راز – فاخرہ نواز

کوئی تبصرہ نہیں

آج نادیہ بہت خوش تھی ۔ آخر خوش کیوں نہ ہوتی آج اس کی عزیز ترین بچپن کی سہیلی حمیرا اُس سے ملنے آ رہی تھی ۔ تقریباً پندرہ سال کے بعد اُن کی ملاقات ہو رہی تھی ۔ دونوں ہم جماعت اور ایک ہی محلہ میں رہتی تھیں ۔میٹرک انہوں نے اکٹھا کیا تھا ۔ پھر حمیرا کی شادی کینیڈا میں مقیم اس کے خالہ زاد سے ہو گئی اور وہ رخصت ہو کر کینیڈا چلی گئی نادیہ کو یاد تھا کہ اُس کی رخصتی پر کیسے وہ بلک بلک کر روئی تھی اور کتنے ہی دن اس کی جدائی میں آنسو بہاتی رہی تھی ۔ شروع شروع میں تو فون پر بات چیت ہوتی رہی پھر حمیرا گھر داری اور نادیہ کالج میں مصروف ہو گئی یوں بات چیت کا وقفہ بڑھتے بڑھتے ختم ہو گیا ۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد نادیہ نے کچھ عرصہ سکول میں نوکری کی اور پھر اس کی بھی شادی ہوگئی۔
اور آج پندرہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا حمیرا کا صبح فون آیا کہ میں پاکستان آئی ہوئی ہوں او دوپہر کا کھانا تمہارے ساتھ کھائوں گی ۔ نادیہ کے پیروں میں جیسے بلیاںبندھ گئی تھیں ۔ جلدی جلدی سارے کام نمٹا کر کھانا بنایا ۔ بچوں کو تیار کیا ۔ ابھی خود تیار ہو رہی تھی کہ دروازے پر گھنٹی بجی۔ نادیہ بھاگتے ہوئے گئی ۔ دروازہ کھولا تو سامنے اس کی بچپن کی ساتھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایک بچی کے ساتھ کھڑی تھی ۔وہ بھیگی آنکھوں سے ایک دوسرے سے لپٹ گئیں کافی دیر دونوں سے بولا ہی نہیں گیا ۔ پھر نادیہ حمیرا کو اندر لے کر آئی ۔ بچے آپس میں ملے اور وہ دونوں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگیں۔
نادیہ نے پہلے مشروبات اور پھر کھانے سے حمیرا کی تواضع کی کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے حمیرا گہری نظروں سے نادیہ کا جائزہ لیتی رہی ۔ پھر جب اس سے نہ رہا گیا تو بول ہی پڑی ۔
’’ نادیہ ، ایک بات تو سچ سچ بتائو ‘‘۔
نادیہ نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ۔’’ پوچھو کیا پوچھنا ہے اجازت کیوں لے رہی ہو ۔ میں وہی پرانے والی نادیہ ہوں ‘‘۔
حمیرا نے ہنستے ہوئے کہا ! ’ ’ مجھے پتا ہے تم نادیہ ہی ہو مگر پہلی نادیہ اور اب کی نادیہ میں زمین و آسمان کا فرق آچکا ہے ۔ موٹاپے کی بات نہیں کر رہی ، تم پوری کی پوری بدل چکی ہو ‘‘۔
نادیہ نے قہقہہ لگایااور بولی۔
’’ ہاں میں کافی موٹی ہو گئی ہوں اپنا خیال رکھنے کا وقت ہی نہیں ملتامگر تم کس تبدیلی کی بات کر رہی ہو ؟‘‘
حمیرا نے چائے کا خالی کپ میز پر رکھا اور کہنے لگی۔’’ ہم دونوں بچپن کی ساتھی ہیں ۔ میں تمہیں بخوبی جانتی ہوں ۔ تم غصے کی تیز تھی کسی کی غلط بات برداشت نہیں کرتی تھی جو ایک دفعہ ٹھان لیتی تھی ، پورا کر کے چھوڑتی تھی ۔ بہن بھائیوں پر بھی رعب تھا اپنی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھی ۔ مجھے یاد ہے مجھے بھی جماعت میں کسی چیزکی ضرورت ہوتی تو تمہارا موڈ دیکھ کر اور اجازت لے کر استعمال کرتی تھی لیکن اب تم وہ نہیں رہی۔
اب تم بہت نرم مزاج ہو گئی ہو ، بات بات پر مسکراتی ہو بچے تنگ کر رہے ہیں مگر تم بڑے تحمل سے اور پیار سے بات کر رہی ہو ۔انہیں کھانا کھلا رہی ہو اور خود اپنے کھانے کی پروا نہیں ۔ پہلے ہل کر پانی بھی نہیں پیتی تھی ،اب سارے گھر کو شیشہ کی طرح چمکایا ہؤا ہے ، انڈہ تک تمہیں ابالنانہیں آتا تھا ، اب اتنے مزے کا کھانا بنایا ہؤا ہے بہن بھائیوں کو اپنے کمرے میں گھسنے نہیںدیتی تھی اب اتنے بھرے پرے سسرال میں رہ رہی ہو اتنی بڑی تبدیلی کیسے آگئی؟‘‘
نادیہ ہولے سے مسکرائی اور سوچتے ہوئے بولی’’ ہاں حمیرا تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں ایسی ہی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ اکھڑ مزاج تھی مگر کچھ ایسا ہؤا جس نے میری زندگی کو بدل کر رکھ دیا ‘‘۔
’’ بتائو نا کیا ہؤا؟‘‘ حمیرا نے تجسس سے پوچھا ۔
’’ شادی سے پہلے میں بھائی کے ساتھ حج کرنے گئی تھی وہاں تو دنیا ہی اور تھی جذبات و احساسات سب بدل کر رہ گئے عبادات کرتے بہت سے تجربات ہوئے اللہ تعالیٰ نے بڑی نشانیاں دکھائیں ۔ جو دل میں خواہش پیدا ہوتی فوراً پوری ہو جاتی اللہ تعالیٰ نے بڑی اعلیٰ مہمان داری کی جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی ۔ پھر کچھ ایسا ہؤا جس نے میری زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا ۔ میری طبیعت میں تیزی تھی اس لیے طواف میں بھی جلدی کرتی تھی چاہتی تھی کہ کسی طرح خانہ کعبہ کے دروازے تک پہنچ جائوں ، حطیم میں نوافل ادا کرلوں ، حجرِ اسود کو بوسہ دے دوں لیکن بھیڑ کی وجہ سے مجھے موقع نہیں مل رہا تھا ۔ میں نے لوگوں کو ادھر اُدھر دھکیلنے کی بھی کوشش کی کہ کسی طرح جگہ بن جائے مگر اُلٹا حطیم سے مزید دور ہو جاتی ۔ آخر تھک ہار کر میں نے ایک چکر میں سر جھکا لیا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے آہستہ آہستہ چلنا شروع کردیا ۔ تم سن کر حیران رہ جائو گی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب چکر پورا ہو گیا اور میں حطیم کے سامنے کھڑی تھی ۔ ایک دھکا لگا اور میں حطیم کے اندر تھی وہاں میں نے نوافل ادا کیے ۔ سلام پھیرا تو سامنے خانہ کعبہ کے دروازے سے لگی ایک عورت مجھے اشارے سے اپنے پاس بلا رہی تھی میں بھیڑ سے راستہ بناتی اس کے پاس گئی اس نے میرا بازو کھینچ کر مجھے اپنی جگہ چوکھٹ پر کھڑا کیا اور خود چلی گئی میری زبان سے دعائیں نکل رہی تھیں اور آنکھوں سے آنسو ، جی بھرکے دعائیں کرنے کے بعد میں نے حطیم میں نوافل ادا کرتی ایک لڑکی کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کھینچ کر اپنی جگہ کھڑا کر کے خود ہٹ گئی ۔
میرا دماغ کھلتا چلا گیا ۔ مجھے پتا چل گیا کہ میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے وہ مجھے خود کھینچ کھینچ کر منزل تک پہنچاتا ہے اور یہ سب کب ہو تا ہے ؟صرف اور صرف سر جھکانے پر ۔ اللہ کے حکم پر سر جھکانے سے اللہ نے مجھے وہ وہ دیا جو میں کوشش کے باوجود بھی نہ حاصل کر سکی ۔
تم یقین کرو اس کے بعد میں نے جتنے بھی طواف کیے ، سر جھکائے عاجزی سے دعائیں کرتے ہوئے کیے اور اللہ نے مجھے خانہ کعبہ کی چوکھٹ پکڑنے اور حطیم میں نوافل ادا کرنے کے بے شمار مواقع دیے اس کے بعد میں نے زندگی کا اصول بنا لیا کہ اللہ کے ہر حکم پر سر جھکانا ہے ۔ میرا اللہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور میں آمین کہتی ہوں ۔وہ خود ہی منزل پر پہنچا دیتا ہے ۔ اس کے بعد میری شادی ہو گئی ۔میرا سسرال بہت بڑا تھا۔لوگوںنے ڈرایا بھی بہت اور حالات تھے بھی بہت سخت مگر میں سر جھکائے چلتی چلی گئی ۔ بہت کچھ برداشت کرنا پڑا اپنے آپ کو مارنا پڑا ۔ پر میں نے سر جھکائے رکھا اللہ نے صبر بھی دیا اور اپنے فضل و کرم سے انعام بھی دیے ۔ آنے والے حالات اللہ ہی جانتا ہے کیسے ہوںمگر میری نیت یہی ہے کہ عاجزی ہی اختیار کرنی ہے ۔ آزمائشیں اور مشکلات زندگی کا حصہ ہیںمگر ان سے گزرنے کا یہ ہی اصول بنا رکھا ہے کہ اللہ کے آگے عاجزی ہی دکھانی ہے کہ اللہ میں بہت کمزور ہوں تو نے ہی ان آزمائشوں میں ڈالا ہے تو ہی ان سے نکالے گا انشاء اللہ ‘‘۔
نادیہ بولے جا رہی تھی اور حمیرا سوچ رہی تھی کہ یہ کون سی بندی ہے ؟ نادیہ تو بڑی نادان اور لا اُبالی سی لڑکی تھی یہ تو کوئی گہرے بھیدوں ، چھپے ہوئے رازوں کو جاننے والی اللہ کی نیک اور مقرب بندی ہے ۔
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp