’’مختار مسعود صاحب ‘‘کی کتاب ’’آواز دوست‘‘ بہت عمدہ کتاب ہے۔اس کی نہ صرف زبان و بیان بہت زبردست ہےبلکہ مصنف انتہائی گہری بات کہنے والے فرد ہیں۔کتاب پڑھ کر اندازہ ہؤا کہ ادب میں قابلیت و صلاحیت انتہائی گہرے مطالعے سے آتی ہے۔یہ کتاب اپنے انداز تحریرکے لحاظ سے اپنی نظیر آپ ہے۔ ہر لفظ میں معنی کا ایک جہاں آباد ہےاور ہر جملہ اپنا پس منظر لیے ہوئے ہے۔پڑھنے والا جتنا زیادہ صاحب مطالعہ ہو اتنا ہی زیادہ لطف اندوز ہوگا۔قرآن و سنت کے حوالے،اسلام کا مخصوص انداز فکر،مسلمانوں کی تاریخ کے روشن و تاریک واقعات کی طرف اشارے،پاکستان کی جدوجہد آزادی کے مختلف سنگ ہائے میل، شخصیات کا اشاراتی خاکہ،قوانین فطرت کو واقعات سے جوڑدینا،منظر کشی کی صلاحیت، غرض یہ کہ ان کی تحریر میں جا بجا جڑے نگینے اپنا اپنا رنگ اور روپ دکھاتے ہیں۔پڑھنے والا صاحب دل ہو تو وہ دل تھام تھام کر رہ جاتا ہے۔
دیباچے میں وہ لکھتے ہیں:
’’اس کتاب میں صرف دو مضمون ہیں ۔ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر۔ان دونوں مضامین میں فکر اور خون کا رشتہ ہے۔ فکر سے مراد فکر فردا ہے اور خون سے خون تمنا‘‘۔
مختار مسعود کی تحریر’’مینار پاکستان‘‘ پڑھ لیجیے ۔ان کی لکھی ہوئی چار کتابوں میں سے یہ تحریر غالباً انکی اعلیٰ ترین تحریر ہے جس میں ان کا قلم اور خیال اپنے معیار اور فکر کے بلند ترین نقطے پر ہے۔اپنا قیام علی گڑھ کا دور، طالبعلمی کا زمانہ،قیام پاکستان کی قیامت خیز جدوجہد ،قائداعظم کی علی گڑھ اورعلی گڑھ کے طلبہ سے دلچسپی ،قائداعظم کی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ آمد کے مناظر،جامعہ میں قائداعظم کے خطاب کے دوران طلبہ کے متلاطم جذبات کی منظر کشی،ذاتی واردات قلبی،مسلم ہندوستان کی قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کے مدارج،پاکستان بننے کے بعد کے حالات پر مصنف کے تبصرے۔
غرض یہ کہ ، آدمی کہاں رکے، کہاں سنبھلے ،کب کدھر کی چوٹ بچائے۔ تحریر کا یہ عالم ہے کہ گویا جذبات کا بلاخیز دھارا ہے جو الفاظ اورجملوں کی صورت میں تاریخی واقعات ،شخصیات،مناظراور خیالات کو ساتھ بہائے لیے چلا جا رہا ہے۔اس دھارے میں مصنف کے جذبات اور احساسات نےعجیب رنگا رنگی پیدا کر دی ہے جو قاری کو بھی اپنے ساتھ محو سفر رکھتی ہے۔
سبق ’’مینار پاکستان‘‘ کا میرا پسندیدہ پیراگراف جس میں لکھتے ہیں :
’’اس برصغیر میں عالمگیری مسجد کے میناروں کے بعد جو پہلا اہم مینار مکمل ہوا ہے وہ مینار پاکستان ہے۔یوں تو مسجد اور مینار آمنے سامنے ہیں مگر ان کے درمیان یہ ذرا سی مسافت جس میں سکھوں کا گردوارہ اور فرنگیوں کا پڑاؤ شامل ہے تین صدیوں پر محیط ہے ۔میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا ان تین گمشدہ صدیوں کا ماتم کررہا تھا ۔مسجد کےمینار نے جھک کر میرے کان میں راز کی بات کہہ دی،جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہو جائیں ،جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے،ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو،اور جب مسلمانوں کو موت سے خوف آئے اور زندگی سے محبت ہو جائے،تو صدیاں یوں ہی گم ہو جاتی ہیں‘‘۔
اس پیراگراف میں مختار مسعود ماضی میں تین سو سال پیچھے تک چلے گئے ہیں جہاں بادشاہی مسجد لاہور کی تعمیر مکمل ہوئی ہے اور اس کے بعد مینار پاکستان کا قد بلند ہؤا۔مختار مسعود کہتے ہیں یوں تو دونوں مینار آمنے سامنے ہی ہیں مگر تعمیر کے درمیان تین سو سال کا فاصلہ ہے۔اس تین سو سالوں میں سکھوں کا گردوارہ پنجاب پر رنجیت سنگھ کے قبضے کی یاددلارہا ہے اور انگریزوں کی سامراجی حکومت کے دوسال بھی شامل ہیں۔یہ تین سو سال گویا برصغیر کی امت مسلمہ کے افراتفری اور غلامی کے سال ہیں۔اس بات کو راز کی بات کہہ کر مختار مسعود نے طشت از بام کردیا ہے کہ غلامی،ذلت،نکبت،خدافراموشی،وطن فروشی اور گندم نما جو فروشی کب کب اور کن کن راستوں سےقوموں میں راستہ بناتی ہیں اور قوموں کا وقت کیسے برباد ہؤا کرتا ہے ۔
پہلے سبق’’مینار پاکستان‘‘میں قائداعظم کی تقریر کے سننے کے بعد مختار مسعود نے کیا خوب کہا:
’’میں نے قائداعظم کی یہ تقریر سنی تو سوچا،علی گڑھ ایک چھوٹا سا پاکستان ہے اور پاکستان ایک بڑا سا علی گڑھ ہوگا‘‘۔
ایک جگہ لکھتےہیں:
’’یہ شاداب چہرے اور یہ خندہ رو نو عمر جب درسگاہوں کی محفوظ فضا سے باہر نکلے تو کچھ دیکھنے والوں کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور بہت سے ایسے بھی تھے جنہوں نے انہیں ہنسی میں اڑادیا۔جب یہ لڑکے ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گئے اور گھر گھر اورقریہ بہ قریہ جا کر قائداعظم کا پیغام پہنچایا اور لوگوں نے بھی اس پیغام پر عمل کرنا شروع کر دیا تو سب سے زیادہ حیرت ان لوگوں کو ہوئی جنہیں وراثت میں زمینوں کے ساتھ سیاست بھی ملا کرتی تھی۔اس حیرت کا مظاہرہ انہوں نے تشدد سے کیا۔ایک زخمی لڑکا ہماری یونیورسٹی میں بھی پہنچا۔اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی جسے دیکھ کر سب لڑکے مشتعل ہوگئے اور سر پر کفن باندھ کر نکل آئے۔یہ طالب علم جو بائیس برس پہلے زخمی ہؤا تھا اب شارع قائداعظم پر واقع ایک فرم کا مالک ہے،ملاقات ہو تو پوچھنے کو جی چاہتا ہے کہ تم نے وہ پٹی کیوں اتار دی ،ابھی تو بہت سے زخم ہرے ہیں‘‘۔
تحریک آزادی میں علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبہ کا ذکر کرتے ہوئےمختار مسعود نے یہاں پرانی یادیں تازہ کی ہیں۔زخمی ہونے والے اپنے کسی ساتھی کا ذکر کرتے ہوئے وہ کنایتاً کہہ رہے ہیں کہ تحریک آزادی میں حصہ لینے والی جدوجہد میں جن لوگوں نے چوٹیں اور زخم کھائے ان میں سے بہت سے بعد میں اس نصب العین سے غیر متعلق ہو گئے جس کے لیےانہوں نے اپنا وقت ،مال اور خون دیا تھا۔
اس کتاب کا دوسرا سبق’’قحط الرجال‘‘کے نام سے ہےجس میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
’’انسان ناشکر گزار،زود فراموش،فسادی اور زود رنج ہے۔اس لیے ہدایت ہوئی کہ خدا کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔خدا نے والدین کا شکرادا کرنےکی بھی تاکید کی ہے۔گویا عبادت میں کسی اور کا ذکر تک داخل ہو تو شرک،اور شکر میں جتنے حصےداربھی شامل ہوں وہ جائز۔مارکس کو یہ سبق یاد تھا،ہمیں بھولتے دیر نہ لگی۔ پاکستان ملا تو شکرگزاروں پر نا شکرگزار غالب آئے۔ تعداد کا حساب تو اللہ بہتر جانتا ہے مگر آواز اور اقتدار میں ہمیشہ ناشکرگزار کو فوقیت رہی۔وہ آیت حسب حال تھی جس میں ارشاد ہے کہ’’ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معیشت پیدا کیے مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو‘‘۔(10:7)
تحریر کے اس حصے میں مصنف نے’’شکر‘‘اور ’’شرک‘‘کا ذکر کرتے ہوئے قیام پاکستان کے بعد حکمرانوں اور عوام کی ذہنیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قرآن حکیم کے تبصرے کو اس اشارے میں استعمال کیا ہے ۔مصنف نے شکر اور شرک کے فلسفے کو کس خوبصورتی سے محض ایک جملے میں بیان کر دیاہے۔زبان و بیان پر یہ گرفت اور الفاظ کا چناؤ ، ساتھ ساتھ قرآن کا مطالعہ ،آج کے لکھاریوں کے لیے سیکھنے اور سکھانے کے مقامات ہیں۔
یہ پیراگراف بھی خوب ہے!
’’اہل اقتدار کے کان کلمہ حق سے محروم ہو جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد یہ کلمہ اتنا نامانوس ہوتا ہے کہ نہ اسے سننے کی تاب رہتی ہے نہ اسے سمجھنے کی توفیق ہوتی ہے۔ہر وقت آگے چلنا،اونچا بیٹھنا،پہلے بولنااور آخری حکم لگانا زہر کی طرح خون میں سرایت کر جا تا ہے۔حضرت عمرؓ نے اسی لیے خدام کے قدموں کی چاپ کو مہلک قرار دیا تھا مگر یہ نکتہ ہر ایک کی گرفت میں نہیں آتا۔اہل اقتدار اپنے امتیازات کے بے بس قیدی بن جاتے ہیں۔اس قید سے صرف اس شرط پر محفوظ رہ سکتے ہیں کہ دن میں پانچ بار محمودوایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں اور اگر ایک اونٹ میسر آئے تو کبھی خلیفہ چڑھے اور کبھی غلام باری لے‘‘۔
درج بالا پیرا گراف میں مختار مسعود اہل اقتدار کی بیماریوں کا ذکر کر رہے ہیں۔علاج کے لیے نکتے کے طور پر حضرت عمرؓ کا قول لائے ہیں۔نماز کی صف سے مساوات کا سبق دے رہے ہیں اور بیت المقدس کی فتح کے موقع پر حضرت عمر ؓ کے فاتحانہ داخلے کا منظر کھینچ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر اس کتاب کا مطالعہ اسلام اور پاکستان سے وابستگی ، مسلمانوں کی تاریخ سے واقفیت ،برصغیر ہندوستان میں انگریز اور ہندو کی چالبازیوں اور سازشوں سے آگاہ ہونے کی دستاویز ہے۔یہ کتاب ہمیں حب وطن کا درس دیتی ہے۔دین پر عمل پیرا ہونے پر متوجہ کرتی ہے۔غیر مسلم تہذیب سے دور رہنے کی نصیحت کرتی ہے اور اپنے شب و روز با مقصد ،مفید اور ثمر آور انداز سے گزارنے کی طرف کا راستہ دکھاتی ہے۔
ادبی لحاظ سے اس کتاب میں استعمال کی جانے والی تراکیب ، الفاظ،جملوں کی ساخت،اشعار،آیات قرآنی کے حوالے یہ سب نئے لکھنے والوں کے لیے تربیت کا بہت بڑا ذخیرہ لیے ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی نئے لکھنے والوں کے لیے یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ تحریر کے لیےوسعت مطالعہ ،مشاہدہ،تخیل بنیادی مواد کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بہت ساری منتشر لکڑیوں کو جوڑ کر ایک خوبصورت گھروندا بنا لینا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔اس کے لیے محنت ،عرق ریزی ، عاجزی اور خدا کی مدد درکار ہوتی ہے۔سب سے بڑھ کر تحریر کا مقصد ہؤا کرتا ہے کہ وہ قاری کو کس سمت کی راہ دکھارہی ہے اور یہ بھی کہ کل کو میزان عمل میں یہ تحریریں بھی اپنی نیتوں اور اپنے نتائج کے ساتھ تول میں ڈالی جائیں گی۔یہ سارے لوازمات مختار مسعود کی تحریر کے آئینے سے منعکس ہوتے ہیں ۔
حقیقتاً یہ کتاب آواز دوست اس انداز کی تحریر ہے جسے بیٹھ کر پڑھا اور سنا جائے اوراس کوسیکھا اور سمجھا جائے۔
٭٭٭

