اک دیپ انوکھا
مجھے دونوں جہاں کے خالق نے
اس ارض و سما کے مالک نے
اک دیپ انوکھا بھیجا ہے
یہ دیپ جہاں بھی جل جائے
وہاں جہل کی کالی راتوں کے
سب گھور اندھیرے چھٹ جائیں
اور نفرت کی سب دیواریں
اک آن میں ہر سو مٹ جائیں
یہ دیپ جلے تو ہم دیکھیں
ہے جنت کیا اور دوزخ کیا
یہ کھول کے سب کچھ بتلا دے
ہے انساں تیری حقیقت کیا
اس دیپ کی روشن کرنوں میں
ملتے ہیں سدا اسرار نئے
اس دیپ کے سائے میں ڈھل کر
ابھرے ہیں سدا کردار نئے
یہ دیپ خدا کا مظہر ہے
یہ دیپ نبیؐ کا فرماں ہے
یہ دیپ ہمارا رہبر ہے
یہ دیپ ہمارا قرآں ہے
نعت
ہو گئی حاصل جسے خُلق نبی ؐ کی روشنی
دیکھتا ہے شش جہت میں زندگی کی روشنی
قوم سے اس کو تعلق ہے نہ رنگ و نسل سے
بالیقیں یہ روشنی تو ہے سبھی کی روشنی
اب زمیں سے اکتساب نور کرتے ہیں مَلَک
آپؐ کے صدقے بڑھی یوں آدمی کی روشنی
تاج شاہی کی چمک ظلمت کدوں تک آگئی
یوں ہوئی تقسیم شانِ سروری کی روشنی
داغِ عصیاں ہوگیا تو بہ سے مثلِ ماہتاب
دیکھنے والوں نے دیکھی تیرگی کی روشنی
جس کا 1سینہ فقر کی دولت سے مالا مال ہے
اس کے کس کام آئے گی تاجِ شہی کی روشنی
نام نامی آپ ؐ کا ، اسم گرامی آپؐ کا
اعتبارِ بزم عالم ، زندگی کی روشنی
نعت کی برکات سے زیدیؔ ، بنی کچھ ایسی بات
دیکھتا ہوں دل میں اپنے شاعری کی روشنی