سورۃ کاتعارف
1۔ سورہ الکوثر قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورت ہے اور سورہ بقرہ سب سے بڑی سورت ہے۔
2۔ پہلی آیت کے لفظ’’ کوثر‘‘ کی نسبت سے اس سورت کا نام’’کوثر‘‘ رکھا گیا ہے۔
3۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ رب العزت نے مقامِ رسالت اور شانِ رسالت کا بیان فرمایا ہے اور بحیثیت مسلمان ہم جانتے ہیں کہ رسالت کا عقیدہ کس قدر اہم اور بنیادی عقیدہ ہے اسی لیے پورے قرآن میں جگہ جگہ توحید،رسالت اور آخرت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
4۔اس سورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور مرتبہ کا ذکر ہے۔
5۔ اس سورت میں نماز اور قربانی کا بھی بطور خاص ذکر کیا گیا ہے کہ نماز بدنی عبادات کا نچوڑ ہے اور قربانی مالی عبادات کا بہترین خلاصہ ہے۔
6۔ سورہ کوثر میں خاص طور پر آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ لوگوں کی باتوں سے دل برداشتہ نہ ہوں آپ کا مقام و مرتبہ ان باتوں سے کہیں اونچا ہے اور رہے گا۔
7۔سورت میں اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے۔
8۔سورت میں دین دشمنوں کے بدترین انجام کی پیشین گوئی بھی کی گئی ہے۔
9۔سورت میں ہر اس شخص کے لیے تسلی کا سامان ہے جو لوگوں کے طعنے سنتا رہتا ہے اور اسے پریشان کیا جاتا ہے، اس سورت میں تسلی دی جارہی ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے اور ان کو کبھی گرنے نہیں دیتا۔
10۔وہ لوگ جو مظلومیت اور دشمنی کا شکار ہیں ان کے لیے بھی یہ سورت بہت اہم ہے۔
پس منظر
رسول اللہ ؐکے صاحبزادے حضرت قاسم یا حضرت ابراہیم رضی اللہ عنھما کا بچپن میں ہی انتقال ہؤا تو کفارِ مکہ جشن منانے لگے یہاں تک کہ نبی ؐاکرم کے چچا ابولہب لوگوں کے پاس جاجاکر مبارکباد دینے لگے کہ’’مبارک ہو! محمد کے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے‘‘ ان کہ سوچ یہ تھی کہ اب محمد ؐکی کوئی نرینہ اولاد تو ہے نہیں سب لڑکیاں ہی ہیں اور نسل تو لڑکوں سے چلتی ہے اور لڑکے جو تھے ان کا انتقال ہوچکا، لہٰذا ان کی نسل آگے چلے گی ہی نہیں اور جب نسل ہی نہیں چلنے والی تو ان کا پیغام بھی ان کی زندگی تک محدود رہے گا اور اس طرح ان کے بعد کوئی نہیں ہوگا جو ان کے پیغام کو آگے لے جاسکے۔ تبھی وہ آپس میں یہ کہتے پھرنے لگے کہ اس کی پروا مت کرو، ابھی فی الحال چاہے کتنا ہی شور شرابا ہورہا ہے لیکن یہ سب زیادہ عرصے تک چلنے والا نہیں بلکہ کچھ وقت کی ہی بات ہے ان کی تحریک ان کے دنیا سے جاتے ہی دم توڑدے گی اور پھرسے ہمارے بتوں کا بول بالا ہوگا۔
اس سورت میں اللہ رب العزت نے رسول ؐاللہ کو دو خوشخبریاں ایک ساتھ سنائی ہیں کہ آپ اپنے بچے کی وفات پر اور ان دشمنوں کے تبصروں سے پریشان نہ ہوں کیونکہ:
1۔ ہم آپ کو’’کوثر‘‘ جیسے اعزاز اور انعام سے نواز رہے ہیں۔
2۔ جہاں تک دشمنوں کی بات ہے وہ آپ پر کیا تبصرہ کریں گے وہ تو خود بے نام و نشان اور عبرت کا نمونہ بننے والے ہیں۔
ایک مرتبہ آپؐ صحابہؓ کےساتھ بیٹھے ہی تھے کہ آنکھ لگ گئی اور جھٹکے سے اٹھتے ہی مسکرانے لگے ، صحابہؓ نے آپؐ کی مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے، وہ یہ کہ ابھی وحی نازل ہوئی ہے جس میں مجھے بڑے انعام سے نوازا گیا ہے ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہؓ سے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے مجھے کیا ملا ہے؟ مجھے ’’کوثر‘‘ سے نوازا گیا ہے !
اِنَّآ اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ(1)
ترجمہ: ( اے پیغمبر ! ) یقین جانو ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا ہے۔
کوثر کیا ہے ؟
1۔ کوثر سے مراد خیرِ کثیر ہے یعنی خیر کا اتنا بڑا اور زبردست سلسلہ جس میں دنیا آخرت کی ہر خیر اور بھلائی شامل ہے۔
2۔اس میں جنت کی’’کوثر‘‘ نامی خاص نہر بھی شامل ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوثر سے مراد بہت زیادہ بھلائی ( خیر کثیر ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہے ۔ ابوبشر کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو انہوں نے کہا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اس خیر اور بھلائی کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے ۔ ( صحیح البخاری : 6578 )
یعنی کوثر کا تعلق ہر قسم کی خیر اور بھلائی سے ہے جس میں جنت کی نہر’’کوثر‘‘ بھی شامل ہے اور یہ سب کچھ آپ علیہ السلام کے اعزاز میں اللہ کی طرف سے دیا جارہا ہے۔
4۔ کوثر میں کون کون سی بھلائیاں شامل ہیں اس کےمتعلق علماء فرماتے ہیں کہ:
1۔نبوت و رسالت کا ملنا
2۔ آپ علیہ السلام کا خاتم النبیین ہونا
3۔شب قدر کا تحفہ ملنا
4۔قرآن کریم کا نازل ہونا
5۔معراج کا سفر کرنا
6۔معراج کے سفر میں نماز کا تحفہ ملنا
7۔رمضان المبارک اور روزوں کا سلسلہ
8۔صحابہؓ کرام جیسے جاں نثار ساتھیوں کا ملنا
9۔امت محمدیہ کا بہترین امت ہونا
10۔مختلف جنگوں،غزوات اور فتح مکہ کی صورت میں کامیابی کا ملنا وغیرہ۔
حوضِ کوثر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض کوثر پر لگے گا ۔ ( صحیح البخاری: 1888 )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،میرا حوض (یعنی کوثر لمبائی چوڑائی میں) مہینے کی مسافت کے برابر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اور اس کے برتن (تعداد یا خوب صورتی میں) ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے، جس نے اس نہر میں سے ایک دفعہ پی لیا وہ پھر کبھی بھی پیاسا نہ ہو گا۔(صحیح بخاری)
اس نہر کا فاصلہ سینکڑوں کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس کاپانی دودھ سے زیادہ سفید،شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سےزیادہ ٹھنڈا ہوگا ،اس نہر کی دیواریں سونے کی ہوں گی اس نہر میں پینے کے پیالوں کی تعداد آسمان کےستاروں کی تعدادکےبرابر ہوگی، اس نہر کی مٹی مشک عنبرسے زیادہ خوشبودار ہوگی ،اس نہر کا فرش یاقوت اورہیرے جواہرات سے بنا ہوگا ۔ سبحان اللہ!
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہؓ سےفرمایا کہ اس نہر پر میں تم کو پانی پلاؤں گا، صحابہؓ نے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمیں پہچانیں گے کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’میں تمہیں تمہارے وضو کے اعضاکی چمک سے پہچان لوں گا‘‘ ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک نہر کے کنارے پر پہنچا جس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے، میں نے پوچھا اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حوض کوثر ہے ( جو اللہ نے آپ کو دیا ہے ) ۔ (صحیح البخاری : 4964 )
’’میں حوض کوثر پر تم لوگوں کا استقبال کروں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں ( حوض کا پانی) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے ہٹا لیا جائے گا، میں کہوں گا اے میرے رب ! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے “آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں‘‘۔ ( صحیح البخاری : 7049 )
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ(2)
ترجمہ: اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
نعمتوں پر شکر ادا کرنا
سورہ کوثر کی اس دوسری آیت میں کوثر جیسی عظیم نعمت ملنے کے بعد اس نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔اس آیت سے معلوم ہؤا کہ کسی نعمت کے ملنے پر اس کی قدر دانی کا یہی طریقہ ہے کہ اس پر شکر ادا کیا جائے۔قرآن کریم سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے نعمت میں برکت ہوجاتی ہے اور نعمت کی ناقدری کرنے سے وہ نعمت چھینی بھی جاسکتی ہے۔سمجھ دار شخص وہی ہے جو اللہ کی نعمتوں کو سوچ سوچ کر بار بار یاد کرکے غور و فکر کرے، اس طرح کرنے سے نعمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے، گناہوں سے بچنے کا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے اور سب سے اہم بات اللہ رب العزت کے ساتھ بندے کا تعلق بن جاتا ہے۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں :
’’انسان کی دو ہی حالتیں ہیں ،ایک جس میں اسے کچھ مل رہا ہے اور دوسرا جس میں نہیں مل رہا، جو جو مل رہا ہے اس پر شکر کرنا سیکھے اور جو نہیں مل رہا اس پر صبر کرکےبار بار ہر چھوٹی بڑی چیز اللہ سے مانگنے کی عادت بنالے۔جو شخص یہ دو کام کرے گا اس کا اللہ رب العزت کے ساتھ تعلق بہت جلدی بنے گا جو کہ بہت ہی آسان اور مختصر طریقہ ہے‘‘۔
آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نعمت ملنے پر شکر ادا کرنے کا طریقہ بھی خود سکھا رہے ہیں۔اس آیت میں شکر ادا کرنے کے دو طریقوں کا ذکر ہے:
1۔نماز کی ادائیگی
2۔قربانی
آیت میں اللہ رب العزت بہت ہی پیارے انداز میں فرماتے ہیں کہ’’لربک‘‘ یعنی ’’اپنے رب کے لیے‘‘ جس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جب نعمت رب نے دی ہے تو نماز اور قربانی کا عمل بھی اسی کو راضی کرنے کے لیے کرو، لہٰذا اپنے عمل میں اخلاص اور خالص پن پیدا کرو۔ ریاکاری ،دکھاوا اور لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام مت کرو ورنہ یہ بے وفائی کا سودا ہوجائے گا کہ لیا کسی سے اور شکریہ کسی اور کا ادا کررہے ہیں۔
نماز اور قربانی کا نام لے کر دین کے دو بہت بڑے شعبوں کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اللہ کی عبادت کرنے کے دو ہی طریقے ہیں :
1۔جانی اور بدنی عبادت
2۔مالی عبادت
جانی عبادات میں نماز،روزہ اور حج جیسی عظیم عبادات شامل ہیں جن میں انسان اپنی جان اور بدن کی توانائی خرچ کرکے اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے اور مالی عبادات میں زکوٰۃ،قربانی اور حج جیسی عبادات شامل ہیں جن میں بندہ اپنا مال لگاکر اللہ کی رضا مندی حاصل کرلیتا ہے۔سورہ کوثر کی اس دوسری آیت میں اللہ رب العزت جانی مالی دونوں عبادات کو ایک ساتھ ذکر کررہے ہیں کہ نماز اور قربانی ان دونوں کی ایک مجموعی شکل ہے۔آیت میں خاص طور نماز اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ نماز اللہ رب العزت کی یاد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اسی طرح قربانی کرنا مال خرچ کرنے کا سب سے بہترین مصرف ہے۔
خلاصہ یہ کہ اللہ رب العزت جب تمہیں کوئی نعمت دیں تو تم نماز روزہ حج زکوٰۃ قربانی جیسی عبادات کا اہتمام کرو اس طرح تم نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے لائق بن سکوگے۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ (3)
ترجمہ: یقین جانو تمہارا دشمن ہی بے نام و نشان ہونے والا ہے۔
دشمنانِ نبیؐ کے لیے اعلان
سورہ کوثر کی اس تیسری اور آخری آیت میں اللہ رب العزت اپنے محبوب نبئ کریم سروردوعالم محمد مصظفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پیار بھری تسلی دے رہے ہیں۔اللہ رب العزت کو اپنے حبیب سے کیسی محبت ہے کہ جب محبوب کو طعنے دیے جارہے ہیں عین اسی موقع ہر اللہ کی رحمت جوش میں آرہی ہے کہ خبردار! میرے محبوب کو کچھ مت کہنا کیونکہ میرے محبوب کی تو بات ہی کچھ اور ہے، تم آج کے بعد بس اپنی فکر کرو ۔
’’ابتر‘‘ عربی زبان میں ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو اور اسی وجہ سے اس کی نسل آگے نہیں چل سکے تبھی عرب ایسے شخص کو ابتر کہتے تھے کہ اس کی نسل آگے نہیں چلنے والی اور اس کا نام و نشان مٹ جانے والا ہے۔جو طعنہ آپ علیہ السلام کو دیا گیا اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کا بدلہ خود لیتے ہوئے انہی کی زبان میں جواب دیا کہ جس کو تم ’’ابتر‘‘ کہہ رہے ہو اس کا تم کچھ بگاڑ نہیں سکتے بلکہ اس طعنے کا شکار تم خود بننے والے ہو۔
اللہ رب العزت نے اپنا وعدہ اس طرح سچا فرمادیا کہ آج ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے باوجود آپ علیہ السلام کے نام کی دھوم مچا رکھی ہے اور دشمن کا کچھ اتا پتا نہیں۔نسبی خاندان کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے آپ کی روحانی اولاد کا ’’امت مسلمہ‘‘ کے نام سے ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری فرمادیا۔
اس کے ساتھ اللہ رب العزت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوتسلی دے رہے ہیں کہ جو جو آپ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں وہ تارعنکبوت (مکڑی کا جالا) ثابت ہوں گے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، خاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کے مبارک بطن سے سادات رسول کے نام سے دنیا کے چپے چپے میں آپ کی اولاد موجود ہے جن میں حسنی اور حسینی دونوں خاندان موجود ہیں۔
جب آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے نکلے توصرف سیدنا ابوبکرصدیقؓ آپ کے ساتھ تھے اور جب واپس مکہ تشریف لائے تو دس ہزار کا لشکر فاتح بن کر اسی شہر میں داخل ہؤا جہاں آپ کے دشمن ہوا کرتے تھے اور طعنے دیا کرتے تھے، آپ کے مبارک دور میں عرب کا پورا خطہ اسلام کی آغوش میں آگیا اور مکمل جزیرۂ عرب اسلام کے قریب آگیا، آپ کے بعد خلفائے راشدینؓ کے دور میں آدھی دنیا میں اسلام چھا گیا۔
اسی طرح ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام اذان کی صورت میں پوری دنیا میں کہیں نا کہیں گونج رہا ہوتا ہے،نماز میں درورشریف کی صورت میں،قرآن میں،حدیث میں،ذکر و اذکار اور مناجات میں، ہر جگہ آپ کا نام نامی عقیدت محبت اور عشق و سرور کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
اسی طرح سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا میں سب سے زیادہ مواد تیار کیا جاچکا ہے اور صرف آپ کی مختصر سیرت نہیں بلکہ آپ کی ایک ایک ادا کو محفوظ کرکے امت تک پہنچایا جارہا ہے اور بالخصوص فن شعر و شاعری میں نعتیہ کلام کی ایک طویل فہرست ہے جو بڑھتی جارہی ہے۔
خلاصہ یہ کہ آپ کی سیرت و کردار کی ہرادا محفوظ کرنے سے لے کر آپ کے پیغام تک اور پیغام سے لے آپ کے روضہ مبارک تک سب کچھ محفوظ ہے اور یہ سب کا سب آپ کی یاد تازہ کررہا ہے، یہاں تک کہ آپ کا نام زبان پر آنے کی صورت میں عقیدت و محبت کے گہرے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں اور زبان درود پاک سے ترہوکر آنکھیں چھلک جاتی ہیں۔
آیت میں آپ علیہ السلام کے دشمنوں کے خاتمے کا جو اعلان اللہ رب العزت فرمارہے ہیں یہ صرف اس دور کے ابو جہل اور ابو لہب کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک جو جو آپ کی ذات یا آپ کے پیغام کے ساتھ دشمنی کریں گے ان کے لیے یہی اعلان رہے گا۔بقول اقبالؒ:
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ ِمصطفوی سے شرار ِبولہبی
اس دور میں بھی بولہبی شرارتیں سر اٹھاتی رہتی ہیں جن میں کوئی آزادیِ اظہار رائے کے نام پر گستاخی کرتا ہے،کوئی کارٹون بنالیتا ہے، کوئی آپ کی حدیث کا انکار کرلیتا ہے اور کوئی آپ کے منصب کو چھیننے کی کوشش کرکے ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔اللہ رب العزت نے امت مسلمہ کو الحمدللہ یہ توفیق دے رکھی ہے کہ وہ بظاہر کیسے بھی ہوں لیکن اپنے پیارے نبیؐ کی عظمت کے لیے ہرممکن جدوجہد کرتے رہتے ہیں جس کے لیے تحریری،تقریری،سیاسی،قانونی،قومی،بین الاقوامی انداز کی ہر ممکن کوشش شامل ہوتی ہے۔ اور یہ سب ہزار بار کرنا پڑے تو ہزار بار بھی کرلیتے ہیں تاکہ باطل کو یہ بات سمجھ آجائے کہ یہ امت اپنے نبی کی حرمت پر کبھی بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دے سکتی ہے۔
12۔تاریخ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جن میں مسیلمہ کذاب کے خلاف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، اور تاریخ میں بہت سے اکابر علماء،صوفیاء،اللہ والے اور امت کے مجاہدین نظر آتے ہیں اور یہ سب کے سب اس بات کا ثبوت پیش کررہے ہیں کہ باطل کے مقدر میں اللہ رب العزت نے ہمیشہ کے لیے’’ان شانئک ھو الابتر‘‘ کا اعلان کردیا ہے۔٭