رستہ روشنی کا ۔ مریم روشن

کوئی تبصرہ نہیں

کیا گھنی چھاؤں بھی کسی کی موت کا سبب بن سکتی ہے؟
منیرہ نے زمین پر گرے زرد پودے کی جانب دیکھتے ہوئے اپنے آپ سے سوال کیا۔ باغبانی کا شوق انہیں شروع سے ہی تھا۔ بچوں کی شادی کے بعد اس شوق کو پورا کرنے کے مواقع میسر آ گئے۔ وہ فرصت کے لمحات اپنے چھوٹے سے باغ کی دیکھ بھال میں گزارتیں۔ مستقل توجہ ، دیکھ ریکھ نے اس باغ کی شکل ہی بدل دی تھی ۔
ان کے گھر کی تعمیر کچھ اس طرح تھی کہ درمیان میں ایک چھوٹا سا لان اور اس کے گرد گھر کی عمارت بنی ہوئی تھی ۔ باہر سے دیکھو تو اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت سا منی گارڈن ہوگا ۔ باغ کے گرد بنے کمروں اور ہال کی کسی کھڑکی سے بھی جھانکو تو نگاہیں لان میں لگے اس خوبصورت درخت پہ جم جاتیں جو موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنی پوری شان کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اس کے قرمزی سبز پتوں نے چھتری کی سی شکل لے لی تھی۔ باورچی خانے اور بیٹھنے کے کمرے کا ایک ایک دروازہ اس باغیچے میں کھلتا ۔ سرخ ٹائلوں کے فرش پر بانس کی کرسیاں اور میز رکھی تھیں ۔ ایک کونے میں بانس کا گولائی لیا جھولا لٹکا تھا۔ موسم اچھا ہو تو شام کی چائے اسی باغیچے میں پی جاتی۔ یہ باغ سارے گھر کے لیے ری چارجنگ اسٹیشن کی مانند تھا۔ کتنی ہی تھکن ہو دروازہ کھول کے اس جانب آئو تو گھنیری چھائوں کا سایہ اندر تک اطمینان کی لہر دوڑا دیتا ۔ روح کو تروتازہ کر دیتا ۔ لیکن یہ آج کیا ہؤا ؟
وہ چھاؤں جو سب کی تھکن اتار دیتی تھی کسی کی جان لے لینے کی صفت بھی رکھ سکتی ہے !
پچھلے ہفتے وہ چند پودے نرسری سے لےکر آئی تھیں۔ ایک کو اس درخت کے نیچے لگا دیا۔ مضبوط تناوار درخت کے نیچے کی مٹی بالکل خالی پڑی تھی۔ پورے لان میں لگی گھاس جب اس جانب آتی تو نجانے کیوں جڑ نہیں پکڑ پاتی تھی۔ انہوں نے خالی زمین دیکھ کر نیا پودا وہاں لگا دیا۔ وہی پودا آج مرجھایا ہؤا تھا۔
منیرہ نے گڈائی کر کے ادھ موئے پودے کو نکالا۔ زرد ، نارنجی ، سبز رنگ کے امتزاج سے سجے پتے ایسے سوکھے ، ترسے ہوئے تھے جیسے صحرا میں پانی کو نہ پا کر جانور ادھ موئے ہو کر زمین پر گر جائیں۔پہلے سے زمین میں اپنی جڑیں دور تک پھیلائے قدیم درخت نے نئے آنے والے پودے تک نہ دھوپ کی کرن پہنچنے دی تھی نہ ہی زمین سے اس کی ننھی جڑوں کو توانائی لینے دے رہا تھا۔
’’ میں نے اگر اس کی جگہ نہ بدلی تو یہ نہ تو سانس لے پائے گا ، نہ جڑ پکڑ پائے گا۔ روشنی ، تازہ ہوا ، اپنی مٹی میں دور تک جڑوں کو پھیلانا تو ہر سبز روح کے لیے ضروری ہے‘‘۔ انہوں نے زیر لب جیسے خود سے کہا۔
مرجھاتے پودے کو نکال کر دوسری جگہ لگاتے ہوئے وہ اپنی بیٹیوں کا سوچے گئیں ۔ تینوں کل بڑے عرصے بعد ایک ساتھ میکے آئی تھیں۔ نصرت کا گھر تو پاس ہی تھا ۔ کوثر بھی ہر ہفتے نہ سہی 15 دن میں چکر لگا ہی لیتی تھی۔ لیکن الفت ایبٹ آباد سے سال میں بمشکل ایک آدھ ہی چکر لگاتی۔ آتی بھی تو ہوا کے گھوڑے پہ سوار بمشکل دو تین دن یاسر کے ہمراہ ٹھہرتی اور روانہ ہو جاتی۔ اس بار یاسر پندرہ دن کے لیے چھوڑ گیا تھا تو دونوں بہنیں الفت سے ملنے بھاگی چلی آئیں ۔ انہی کے آنے کی رونق نے باغیچے کی خیر خبر لینا منیرہ کے ذہن سے نکال دیا۔
پودے کی جگہ تبدیل کرتے ہوئے رات کی گفتگو ان کے کانوں میں گونجنے لگی۔
نصرت ، کوثر ، الفت کو باتوں میں مگن دیکھ کر انہوں نے آنکھیں موند لیں ۔ وہ یہ سمجھیں کہ اماں سو گئی ہیں تونصرت کہنے لگی۔
’’ کیسی ہو آپی ۔ تم سے تو شادی کے بعد ٹھیک سے بات ہی نہیں ہو پاتی ۔ یاسر بھائی نے اچھا کیا اس بار تھوڑے لمبے عرصے کے لیے تمہیں بھیجا ہے‘‘۔
الفت نصرت سے بمشکل نو ماہ ہی بڑی تھی ، مگر نصرت اس کو پھر بھی آپی کہتی۔
’’ خالہ بی کے ہاں کیا حالات ہیں ؟ اتنی محبت چاہت سے تمہیں بیاہ کے لے گئی تھیں ۔ ان کے تو ارمان ہی ختم نہیں ہوتے تھے۔ ‘‘
’’ ارمان تو ابھی تک بہت ہیں، شادی کو تین سال ہو گئے ہیں۔ لیکن آج تک گھر والوں نے ایک کھانا میرے ہاتھ کا نہیں کھایا ، خالہ جان کوئی کام نہیں کرنے دیتیں ، ایسی چاہت ہے کہ ختم نہیں ہوتی، پکتے شیرے کے تار کی مانند بڑھتی ہی جا رہی ہے‘‘۔ الفت ہلکے سے بستر پر بچھی چادر کے پھولوں پر انگلی پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔
’’واہ بھئی بڑی ہی خوش قسمت ہو ۔ ایسی ساس کہاں ملیں گی ۔ بیٹھ کے کھلانے والی ۔ ہماری تو جو پکائو ، سو نقص نکال لیتی ہیں۔ نمک نہیں ، مرچ زیادہ ہے ، تیل کم ہے ، چاول کھڑے ہیں۔ شروع میں زندگی دشوار ہو گئی تھی۔اب الحمد للہ کچھ بہتر ہؤا ہے۔ کچھ ان کو بھی صبر آگیا کچھ ہم نے کھانا پکانے کے ہنر سیکھ لیے‘‘ کوثر نے بڑے مزے سے کہا۔
’’ یہ بات تو ہے۔ ہماری الفت شروع سے ہی بڑی خوش قسمت ہے۔ خالہ جان کے گھرانے جیسا سسرال ماشاءاللہ۔ خالہ جان کا سلیقہ رکھ رکھاو تو ہم بچپن سے ہی دیکھتے آئے ہیں ۔ یاد ہے گرمیوں کی چھٹیوں میں ان کے گھر کے مزے ۔ دن کے کسی پہر چلے جائو ، پورا گھر اجلا سمٹا۔ لمحوں میں انواع اقسام کے لذیذ کھانے دستر خوان پر سج جاتے۔ ریشے والے کباب ، اسپرنگ رول ، نان خطائی ، نلی نہاری ، سندھی بریانی ۔ صبح کا وقت ہو تو منٹوں میں پوریاں ، آلو کا سالن آ جاتا ۔ ایسا لگتا جادو کا چراغ ہے خالہ جان کے پاس۔ الفت تم تو سدا سے قسمت کی دھنی ہو‘‘ ۔ نصرت نے کہا۔
’’پتہ نہیں اس سب سے میری خوش قسمتی کیسے ثابت ہوتی ہے ‘‘۔ الفت نے بیزار لہجے میں کہا۔
’’ کیوں اس سے بڑی کیا خوش قسمتی ہو گی ؟ اتنا خیال رکھنے والی خدمتی ساس مل گئی ہیں ، ہر ایک کی آنکھ کا تارہ ہیں خالہ جان، ہنس مکھ ، خوش مزاج ‘‘۔
’’جب سب کی آنکھ میں وہی سجی ہوں تو پھر میری کیا جگہ بنے گی ؟ صبح کسی پہر بھی اٹھ جاوں بل دار پراٹھے میز پر ، اجلا دمکتا گھر ، ہر شے پہلے سے طے ، ویل پلانڈ ۔ کہتے ہیں مرد کے دل کا راستہ معدے سے ہے۔ میرے لیے تو کوئی بھی راستہ یاسر کے دل تک نہیں جاتا۔ ہر راستے پہ خالہ جان ہیں۔ لباس ، حسن ، سگھڑ اپا ، صلہ رحمی ، ذہانت، خدمت ، تعلیم میں کس جگہ سے جائوں!‘‘
تھکے تھکے سے لہجے میں اس نے کہا۔ دونوں بہنوں نے سمجھے ان سمجھے انداز میں دیکھا اور پھر اپنے سسرالی قصے شروع کر دیے۔
منیرہ آنکھیں موندے سنتی رہیں۔ کب آنکھ لگی پتہ نہ چلا ۔ اگلے دن بار بار الفت کے بے رونق حلیے پہ غور کرتیں ۔ مجلا گجلا لباس ، آنکھ کاجل ، کان زیور سے خالی، چہرے پہ عجیب مصنوعی روکھی سی مسکراہٹ , وہ ان کی سب سے خوش مزاج بیٹی تھی۔ گھر سجانے ، نت نئے کھانے بنانے ، لباس کو منفرد انداز دینے والی۔ ہر کام کی شوقین بس پڑھائی میں کبھی دل نہ لگا۔ انہوں نے بھی یہی سوچا کہ بیٹی کی قدروقیمت ڈگری سے ناپی تولی نہیں جاتی ،وہ اگر دل جوڑنے کا مرہم رکھتی ہے تو کسی پروفیشنل ڈگری کو حاصل نہ بھی کر سکے تو کیا۔
کم عمری میں ہی بڑی بہن نے رشتہ ڈالا۔ قریبی رشتے داری پھر یاسر کا سلجھا ہؤا مزاج ، اچھی جاب ۔ کس بنیاد پہ انکار ہوتا۔ رشتہ جھٹ پٹ طے ہوگیا ۔ بی اے کا رزلٹ آتے ہی الفت پیا دیس روانہ ہوئی۔ خالہ کا گھر ایبٹ باد میں تھا تو الفت کا جلدی جلدی میکے کا چکر نہ لگتا ۔ اس بار آئی تو منا سا معوذ بھی گود میں تھا ۔ ان تین سالوں میں الفت ایسی تھکی تھکی سی نظر آتی تھی کہ جیسے گھر داری میں زندگی گزر گئی ہو۔
کہاں تو وہ زمانہ تھا کہ کان میں بالی بھی ڈالنی ہو تو دراز سے تین دمکتے موتی نکالے،سنہرے تار میں پرو کے بالی کو مختلف سا رنگ دے کے پہنے ، سادہ سا لان کا سوٹ بھی ہے تو اس پر کوئی ایسا کام کرنا کہ وہ شاہکار لگنے لگے ، کہاں اب یہ حال تھا کہ اجڑا حلیہ ، بے رونق چہرا ، بددلی ہر شے سے عیاں تھی، آنکھیں زندگی سے خالی ۔
لان میں کام کے دوران گرے پودے نے ایک چبھتاہؤا خیال دل میں ڈالا۔ جب پودے کو لگانے کے بعد دیکھ ریکھ ضروری ہے تو بیٹی جیسی قیمتی متاع کی دیکھ ریکھ بھی تو ان ہی کی ذمے داری ہے۔ ان کی بیٹی سب صلاحیت رکھتے ہوئے جڑ نہیں پکڑ پا رہی ، اس کے رنگ اڑتے جا رہے ہیں تو کیا ان کا کام نہیں کہ دیکھیں کیا شے ہے جو الفت کے باغ و بہار وجود کو خزاں کی چادر سے ڈھانپ رہی ہے ۔ بچیاں اٹھیں تو انہوں نے بتایا کہ اس بار الفت کے ساتھ وہ بھی ایبٹ آباد جا رہی ہیں۔
’’ کیوں امی اچانک کیسے پلان کر لیا ؟‘‘ سب ہی اس فیصلے پہ حیران تھے ۔ الفت کی شادی کے بعد سے منیرہ اپنی بہن کے گھر نہ گئی تھیں۔
’’بس بہت دن ہوئے آپا کے گھر نہیں گئی ۔ وہ بلاتی رہتی ہیں۔ اس بار دل چاہ رہا ہے ملاقات کے لیے جائوں ‘‘۔
میاں سے اجازت لی اور بیٹی کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کردی، کچھ شاپنگ کی ، بیٹیوں کو ہدایات کا پوٹلہ تھمایا کہ بھابھی کا خیال رکھنا ، ابا کو پوچھتی رہنا۔ شاپنگ بھی نصرت کے ساتھ جا کر کی ، الفت نہ تو بازار جاتی تھی نہ کوئی مشورہ دیتی۔
’’بیٹی بتائو تو یاسر کے لیے کیا لوں ؟ تمہارے سسر کے لیے کیا لوں ، اتنے عرصے بعد جا رہی ہوں ، خالی ہاتھ تو نہ جائوں گی۔ باقی گھر والوں کے لیے کیا مناسب رہے گا؟ آپا کے لیے سوٹ لے لوں یا کچھ اور ذہن میں ہے ؟‘‘
’’جو آپ کادل چاہے لے لیں امی ‘‘۔ الفت کا ایک ہی جواب ہوتا۔
خیر کئی طرح کی مٹھائیاں، سوغاتیں لے کر الفت کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ منزل پہ پہنچیں تو باغ و بہار گھر دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔ سکون و تراوٹ کا احساس روح میں اترنے لگا ۔ بیٹھتے ہی آپا نے مختلف پھلوں سے کشید کیا لذیذ شربت پلایا ۔
’’یہ پیو منیرہ ، ہم نے اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے خاص شربت بنایا ہے ۔ الفت تم بھی پیو‘‘۔
’’جی اچھا‘‘الفت نے گٹ گٹ ایک سانس میں گلاس ختم کیا ۔ گلاس کھنگال کے رکھا اور معوذ کو گود میں اٹھا کےاپنے کمرے میں چل دی ۔
منیرہ نے سفیدے کے درخت کی سی رنگت کے کچن پر نظر ڈالی ۔ ایک جانب سیاہ بورڈ پر سفید چاک سے دن بھر کا ٹائم ٹیبل لکھا تھا۔ کتنے بجے سونا ہے ، کب اٹھا جائے گا ، لنچ ، نماز سب کا وقت الگ الگ تحریر تھا۔ سیاہ بورڈ کے ساتھ ایک چھوٹے سے نوٹ کی صورت میں ہفتے بھر کی ڈشز بھی لکھی تھیں۔ ایک نظر ڈالتے ہی اندازہ ہوتا تھا کتنا منظم گھرانہ ہے۔ جالے جھاڑنے سے لے کر کیبنٹ کی صفائی تک ہر کام کی تاریخ طے تھی۔ بند کیبنٹس کے ساتھ ایک شیشے کی صاف ستھری شیلف میں انجیر ، ڈرائی فروٹ ، نمکو خوبصورت برنیوں میں سجا تھا۔ کچن پر نظر ڈالتے ہوئے نگاہ آپا کی جانب گئی ۔ وہ بیسن پہ کھڑی الفت کے دھو کے رکھے گلاس کو اب صابن سے مل مل کے دھو رہی تھیں۔ کچھ عجیب سی کیفیات دل میں آئیں۔ پھر سر جھٹکا ،آپا تو سدا کی صفائی پسند تھیں ممکن ہے الفت نے برتن پہ کچھ لگا چھوڑ دیا ہو۔
دوپہر کے کھانے پہ الفت کے آنے تک میز سج چکی تھی۔
’’آپا الفت سے کہہ دیتیں وہ آپ کی مدد کر دیتی‘‘۔منیرہ نے تازہ مٹر کے بنے خوشبو اڑاتے مٹر پلائو ، ریشے دار شامی کباب کے ساتھ بنی ٹماٹر کی چٹنی کھاتے ہوئے کہا۔
’’بھئی آج کل کی بچیاں بہت جلدی تھک جاتی ہیں۔ اس لیے ہم الفت سے کام نہیں کرواتے۔ اللہ بس ہمارے ہاتھ پائوں سلامت رکھیں ۔ اپنے کام خود کرتے دنیا سے رخصت ہوں ‘‘۔آپا نے کہا۔
’’آپا الفت تو بہت شوقین ہے گھر داری کی۔ ان کاموں سے کبھی نہیں تھکتی‘‘۔منیرہ نے ٹماٹر اور سیب کے سرکے کی چٹنی چاولوں پر ڈالتے ہوئے کہا۔ الفت ایسے کھانا کھاتی رہی جیسے کسی اور کی بات ہو رہی ہو ۔
’’ہاں ہاں الفت تو شوقین ہے کام کاج کی لیکن جب تک ہمارے ہاتھ پائوں کام کر رہے ہیں ہم کسی کے محتاج بن کے نہیں رہ سکتے ۔ ہمیں جلدی جلدی کام سمیٹنے کی عادت ہے ۔ الفت ایسے نہیں کر پائے گی۔ اب تو بچے کا بھی ساتھ ہے۔ ہم نے شروع سے ہی سب خود کیا ہے تو اب بھی خود ہی کریں گے‘‘۔آپا دوٹوک لہجے میں گویا ہوئیں۔
پھر الفت کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔
’’الفت ہم نے معوذ کے لیے ہائی چیئر منگوائی ہے۔ معوذ کو اس میں بٹھاو ‘‘۔ انہوں نے فریج کے کونے سے اٹھا کہ ہائی چیئر الفت کے پاس رکھی ۔
’’پورا بازار گھومے تو یہ ملی ۔ ہم آف وائٹ رنگ ہی لینا چاہ رہے تھے ۔ اللہ کا شکر اتنا سر مارنے کے بعد مل ہی گیا۔ ‘‘
’’خالہ جان یہ بہت جلدی گندی ہو جائے گی۔ بچے کھانا گراتے ہیں‘‘۔الفت نے نرم سے انداز میں کہا ۔ ’’میں نے سوچا تھا ہائی چئیر گہرے رنگ کی لوں گی‘‘۔
آپا نے منیرہ کی طرف دیکھ کر کہا ’’ہم نے تو معوذ کی ہر چیز اپنی پسند سے ہی لی ہے۔ ہمارا پہلا پوتا ہے ۔ الفت کو اتنی سمجھ بوجھ بھی نہیں۔ جہیز کے کپڑے بھی ہم نے سب اٹھوادئیے۔ منی تم نے سب گہرے چیختے ہوئے رنگ رکھے تھے۔ ہمارے تو سر میں درد ہو جاتا ہے۔ پھر پتہ ہی ہے تمھیں ہماری پسند تو یونیک ہوتی ہے۔ جو دیکھتا ہے سراہتا ہے۔ بس اسی سب کو دیکھتے ہوئے معوذ کی ہر چیز خود جا کے خریدی ہے۔ سارے ہلکے ہلکے رنگ لیے ہیں کہ بچہ روشن روشن لگتا ہے ۔ آس پاس کی خواتین کو تو جب شاپنگ کرنی ہو ہمیں بلا لیتی ہیں۔ ‘‘
الفت بد دلی سے کھانا کھا رہی تھی ۔
’’یہ لو نا منیرہ کباب کھائو ، ہم نے خود بنائے ہیں ۔ ہمارے ہاں تو یہ حال ہے ماسی بھی بتا دیتی ہے یہ باجی کے ہاتھ کے کباب ہیں۔ ذائقہ ہی مختلف ہے۔ مشین سے نہیں پیستے بھئی۔ ابھی تک سل بٹا استعمال ہوتا ہے ہمارے ہاں۔ ‘‘ آپا اپنی تعریفیں کرنے میں مگن تھیں ۔ منیرہ کی نگاہیں الفت کے چہرے پہ جمی تھیں۔ بے تاثر چہرے کے ساتھ اس نے کھانا کھایا اور برتن سمیٹنے لگی۔
’’الفت تم کمرے میں جاؤہم خود اٹھا لیں گے۔ جائومعوذ کو نہلائودھلائو‘‘آپا نے الفت کے ہاتھ سے پلیٹیں لے لیں۔
الفت خاموشی سے بچے کو اٹھا کے باہر چلی گئی۔ منیرہ کچھ دیر بعد اس کے کمرے میں آئیں۔
صاف ستھرا کمرا۔ ہلکے ہلکے رنگوں سے نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ ایک جانب کھڑکی پہ سفید جالی دار پردے کی اوٹ سے سنہری پنجرہ لٹکا نظر آ رہا تھا۔
’’خالی پنجرہ ؟‘‘ منیرہ نے سوالیہ انداز میں بیٹی سے پوچھا۔
