آج تووارڈ کی سخت ڈیوٹی نے بہت تھکا دیا ۔صبح سے ایمرجنسی اٹینڈرکرتےرات ہوگئی ،طبیعت بھی کچھ ناساز رہی ۔اب آگے لمبی سی نائٹ ڈیوٹی منتظرہے۔ اب تو بےشمارڈاکٹر ہسپتالوں میں بھاگتے دوڑتے نظرآتے ہیں اورجب ہم ہائوس جاب میں تھے تو صرف ایک ڈاکٹر اورساراوارڈ ایوننگ میں اس کے سرپر۔ دوپہر2 بجے سےشام 8 بجے تک بھاگ بھاگ کرحشرہو جاتا تھا اورآپریشن ڈے پہ توبس اللہ ہی حافظ ہوتا تھا۔
آج پھرمیری Eveningاور ساتھ Nightبھی تھی ۔دل پریشان تھا اورہمت جواب دے گئی تھی ۔ یا اللہ آج توکوئی سبیل پیدا کردے … آج کی Night پہ کوئی معجزہ دکھا ۔ گھر سے نکلے 36 گھنٹے ہوگئے ، پہلے لیبر روم میں ڈیوٹی رہی اور آج کی یہ ڈیوٹی بہت بھاری بھرکم لگی۔
بھلا کبھی ایسے بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں ! ہماری سینئر ڈاکٹر فرزانہ رات کوآگئیں ۔ غالباً کسی کی جگہ گویا ڈیوٹی دینے کے لیے آئی تھیں ، میڈیکل آفیسر(Mo) تھیں ۔معجزہ ہوگیا ، کہنے لگیں آج آپ گھرچلی جائیں ۔یہ سُن کر جیسے سناٹا سا چھا گیا ہو ، جیسے یقین نہ آیا ، بازو پہ چٹکی کاٹ کردیکھا کہ خواب تونہیں، مگریہ خواب نہ تھا ، یہ حقیقت ہی تھی ، گھبرا کردوبارہ پوچھا ڈاکٹرفرزانہ کیا آپ ہم سے مذاق تونہیں کر رہیں ؟ کہنے لگیں نہیں بھئی آج چھٹی کر لیں ۔
اللہ کا شکربجا لاتے ہوئے ایسے یقین کیا جیسے اللہ پرایمان لانے کی تجدید ہو گئی ہو۔ دل بلیوں اچھل رہا تھا کتنے دن ہوگئے اپنے کمرے کے بسترکی شکل دیکھے، سکون تو کہیں کھو سا گیا تھا ۔
ہمارے دور کا گائنی وارڈ ایسا ہی ہوتا تھا ، اورپھر گائنی وارڈ (I) تو ہائی فائی میرٹ والوں کو ملتا تھا تو مریض بھی پھرہائی کوالٹی کے اوربے حساب ہوتے تھے ۔ایمرجنسی والے دن اللہ اللہ کرکے گزرتے تھے ۔ یہ بھاگ وہ پکڑ ، ادھر آ، اُدھرجا ، پتہ نہیں کیا کیا !
خیرچھٹی کی خوشی توکچھ اپنا ہی ذائقہ رکھتی تھی ۔ سردی بھی بہت تھی ، لمبی راتیں تھیں ۔ بس ایک مسئلہ تھا کہ چھٹی رات کے 12بجے ملی تھی ۔ اب آدھی رات کواکیلے گھرکیسے جائیں کوئی موبائل فون تو ہوتے نہیں تھے اور رہے PTCLتو وہ سردیوں میں برآمدوں کی نظر ہوجاتے اور سب کمروں میں گھس جاتے رات کو ،وہ بھی آدھی رات کو بھلا کون فون سنتا ہے! اور فون ایکسچینج سے بھلا ملتے بھی کب تھے ۔ یہ سلسلہ بھی نہ تھا۔
اب چھٹی کے بعد وارڈ میں کیسے رہا جا سکتا ہے اللہ کی یہ نعمتیں بھی کیا خوب تھیں جن کی قدر وارڈ میں تو بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی ۔ خیر سب نے مشورہ دیا کہ سائیکل رکشہ پہ چلی جائو اورچوکیدار ساتھ اپنے سائیکل پہ چلا جائے ۔ بس پھرکیا تھا اس کونسخہ کیمیا سمجھ کر اس پرعمل پیرا ہوگئے اور شکراللہ کا گھر پہنچ گئے ۔اب بیل دی توکچھ دیر بعد ڈاکٹرصاحب نمودارہوئےاورخوش ہونے کی بجائے کچھ پریشان سے ہو گئے۔ عجیب سی صورت حال ہوگئی ایک بارپھراللہ یاد آگیا ، سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ خیر ہے کیا ہوگیا ؟ مجھے دیکھ کر تو بے چارے اب کیا بولتے۔پھر بھی ہمت کرکے التجا کرنے لگے کہ وہ ناں … کمرے میں تو کچھ دوست آرام کر رہے ہیں ، لاہور سےآئے ہیں … آپ تو کمرے میں اب جانہیں سکتیں کیونکہ وہ توسوچکے ہیں ۔
ایسے لگا جیسے پائوں کے نیچے زمین بھی نہیں ہے، چکر سے آنے لگے ، مگرابھی مزید کچھ اور بھی تھا ، جوسننا باقی تھا ۔
’’ آپ آج ڈرائنگ روم کے صوفے پہ ہی سو جائیں ‘‘۔ گویا سردی کے موسم میں ٹھنڈے ڈرائنگ روم میں صوفے پرسونے کا مطلب یہ تھا کہ میری پھر نائٹ ڈیوٹی لگ گئی تھی ۔ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا !٭