بہت مہذب پڑھا لکھا گھرانہ ،مال دولت کی کوئی کمی نہیں، بڑے سے بڑے عہدے اس گھرانے کی میراث ہیں تو جاگیر کے نام پر بھی سیکڑوں ہزاروں نہیں لاکھوں گھرانوں سے آگے ہی تھے۔تعلیم کے حصول میں مرد ذات کو کوئی امتیازی فوقیت حاصل نہیں تھی۔’’تعلیم سب کے لیے‘‘یہ گھر کے سربراہ کا ماٹو تھا۔
لیکن ان سب کے باوجود رسوم و رواج اور طور طریقوں میں بہت حد تک پرکھوں کے طریقے پر عمل پیرا تھے۔خاندان کی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کی تگ ودو میں لڑکوں کے برابر ہی نہیں کہیں آگے تھیں مگر سیروسیاحت کے لیے نہیں جاسکتی تھیں۔نیلم اسی گھرانے کی سنجیدہ بردبار قسم کی لڑکی تھی۔ تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑے، اپنے نام کے بینر سے پورے شہر کی شان و شوکت میں اضافہ کیا لیکن تعلیم حاصل کرنے کے اٹھارہ سالوں میں ایک مرتبہ بھی سکول کالج یا یونیورسٹی کی طرف سے تفریحی ٹرپ پر جانے کی اجازت نہیں ملی۔
سکول کے زمانے میں تو ہیڈ سائفن، ہیڈ بلو کی ، مینار پاکستان اور بادشاہی مسجد جیسے مقامات تھے ٹی وی پر دن میں بیس مرتبہ زیارت ہوتی لیکن کالج میں پہنچی تو مری ایوبیہ گلی خانس پور سے قلعہ رہتاس تک کلاس فیلوز کا اس کے بغیرسفر کئی دنوں تک اس کے سینے سے ہوک بن کر نکلتا رہا۔بات بعد میں کرتی ہوکا پہلے نکلتا۔ کئی سہیلیوں نے اس کانام ہی مسں ہوکا رکھ دیا تھا۔
یونیورسٹی کے دو تفریحی اور مطالعاتی ٹورز چترال اور بہاولپور کے تھے۔ نواب عباسی آف بہاولپور اس کی باقیات اور بہت سی چیزیں جنہیں دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق تھا لیکن باپ نے ’’ شادی کے بعد‘‘ کہہ کر دس من وزنی قدغن لگائی تو اس کی دونوں روشنی دیتی آنکھوں کا دیا بہت مدت تک بجھ سا گیا۔پھر شادی ہوئی منہ دکھائی کے کنگن کی اسے رتی برابر خوشی نہ ہوئی۔ وہ تو سیاحت کے لیے ہنی مون پر جانے کے خوبصورت ترین الفاظ کی منتظر رہی۔ جب تادیر یہ الفاظ نئے نویلے نصف بہتر کے منہ سے برآمد نہ ہوئے تو اس نے ڈھیٹ بن کر خود ہی پوچھ لیا۔
’’ کیا ہم شادی کی خوشی میں کہیں نہیں جائیں گے ؟‘‘
شوہر نامدار نے دھیمے سے کہا ’’اماں ذرا پرانے زمانے کی ہیں….ان کے نزدیک یہ ہنی مون وغیرہ سب بے حیائی کے کام بلکہ فضول کے چونچلے ہیں…. لیکن تم ٹینشن نہ لو ہم دعوتوں پر تو جائیں گے ہی….میرا پہلا اور آخری وعدہ یہی ہے کہ ہر صورت میں ورلڈ ٹور پر لے کر جاؤں گا….کب اور کیسے ؟ اس کے متعلق ابھی پلاننگ کروں گا‘‘۔
نئے رشتہ سے منسلک ہوئے دس اور ایک گیارہ گھنٹے ہی تو گزرے تھے، اس وعدے پر وہ کیا ردعمل ظاہر کرتی سوائے اس وقت کے انتظار کے جو اس نے صبر شکر کے ساتھ کرنا ہی تھا۔
شادی کا پہلا سال مکمل ہونے تک حالات موافق نہیں تھے۔وہ کئی مرتبہ یاد دہانی کروا چکی تھی کہ ورلڈ ٹور تو میری سوچ سے اوپر کی چیز ہے آپ مجھے ناران کاغان سکردو تک لے جائیں یہ علاقے دیکھنا مجھے ورلڈ ٹور سے زیادہ خوشی دے گا۔لیکن گھریلو مسائل آڑے آتے رہے۔ پھر اللہ نے اسے اولاد نرینہ دی۔ اس کی سسرال والوں میں اس کے بیٹے اور اس سے پہلے کسی لڑکےکی پیدائش میں بتیس سال کا فاصلہ تھا۔اس کا شوہر بتیس برس کا ہؤا تو اللہ نے اس گھرانے کو خوشی عطا فرمائی۔اس کی تینوں نندیں بھائی سے چھوٹی تھیں ایک بہن کی شادی چار سال قبل ہوئی تھی اس کی بھی دو بیٹیاں ہی تھیں۔
بتیس سال کے بعد ملنے والی خوشی اس کے لیے بہت بڑا امتحان تھا ۔وہ گرم نہیں کھا سکتی تھی بچے کا گلا خراب ہوجائے گا۔
وہ ٹھنڈا نہیں پیٗ سکتی تھی بچے کو نمونیہ ہوجائے گا۔
وہ مرچ مصالحوں والی چیز نہیں کھاسکتی تھی بچے کا پیٹ خراب ہوجائے گا۔
کیا وہ مری کاغان ناران جاسکتی تھی؟
ہرگز نہیں….قطعاً نہیں!
دو سال عرصہ رضاعت میں گزارنے کے بعد سسر کی طویل بیماری ان کی وفات دوسرے بچے کی پیدائش آرام سے اس کی زندگی کے کیلنڈر میں سے تین صفحات کھا گئی۔لیکن ان تین سالوں میں اس نے کم از کم تین سو مرتبہ گھومنے پھرنے کا دل ہی دل میں منصوبہ بنایا!
بڑا بیٹا سکول جانے کے قابل ہؤا تو اسے اپنی تعلیمی ڈگریاں یاد آئیں ،اگر وہ بچے کے سکول میں جاب کر لے تو وہ بچے کی پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں کو اچھی طرح قریب سے دیکھ لے گی۔مسئلہ فیس کم ہونے یا تنخواہ کا قطعی نہیں تھا سسرال بھی اپنے علاقے کے خوشحال گھرانوں میں سے ایک تھا ،مسئلہ صرف بچوں کی تربیت کا تھا ۔دوسرا بچہ سکول جانے کے قابل ہؤا تو تیسرا دنیا میں آنے کے لیے بالکل تیار تھا۔مگربچوں کی اچھی تربیت کے لیے کمر کس کر وہ میدان میں آگئی تھی۔
ساس کی ناگہانی وفات کے بعد اسے ملازمت چھوڑنا پڑی کیونکہ دونوں چھوٹی نندیں شادی کا ٹیگ لگواچکی تھیں۔
چار چھ سال گزرے میاں کواس نے وعدہ یاد دلایا۔ چھوٹی نند کو اپنی عدم موجودگی میں گھر میں رہنے پر آمادہ کیا۔ بہت دنوں گوگل پر سرچ کرنے کے بعد اچھے فائیو سٹار ہوٹل میں بکنگ کروائی۔ جب وہاں کے موسم کے حساب سے خریداری کے لیے بازار گئی تو بہت بڑے شاپنگ مال کے داخلی ہال میں دیوار پر لگی سکرین پر شمالی علاقہ جات کے ازحد خراب موسم، ایک وین کھائی میں گرنے اور دو کلومیٹر لمبی گاڑیوں کی قطار کی خبر نے اسے حواس باختہ کردیا۔بغیر کسی خریداری کے وہ گھر واپس آئی۔
اگلے دوہفتے شمالی علاقہ جات کی تشویش ناک خبریں اسے کبھی شکرانے پر مائل کرتیں تو کبھی تیاری کے باوجود نہ جا سکنے پر حسرت دل میں نوکیلے کانٹے کی طرح چبھتی رہتی۔
بچوں کے امتحانات کے بعد وہ پھر ادھر ادھر سے معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف دکھائی دیتی۔یہ اس کی بدقسمتی تھی کہ اگلے دو تین سال تک اس کی جمع شدہ معلومات اس کا تنہائی میں منہ چڑاتی رہتیں۔شادی کے دس سال مکمل ہوئے اس نے میاں سے وعدہ کی تکمیل کی از سر نو یاد دہانی کروائی۔ساری دنیا کا چکر لگانے والے میاں نےجو بقول نیلم کے شادی کے بعد پاؤں پر مہندی لگا کر بیٹھ گیا تھا ،گرم جوشی سے تیاری اور ہر صورت میں لے کر جانے کی نوید سنائی۔
کچھ لوگوں کی دلی چاہتیں پوری ہونے کی جگہ ان کے مقدر میں یہ دنیا نہیں لکھی جاتی۔نیلم ان میں سے ایک تھی !
دوسری مرتبہ تو وہ تیاری کر کے گھر سے بھی نکل چکے تھے۔بچے بھی بہت خوش تھے اور اپنی خوشی کا اظہار چھوٹے چھوٹے سوالات کر کے کر رہے تھے۔نیلم کو اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کو سیر پر جانے کی اتنی زیادہ خوشی ہوگی۔ کئی مرتبہ اس نے سوچا کہ اللہ کے فیصلے واقعی درست ہوتے ہیں چار سال قبل جاتی تو بچوں نے کیا خاک لطف اندوز ہونا تھا ۔ایک کی انگلی پکڑے رکھنا پڑتی تو بڑے دو کی نگرانی میں ہی سارا وقت گزر جاتا اب کم از کم بچے اپنے آپ کو سنبھالنے کے قابل تو ہیں۔
اس نے جان بوجھ کر اپنا سیل فون سائلنٹ پر لگا دیا تھا۔اچھا ہے کوئی کال آئے گی نہ وہ ڈسٹرب ہوگی۔بیس پچیس منٹ بہت سکون سے گزرے ۔ایسے ہی بغیر کسی ارادے کے اس نے سیل فون ہاتھ میں لیا۔اس کی بہن کی دس مسڈ کالز ،بھابھی کی تین، امی کی چھے۔
دہل کر اس نے کال ملائی ۔اس کے بڑے بہنوئی ایکسیڈنٹ میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔اس ناگہانی صدمہ اور واپسی کے سفر کے لیے اپنے آپ کوقائل کرنا مشکل نہ ہوتے ہوئے بھی بہت مشکل تھا۔میاں بار بار شکر ادا کر رہا تھا کہ ہم ابھی سفر کے آغاز ہی میں ہیں اگر چار چھے گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد یہ روح فرسا خبر ملتی تو کتنا مشکل ہوتا!
آنسو حلق میں اتارتے ہوئے اس نے کہا۔
’’ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے‘‘۔
بہنوئی کی میت کے پاس پہنچ کر سب سے زیادہ بلک بلک کر رونے اور آنسو بہانے والوں میں وہ پہلے نمبر پر تھی۔اس لیے کہ اس کے غم میں وہ ان کہا غم بھی شامل تھا جو وہ کسی سے کہہ ہی نہیں سکتی تھی !
اس سانحہ کے بعد وہ تفریح کے لیے کہیں بھی جانے سے سچے دل سے تائب ہوگئی ۔اس کی چھوٹی نند دو مرتبہ شمالی علاقہ جات میں گئی بھیا گئے بال بچوں سمیت….اس نے کان ہی لپیٹ لیے۔اس نے بچوں کی طرح ہمکتے دل کو تھپکی دے کر سلا دیا تھا وہ کہیں جانے کے لیے پیدا ہی نہیں ہوئی۔ اب تک یہی ہؤا ہے ناں! گھریلو حالات سازگار ہوں تو تفریحی مقامات کے حالات ناسازگار ہوتے ہیں اور اگر وہاں کے سازگار ہوں تو گھر کی سرزمین ناسازگار حالات کی زد میں ہوتی ہے!
ہاں اپنی محرومی اور حسرت کو اس نے اپنے بچوں میں منتقل نہیں ہونے دیا۔تینوں بچوں کے تعلیمی اداروں کی طرف سے جہاں جہاں اور جتنے عرصہ کے لیے جانے کا پروگرام بتایا جاتا وہ نہ صرف اجازت دیتی بلکہ دلی خوشی کے ساتھ ان کی تیاری کرتی راستے کےلیے ان کی مرغوب اشیاء بنا کر دیتی۔جب بچے اسے راستے میں سے اطلاع دیتے خوش ہوکر تفریحی مقامات پر وڈیو کال کے ذریعے ماں کو جھلکیاں دکھاتےاس کی روح اندر تک سرشار ہوجاتی،وہ بار بار شکر ادا کرتی کہ اس کی چھوٹی بیٹی بھی کہیں بھی جانا چاہے جا سکتی ہے۔
زندگی کے کبھی سخت اور کبھی نرم تھپیڑوں نے اس کی جوانی کو بڑھاپے کا تپتا ریگزار بنادیا۔دونوں بیٹوں اور بیٹی کی تعلیمی مصروفیات بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل بھی بڑھتے چلے گئے اسے اپنی ماں کا مقولہ اکثر یاد آتا جو وہ تمام اولاد سے مخاطب ہو کر کہتی تھیں۔
’’جو کرنا چاہتے ہو ابھی کر لو اس لیے کہ بچے جتنے بڑے ہوں گے مسائل اتنے ہی بڑے ہوتے جائیں گے‘‘۔
اور اس کی ساس فرمایا کرتی تھیں۔
’’بچے کو پیٹ میں رکھنا آسان پیدا کرنا آسان پڑھانا لکھانا پال پوس کر جوان کرنا بھی آسان بس ان کے جوڑ تلاش کرنا بیٹیوں کو دوسروں کے حوالے کرنا بہوؤں کو گھر میں لاکر نئے ماحول میں ایڈجسٹ کروانا سب سے مشکل‘‘۔
وہ اسی مشکل ترین مقام پر پہنچ گئی تھی ۔بڑی بہو کی تلاش مکمل ہوئی تو دوسرے نمبر والا بیٹا روزی روٹی کے حصول کے لیے پردیس روانگی کی تیاریوں میں تھا۔اس کی قسمت اچھی تھی اسے بہو بہت اچھی اور تعاون کرنے والی ملی۔سب سے پہلے نیلم نے باورچی خانہ اس کے حوالہ کیا۔اس کے خیال میں عورت کی راجدھانی باورچی خانہ ہی ہوتی ہے جہاں وہ کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتی۔
دوسری وجہ یہ کہ….وہ دو منٹ بھی اپنے وزن پر کھڑا نہیں ہوسکتی تھی۔چار قدم چلتی تو سانس پھول جاتا مجبور ہو کر اسے سانس درست کرنے کے لیے دو ایک منٹ بیٹھنا پڑتا۔
آہستہ آہستہ اس نے گھر کے تمام سیاہ وسفید کا مالک بہو کوبنایا۔ اب اس کی ایک حسرت تھی وہ اپنے ہاتھوں اپنی بیٹی کو رخصت کرے۔دو سال کے بعد جب اس کا پوتا اور وہ ایک جیسی جسمانی حالت میں تھے،کھانے پینے تک کے لیے دوسروں کے محتاج تو دوسرے نمبر والا بیٹا پاکستان آیا۔بہن کی شادی کی تیاریوں میں اس نے اپنی پسند کی لڑکی بلکہ فیملی کی خبر سنائی جو پردیس میں اس کا واحد سہارا تھی۔لڑکی کی تصاویر دکھائیں اس سے وڈیو لنک پر بات کروائی۔سارے معاملات خوش اسلوبی سے طے پائے۔
بیٹی کی رخصتی کے بعد بیٹا بھی واپسی کے لیے تیار تھا۔پاسپورٹ بنوانے کے لیے جب نیلم اور اپنے باپ کو پاسپورٹ آفس لے کر گیا تاکہ جلد از جلد پاسپورٹ بنیں اور وہ والدین کے ویزہ کے لیے اپلائی کرسکے، گاڑی میں بیٹھنا قطار میں کھڑے ہوناایک کائونٹر سے دوسرے کاونٹر پر جانا اتنا تھکا دینے والا مرحلہ تھا کہ بار بار اس کا بی پی شوٹ کرتا رہا۔چار گھنٹے کے بعد گھر واپس آتے ہوئے وہ بلک بلک کر روئی،بیٹے کے آگے ہاتھ جوڑے۔
’’خدا کے لیے مجھےخوار نہ کرو میں تمہاری شادی میں وڈیو لنک کے ذریعے یہیں سے شامل ہوجائوں گی….اب شوق ہے نہ ضرورت کہیں جانے کی…گوڈے گٹے ویسے ہی جواب دے چکے ہیں۔ یہ پاسپورٹ بن کر ملیں نہ ملیں مجھے کوئی حسرت نہیں گھر سے نکلنے کی یا کہیں جانے کی….جو میرا مقدر تھا میں اس پر راضی ہوں ….میرے لیے یہی بہتر تھا‘‘۔
پھولی ہوئی سانس کو درست کرنے کے لیے نیلم بولتے بولتے رک گئی اور اس کا میاں تیس اکتیس سال کی قبل کی شادی کی پہلی رات یاد کر رہا تھا جب اس نے کہا تھا۔
’’میں ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے سیر کےلیے ضرور لے کر جائیں…. میری زندگی کااب تک ایک ہی ٹور ایک ہی ٹرپ ہے…. اور وہ ہے ابو کے ساتھ خانہ خدا کی زیارت کا….اس کے علاوہ ہمیں سیروتفریح کے لیے کہیں جانے کی اجازت نہیں تھی ….ہم سب بچوں کو انہوں نے اپنے ساتھ حج کروایا ہے بس…. لیکن مجھے دنیا گھومنے کا بہت شوق ہے….میں دنیا کا حسن دیکھے بغیر دنیا سے جانا نہیں چاہتی ‘‘۔
اور آج وہ سوچ رہا تھا کہ بدقسمت تو میں ہوں جو اس جگہ بھی نہ جا سکا جہاں سات زمین و آسمان کا حسن سمٹ جاتا ہے ….کم از کم نیلم نے دنیا کا وہ مقدس مقام تودیکھ ہی لیا اور فرض ادا کر لیا ہے جس سے میں اب تک محروم ہوں!
٭ ٭ ٭