’’اس کمرے میں ایک ہی چیز ہے جو میری پسند کی ہے ۔ میری مرضی سے رکھی گئی ہے‘‘۔الفت مسکرائی’’پہلے میں نے کچھ چڑیا بھی پالی تھیں لیکن خالہ جان کو پسند نہیں آئیں ۔ ایک دن صبح اٹھی تو پتہ چلا انہوں نے اڑا دیں ۔ اب پنجرہ بطور یاد گار لٹکا ہے۔ شکر ہے ان کو برا نہیں لگا ۔ ورنہ یہ بھی غائب ہو جاتا‘‘۔
’’اچھا تو لگ رہا ہے لیکن خالی پنجرے کو ہٹا ہی دو الفت ‘‘۔
’’امی اس پنجرے کو اس طرح لٹکا دیکھ کر مجھے سکون ملتا ہے ، جب سوچتی ہوں کہ میری چڑیا سنہری پنجرے سے آزاد ہو گئی ہے ، کتنی خوش ہوگی۔ اونچی اڑانیں بھرتی ہو گی۔ پنجرہ کتنا بھی حسین ہو سانس تو گھٹتی ہے نا امی‘‘۔ الفت کے لہجے میں عجیب سی یاس تھی۔
تین دن میں ہی منیرہ کو اندازہ ہوگیا کہ الفت کے کپڑوں سے لےکر سونے اٹھنے کے اوقات تک ہر کام آپا کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے۔ یاسر مہینے دن میں ایک بار آتا وہ بھی روبوٹ کی طرح ماں کے اشارے پہ مسکراتا، بات کرتا۔ سر جھکا کے بیٹھا رہتا۔
منیرہ ایک دن الفت کو لےکر بیٹھیں،
’’بیٹی آپا سارا دن کام میں لگی رہتی ہیں۔ مستقل پاس پڑوس کی عورتوں کا آنا جانا الگ۔ تم بھی ان کے ساتھ لگ جایا کرو۔ ان کی مدد کیا کرو ‘‘۔
’’کس طرح مدد کروں؟ ‘‘معوذ کو ہلکے ہاتھوں سے مالش کرتے ہوئے الفت نے پوچھا۔
’’ وقت کا کھانا تم بنا لیا کرو ، مہمان خواتین کے لیے آپا جو شربت ، سموسے وغیرہ بناتی ہیں وہ بنا دو ، دس کام ہوتے ہیں بیٹی ۔ دیکھو گی تو خود نظر آئیں گے‘‘۔منیرہ نے کہا۔
’’چلیے آپ کو ایک تماشہ دکھاتی ہوں ۔ کل رات کا کھانا میرے ہاتھ کا ہو گا‘‘الفت مزے سے بولی۔
اگلے دن صبح سے ہی الفت کچن میں تھی ۔ گوشت کو دھو کے مصالحہ لگایا ، کوئی منفرد سا عربی میٹھا رات میں ہی تیار کر کے فریج میں رکھ دیا تھا ۔ سب کام کر کے دوپہر تک فارغ ہو گئی۔ آپا بالکل چپ چاپ دیکھتی رہیں۔ بے تاثر چہرا ۔ دوپہر کا کھانا کھا کے الفت کمرے میں چلی گئی ۔ منیرہ بھی لیٹ گئیں۔ عصر کی نماز کے بعد منیرہ باہر آئیں تو آپا کچن میں تھیں۔
’’کیا کر رہی ہیں آپا؟ آرام نہیں کر رہیں ؟ ‘‘ منیرہ نے پوچھا۔
بس تھوڑا سالن رات کے لیے چڑھا رہے تھے‘‘۔ وہ مصروف سے انداز میں بولیں۔
’’آپا رات کا کھانا تو الفت نے بنایا ہے وہی کھائیں گے نا سب ‘‘۔ کچھ حیرانی سے منیرہ نے کہا ۔
’’ارے وہ تو آج اچانک ہی شائستہ کا فون آگیا ۔ ہماری پرانی دوست ہے۔ اس قدر بیمار تھی بے چاری۔ آواز تک نہیں نکل رہی تھی ۔ ہم نے کہا تم آرام کرو ، آج کھانا ہم بھجواتے ہیں۔ پھر علی کے ہاتھ اس کے گھر بھیجوا دیا ۔ اس بہانے الفت کو ثواب بھی مل جائے گا ، اس بیچاری شائستہ کی مدد بھی ہو جائے گی ۔ گھر کے لیے ہم خود بنا لیں گے۔ ویسے بھی یاسر کے ابا کو صرف ہمارے ہاتھ کا ذائقہ ہی پسند ہے ‘‘۔آپا آنچ ہلکی کرتے ہوئے کہنے لگیں۔
’’آپا تھوڑا تو رکھ لیتیں ۔ اتنی محنت سے بنایا تھا بچی نے۔ آپ اس سے پوچھ ہی لیتیں‘‘۔منیرہ کو جیسے شاک لگا تھا۔
’’لو الفت کیا غیر ہے جو ہم اجازت لیں اس سے ؟‘‘آپا نے تیوری چڑھائی۔ ’’ہاں الفت اور تمہارے لیے نکال دیا ہے تھوڑا سا کھانا۔ باقی سب کے لیے سالن میں بنا رہی ہوں‘‘۔
منیرہ دم بخود تھیں۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کہیں۔
کمرے میں آئیں الفت اٹھ چکی تھی۔ ماں کا چہرہ دیکھ کر مسکرائی۔
’’کیا ہؤا امی ؟ خالہ کی کوئی دوست بیمار پڑ گئیں یا پتیلی گر گئی یا کچھ اور ہو گیا کہ میرا بنایا ہؤا کھانا غائب ہو گیا ؟‘‘
’’الفت!‘‘ان سے کچھ کہا نہیں گیا۔
’’امی ایسا ہی ہوتا ہے ہمیشہ۔ اس لیے آپ سے پوچھ رہی تھی کہ خالہ کی مدد کیسے کروں ؟ ‘‘ الفت نے کھڑکی سے پردہ سرکا دیا ۔ سنہری پنجرہ ہوا کے دوش پر ہلکے ہلکے جھول رہا تھا۔ منیرہ خاموشی سے بیٹھی الفت کو دیکھتی رہیں۔
’’آپا میاں بیوی کو تو ساتھ رہنا چاہیے۔ یہ یاسر اور الفت کب تک اس طرح الگ الگ رہیں گے‘‘۔اگلے دن شام کی چائے پہ آپا کے ہاتھ کے دیسی گھی کے بنے سنہری شکر پارے کھاتے ہوئے انہوں نے کہا۔
’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے منیرہ مگر یہ آج کل کی لڑکیاں بہت کمزور ہیں۔ گھر داری کا بوجھ کہاں اٹھا پاتی ہیں۔ یاسر صبح کا گیا رات آتا ہے ۔ کون گھر دیکھے گا۔ میں نے یاسر سے کہہ دیا ہے جب تک معوذ 4 سال کا نہ ہو جائے الفت یہیں رہے گی۔ جب تک تھوڑا بہت ہمارا طور طریقہ بھی سیکھ جائے گی۔ ہر وقت تو چپ چپ ، گھٹی گھٹی سی رہتی ہے۔ ذرا سا کچھ کہہ دو تو آنکھیں بھر آتی ہیں۔ یاسر یہ سب برداشت نہیں کر سکتا ۔ میں تو خالہ ہوں تو صبر کر لیتی ہوں ‘‘۔
ان کے سامنے نجانے کیوں وہ گھنا درخت آ گیا ۔ جس کے سائے میں کوئی سبز شاخ لگ نہیں پاتی تھی۔ کل ہی ان کی بہو نے ننھے پودے کی تصویر بھیجی تھی ۔
’’امی جی آپ کی لگائی پنیری نے جڑ پکڑ لی ہے۔ جگہ بدل کے آپ نے اچھا کیا ‘‘۔لمحوں میں فیصلہ ہو گیا۔
’’ آپا میں الفت کو اپنے ساتھ لے کے جارہی ہوں‘‘۔انہوں نے مضبوط لہجے میں کہا۔
’’کیا مطلب ، کہاں لے جا رہی ہو ؟ ‘‘ آپا اس اچانک فیصلے پہ حق دق رہ گئیں۔ ہاتھ میں پکڑی نیلی کناری والی پیالی گرتے گرتے بچی۔
’’یاسر کے پاس چھوڑنے کے لیے لے جا رہی ہوں۔ اور کہاں لے کر جاوں گی ؟ آپا شادی میاں بیوی کے ساتھ رہنے کے لیے ہوتی ہے۔ ساتھ رہیں گے تو مزاج آشنا بھی ہوں گے ورنہ تو اجنبی ہی بن کے رہیں گے۔ آپ فکر نہ کریں، سر پر پڑے گی تو الفت کو گھر داری بھی آ ہی جائے گی ۔ بس اب الفت کو اپنے میاں کے ساتھ ہی رہنا چاہیے ‘‘۔وہ دو ٹوک انداز میں کہنے لگیں۔
’’اچھا چلو میں بھی ساتھ چلوں گی ۔ الفت یاسر کا گھر سیٹ کروں گی۔ تھوڑے دن ساتھ رہ کر طریقہ سلیقہ سکھائوں گی ‘‘۔آپا نے بہن کا اٹل لہجہ سن کے فوری فیصلہ کیا۔
’’نہیں آپا الفت کے ابا کل پہنچ رہے ہیں۔ ہم میاں بیوی کچھ دن الفت کے ساتھ وہیں رہیں گے ۔ آپ کو تو پتہ ہے الفت کے ابا کی ریٹائرمنٹ شروع ہو گئی ہے۔ اچھا ہے ان کی بھی مصروفیت ہو جائے ۔ ہم الفت کا گھر سیٹ کر کے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے‘‘۔منیرہ بے لچک لہجے میں کہنے لگیں۔
آپا دیکھتی رہ گئیں۔ بہن کا رشتہ تھا کہ جز بز ہوتے ہوئے بھی اجازت دینا ہی پڑی۔ کوشش بھی کی کہ موڈ خراب کر کے دکھائیں لیکن سامنے انہی کی سگی بہن تھیں ، منیرہ نے ایسا ظاہر کیا جیسے انہیں پتہ ہی نہیں چل رہا ، آپا غصے میں میاں سے شکایت کرنے لگیں لیکن وہ صاف کہنے لگے۔
’’بیگم میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ بچی کو یاسر کے ساتھ بھیج دو ، شروع میں کیسے تتلی کی طرح اڑتی پھرتی تھی۔ اب تو لگتا ہے مسکرانا بھی بھول گئی ہے۔ ہر ایک کو اپنی گروتھ کے لیے کچھ پرسنل اسپیس چاہیے ہوتی ہے فیروزہ بیگم ۔ تمہارا مزاج ایسا ہے نہیں کہ اپنے آگے کسی اور کو پھلنے پھولنے دو‘‘۔
آپا بے چاری دم بخود سی میاں کو دیکھے گئیں۔
دو دن بعد منیرہ الفت کو لے کے چشمہ کی جانب روانہ ہوئیں۔
مہینے بھر میں الفت کا چہرہ دمک اٹھا۔ یاسر بھی شادی کے تین سال بعد پہلی بار زندگی کا نیا روپ دیکھ رہا تھا ۔ آفس سے گھر آتا تو بیٹے کی کلکاریاں ، مسکراتی بیوی ، گرم گرم پھلکے ، صاف ستھرا بستر….ساری تھکن اتر جاتی۔منیرہ نے خاندان بھر میں فون کر کر کے سب کو آپا کی اعلیٰ ظرفی کا بتایا کہ کیسے الفت کو یاسر کے ساتھ زبردستی بھیجا ہے۔
’’بھئی آپا جیسی اعلیٰ ظرف ساس تو ہم سب بن جائیں‘‘۔ وہ محبت آمیز لہجے میں کہتیں۔
اپنی تعریفوں کے بوجھ تلی دبی آپا دم بخود تھیں کہ کیا کریں ۔ ہمیشہ سے ہی اچھا کہلانے کا شوق تھا اب ہر روز ہی خاندان سے کوئی نہ کوئی فون کر کے ان کے فیصلے کو سراہتا۔ ان کی دانشمندی پر عش عش کہہ اٹھتا۔ سوشل پریشر کی اہمیت سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے۔ اسی تلے دب کے آپا نے بھی الفت کو اپنی زندگی جینے کا حق دے ہی دیا۔
منیرہ کی لگائی گئی پنیری جگہ پکڑ چکی تھی۔ ادھر مہینے میں کئی بار ان کی بہو تصویر بھیجتی رہی تھی۔
’’امی جی آپ کا باغ لہلہا رہا ہے۔ ننھی پنیری میں تو چھوٹی سی کلی بھی کھل گئی ہے ‘‘۔
کھلتی بھی کیوں نا!
روشنی ، ہوا ، مٹی مل جائے تو ہر کونپل جگہ بنا ہی لیتی ہے۔ بس کوئی روشنی کا راستہ نہ روکے !
واپسی کے سفر میں جہاذ کی سیٹ بیلٹ لگا کر منیرہ نے شیشے سے جھانکتے بادلوں کو دیکھا ۔ دور تک ایک انوکھا شہر آباد تھا۔ جزیرے ہوں کہ قلعے، آبادیاں ، پہاڑیاں ۔ بادلوں کی سلطنت میں جھانکتی روپہلی سورج کی کرنیں مبہوت کرنے والا منظر تھا۔ قدرت نے ہر شے کو اظہار ذات کے لیے کھلے مواقع دیے ہیں، ہم انسان نجانے کیوں اس پر قید لگانا چاہتے ہیں۔
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp