پر ہوتا ہے، مفروضوں پر نہیں۔انسانیت اور یہ علمی اور سائنسی انداز سب سے پہلے قرآن نے دیا ہے کہ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں ہے۔ یعنی کسی بھی بات کی صحت کا وثوق حاصل کرنا نہایت اہم ہے، خواہ بات ہو یا کوئی روایت ہو، کسی منظر کی تشریح ہو یا کسی واقعہ کے اسباب پر بحث ہو، کوئی شرعی اور قانونی معاملہ ہو یا کوئی اعتقادی یا نظریاتی مسئلہ ہو۔ حدیث شریف میں ہے: ’’گمان سے بچو ، کیونکہ ظن وتخمین کی بات جھوٹی بات ہوتی ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد)
فرمایا: ’’کسی شخص کی یہ بہت بری سواری ہے کہ وہ کہے: لوگ یہ سمجھتے ہیں‘‘۔(سنن ابی داؤد)
رزق میں بدگمانی
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور اس کا کھانا کھائے تو اس سے پوچھ گچھ نہ کرے اور اس کا پانی پیے تو پوچھ گچھ نہ کرے‘‘۔ (مسند احمد، ۳۱۸۴)
یعنی ایک مسلمان کو دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اس کا کھانا اور پانی حلال ہے، اور اس کی کمائی حلال ہے۔کیونکہ اس طرح کے سوالات صاحبِ خانہ کی پریشانی اور ایذا رسانی کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر کسی رستوران میں کھانا کھائیں تو ان کے برتنوں کی گندگی اور اور بلا سبب کھانے کے بارے میں تبصرے کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔اسی طرح قصاب سے گوشت لینے کے بعد اس کے درست طریقے سے ذبح نہ کرے کے بارے میں بدگمانی نہ کرنی چاہیے۔
بد گمانی فتنہ وفساد کی جڑ
بلا سبب بد گمانی کرنا فتنہ و فساد کی جڑ ہے۔ اور یہ بدگمانی معاشرے میں شر اور فساد پھیلاتی ہے۔ اور یوں معاشرے کا عمومی رویہ بدگمانی کا بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر کے بارے میں بد گمانی کہ اس نے درست علاج نہیں کیا اور اگر عملِ جراحی کی ضرورت پڑی تو اس میں لازماً ڈاکٹر کی بدنیتی شامل ہے۔ اگر کسی مریض کا انتقال ہو گیا تو لازماً ڈاکٹر کی غفلت اور عدم توجہ اس کا سبب ہے۔
اسی طرح گھروں میں ازواج اور اولاد کی ایک دوسرے سے بدگمانی انہیں بسا اوقات ایک دوسرے کا دشمن بنا دیتی ہے۔ شوہروں کا بیویوں سے بد گمان رویہ اور بیویوں کا شوہروں پر عدم اعتماد فتنہ و فساد کی جڑ ہے۔ایسے رویے گھروں کی پر اعتماد فضا کے لیے زہر قاتل ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘ ‘ ۔( الحجرات)
حاکموں کی بد گمانی
رسول اللہؐ نے فرمایا:’’ حکمران جب لوگوں کے اندر شبہات کے اسباب تلاش کرنے لگے تو وہ ان کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے‘‘۔(ابوداؤد)
یعنی لوگوں سے بدگمانی رکھنا اور ان کے عیوب تلاش کرتے رہنا معاملات کو سدھارتا نہیں بلکہ انہیں مزید بگاڑ دیتا ہے۔
حضرت معاویہؓ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ؐ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’اگر تم لوگوں کے مخفی حالات معلوم کرنے کے درپے ہو گے تو ان کو بگاڑ دو گے یا کم از کم بگاڑ کے قریب پہنچا دو گے‘‘۔ (ابو داؤد)
ایک اور حدیث میں فرمایا: ’’ جب کسی شخص کے متعلق تمہیں برا گمان ہو جائے تو تحقیق نہ کرو‘‘۔(احکام القرآن للجصاص)
بدگمانی انسانی حقوق کی پامالی کا ایک بڑا سبب اور معاشرتی آداب کے انتہائی خلاف ہے۔
بدگمانی کا علاج
بدگمانی ایسا مرض ہے جو ہر خوب صورت شے کو قتل کر دیتی ہے۔بدگمانی شیطان کا قوی ہتھیار ہے، اس کے ذریعے سے وہ دو مخلص لوگوں کے دل ایک دوسرے سے دور کر دیتا ہے اور ان میں محبت کے بجائے نفرت بھر جاتی ہے۔
۱ ۔اپنا احتساب کرنا بھی بدگمانی سے بچاتا ہے۔جب انسان اپنے عیوب کو نگاہ میں رکھے اور ان کی اصلاح میں لگا رہے تو دوسروں کے عیب اسے چھوٹے لگنے لگتے ہیں۔اللہ کا عاجز بندہ بندوں سے بھی تواضع سے پیش آتا ہے۔
۲۔ ہر انسان نہ مجسم خیر ہے نہ شر۔ بلکہ وہ خیر وشر کا مجموعہ ہے۔ جس بھائی سے بھی اسے بد گمانی ہو رہی ہو، اس کی خامیوں پر نظر نہ رکھے بلکہ خوبیوں پر نظر رکھے۔
۳۔جب بھی کسی کے بارے میں سوء ظن پیدا ہو اسے شیطان کا وسوسہ سمجھے اور اس کی تصدیق نہ کرے، بلکہ برے گمان کو جھٹک دے اور اس سے توجہ ہٹالے۔
۴۔نیکی کا حریص بنے، تاکہ دوسروں کی بھی نیکیاں نظر آئیں۔
۵۔بری صحبت سے بچے، اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرے۔ خاص طور پر ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھے جو ہر وقت دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرتے رہتے ہیں۔
۶۔ جب بدگمانی پیدا ہو تو اپنے دل کو برائی سے نہ بھرے۔ اور اس سے متنفر نہ ہو۔ کیونکہ شیطان تو دلوں میں نفرتوں کے بیج بونا چاہتا ہے۔مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس لیے بلا تحقیق کسی سے بدگمانی نہ کرے۔
۷۔جب دل میں بدگمانی پیدا ہو تو اپنے اور اپنے بھائی کے لیے دعا کرے۔
بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا ہے:
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب وہنر
پڑی اپنی برائیوں پہ جونہی نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
بدگمانی کئی برائیوں کی جڑ ہے، یہ ایسی برائی ہے جو خیرِ کثیر سے محروم کر دیتی ہے۔ کتنے محبت کرنے والے دلوں سے کدورت پیدا کر دیتی ہے۔بد گمانی سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ اور جب سوء ِ ظن کا حملہ ہو اس سے بچنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اپنی زبان سے اس کا افشا نہ کریں۔اور دل ہی دل میں اس کیفیت کو پرکھیں کہ کہیں یہ شیطان کا حملہ تو نہیں ہے۔اگر زبان کو اس کے ذکر سے بچا لیا تو یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے، رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’اور کیا انسان اپنی زبان کی کٹی ہوئی کھیتیوں کے سبب آگ میں نہیں گریں گے‘‘۔(ہدایۃ الرواۃ،۲۸)
انسانوں کے بارے میں عمومی طور پر حسنِ ظن ہی اختیار کرنا چاہیے۔اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ دوسروں میں خیر اور بھلائی نہیں پائی جاتی۔کسی کے بارے میں اچھا گمان کرنے کے بعد آپ کو ندامت ہو، یہ اس سے بہتر ہے کہ آپ کسی کے بارے میں برا گمان کریں اور پھر آپ کو ندامت ہو۔اور سب سے بڑھ کر اچھا گمان اللہ سے ہونا چاہیے۔جو اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے اسے دنیا میں حقیقی مسرت حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں نجات ملے گی۔
انسانوں کے بارے میں آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں اور احمقانہ حد تک حسنِ ظن نہیں رکھنا چاہیے اور نہ وسوسے اور وہم کی پیروی کرتے ہوئے بد گمانی کرنی چاہیے۔
٭٭٭

