رسول اللہ ؐ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور انہیں خاص توجہ دیتے تھے۔اسی لیے ان کی تربیت اور انہیں اچھے اخلاق سکھانے کی آپؐ نے تاکید فرمائی ہے۔بچوں میں اعلیٰ اقدار کے بیج بونے کی تربیت کی اور یہ سب کام محبت ، شفقت اور رحم کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی۔
آپؐ کا فرمان ہے: ’’جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ (رواہ ابوداؤد،۴۹۴۳)
بچے جنت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ ؐ کو بچوں سے بہت محبت تھی۔ آپؐ انہیں سلام کرتے، ان سے شفقت فرماتے، اور محفل میں بھی انہیں خاص توجہ دیتے، ان کا اپنی ذات پر اعتماد بڑھاتے اور ان سے ہنسی مذاق بھی کرتے، انہیں گدگداتے۔ اگر آپؐ سواری پر ہوتے تو انہیں اپنے ساتھ بٹھا لیتے۔
آپؐ ایک عظیم مرتبے پر فائز تھے اور آپؐ کو بلند مقام حاصل تھا، (معاشرے میں عموماً بلند مناصب پر بیٹھے لوگ بچوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں)، مگر آپؐ کا طریقہ یہ تھا کہ آپؐ بچوں کو خاص توجہ دیتے۔آپؐ بچوں کی تعریف بھی کرتے۔
بچوں سے اٹھکیلیاں
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ تمام لوگوں میں بہترین اخلاق والے تھے۔میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا۔رسول اللہ ؐ اس سے (مزاحاً) پوچھتے: اے ابو عمیر! تیری نغیر (نامی چٍڑیا )کیسی ہے‘‘۔ (رواہ البخاری،۶۱۲۹)
بچوں کے حق کو فائق رکھنا
رسول اللہ ؐ بچوں کو مجلس میں ترجیح دیا کرتے تھے ۔ جو بھی چیز تقسیم کرتے بچوں سے اس کی ابتدا کرتے۔حضرت سعد بن سہلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا،آپؐ کی دائیں جانب ایک لڑکا تھا اور وہ عمر میں سب (حاضرینِ مجلس )سے چھوٹا تھا۔ اور بزرگ آپؐ کے بائیں جانب تھے۔آپؐ نے اس لڑکے سے پوچھا: کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں پہلے بزرگوں کو دے دوں؟ اس نے کہا: میں اپنا حق کسی کو نہ دوں گا۔تو آپؐ نے اسی کو دے دیا‘‘۔ (رواہ البخاری،۲۳۶۶)
نواسی سے محبت
حضرت ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ کی بیٹی زینبؓ وفات پا گئی تو ان کی ایک بیٹی چھوٹی تھی۔ آپؐ اپنی نواسی امامہؓ بنت ابی العاص سے بہت محبت کرتے تھے۔آپؐ اسے کئی مرتبہ اپنے ہمراہ مسجدلے آتے، جب سجدہ کرتے تو اسے رکھ دیتے اور سجدوں کے درمیان اسے اٹھا لیتے۔(رواہ البخاری،۵۱۶)
دشمنوں کے بچے
حدیث میں ہے کہ جنگ میں روانہ کرتے ہوئے رسول اللہ ؐ نے ہدایات دیں: ’’آپؐ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا‘‘۔(رواہ البخاری،۲۸۵۲)
بچوں پر رحم
رسول اللہ ؐ بچوں پر اس قدر رحم فرماتے کہ ان کا رونا بھی آپؐ کو تکلیف میں مبتلا کر دیتا۔
آپؐ نے فرمایا کہ: ’’میں نماز پڑھانے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے طویل کروں۔اور میں کسی بچے کہ رونے کی آواز سنتا ہوں تو اسے مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی ماں مشکل میں پڑے‘‘۔ (رواہ البخاری،۸۶۸)
خدمت گار بچے کی گواہی
حضرت انسؓ : میں دس سال تک رسول اللہ ؐ کی خدمت میں رہا، اس دوران آپؐ نے مجھے کبھی نہیں جھڑکا نہ کبھی یہ فرمایا کہ یہ کیو ں کیا ہے اور یہ کیوں نہیں کیا۔اور کسی نقصان پر بھی نہیں ڈانٹا۔
یہودی بچے سے خیرخواہی
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ’’ایک یہودی بچہ رسول اللہ ؐ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہوا تو رسول اللہ ؐ اس کی عیادت کو گئے۔اور اسے کہا: اسلام لے آ۔ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا، جو اس کے پاس کھڑا تھا۔ باپ نے کہا: بیٹے! ابو القاسم کی بات مان لے۔ اور وہ اسلام لے آیا۔ آپؐ جب باہر نکلے تو آپؐ نے فرمایا: الحمد للہ، جس نے اسے آگ سے بچا لیا‘‘۔ (رواہ البخاری)
ابراہیمؓ کی وفات
رسول اللہ ؐ کے ایک صاحبزادے ماریہ قبطیہؓ سے تھے۔ وہ بیمار ہو گئے۔حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’وم رسول اللہ ؐ کے ساتھ ابو سیف لوہارکے ہاں گئے۔ابراہیمؓ پر اس وقت نزع کی کیفیت تھی۔ آپؐ نے انہیں گود میں اٹھایا اور انہیں چومااور محبت سے انہیں سونگھا۔جب ہم دوبارہ آئے تو ابراہیمؓ کی سانس اکھڑ رہی تھی (یعنی موت قریب تھی)، اور رسول اللہ ؐ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ آپؐ سے عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا: آپؐ بھی یا رسول اللہ؟ (یعنی آپؐ بھی غم زدہ ہیں۔ شاید وہ آنسؤوں کو صبر کے خلاف سمجھتے تھے)۔ آپؐ نے فرمایا: اے ابنِ عوف! یہ رحمت ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’بلاشبہ آنکھ آنسو بہاتی ہے، اور دل غمگین ہے،اور ہم (زبان سے)وہی کہیں گے ، جس سے اللہ راضی ہو، اور اے ابراہیمؓ! ہم تیری جدائی پر غمزدہ ہیں۔(رواہ مسلم،۲۶۳۱)
صحابہ کرامؓ کے بچوں کی پیدائش پر خوشی
رسول اللہ ؐ جب مدینہ آئے تو کچھ عرصہ تک ان کے ہاںکوئی بچہ پیدا نہ ہوا، حتی کہ کفار ومنافقین نے باتیں بنانا شروع کر دیں۔عبد اللہؓ بن زبیر پہلے بچے تھے جو مہاجرین کے ہاں پیدا ہوئے اور اس پر تمام مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت عائشہؓ نے ان کی کنیت ’’ام عبداللہ‘‘ اختیار کی۔
کئی صحابہ اپنے ہاں بچے کی ولادت پر مولود کو رسول اللہ ؐ کے پاس لے آتے، آپؐ اسے بوسے دیتے اور اسے تحنیک دیتے، (کھجور کو نرم کر کے تالو میں رس ٹپکانا)، اسے اپنے ساتھ لگاتے اور اسے برکت کی دعا دیتے۔
حضرت ابو موسی اشعریؓ بھی اپنے بڑے بیٹے کی ولادت پر اسے آپؐ کے پاس لے کر آئے۔ آپؐ جو دعوت، جہاد اور عبادت میں مشغول رہتے تھے، اپنے اصحاب کی خوشیوں میں بھی برابر شریک ہوتے تھے۔
تربیتِ اولاد کی تلقین
حضرت ایوب بن موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: کوئی باپ اپنے بیٹے کو اس سے زیادہ عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اسے اچھے طریقے سے زندگی گزارنے کے طریقے سکھائے۔
آپؐ بچوں سے شفقت اور محبت سے پیش آتے، اور اس نرم رویے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی اہتمام فرماتے۔ انہوں نے بڑے ہوتے ہوئے بچوں کی تربیت کے حوالے سے تاکید کی۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
’’اپنے بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور دس برس کی عمر میں انہیں مارو اور ان کے بستر الگ کر دو‘‘۔ (صحیح ابو داؤد،۴۹۵)
بستر الگ کرنے سے مراد سونے کی جگہ کا الگ ہونا ہے۔
آپؐ اصحاب کو بچوں کے درمیان عدل کی بھی تلقین فرماتے، کہ ان کے درمیان برابری کرنے کا حکم دیتے، یہاں تک کہ آپ نے ایسے ہبہ (تحفے) کا گواہ بننے سے انکار کر دیا جو سب اولادوں کو نہیں دیا گیا تھا۔
بیٹی کی پیدائش
آپؐ نے فرمایا: جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ٰاس کے گھر والوں کے پاس جا کر سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔ بچی کو اپنے پروں کے نیچے لے کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے۔ جو بھی اس بچی کی نگہداشت کرے گا اور اسے پالے پوسے گا اللہ تعالیٰ کی مدد تاقیامت اس کے شامل ِ حال رہے گی۔
بیٹی کو ترجیح
آپ ؐ جب باہر سے گھر آتے تو موسم کا تازہ پھل بیٹی کو پہلے دیتے۔
آپؐ نے فرمایا: جو شخص دو لڑکیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے وہ قیامت کے دن میرے اتنے قریب ہو گا جیسے یہ دو انگلیاں۔آپؐ نے دو انگلیاں اس طرح دکھائیں کہ ان کے درمیان فاصلہ کم تھا۔ (سرورِ کائنات کی بچوں سے محبت، شاکر حسین شاکر)
ام خالدؓ کا بچپن کا واقعہ
حضرت ام خالد اپنا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ ؐ کی خدمت میں کچھ کپڑے بھجوائے گئے ۔ ان میں کالے رنگ کی ایک چادر تھی جس پر پیلے یا سبز رنگ کے کچھ نشانات تھے۔ آپؐ نے مجھے بلوا بھیجا۔ میرے والد مجھے گود میں اٹھا کر لے آئے۔آپؐ نے وہ چادر مجھے اوڑھا دی اور دعا دی۔ میں آپؐ کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور اور آپؐ کی پشت پر نبوت کے نشان سے کھیلنے لگی۔میرے والد نے مجھے جھڑکا اور روکا، مگر رسول اللہ ؐ نے میری اس گستاخی کا برا نہ منایا اور میرے والد سے کہا کہ مجھے نہ روکیں اور کھیلنے دیں۔
بچوں کا شادی میں شرکت
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ انصار کی عورتوں اور بچوں کو دعوتِ ولیمہ سے آتے دیکھ کرآنحضرت ؐ خوشی کے باعث ٹھہر گئے اور فرمایا: ’’خدایا، تم لوگ مجھے آدمیوں سے زیادہ محبوب ہو‘‘۔ (رواہ البخاری، ج۳،۱۶۶)
بچوں کی تربیت کا اچھوتا انداز
بچپن زندگی کا ایک خوبصورت مرحلہ ہے، اس میں سکھائی گئی باتیں پتھر پر نقش کی مانند ہوتی ہے۔ آپؐ اس تربیت کا کیا خوب صورت رنگ انداز سکھاتے ہیں۔ آپؐ کی حکمت کے چند قطرے پیش خدمت ہیں:
شکریہ ادا کرنا اور نرم روی اختیار کرنا
ہم جب بھی بچوں کو کچھ بڑوں کی محفل میں دیکھتے ہیں تو ہمیں ’’ یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، یہ کیا کر دیا، ایسے کیوں کیا؟‘‘ جیسے کلمات کثرت سے سنائی دیتے ہیں۔یعنی بچوں کو بہت زیادہ روکا ٹوکا جاتا ہے اور ملامت کی جاتی ہے۔ بچوں کا احتساب تو والدین کا عمومی رویہ ہے، لیکن جب بچے اچھا کام کریں تو کیا ہم ان کی حوصلہ افزائی اور تعریف بھی کرتے ہیں؟
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اپنی خالہ میمونہؓ کے گھر تھے کہ رسول اللہ ؐ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا تشریف لے گئے۔ ابن ِ عباس نے آپؐ سے محبت کی خاطر پانی کا لوٹا بھر کر رکھ دیا۔ جب آپؐ باہر آئے تو پوچھا، پانی کس نے رکھا تھا؟ آپؐ ان سے خوش ہوئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’آپؐ نے مجھے اپنے سینے سے چمٹا لیا اور فرمایا: اے اللہ! اسے کتاب (اللہ) کا علم سکھا دے‘‘۔ (رواہ البخاری،۷۲۷۰)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ امِّ سلیم نے انہیں بتایا، کہ انہوں نے رسول اللہ ؐ سے کہا: یا رسول اللہؐ ، انس آپؐ کا خادم ہے، اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپؐ نے فرمایا: اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما‘‘۔ (رواہ البخاری،۶۳۷۹)
ہمارے ہاں بعض اوقات بچوں سے تجاہل کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور جب باہم ملاقات ہو تو بعض بڑے اہتمام سے بچوں کو سلام کرتے ہیں لیکن بعض کا سلام بھی بڑوں ہی کے لیے ہوتا ہے اور وہ بچوں کو سلام بھی نہیں کرتے۔
حضرت انسؓ بچپن میں ہجرت کر کے اپنی والدہ امّ سلیم کے ساتھ مدینہ آئے۔ انہوں نے حضرت انسؒ کو رسول اللہ ؐ کی خدمت میں پیش کر دیا اور کہا: ’’یا رسول اللہؐ ! یہ انیس ہے، آپؐ کی خدمت کرے گا‘‘۔ اس وقت انسؓ کی عمر دس برس تھے اور وہ بچے صحابی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ میرے پاس آئے تو میں دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، آپؐ نے ہمیں سلام کہا‘‘۔ رواہ البخاری، ۱۷۲۰)
حضرت انسؓ بھی اسی اسوہ پر عمل کرتے ہوئے بچوں کو سلام کرتے اور رسول اللہ ؐ کا عمل یاد کرتے تھے۔
محبت کا اظہار
بچوں سے یہ سوال کئی بار کیا جاتا ہے کہ انہیں ماں باپ، بہن بھائی اور بڑے کیسے لگتے ہیں۔ اور ان کا جواب سب سے’’ زیادہ اچھے‘‘پر مبنی ہوتا ہے۔ کیا ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ وہ ہمیں کس قدر عزیز ہیں؟
حضرت براءؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت حسنؓبن علیؓ کو رسول اللہ ؐ کے کندھوں پر دیکھا اور آپؐ فرما رہے تھے: ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما‘‘۔ (رواہ البخاری،۳۷۴۹)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں نبی کریم ؐ کے ساتھ تھا، اور میں آپؐ کے ساتھ ہی واپس لوٹا۔ آپؐ نے پوچھا: بچہ کہاں ہے؟ حسن بن علی کو بلاؤ؟ یہ آپؐ نے تین مرتبہ پوچھا۔ حسن بن علیؓ دکھائی دیے تو آپؐ نے ان کی جانب ہاتھ پھیلایا، انہوں نے بھی ہاتھ آگے بڑھایا اور آپؐ نے انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیا، اور فرمایا: ’’اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ، اور جو اس سے محبت کرے تو اس سے بھی محبت فرما‘‘۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی مجھے ان سے زیادہ پیارا نہیں رہا۔ (رواہ مسلم، ۶۲۵۷)
کھیل ضروری ہے
بچوں کی زندگی میں کھیل کود اور بھاگنا دوڑنا ضروری ہے۔ جو بچے کھیل کود سے دور رہتے ہیں ان کے جسم کمزور اور وہ نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں۔بچے کھیل کود کو اپنا حق سمجھتے ہیں جب کہ بڑے حتی کہ والدین بھی اسے اجازت سے مشروط کرنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ؐ بچوں کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔
حضرت عائشہؓ اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ ’’میں رسول اللہ ؐ کے ہاں کچھ لڑکیوں سے کھیلتی تھی،،میری کچھ سہیلیاں جو میرے ساتھ میں کھیلا کرتی تھیں، رسول اللہ ؐ کی آمد پر چھپ جاتی تھیں، تو آپؐ انہیں ڈھونڈ کر میرے پاس بھیجتے‘‘۔ (رواہ مسلم،۲۴۴۰)
حضرت عائشہؓ کی کم عمری کا رسول اللہ ؐ بڑا خیال فرماتے۔ عید کے روز کچھ حبشی کرتب دکھانے آئے تو رسول اللہ ؐ نے انہیں اپنے بازو کی اوٹ سے وہ کرتب دکھائے، اور جب تک وہ خود نہ تھک گئیں اس وقت تک آپؐ انہیں دکھاتے رہے۔
محبت سے چومنا
بچوں سے محبت اور شفقت سے پیش آنا ان کا حق ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ: ’’ایک روز رسول اللہ ؐنے (اپنے نواسے) حسنؓ بن علی ؓکو چوما، اقرع بن حابسؓ آپؐ کے پاس بیٹھے تھے، انہوں نے کہا: میرے دس لڑکے ہیں ، میں نے انہیں کبھی نہیں چوما۔ آپؐ نے ان کی جانب دیکھا اور فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔ (رواہ البخاری،۵۹۹۷)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (بدو) رسول اللہ ؐ کے پاس آیا اور پوچھا: ’’کیاآپؐ بچوں کو چومتے ہیں؟ ہم تو انہیں نہیں چومتے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر تمہارے دل سے رحمت کھینچ لی گئی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟‘۔ (رواہ البخاری،۵۶۷۵)
سب بچوں سے پیار
اپنے بچوں سے تو سب کو پیار ہوتا ہے، لیکن کیا یہ پیار تمام بچوں کے لیے بھی ہے۔ ایک قول ہے کہ : ’’بچے سانجھے ہوتے ہیں‘‘، یعنی جنت کے یہ پھول محبت کے مستحق ہیں خواہ اپنے ہوں یا کسی اور کے۔
آپؐ سب بچوں سے پیار کرتے تھے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے (ایک شادی کی دعوت سے )عورتوں اوربچوں کو واپس لوٹتے دیکھا۔آپؐ کھڑے ہو گئے اور تین مرتبہ فرمایا: ’’واللہ، آپ مجھے لوگوں میںسب سے زیادہ پسند ہیں‘‘۔ (رواہ البخاری،۳۷۸۵)
حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ انہیں (ایک آزاد کردہ غلام کے بیٹے) اور حسن بن علیؓ (اپنے نواسے ) دونوں کو پکڑ کر اللہ سے دعا کرتے: ’’اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما‘‘۔ (رواہ البخاری،۳۷۴۷)
بچوں کو ادب سکھانا
رسول اللہ ؐ بچوں کو کھانے میں اپنے قریب بٹھاتے اور ان کی تربیت کرتے۔ ان کی زوجہ امِّ سلمہ کے بیٹے کو کیا عمدہ طریقے سے نرمی، شفقت اور رحمت سے ادب سکھایا۔
حضرت عمرو بن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے مجھے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو، سیدھے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ‘‘۔ (رواہ البخاری،۲۳۰۹)
عمر کے مطابق سلوک
بچوں کو مخاطب کرنا اور ان سے بات کرنا ان کی جانب اچھی توجہ ہے۔ ہمارے بہت سے بڑے بچوں سے بات کرتے وقت ان کی عمر اور عقل کے درجات کا خیال نہیں کرتے، اور بعض تو بچوں کو نصیحت کرنا ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
بعض والدین اور بزرگ بچوں سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں اور ان کی صلاحیت کا ادراک کیے بغیر ان سے وعدے لینے لگتے ہیں۔اس طرح وہ انہیں نفع نہیں پہنچاتے بلکہ ضرر رساں بن جاتے ہیں۔ دوسری جانب جب بچے ان منزلوں تک نہیں پہنچ سکتے تو ان کا اپنے پراعتماد کم ہو جاتا ہے۔
زینب بنت حمیدؓ اپنے بیٹے کو رسول اللہ ؐ کے پاس لے کر آئی، اور بولی: ’’یا رسول اللہ ؐ ! اس سے بیعت لیجیے‘‘۔ آپؐ نے فرمایا، یہ ابھی چھوٹا ہے۔اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔(رواہ البخاری،۶۷۸۴)
حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے اور عبد اللہ بن عمرؓ کو بدر کے روز نا بالغ قرار دے دیا گیا تھا‘‘۔(رواہ البخاری،۳۹۵۶) یعنی انتہائی قلتِ تعداد کے باوجود اور کم سن صحابہ کے شوقِ جہاد کے باوجود انہیں جنگ میں شامل نہیں کیا گیا تھا کیونکہ وہ بچے تھے۔
رسول اللہ ؐ نے باصلاحیت افراد کو کم سن ہونے کے باوجود بھی بڑی ذمہ داریاں دیں، جیسے اسامہ بن زیدؓ کو لشکر کی کمان سونپ کر گئے۔ آپؐ کی رحلت کے بعد حضرت ابو بکر نے بھی اس فیصلے کو قائم رکھا۔
فکری نشوونما
بچوں کی فکری نشوونما کے لیے کئی انداز اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ؐ کی مجلس میں بڑوں کے ساتھ کئی بچے بھی بیٹھتے تھے، اور آپؐ کئی سوال بھی کرتے تھے۔ ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم آپؐ کی مجلس میں تھے تو آپؐنے پوچھا: ’’مجھے وہ درخت بتاؤ جو مسلمان ہے یا مسلمان سے ملتا جلتا ہے، اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا ہے۔ابن ِ عمرؓ کہتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔میں نے ابوبکرؓ اور عمرؓ کی جانب دیکھا، وہ دونوں خاموش تھے، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں بولوں۔ جب کوئی نہ بولا تو آپؐ نے بتایا، یہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اٹھے تو میں نے عمرؓ سے کہا: ابا جان! اللہ کی قسم میرےذہن میں بھی یہی خیال آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔انہوں نے کہا: تمہیں بولنے سے کس چیز نے روکا؟ میں نے کہا: آپ دونوں کچھ نہ بولے اور نہ کچھ کہا تو مجھے اچھا نہ لگا کہ میں کچھ بولوں۔ تو انہوں نے کہا: اگر تم بتا دیتے تو یہ مجھے فلاں اور فلاں سے زیادہ محبوب ہو تا (یعنی سرخ اونٹوں سے)۔ (رواہ مسلم،۷۱۰۲)
(امام مسلمؒ کے شاگرد ابراہیم بن سفیان نے کہا: ’’غالباً ہمارے شیخ امام مسلم نے ’’اور وہ درخت اپنا پھل دیتا ہے‘‘ کہا ہو گا، لیکن میرے پاس ’’نہیں دیتا لکھا ہے‘‘، اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے نسخوں میں بھی یہی پایا ہے، ’’اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا‘‘۔)
یہی واقعہ صحیح بخاری میں یوں درج ہے: عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے پوچھا: ’’مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مسلمان جیسی ہے، جو ہر آن اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں گرتے، تو میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ….الخ‘‘۔ (رواہ البخاری،۶۱۴۴) یعنی اس میں بھی ہر وقت پھل دینے کا ذکر ہے۔
رسول اللہؐ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر علمِ وحی اور اپنی کتابوں کے سلسلے کو مکمل کیا۔آپؐ کا اسوہ تا قیامت سب مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ تمہا ر ے لیے رسول اللہؐ (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔ (الاحزاب،۲۱)
بچوں سے آپ کی شفقت اور محبت اور معاطفت کی مثالیں ہمارے لیے بہترین اسوہ ہیں۔بچے ہمارا مستقبل ہیں، نبیؐ کریم کا اسوہ یہی ہے کہ صرف والدین ہی نہیں بلکہ خاندان اور حاکمِ مملکت بھی ان کی خیر اور بھلائی کے لیے کوشاں ہو تاکہ امتِ مسلمہ کی بہترین نسل تیار ہو۔
٭٭٭