بتول میگزین ۔ ام عبد منیب

کوئی تبصرہ نہیں

ایک عہد
ام عبد منیب
بڑے بیٹے کا نکاح ہو چکا تھا اور جون کو رخصتی تھی ۔ رہائش کے لیے سامنے والا گھر طے پایا ۔ مسئلہ یہ تھا کہ ابھی اس میں کرائے دار ٹھہرے ہوئے تھے ۔ ان کے گھر خالی کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے ، جب کہ وعدے کے مطابق انھوں نے یکم مئی کو گھر خالی کرنا تھا ۔ میں اس سلسلے میں کچھ پریشان بھی تھی کیوں کہ دلہن کو تو بہر حال متعین تاریخ تک لانا ہی تھا بار بار کہنے کے باوجود کرائے دار کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔
آخر کار یکم جون کو ان صاحب نے کہا ، آج ہم گھر خالی کر دیں گے ۔ امید بندھی لیکن چابی نہ ملی ، ۲ جون کو چابی مل گئی تو میں نے نیچے والے حصے کے لوگوں سے کہا اب آپ اوپر چلے جائیں کیوں کہ ہم نے نیچے والا گھر لینا تھا ۔ انھوں نے بڑی سعادت مندی سے کہا ،جی اچھا!
دوسرا دن آیا تو میں اس خیال سے گئی کہ گھر خالی ہو چکا ہوگا ،مگر یہ کیا گھر والوں کا سامان بکھرا پڑا تھا اور خاتون خانہ غائب تھیں ۔ دروازوں ، کھڑکیوں او دیواروں پر نظر پڑی تو ابکائی آنے لگی۔ اوہو ! میرے اللہ اس گھر میں کام کروائے بغیر تو رہنا مشکل ہے جب کہ ہمارے پاس دن بھی صرف دو ہیں ۔ میں نے بچوں سے کہا ۔ سامان اٹھائیں اور اوپر لے کر جائیں ۔تھوڑی دیر میں میرا پوتا آگیا ، اس نے کہا اُف اس قدر گندگی اور بُو۔
چار بجے میں نے بیٹے کو فون کیا کہ سفیدی کرنے والے کو بلائو ، پھر دوسرے بیٹے کو فون کیا کہ بجلی کا کام کرنے والے کو بلائو ، پھر لکڑی کا کام کرنے والے کا پتا کروایا ۔ غرض بھاگم بھاگ اگلے 24گھنٹے میں بجلی کے خراب سوئچ تبدیل کیے جا چکے تھے ، لکڑی کی ٹوٹی ہوئی الماریاں اور دروازے بھی درست ہو چکے تھے پانی کی ٹونٹیاں بھی درست کرالی گئیں ۔ پھر میری بیٹی اور نواسیوں نے مل کر گندکی صفائی شروع کی ، ٹائلیں انتہائی چکنائی والی تھیں ،انہیں رگڑ رگڑ کر صاف کیا گیا ۔ بند گٹر کھلوائے گئے ۔ کیڑے ہر جگہ سے ابل ابل کر باہر آرہے تھے بار بار دوائی چھڑک کر انہیں ختم کیا جا رہا تھا چار بجے سامان رکھا گیا اور سات بجے دلہن آئی۔
دوسرے دن میں ولیمہ سے فارغ ہوئی اور لیٹی تو خیال آیا ۔ جب ہمارے گھروں میں گند پھیل جائے تو کس قدر برا لگتا ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ صاف ستھرے گھر ہی اچھے لگتے ہیں گھروں میں اگر بدبو اور کیڑے پھیل جائیں تو وہاں رہنے کو جی ہی نہیں چاہتا خیال آیا کہ یہ دنیا بھی تو انسان کا گھرہے جسے اللہ نے بندوں کے لیے تیار کیا اور اس میں ہر طرح کا ساز وسامان رکھا ہے ۔اگر اس کے عارضی مکین یعنی انسان گند پھیلادیں اس میں تعفن پیدا ہو جائے ، ہر جگہ غلاظت کے ڈھیر لگے ہوں تو پھر مالک کو تو غصہ آئے گا میں نے کہا ۔ اب کم از کم میں نے اس میں گند نہیں پھیلانا اور جو گند پھیلا رہے ہیں انہیں حتی الامکان روکنا بھی ہے ۔
٭٭٭
خاموش رشتے
طیبہ سلیم
دن کا اجالا آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا۔ صائمہ نے باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ آسمان پر بادلوں کے گہرے رنگ چھا رہے تھے، جیسے کچھ کہنے کو بے تاب ہوں مگر خاموش ہوں۔ اس کا دل بھی کچھ ایسا ہی تھا…بھاری، بوجھل اور خاموش۔
آج مریم شہر سے واپس آ رہی تھی۔ ہر بار کی طرح آج بھی صائمہ کے دل میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے، مریم کی آنکھوں میں ہمیشہ وہی شک اور بے یقینی نظر آئے گی جو اس کے دل کو چھلنی کر دیتی تھی۔
چائے کی کیتلی سے اٹھتے بھاپ نے اسے حقیقت میں واپس کھینچ لیا۔ اس نے کیتلی کو چولہے سے اتارا اور ٹرے میں چائے کے کپ رکھنے لگی۔ کمرے سے ساس کی آواز آئی، ’’صائمہ، مریم کے لیے کچھ نمکین بھی بنا لینا، وہ خالی چائے نہیں پیتی‘‘۔
صائمہ نے ہونٹ بھینچ لیے۔ ساس کی آواز میں ہمیشہ کی طرح حکم تھا، محبت کا کوئی شائبہ نہیں۔ ’’جی، اماں جی‘‘۔ وہ آہستہ سے بولی، جیسے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہو۔
کچھ دیر بعد، دروازے کی گھنٹی بجی۔ صائمہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے جلدی سے دروازہ کھولا تو سامنے مریم کھڑی تھی۔ سادہ سے لباس میں ملبوس، چہرے پر وہی خاموش سی مسکراہٹ۔ مریم نے اندر قدم رکھا تو ساس نے لپک کر اسے گلے لگا لیا۔’’آ گئی میری بیٹی، کیسی ہو؟‘‘ ساس کے لہجے میں خوشی صاف جھلک رہی تھی۔
صائمہ ایک طرف کھڑی سب دیکھ رہی تھی، جیسے ایک خاموش تماشائی ہو۔ مریم نے بھی اس کی طرف ہلکی سی مسکراہٹ بھیجی، لیکن وہ مسکراہٹ صائمہ کے دل کی گہرائیوں تک نہ پہنچ سکی۔
رات کا کھانا میز پر لگا تھا۔ صائمہ نے ہمیشہ کی طرح پورا اہتمام کیا تھا۔ دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے سجے تھے، لیکن جیسے ہی ساس نے پہلا نوالہ منہ میں رکھا، اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
’’یہ سالن کیسا بنایا ہے؟ نمک کم ہے، اور چاول بھی زیادہ گلے ہوئے ہیں‘‘۔ساس کی شکایتی آواز نے کمرے کی خاموشی توڑ دی۔
صائمہ نے نظریں جھکا لیں۔ مریم نے بھی نوالہ توڑا، چکھا، پھر خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔ اس کی خاموشی، صائمہ کے لیے چیخ سے کم نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ساس کے یہ الفاظ مریم کے دل میں شک کی ایک اور کیل ٹھونک دیں گے۔
کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ صائمہ باورچی خانے میں کام سمیٹنے میں مصروف تھی، مگر اس کا دل اندر ہی اندر ہول رہا تھا۔ ہر برتن کے ساتھ جیسے اس کے دل کا بوجھ بھی بڑھ رہا تھا۔
رات دیر گئے جب سب سو چکے تھے، صائمہ اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گئی۔ اس نے کمرے کی چھت پر نظر ڈالی، جہاں مدھم روشنی میں ماضی کے تلخ لمحے واضح ہو رہے تھے۔ وہ لمحے جب مریم اس سے دور ہوتی چلی گئی، جب ساس کے الفاظ نے رشتوں میں دراڑیں ڈال دیں، اور وہ بے بسی سے دیکھتی رہی۔
یہ سلسلہ کئی سالوں تک چلتا رہا۔ ہر ملاقات، ہر گفتگو میں وہی دوری، وہی شک کی دیوار حائل تھی۔ اور صائمہ، جو ہمیشہ محبت کی تلاش میں رہتی، ہر بار خالی ہاتھ رہ جاتی۔
پھر ایک دن، اچانک گھر کی فضا بدل گئی۔ ساس کا انتقال ہو گیا۔ جیسے ہی یہ خبر آئی، گھر پر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ وہی ساس جو ہمیشہ اپنے الفاظ سے ماحول کو بھرپور رکھتی تھیں، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھیں۔
جنازے کے بعد، صائمہ اور مریم پہلی بار آمنے سامنے بیٹھیں۔ آج ماحول میں وہ تلخی نہیں تھی جو ہر بار ان کے درمیان رہتی تھی۔ صائمہ نے مریم کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں اب شک کے بجائے ایک نرم سی چمک تھی۔
’’بھابھی،‘‘ مریم نے آہستہ سے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ غلط فہمیاں پالی ہیں، شاید اماں کے اثر کی وجہ سے۔ لیکن اب وہ نہیں ہیں، ہمیں آپس میں دل صاف کر کے نئے سرے سے شروع کرنا چاہیے‘‘۔
صائمہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔’’ہاں مریم، میں بھی یہی چاہتی ہوں۔ ہم نے بہت وقت ضائع کر دیا، لیکن اب ہمیں مل کر اس گھر کو سنبھالنا ہے، ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے‘‘۔
دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ وہ بوجھ، جو صائمہ نے سالوں سے اپنے دل پر محسوس کیا تھا، اچانک ہلکا ہو گیا۔ گھر کا ماحول بھی جیسے بدل گیا تھا۔ بدگمانیوں کا سایہ چھٹ چکا تھا، اور رشتے دوبارہ سے جڑ گئے تھے۔
٭ ٭ ٭
جھونکا ہوا کا
فاطمہ عزیز
کھڑکی کا پردہ ہوا کے زور سے اڑا اور پھر آہستہ آہستہ نیچے آگیا۔ جیسے ہی کوئی ہوا کا جھونکا آتا پردہ پھر اوپر اٹھ جاتا۔
خالدہ بیگم یک ٹک پردے کو دیکھ رہی تھیں یا پھر اس سے آگے کچھ دیکھ رہی تھیں۔
عائشہ نے کچھ دیر اپنی امی کو دیکھا، پھر پردے کو دیکھا اور پھر تجسس سے پوچھا ۔
’’مما آخر آپ کیا سوچ رہی ہیں؟‘‘ خالدہ بیگم کا ارتکاز اس کے سوال سے ایک دم ٹوٹ گیا۔ انہوں نے عائشہ کی طرف دیکھا اور بولیں۔
’’کچھ خاص نہیں‘‘۔
’’پھر بھی بتائیں تو آپ کافی دیر سے اس پردے پر نظر ٹکائے کچھ سوچ رہی ہیں ؟‘‘ عائشہ نے کہا ۔
خالدہ بیگم کی بیٹی عائشہ ان کے پاس رہنے آئی ہوئی تھی۔ وہ ہر مہینے کچھ دنوں کے لیے ضرور اپنی امی کی طرف چکر لگاتی تھی اور اس دوران خالدہ بیگم اور عائشہ کا پسندیدہ ترین کام ایک دوسرے سے باتیں کرنا ہوتا تھا۔ ویسے تو فون میں بھی عائشہ اپنی امی سے بات کر لیتی تھی لیکن ملاقات کا مزہ الگ ہی ہوتا ہے۔ وہ لوگ روبرو بیٹھ کر خوب ساری ادھر ادھر کی باتیں کرتے ایک دوسرے سے مشورہ لیتے اور چائے کی چسکیاں لیتے۔
عائشہ اپنی امی کی سمجھداری اور ان کے مشوروں کے قائل تھی۔ عائشہ جانتی تھی کہ ان کے پاس زیادہ تجربہ ہے دوسری طرف عائشہ پڑھی لکھی تھی اور بدلتے معاشرے کے رویوں اور محسوسات کو اپنی والدہ کو بتاتی، اس طرح خالدہ بیگم کو اندازہ ہوتا کہ بدلتے معاشرے کے ساتھ کچھ الگ طرح کی پریشانیاں ہوتی ہیں جو ان کے زمانے میں نہیں تھیں۔
ان کو بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا اور عائشہ بھی ان کے مشوروں سے خوب فائدہ اٹھا تی۔
ابھی بھی عائشہ نے خالدہ بیگم کو پردے کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو تجسس سے پوچھا۔
’’بتائیں امی آپ کیا دیکھ رہی ہیں؟‘‘
’’ اصل میں، میں یہ سوچ رہی تھی کہ جب یہ پردہ ہوا سے اڑتا ہے تو باہر تک ہمیں سب نظر آتا ہے تو کیا سامنے فلیٹ کی سیڑھیوں سے اترنے والے کو بھی ہم نظر آتے ہوں گے؟‘‘
عائشہ نے ان کے بولنے پر پردے اور پھر کھڑکی سے آگے کا منظر نوٹ کیا۔کھڑکی ان کی گیلری میں کھلتی تھی اور گیلری کے سامنے دوسرا فلیٹ جو تین منزلہ کھڑا تھا اور فلیٹ کی سیڑھیاں گیلری سے دکھائی دیتی تھیں۔
سیڑھیاں دیوار کی جالیوں سے ڈھکی ہوئی تھی چڑھنے والا شخص صاف نظر نہیں آتا تھا لیکن جب ہم کسی کو دیکھ سکتے تھے تو ضرورسامنے سے بھی نظر پڑ سکتی تھی۔
کمرے میں بستر بھی سامنے ہی رکھا تھا جس میں اس وقت خالدہ بیگم اور عائشہ بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔
’’مما آپ بھی کہاں کی سوچنے لگیں۔ کس کے پاس اتنی فرصت ہے کہ وہ سامنے سیڑھیوں پر کھڑا ہو کر اس طرف دیکھتا رہے‘‘۔
عائشہ نے جملہ کہہ تو دیا لیکن ساتھ ہی اس کے ذہن میں جھماکہ ہؤا کہ آج کل تو معاشرہ ایسا ہی ہے، برے لوگ ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کہاں کوئی گڑبڑ کر سکیں۔
ساتھ ہی اس کو اپنی وہ دوست یاد آگئی جو سوشل میڈیا فیس بک میں بہت ایکٹو تھی۔ اپنی تصاویر اور ویڈیوز باقاعدگی سے ٹک ٹاک، انسٹاگرام میں لگاتی تھی اور ایک دن اس کی آئی ڈی چوری ہو گئی اور ان سب کو ایسے علم ہؤا کہ اس کے اکاؤنٹ سے سب کو عجیب سے میسجز آنے لگے۔
کچھ لڑکیوں نے اسے بلاک کر دیا کچھ نے اگنور کیا اور ایک دن تو حد ہو گئی جب اس کی تصاویر معیوب مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں۔ بڑی مشکلوں سے اس لڑکی نے آئی ٹی انٹیلیجنس سے رابطہ کرکےاپنی آئی ڈی بند کروائی لیکن بدنامی تو ہو چکی تھی۔
عائشہ کو یہ سب سوچ کے جھرجھری سے آگئی۔ اس نے فورا اپنا موقف تبدیل کیا اور مما سے کہنے لگی
’’اچھا ایسا کرتے ہیں کہ ماسی کو بھیجتے ہیں۔ وہ سامنے فلیٹ میں کام کرتی ہے اس سے معلوم کرتے ہیں کہ سامنے سیڑھیاں اترتے چڑھتے کیا ہمارا کمرہ نظر آتا ہے‘‘۔
اس کا آئیڈیا سن کر خالدہ بیگم کی آنکھیں ایک دم چمک اٹھیں۔
’’ہاں یہ بہت اچھا سوچا تم نے، اگر نظر آتا ہے تو ہم اپنا بستر دوسری دیوار کی طرف کریں گے اور سامنے بڑا پردہ لگائیں گے‘‘۔
اور عائشہ اپنی امی کا جواب سن کر یہ سوچ رہی تھی کہ یہی باریکیاں ہیں جن کا ہم سوچ نہیں پاتے۔
پردہ تو ہر معاملے میں ضروری ہے چاہے کسی کے راز پہ پردہ رکھنا ہو،
چاہے کسی کے عیب پر،
چاہے اپنی غلطیوں پر،
یا چاہے اپنی نظر اور سوچ پر!
٭ ٭ ٭
قرآن پر عمل
مریم فاروقی۔لاہور
میرے ماموں جی عباس ہماری امی کے خالہ زاد بھائی ہیں اورہماری نانی امی ان کی خالہ ! ہمیں بہت محبت سے ملتے ہیں بلکہ وہ سراپا الفت ہیں۔ اپنی کچھ یادوں کو ہمارے ساتھ تازہ کر رہے تھے ۔ایک مرتبہ بتایا کہ ’’ جب ہمارے ابو فوت ہوئے تو ہمارے خالو جی نے تیسرے دن ہمیں کہا کہ اپنے والد کی میراث تقسیم کر لو میرے دل میں بہت نا گواری کا احساس پیدا ہؤا کہ ابھی تو میرے باپ کا کفن میلا نہیں ہؤایہ خالو جی نے کیا کہہ دیا۔ جب میں نے سوچا تو یہی سمجھ آیا کہ وہ مجھے اللہ کا حکم سنا رہے ہیں اپنی رائے نہیں دے رہے ۔پہلے یہ حال تھا کہ گھر کے اخراجات کی سمجھ نہیں آتی تھی کہ کہاں سے پورےہوں گے ۔ اب شریعت پر عمل کرنے سے اللہ نے ایسی آسانی دی ہے کہ سب کام خود آسان ہوتے جاتے ہیں ۔ ہماری ایک دکان تھی آدھے مرلے کی میڈیکل سٹور ۔ بڑ ے بھائی ڈاکٹر تھے وہ ان کے حوالے کی باہمی مشورے سے اورجو مکان تھا 3مرلے کا جس میں ہم رہ رہے تھے وہ ہم دو چھوٹے بھائیوں کے حصے میں آیا ۔
6 مہینے کا وقت لے کر وہ بیچ دیا اورمزید پیسے ملا کر دونوںنے دس مرلے کا بنا بنایا مکان لے لیا۔ ہمیں پھر جیسے جیسے شریعت کے احکام پر عمل کرتے گئے زندگی آسان ترین ہوتی گئی ۔ بس یہی بتا رہے تھے کہ اگر آپ کو کوئی دین کا راستہ بتائے اور آپ عمل شروع کردیں تو آپ ہی کی زندگی راحتوں اور مسرتوں کا گہوارہ بنے گی ۔ آپ کی کمائی میں ،رزق میں ہر چیز میں برکت خودہی آجائے گی ۔
٭٭٭
ممانی جان
سنیہ عمران۔ بہاول پور
ممانی جان کے انتقال سے ایک ماہ پہلے، جب ان سے وردہ، میرے دوسرے ماموں کی بیٹی کے انتقال پہ ملاقات ہوئی تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ماہ بعد یہ بھی وردہ سے جا ملیں گی۔ ابھی بھی ان کا مسکراتا چہرہ ذہن میں نقش ہے، دوبارہ جلد آنے کی تاکید کرتا اصرار بھرا لہجہ، میرے منع کرنے کے باوجود گاڑی تک رخصت کر نے آنا ۔
وردہ کا تائی سے دنیا میں بے حد پیار تھا شاید اسی لیے وہ ایک دوسرے سے اتنے کم وقفے سے جا ملیں۔ ابھی وردہ کا غم تازہ تھا کہ ممانی جان کی علالت کی خبر ملی۔ ان کی بیماری جو معمولی سے چیسٹ انفیکشن سے شروع ہو ئی تھی اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے لیے لقمہ اجل ثابت ہو جائے گی۔ سب کے دلوں میں خوف تھا اور خوف کی تصدیق صبح تین بجے آنے والی کال نے کر دی۔ بنا ماموں جان کی کال اٹھائے اندازہ تھا کہ کال کس نوعیت کی ہوگی۔ دل دھڑک اٹھا کہ میرا خدشہ سچ نہ ہوجائے، سب کی طرح میں بھی پر امید تھی اور دعاگو بھی ،کہ یا اللہ ہم مزید کسی کا جانا افورڈ نہیں کر سکتے، انہیں صحت والی زندگی دے۔ پر جب وقت پورا ہو جائے تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یقیناً ان کے لیے مانگی سب کی تمام دعائیں آخرت میں ان کے ذریعہ نجات کے لیے رکھ لیں اور انشاءاللہ یہ بیماری ان کی مغفرت کا سبب ہوگی کیونکہ بیمار ی بندے کو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے ۔
سب نے ان کی بہت خدمت کی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ۔ان کی چھوٹی بیٹی سارا نے بالکل بیٹوں کی طرح بہادری سے حا لات کا مقابلہ کیا اور ان کی بے حد خدمت کی، اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہترین اجر دے اور سکینت دے اور ان کے تمام بچوں اور اقارب کوبھی اس صبر پر بہترین نعم البدل دے ۔ماں جیسی انمول ہستی کا کوئی نعم البدل ہی نہیں، اس کی محبت و شفقت کا کوئی مقابلہ ہی نہیں، ماں تو صرف ماں ہوتی ہے اسی لیے اللہ کریم نے اپنی محبت کی تشبیہہ بھی اسی سے دی ہے ۔
کبھی کبھی ممانی جان کا صبر اعلی ظرفی اور دنیا سے بے نیازی دیکھ کے میں سوچتی تھی کہ ان کی بھی زندگی کیسی پر سکون اور اچھی گزر رہی ہے ۔ہر رشتے کو خوب صورتی سے نبھانا ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔ سب سے گولڈن عادت تھی کہ وہ کسی کی برائی نہیں کرتی تھیں اس کی غیر موجودگی میں ۔
اللہ تعالیٰ ہماری تمام نیک گواہیوں کو ان کے حق میں قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت میں اعلی علیین میں سے کرے ان کی اولاد کو ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے ان کے لیے کافی ہو جائے آمین ثمہ آمین ۔
ماموں جان کے لیے زندگی کا سفر اکیلے کاٹنا آسان تو نہیں، ساتھی کا ہمسفر کا چلے جانا بڑی کڑی آزمائش ہے اللہ بس اب ان کو حوصلہ دے۔ طلحہ چھوٹے بیٹے کو بھی سکون دے، ماں کے علاوہ اس کی زندگی میں کوئی نہیں تھا، گھر سے باہر کبھی گیا ہی نہیں تھا ،اب اس کی تڑپ دیکھی ہی نہیں جاتی۔ ساری ہی اولاد کے لیے قیامت سے پہلے قیامت ہے ۔اللہ تعالیٰ صبر دے سکون دے اور بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔خیالات اور الفاظ جتنے بھی حسین با معنی اور احترام سے بھرے ہوں ،کسی اپنے بہت پیارے کی جدائی کا غم قلم کی گرفت میں نہیں آسکتا اور دل کی کیفیت کاغذ پہ اتارنا ممکن نہیں ہوتی ۔
٭ ٭ ٭
گئے دنوں کے عزیز لمحے
سنیہ عمران۔ بہاول پور
اکثر مختلف پروگرام لیتے ہوئے اور کلاسز لیتے ہوئے ہم اجتماعیت اور مقصد زندگی کو فوکس کرتے رہے۔ایک دن ایسی ہی کسی ڈسکشن میں میرے ذہن یہ خیال آیا کہ یہ انسان نہیں ایک عہد ہیں، جو رخصت ہوں گے ۔یہ ایک تہذیب کی علامت ہیں جو مد فون ہوگی ۔کل یہ نہیں ہوں گے کوئی اور ہوگا، ان کی ٹھہر ٹھہرکر کی گئی گفتگو،سکھائے گئے سبق دل میں اتر گئے ہیں جو ہمیشہ نقش رہیں گے ۔
زندگی میں بہت سے سبق ہم دوسروں سے سیکھتے ہیں پر جن سے دل سے دل ملانا سیکھا ہو ،یعنی محبت بانٹنا، وہ اپنے نشان ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ کسی کو رخصت کرتے وقت ہم جن کیفیتوں سے گزرتے ہیں ہم ان کو محسوس تو کر سکتے ہیں پر ان کا اظہار نہیں کر سکتے۔کچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا جاتا ہے اور کچھ کوسامنے آتے جاتے دیکھتے الوداع۔دونوں کیفیتیں ہی اپنی جگہ دردرکھتی ہیں ۔یہ نظام قدرت ہے کہ ہر ذمہ داری کا اختتام ہے جو ہر کوئی اپنے مقرر وقت تک ادا کرتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔بعض کے اعصاب بہت مضبوط ہوتے ہیں، وہ جدائی کےان لمحات کو آسانی سے سہہ جاتے ہیں،بعض کو بہت وقت لگتاہے۔تحریر میں جب لفظ جدائی آتا ہے تو لگتا ہے جیسے قلم ٹوٹ رہا ہے اور یہی کیفیت انسان محسوس کرتا ہے پر ہم وقت کو روک سکتے ہیں اور نہ جانے والوں کو ۔ ہر چیز کا وقت مقرر کر دیا گیا ہے اور وہ جیسے ہونا طے ہے اپنے مقرر کردہ وقت پہ ویسے ہی ہو جائے گی۔یہ اللہ تعالیٰ سے محبت کے رنگ ہیں ، اجتماعیت کی برکات ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو کھونے سے ڈرتے ہیں اور ایک دوسرے کے دور جانے سے بھی ڈرتے ہیں ۔
بعض دفعہ افراد محبت کا اظہار ہی نہیں کر تے یا محسوس نہیں کر پاتے، پر جب دور ہوتے ہیں تب محسوس ہوتا ہے کہ ہم کیا کچھ سیکھ چکے تھے جو دوسرا اپنی مخلصی اور محبت میں ہمیں سکھاگیا ۔ذمہ داریاں بدلتی رہتی ہیں تحریک میں افراد آتے جاتے رہتے ہیں ،ہم افراد سے نہیں تحریک کے عظیم مقصد سے جڑے ہیں ۔پر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب پودے اکھاڑ کے دوسری جگہ لگائے جاتے ہیں بے شک وہ سر تسلیم خم کرتے ہیں دل سے قبول کرتے ہیں پر وہ فوری نہیں پھلتے پھو لتے، اس مٹی میں جذب ہونے میں انہیں بھی وقت لگتا ہے اور پھر وہ پروان چڑھتے ہیں پھلتے پھو لتے ہیں۔ ایسے ہی ہم انسان ہیں اور یہ ایک فطری تقاضا ہے اسے اگر ہم سب تسلم کر لیں تو سب کو سب کے احساسات نارمل لگیں گے غیر فطری نہیں۔ انسان خود کو کچھ لمحوں کے آنے اور ان میں سے خود کومضبوطی سے گزارنے کے لیےخود کوتیار کرتا ہے پر جب وہ لمحے آتے ہیں تو ساری تیاری صفر ہو جاتی ہے۔
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp