وہ پانچوں سیڑھیوں پہ مایوس بیٹھے تھے۔ آج جو کچھ ہؤا وہ بہت دلبرداشتہ کرنے والا تھا۔ بارات کے ساتھ جانے والے مہمان ہال کے باہر سے ہی اپنے اپنے گھروں کو بھوکے ہی رخصت ہو گئے تھے۔ بنا دلہن دولہا کے وہ شادی والے گھر میں واپس آ کر کرتے بھی کیا۔ گھر میں صرف خاندان کے چند بزرگ رکے ہوئے تھے جو غم و غصّے کا شکار ہو کر مختلف کمروں میں بند ہوچکے تھے، اور اب تک یقیناً بلڈ پریشر کی گولیاں پھانک کے سو بھی چکے ہوں گے۔
علی کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔ گھر میں گھستے ہی اجمل صاحب نے طیش میں اعلان کر دیا تھا۔
’’وہ ناہنجار جب واپس آئے تو اس کے لیے دروازہ ہر گز نہ کھولا جائے‘‘۔
اب وہ لوگ صحن کی سیڑھی پہ بیٹھے علی کا انتظار کر رہے تھے۔
’’اگر رونا آرہا ہے تو رولو اتنا برا منہ بنا کے کیوں بیٹھی ہو؟‘‘
عماد نے منہ بسورتی منال کو ہمدردی سے مشورہ دیا۔
’’رونا تو آرہا ہے پر میک اپ خراب ہو جائے گا منہ دھونے کے بعد روؤں گی۔ ‘‘
منال کی بات پہ سب کے سوگوار چہروں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی جبکہ عماد جھنجھلا گیا۔
’’تو منہ دھو لو جا کر….اب شادی تو کینسل ہوگئی کیا علی کی اگلی شادی تک میک اپ سنبھال کے رکھنا ہے‘‘۔
’’آپ کو کیا جلدی ہے۔ اتنا مہنگا میک اپ کروایا ہے میں نے، جب دل بھر جائے گا تب دھولوں گی۔ آج تو میں نے اپنی تصویریں بھی نہیں لیں سوچا تھا ہال میں ہی اچھے اچھے پوز میں لے لوں گی‘‘۔ منال نے ٹھنڈی آہ بھری تو عماد نے سر پیٹ لیا۔
’’علی کی نہ ہونے والی شادی سے زیادہ تم کو اپنی تصویروں کی فکر ہے کیسی بہن ہو بھائی کا کوئی دکھ نہیں ہے‘‘۔
’’دکھ کیا کوئی تاج ہوتا ہے جسے میں گھسا،چمکا کے، لشکارے پڑوا کے سر پہ سجالوں اور اترا اترا کے سب کو دکھاتی پھروں‘‘۔
منال کے تنک کے کہنے پر عماد پورا اس کی طرف گھوم گیا ۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی کرارا جواب دیتا حماد نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔
’’بس کردو بھائی ابھی یہاں مما نہیں ہیں جو تم دونوں کی صلح صفائی کرائیں گی۔اپنی چونچیں بعد میں لڑا لینا پہلے علی کا کچھ پتا لگاؤ کہ وہ اتنی رات میں کہاں گیا ہوگا‘‘۔
’’پہلے کبھی علی بھائی رات میں گھر سے باہر رکتے تھے تو کہاں جاتے تھے؟‘‘ہانیہ نے آئمہ سے کافی عقلمندانہ سوال کیا۔
’’پہلے تو کبھی بھائی گھر سے باہر رکے ہی نہیں بابا کی طرف سے اجازت ہی نہیں تھی۔ البتہ ایک دفعہ رات میں بابا نے بھائی کو گھر سے باہر نکال دیا تھا وہ فرسٹ ائیر میں دو پیپر میں فیل ہوگئے تھے‘‘۔
’’تو جب وہ کہاں گیا تھا‘‘۔حماد نے بے چینی سے پوچھا۔
کہیں نہیں گئے تھے۔ پیچھے گلی میں کارخانہ ہے۔ وہاں کارخانے کی چھت سے اپنی چھت پہ کودے اور اپنے کمرے میں جا کے سوگئے تھے۔ آئمہ کی جگہ منال نے جواب دیا تھا۔ سب کے دماغ کی بتی ایک دم جلی اور سب سے پہلے آئمہ پھرکی کی طرح اوپر کی طرف دوڑی تھی۔ وہ چاروں بھی پیچھے لپکے۔ آئمہ نے آہستہ سے علی کے کمرے کا دروازہ کھولا سب نے چوکھٹ پہ کھڑے کھڑے ہی اندر سر کر کے جھانکا۔ حجلہ عروسی جوں کا توں اپنی ناقدری پہ اداس تھا۔ علی کی شیروانی نیچے کارپٹ پہ پڑی تھی اور وہ خود بنیان اور پاجامے میں ملبوس صوفے پہ بے خبر سو رہا تھا۔ آئمہ دروازہ بند کر کےواپس پلٹ گئی۔
’’پاگل ہیں ہم جو اس کے لیے اتنے پریشان ہیں اور یہ مزے سے سورہا ہے‘‘حماد نے نیچے اترتے ہوئے جھنجھلا کے کہا ۔
’’ہاں میں بھی سمجھا کہیں بیٹھا سگریٹ وگریٹ پھونک رہا ہوگا۔پرانے غمگین گانے سن رہا ہوگا غمِ فراق میں آنسو بہا رہا ہوگا اور یہاں نواب صاحب سوئے پڑے ہیں‘‘۔عماد بھی چڑچڑا ہؤا۔
’’کیا ہوگیا آپ لوگوں کو ….بھائی کتنے دن کے تھکے ہوئے تھے اور نیند تو سولی پہ بھی آجاتی ہے وہ تو پھر بھی ایک آرام دہ کمرہ ہے، اگر ان کی آنکھ لگ گئی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ پریشان نہیں یا ان کو کوئی غم نہیں۔’’منال نے علی کا دفاع کیا تو آئمہ بھی اس کی حمایت میں بول پڑی’’بھائی کا ساری رات جاگنے کا فائدہ بھی کیا ہوتا۔ اچھا ہے ابھی سکون سے سوجائیں تو صبح ابو کی عدالت میں تازہ دم ہو کے اپنا مقدمہ لڑ سکیں گے‘‘۔
’’جب سب صاحبِ معاملہ چین کی نیند سو چکے ہیں تو ہم کیوں بیوقوفوں کی طرح جاگ رہے ہیں ہم بھی سوجاتے ہیں۔ صبح سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے‘‘۔
حماد کی معیت میں سب اندر کی طرف بڑھے تو سامنے ایک سایہ سا آکر رک گیا۔ ’’صبح تک تو بہت دیر ہو جائے گی‘‘۔مدہم سرگوشی نے ان کے اندر جوش بھر دیا تھا۔ اب وہ پانچ نہیں چھےتھے جو سیڑھیوں پہ دوبارہ سر جوڑ کے بیٹھے منصوبہ بندی میں مگن تھے۔
پندرہ منٹ میں لائحہ عمل تیار ہوگیا صرف عمل کرنے کی دیر تھی۔ بچوں کے کاندھے پہ ایک حوصلہ بھری تھپکی دے کے وہ سایہ خاموشی سے گھر کے اندر گم ہوگیا ۔راستہ دکھا دیا گیا تھا اور انہیں بچوں کی صلاحیتوں پہ پورا بھروسہ تھا۔
حماد بھاگ کے لاؤنج سے ماموں کی ہائی روف کی چابی اٹھا لایا تھا۔ آئمہ ایمل کو فون ملارہی تھی۔ عماد نے چاروں کو باہر جا کے خاموشی سے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اوپر علی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ منال دروازے سے باہر نکلتے نکلتے صحن میں لگے آئینے میں اپنا میک اپ درست کرنے لگی۔ہانیہ سر پیٹتے ہوئےاسے گھسیٹ کے باہر لے گئی۔
سفید ہائی روف گلی کے کونے پہ کھڑی تھی۔ حماد ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان تھا۔ وہ تینوں پیچھے بیٹھی بے چینی سے گھر کے بیرونی دروازے کو تک رہی تھیں۔پانچ منٹ بعد ہی عماد بنیان اور پاجامے میں ملبوس حواس باختہ سے علی کو کندھے پہ ڈالے چلا آرہا تھا۔ گہری نیند سے جاگے علی کو سمجھ ہی نہ آرہا تھا کہ یہ اچانک کیا افتاد آن پڑی۔ وہ ہاتھ پیر چلا رہا تھا مگر عماد کی گرفت مضبوط تھی۔ جم میں بنائے گئے مسلز کام آگئے تھے۔
آئمہ دھڑا دھڑ ان دونوں کی تصویریں لینے لگی۔ ہانیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔’’پاگل ہو گئی ہو کیا تصویریں کیوں لے رہی ہو ‘‘۔
’’تاکہ ثبوت رہے کہ عماد بھائی علی بھائی کو زبردستی اغوا کر کے لے گئے تھے۔ عماد بھائی کو تو ابو نے کچھ نہیں کہنا ان کا سارا عتاب علی بھائی کے اوپر ہی گرے گا‘‘۔ آئمہ نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔ عماد نے مچلتے ہوئے علی کو گاڑی میں پٹخا اور خود بھی گھس کے بیٹھ گیا۔ حماد نے زن سے گاڑی نکالی۔ علی کا دماغ ابھی تک سن تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کہاں جارہے ہیں۔ وہ جھنجھلاتے ہوئے سوال پہ سوال کرنے لگا۔
’’کم از کم شیروانی تو ہاتھ میں اٹھا لاتے کس حلیہ میں لے آئے‘‘۔ منال نے علی کی دُہائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
’’ماموں کو نہ جگا لیتا کہ چلیے اپنے بیٹے کو دولہا بنا دیجئے وہ دولہن لینے جا رہا ہے‘‘۔
عماد کی بات پہ علی کی زبان کو بریک لگی ۔وہ گنگ ہو کے سب کو دیکھنے لگا۔
’’تم لوگوں کا دماغ خراب ہے۔ ابو مجھے جان سے مار دیں گے‘‘۔
’’وہ تو ویسے بھی مار ہی دیں گے۔ جو تم نے حرکت کی ہے ماموں کو چکمہ دے کے شادی ہال سے فرار ہونے والی ….تو تمہیں کیا لگتا ہے تم زندہ چھوڑ دیے جاؤ گے۔ ہم نے تمہارا کمرہ سجانے میں اتنا خرچہ کیا تمہاری بہنیں اتنے مہنگے پارلر سے تیار ہوئی ہیں تو مرنے سے پہلے اپنی بہنوں کے ارمان ہی پورے کردو۔ ویسے بھی تم اپنے ارمان بہنوں کی آڑ میں ہی پورے کرتے ہو‘‘۔ عماد کا اشارہ کس طرف تھا علی اچھی طرح سے سمجھ گیا تھا۔ اس نے مصنوعی غصہ سے عماد کے پیر پہ پیر مارا جبکہ دل بلیوں اچھلنے لگا تھا۔
گاڑی جھٹکے سے لاریب کی گلی سے کچھ دور رکی ۔حماد گاڑی اڑاتا ہؤا لایا تھا۔
’’اب کیا کرنا ہے؟‘‘اس نے پیچھے مڑ کے سب کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’میں نے ایمل کو فون کیا ہے۔ انکل آنٹی لاریب بھابھی کو دلاسے تسلیاں دے کے اپنے کمرے میں جاچکے ہیں۔ گھر میں کوئی اور نہیں ہے سب مہمان اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ لاریب بھابھی غمزدہ ہیروئن کی طرح ہر تھوڑی دیر بعد پیا کی یاد میں رونے لگتی ہیں۔ ایمل کو ان سے بات کرتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے۔ وہ کہہ رہی ہے میں دروازہ کھول دوں گی۔ جس کو بات کرنی ہے آکے خود کرلے‘‘۔ آئمہ کے تفصیلی جواب پہ سب نے منال کی طرف دیکھا۔
’’ارے بھئی میں کیوں جاؤں۔ علی بھائی کو جانا چاہیے۔ وہ ہی اسے منا کے لا سکتے ہیں۔ ویسے بھی دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ نکاح کا رشتہ ہے ان کے بیچ۔ اب دولہن لے کے آنا بھائی کی ذمہ داری ہے‘‘۔ منال کی بات میں دم تھا مگر علی بدک گیا۔
’’اس حلیے میں نہیں جارہا۔ بنیان پہن کے کون دلہن رخصت کرانے آتا ہے اور اگر آنٹی یا انکل میں سے کسی نے دیکھ لیا تو کیا عزت رہ جائے گی‘‘۔
’’ایسا کرو حماد واپس چلو ہم خواہ مخواہ اپنی نیند خراب کرکے یہاں خوار ہونے آگئے…. جناب کے نخرے ہی ختم نہیں ہورہے‘‘۔ عماد نے قدرے غصے میں کہا تو علی اس کو مکا دکھاتا ہؤا گاڑی سے نیچے اتر کے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
’’پوری کوشش کرنی ہے ناکام واپس نہیں آئیےگا‘‘پیچھے سے منال نے ہانک لگائی۔
پانچ منٹ میں ہی علی منہ لٹکائے واپس آگیا۔ ’’وہ نہیں مان رہی‘‘۔
’’اف بھائی پانچ منٹ میں کون لڑکی مانتی ہے۔ کہا تھا پوری کوشش کریے گا‘‘۔منال نے جھنجھلا کے کہا اور گاڑی سے اتر گئی ،ساتھ ہانیہ کا بھی ہاتھ کھینچ کے نیچے اتار لیا۔’’ہم دونوں جارہے ہیں اور انشاء اللہ ان کو لے کر ہی آئیں گے‘‘۔
علی دونوں کو گلی پار کرکے دروازے تک چھوڑنے آیا۔ دروازے پہ ایمل کھڑی ہوئی تھی۔ آئمہ نے اسے کال کردی تھی۔ وہ ان کو لاریب کے کمرے میں لے آئی۔ لاریب لان کے ملگجے جوڑے میں پریشان کھڑی تھی۔ سارا سنگھار اتار دیا گیا تھا۔ بےانتہا رونے کی وجہ سے آنکھیں قدرے سوجی ہوئی تھیں۔ منال نے آگے بڑھ کے اسے گلے لگایا تو وہ دوبارہ رونے لگی۔
’’اتنا کیوں رو رہی ہو ابھی کچھ نہیں بگڑا تم ہمارے ساتھ چلو‘‘۔
’’نہیں؟‘‘ ایک لفظی انکار کر کے وہ پھر ٹسوے بہانے لگی۔
’’کیوں نہیں‘‘ منال نے اسے خود سے الگ کرکے ایک تنبیہی نظر ڈالی۔
’’اگر یوں رات کے اندھیرے میں ماں باپ کی عزت خاک میں ملا کر جانا ہوتا تو ہم اپنے والدین کو منانے کے لیے اتنی محنت نہ کرتے۔ پہلے ہی یہ قدم اٹھا لیتے‘‘۔لاریب نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
’’پہلے یہ قدم اٹھایا ہوتا تو واقعی عزت خاک میں مل جاتی مگر اب تم علی بھائی کے نکاح میں ہو۔ تمہارے والد نے بحیثیت ولی سینکڑوں لوگوں کے سامنے اس نکاح کی اجازت دی تھی۔ اب تمہارے اوپر تمہارے والدین سے زیادہ تمہارے شوہر کا حق ہے۔ نکاح کے بعد میاں بیوی کو زبردستی الگ رکھنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے‘‘۔
منال کی بات میں وزن تھا ۔لاریب سوچ میں پڑگئی۔ ہانیہ صوفے پر پڑے عروسی جوڑے کو تہہ کرنے لگی جبکہ ایمل شش و پنج میں کھڑی تھی۔
’’میرے اس قدم پہ خاندان والے کتنی باتیں بنائیں گے۔ ممی پاپا کو موردالزام ٹھہرائیں گے‘‘۔ لاریب ہاتھ مسلتی ہوئی بیڈ پہ بیٹھ گئی۔
منال نے سر پہ ہاتھ مارا۔’’صبح جب علی بھائی ابو کے ہاتھ لگیں گے اور وہ ان سے زبردستی طلاق دلوائیں گے تب تو خاندان والے بالکل باتیں نہیں بنائیں گے تم لوگوں کو ہار پھول پہنائیں گے…. اور یہ تو سوچنا بھی مت کہ علی بھائی ابو کے سامنے ڈٹ جائیں گے….اگر ان میں یہ گُن ہوتا تو وہ شادی ہال سے فرار ہی نہ ہوتے‘‘۔
ہانیہ نے غصے سے بولتی منال کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور عروسی جوڑے کا بیگ اس کے ہاتھ میں تھمادیا۔
’’آج جو کچھ ہوا بہت برا ہؤا۔ صبح جو ہوگا مزید برا ہوگا۔ آج بڑوں کی غلطی کی وجہ سے تم دونوں کا نقصان ہؤا۔ اب ایک غلطی تم دونوں کرلو اس سے صرف بڑوں کی نام نہاد انا کو نقصان ہوگا کسی کی ذات کو نہیں….وگرنہ دوسری صورت کچھ دنوں میں تمہارے چاچا واپس انگلینڈ لوٹ جائیں گے۔ اجمل انکل اپنے مزاج کے لوگوں میں بیٹے کی شادی کرا دیں گے…. اور تم فقط دردناک ماضی بن جاؤ گی‘‘۔ ہانیہ کے رسان سے کہنے پہ لاریب کا دل مزید سہم گیا۔
’’بڑوں کی غلطی ہم سدھار رہے ہیں ہماری غلطی صبح وہ سدھار لیں گے‘‘ منال نے گویا چٹکی بجاتے مسئلہ حل کیا۔ لاریب گم سم کھڑی تھی۔
’’چلو‘‘ہانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ میکانکی انداز میں ساتھ چل پڑی۔
وہ تینوں گاڑی میں آکر بیٹھیں تو سب کے پژمردہ چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ علی کی تو باچھیں ہی چر گئی تھیں۔
’’کتنی انوکھی رخصتی ہے اوپر سے دونوں کے حلیے! قسم سے ماسی اور دودھ والے کی جوڑی لگ رہی ہے‘‘آئمہ کے کہنے پہ سب کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ لاریب بھی جھینپ کے مسکرادی۔ جاتے ہوئے علی جتنا گھبرایا ہؤا تھا واپسی میں اتنا ہی چہک رہا تھا۔ سارے راستے عماد اور حماد اس پہ جملے کستے رہے اور وہ دوبدو جواب دیتا رہا جبکہ لاریب کانوں تک سرخ ہوچکی تھی۔
٭
گھر پہنچ کے نہایت خاموشی کے ساتھ لاریب کو علی کے کمرے میں لے جایا گیا۔ منال اور ہانیہ نے کمرے سے علی اور علی کی شیروانی دونوں کو باہر پھینک کے کمرہ بند کرلیا ۔انہیں دلہن تیار کرنی تھی۔ علی دل پہ پتھر رکھ کے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ آئمہ سب کے لیے کھانا گرم کرنے کچن میں آگئی۔ لاریب لہنگا پہن کے آئی تو دونوں میک اپ لے کر اس کے چہرے پہ طبع آزمائی کرنے لگیں۔ پارلر سے بنوایا گیا بالوں کا اسٹائل کافی الجھ چکا تھا۔ بال کھول کے سلجھانے کا وقت نہیں تھا۔ انہوں نے ان ہی الجھے ہوئے بالوں کو ڈھیر پنیں لگا کے جما دیا۔ پندرہ منٹ میں تیار کرکے انہوں نے لاریب کارخ آئینہ کے سامنے گیا تو وہ چند لمحے کے لیے صدمے میں آگئی۔ ’’کیا میں اچھی لگ رہی ہوں؟‘‘ اگرچہ آئینہ چیخ چیخ کے حالتِ زار بیان کررہا تھا پھر بھی اس نے دل کی تسلی کے لیے پوچھ لیا۔
’’نہیں اچھی تو نہیں لگ رہیں کچھ عجیب سی لگ رہی ہو‘‘۔ہانیہ نے بغور دیکھتے ہوئے سچی رائے دی تو منال نے اس کا بازو پکڑ کے پیچھے کیا اور سامنے کھڑے ہوکر لاریب کو بغور دیکھنے لگی۔
’’شکر ادا کرو کہ صرف عجیب سی لگ رہی ہو ورنہ زمانہ گواہ ہے کہ ہم جس چیز کا بیڑا اٹھاتی ہیں اسے بگاڑ کے ہی دم لیتی ہیں‘‘۔منال کے شرارت سے کہنے پہ تینوں بےساختہ ہنس دیں۔ دور لاؤڈ اسپیکر پہ اذان کی آواز گونجی تو دونوں جلدی جلدی کمرے کا پھیلاواسمیٹنے لگیں۔’’ارے فجر ہوگئی۔ ابو نماز کے لیے اٹھنے والے ہوں گےکہیں علی بھائی ان کی نظروں میں نہ آجائیں میں علی بھائی کو بھیجتی ہوں‘‘۔
منال عجلت میں باہر نکل گئی لاریب جو خود ہی آئینہ میں دیکھ کے اپنا میک اپ ٹھیک کرنے لگی تھی ،ابو کے نام پہ سہم کے بیٹھ گئی۔
’’فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا حوصلہ رکھو‘‘ہانیہ بھی اس کو ہلکا سا گلے لگا کر باہر چلی گئی۔ آئمہ ٹرے میں دونوں کا کھانا لے آئی تھی۔ علی کو کھانے کی ٹرے پکڑا کے کمرے کے اندر بھیجا اور پانچوں نیچے کچن میں چلے آئے۔ کچن میں ہی کھڑے کھڑے وہ لوگ جلدی جلدی کھانا کھارہے تھے تاکہ اجمل صاحب کے اٹھنے سے پہلے وہ لوگ کمرے میں چلے جائیں پر قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ شاہ زر وضو کرکے اجمل کے ساتھ مسجد جانے کے لیے باہر نکلا تو ان پانچوں کو دیکھ کے ٹھٹھک گیا۔’’تم لوگ ابھی تک جاگ رہے ہو اور یہ ابھی تک کپڑے کیوں نہیں بدلے‘‘۔
’’ہم علی کا انتظار کر رہے تھے‘‘ عماد نے مری مری آواز میں کہا۔
’’ابھی تک نہیں آیا وہ ناہنجار‘‘ اجمل صاحب ایک دم غضب ناک ہوئے تو وہ سب سر جھکا کے کھڑے ہوگئے۔ عجیب مشکل تھی ،نہ نہ کہہ سکتے تھے نہ ہاں۔
شاہ زر کو ان پہ ترس آگیا ’’اندر جاکر کپڑے بدلو اور نمازیں پڑھ کے تھوڑی دیر سوجاؤ ،آجائےگا علی بھی‘‘۔
وہ اجمل کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے باہر چلے گئے تو وہ پانچوں بھی ان کے مشورے پر عمل کرنے کے لیے اندر کی طرف بڑھ گئے۔ ابھی کچھ دیر سونا ضروری تھا کیونکہ صبح ایک اور معرکہ سر کرنا تھا۔
٭
ڈرائنگ روم میں سب لاریب کے والدین کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔صبح ہی صبح ان کو اپنے گھر دیکھ کر اجمل کی تیوری پہ بل پڑگئے تھے مگر جب ان کا مدعا سنا تو ہکا بکا رہ گئے۔ ان کا بیٹا ان کی اجازت کے بغیر دوستوں کو بھی گھر نہیں لاتا تھا کجا کہ رات کے اندھیرے میں کسی کی بیٹی کو لے آیا!
شازمہ معاملے کی سنگینی کو بھانپ کر فوراً سوئی ہوئی پھوپھی جان کو اٹھا لائی کہ کسی بزرگ کی موجودگی میں بھائی جان مہمانوں کا لحاظ کریں گے پھر اوپر علی کے کمرے کی طرف چلی آئی۔ کمرہ اندر سے بند تھا، اس کے خدشے کہ تصدیق ہورہی تھی اس نے پریشانی میں زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ چند ہی لمحوں میں علی نے آنکھیں مسلتے ہوئے دروازہ کھولا ۔اس کو ہلکا سا دھکا دے کر اس نے کمرے میں قدم رکھا اور ٹھٹھک کے رک گئی۔ سرخ خوابیدہ آنکھیں لیے لاریب مسہری کے کونے پر ٹکی تھی۔ چہرے پہ خوف ہلکورے کھا رہا تھا۔
شازمہ نے پھٹی نگاہوں سے علی کی طرف دیکھا’’یہ؟‘‘ ایک لفظ سے زیادہ کچھ حلق سے نکلا ہی نہیں۔
’’مجھے نہیں پتہ یہ سب عماد، حماد نے کیا ہے‘‘۔علی نے تقریباً منمنا کے اپنی صفائی دی۔
شازمہ نے گہرا سانس لے کے حواس قابو میں کیے اور آگے بڑھ کے لاریب کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
’’تم دونوں فریش ہو کر نیچے آجاؤ لاریب کے والدین آئے ہیں‘‘۔
شازمہ کی بات پہ لاریب کے ساتھ ساتھ علی کا چہرہ بھی زردی مائل ہوگیا۔ اس نے مدد طلب نظروں سے دیکھا۔ وہ اس کا کندھا تھپتھپا کے باہر نکل گئی۔
ڈرائنگ روم کی خاموشی بلند آوازوں میں دبنے لگی تھی۔ وہ عجلت میں ٹی وی لاؤنج کی طرف بڑھی۔ نیچے کارپٹ پہ دونوں مدہوش سورہے تھے۔ اس کی اولاد تھی اسے پتہ تھا کہ اس کے جھنجھوڑنے سے بھی وہ اٹھنے والے نہیں ہیں۔ اس نے بنا وقت ضائع کیے میز پہ رکھا جگ دونوں پہ انڈیل دیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔
’’لاریب کو کون لایا ہے؟‘‘اس نے ڈپٹ کے پوچھا۔ چند لمحوں کے لیے تو ان کے دماغ نے کام ہی نہیں کیا۔ جب رات کا کارنامہ یاد آیا تو ہونٹ گول کرکے دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
’’وہ….میں، عماد، علی، ہانیہ، مناہل اور آئمہ‘‘۔
حماد کے جواب پہ شازمہ نے سر پکڑ لیا۔
’’اف پوری بارات گئی تھی۔ فوراً ڈرائنگ روم میں جاؤ تمہارے اجمل ماموں اس بارات کا بینڈ بجانے بیٹھے ہیں میں ذرا ان تینوں کو لے کر آتی ہوں‘‘۔
’’ابو بھی ہیں وہاں‘‘عماد نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں ہیں لیکن آج وہ تمہاری اس حرکت پہ تمہارے ساتھ مل کے قہقہے نہیں لگائیں گے۔ تمہیں بھائی جان کے عتاب سے کوئی نہیں بچا سکتا‘‘
’’کیا سچ میں غلط کیا ہے ہم نے؟‘‘حماد نے غلط پہ زور دیتے ہوئے پوچھا۔ شازمہ ایک منٹ کے لیے سوچ میں پڑ گئی۔ ’’پتہ نہیں‘‘جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو جھنجھلا کے لڑکیوں کو اٹھانے کے لیے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
اجمل صاحب کی گھن گرج کے سامنے وہ پانچوں سر جھکائے کھڑے تھے ۔ ان کا غیظ و غضب ان کے نہایت غصیلے لہجے سے عیاں تھا۔ کسی نے بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ سب ہی جانتے تھے کہ جب تک ان کا غصہ باہر نہیں نکلے گا وہ مزید کچھ سوچنے کی زحمت نہیں کریں گے ورنہ حالات کا تقاضا تو یہ تھا وہ آگے کے بارے میں سوچتے کہ اب کیا کرنا ہے۔
لاریب کے والدین کے چہروں پہ پریشانی کے ساتھ ساتھ مایوسی بھی تھی۔ اجمل صاحب کے انداز سے نہیں لگتا تھا کہ وہ ان کی بیٹی کو بطور بہو قبول کریں گے۔ اپنی بیٹی کی جرأت پہ بھی وہ حیران تھے۔ جس منزل کی طرف اس نے قدم اٹھایا تھا وہ راستہ غلط نہیں تھا مگر جس طرح سے اٹھایا تھا وہ طریقہ غلط تھا۔ کل ان بچوں کے والدین نے جو کیا وہ بھی تو سراسر غلط تھا پھر وہ کس منہ سے اپنے بیٹی داماد کو غلط قرار دیتے۔
وہ ان ہی سوچوں میں غلطاں تھے کہ علی اور لاریب نے لرزتے قدموں سے کمرے کے اندر قدم رکھا۔ اجمل صاحب یک لخت خاموش ہوگئے۔ ان کے چپ ہونے سے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
گلابی ہلکے کام والے سوٹ میں نکھری ستھری لاریب بھیگی آنکھیں لیے کھڑی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنے ماں باپ پہ ڈالی، دل چاہا بھاگ کر ان کے گلے لگ جائے مگر شازمہ کی مدھم سرگوشی کانوں میں گونجنے لگی جو چند لمحوں پہلے ہی وہ کمرے سے باہر آکر اس کے کان میں کرکے گئی تھی۔
لاریب نے نظر گھما کے دیکھا، اجمل صاحب اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے ہونٹ بھینچے کھڑے تھے۔وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے اجمل صاحب کی طرف بڑھی اور سر جھکا کر کھڑی ہوگئی۔ کمرے میں موجود تمام نفوس نے گویا چین کا سانس لیا۔ پچھلے گھنٹہ بھر سے اپنی خاندانی روایات بچوں کے گوش گزار کرنے والے خود کیسے اپنی روایت سے پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ انہوں نے چند لمحوں کے توقف کے بعد اپنا داہنا ہاتھ اس کے جھکے ہوئے سر پہ رکھ دیا۔
’’سائرہ جا کے ناشتے کا انتظام کیجیے۔ ہماری بہو کا پہلا ناشتہ ہے۔ سب کچھ بہترین ہونا چاہئے‘‘۔
اجمل صاحب تو ایسے پلٹے تھے کہ توے پر روٹی بھی کیا ہی پلٹتی ہوگی۔ کمرے میں ہلچل مچ گئی۔ سب کے چہروں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ بچہ پارٹی ’’یا ہو‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے باہر کی طرف بھاگی۔ شازمہ اور سائرہ لاریب کی والدہ سے گلے ملنے لگیں۔ شاہ زر لاریب کے والد سے گلے مل کے انہیں اجمل صاحب کے پاس لے آئے۔ دونوں قدرے جھجھک کے آگے ہوئے پھر ایکدم ہی گرم جوشی سے بغلگیر ہوگئے۔ پھوپھی جان نے بھی آگے بڑھ کے دونوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔ لاریب اپنی ماں کے گلے لگ کے رودی۔
’’والدین ہمیشہ بچوں کی غلطیوں کو سدھارتے ہیں مگر آج بچوں نے ایک گھر ٹوٹنے سے بچایا ہے جو ہماری انا کی بھینٹ چڑھنے والا تھا‘‘۔ شاہ زر تو ہمیشہ ہی بچوں کی پشت پناہی کو تیار رہتے تھے جبکہ شازمہ ہر بار کی طرح بچوں کی ایک اور انوکھی حرکت پہ جزبز ہوگئی۔
’’مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ آئیڈیا کس کا تھا…. میری کون سی اولاد کا دماغ اتنا خرافاتی ہے‘‘۔
’’کیا ابھی بھی آپ کو اپنے بیٹوں کی صلاحیتوں پہ شبہ ہے؟ہم نے تو پالنے سے ہی انہیں ہر کام الٹا ہی کرتے دیکھا ہے‘‘ اجمل صاحب کے کہنے پر شازمہ بدک گئی۔
’’میں اپنے بچوں میں اپنی بہوؤں کو بھی شامل کرتی ہوں اور آپ کی صاحبزادی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے بھائی جان‘‘۔
’’ارے اب تم دونوں بہن بھائی نہ لڑنا شروع کردینا ….چلو ناشتہ تیار کریں‘‘۔ سائرہ شازمہ کا ہاتھ پکڑ کے کھینچ کر لے گئی۔
ناشتہ کی میز تک آتے آتے سب کا مزاج خوشگوار ہوگیا تھا ۔جو تھوڑی بہت جھجھک تھی وہ بھی دور ہوچکی تھی۔ سب کے قہقہے گونج رہے تھے۔ ولیمہ کی تقریب اپنے مقررہ دن پر ہی کرنے کا ارادہ تھا۔ سب رشتے داروں کو کیسے مطلع کیا جائے اور ان کو کس حد تک بتایا جائے۔ ان نکات پہ زور و شور سے تبصرے جاری تھے کہ اتنے میں سب ینگ جنریشن بھی ڈائننگ روم میں داخل ہوئی۔ اجمل صاحب اپنی گفتگو روک کے انہیں خاموش نظروں سے دیکھنے لگے۔
’’آپ لوگوں کو یہاں ناشتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کچن میں جا کے کھڑے کھڑے کھائیے کیا پتہ مزید کوئی سازش رچنے سے رہ گئی ہو, اور علی آپ بھی ہماری بہو کے پاس سے کھڑے ہوئیے اور ان لوگوں کے ساتھ کچن میں چلے جائیے۔ آپ چھ لوگ مل کے دماغ چلائیں گے تب ہی اگلا پلان کامیاب ہوگا‘‘۔
باپ کا سرد لہجہ سن کے علی رونکھا ہوگیا۔ آئمہ فوراً اس کی مدد کو آگے بڑھی۔
’’سوری ابو! جو کچھ ہؤا وہ ہم پانچوں نے کیا پر پلان ہمارا نہیں تھا اور علی بھائی کا تو اس میں کوئی قصور ہی نہیں ہے۔ علی بھائی کو تو عماد بھائی سوتے سوتے کندھے پہ اٹھا کر لے گئے تھے‘‘۔ آئمہ نے جلدی سے موبائل میں کل رات کی تصویریں دکھائیں جس میں عماد بنیان اور پاجامے میں ملبوس علی کے کندھوں پہ پڑا تھا۔ ان کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ دل میں گڑی چھوٹی سی انی بھی نکل گئی جو فرمانبردار بیٹے کی من مانی کی وجہ سے چبھن دے رہی تھی۔
’’تم لوگوں کا پلان نہیں تھا تو کس کا تھا‘‘۔شازمہ متحیر ہوئی۔ باقی لوگ بھی حیرت سے انہیں دیکھنے لگے۔ جبکہ موٹے موٹے عدسوں کے پیچھے سے جھانکتی بڑی بڑی آنکھیں مستقل تنبیہہ کر رہی تھیں۔ مگر اب منہ سے نکل گیا تھا تو بتانا تو تھا۔ پانچوں کی بےساختہ نظر آخری کرسی پر پڑی اور سب اس طرف گھوم گئے۔
’’پھوپھی جان آپ!!!‘‘اجمل تو گنگ ہی رہ گئے۔
پورا خاندان جانتا تھا کہ وہ خاندان جوڑے رکھنے کے لیے کس قدر جان مارتی تھیں مگر پس پردہ بچوں کے ساتھ مل کے اتنی بچگانہ حرکتیں بھی کرسکتی ہیں اس کا اندازہ نہیں تھا۔ سچ ہی کہا ہے کسی نے بچے اور بوڑھے برابر ہوتے ہیں۔
’’ارے مجھے کیا خبر تمہارے بچے کیا کرتے پھر رہے ہیں ….مجھے تو نیند میں چلنے کی عادت ہے….کیا پتہ رات کو نیند میں چلی گئی ہوں صحن میں، کچھ نکل گیا ہو منہ سے ….بچوں نے تو میرا نام ہی لگادیا‘‘۔پھوپھی جان نظر چراتی ہوئی ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
شازمہ کے منہ سے اچانک ہنسی کا فوارہ پھوٹا ،پھر باری باری سب کے ہی قہقہے ابلنے لگے اور کمرہ زعفران زار بن گیا۔
٭
شادی سے فارغ ہوکر واپس گھر پہنچے انہیں دو دن ہوچکے تھے مگر تقریبات اور سفر کی تھکن نہیں اتری تھی۔ دو دن لگاتار وقت بے وقت آرام کرنے کے بعد شازمہ کو گھر کی بےترتیبی کی فکر ہوئی۔ اس نے منال اور ہانیہ کو ساتھ لگا کے پورے گھر کی تفصیلی صفائی کی۔ شام کو چائے پہ صباحت اور طلال کو بلانے کا ارادہ تھا ،وہ کچھ تحائف لائی تھی کراچی سے ان کے لیے۔ بچیوں سے ذکر کیا تو منال کچھ رونکھی ہوگئی۔
’’پھپھو پلیز آج نہیں بلائیں آج پہلے ہی اتنا کام کیا ہے بہت تھکن ہورہی ہے۔ سر بھی بھاری ہورہا ہے۔ کسی اور دن بلالیجیے گا‘‘۔
شازمہ نے ذرا دھیان سے منال کا جائزہ لیا تو اس کا رنگ زردی مائل لگا۔ آنکھیں بھی جھکی جھکی ہورہی تھیں۔’’ارے بیٹا تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا طبیعت خراب ہے۔ میں اتنا کام تو نہ کراتی‘‘۔ اسے افسوس ہونے لگا۔
’’کوئی بات نہیں پھپھو، تھوڑی دیر سوجاؤں گی تو بہتر ہو جاؤں گی‘‘۔
’’جاؤ جا کے آرام کرو شام میں کلینک چلنا میرے ساتھ، دوائی لے آئیں گے‘‘۔
منال کو کمرے میں بھیج کے وہ ہانیہ کے ساتھ طلال کی چیزیں پیک کرانے لگی۔
شام میں شازمہ اور منال کو کلینک میں کافی دیر ہو گئی۔ عماد، حماد اور شاہ زر تینوں ہی گھر آچکے تھے۔ ہانیہ پریشانی میں بار بار فون ملا رہی تھی پر فون لگ ہی نہیں رہا تھا کہ اطلاعی گھنٹی بجی ۔دونوں کو دروازے پر دیکھ کے ہانیہ نے سکون کا سانس لیا۔ اگلے ہی پل دونوں کے چہروں کی سنجیدگی نے اسے تشویش میں مبتلا کردیا۔ وہ دونوں اندر کی طرف بڑھیں تو وہ کچن میں ٹھنڈا پانی لینے چلی آئی۔ بوتل لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو شاہ زر شازمہ سے منال کی خیریت دریافت کر رہا تھا۔ عماد، حماد بھی ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
شازمہ نے ایک سنجیدہ نظر منال پہ ڈالی اور گویا ہوئی۔’’تقریباً دو سال ہوگئے بچوں کی شادی کو، جب سے منال بیاہ کے آئی ہے ہر وقت اچھل کود، بچپنا، بردباری نام کو نہیں ہے۔ اب قدرت کو اس کا یوں یہاں سے وہاں پھدکتے پھرنا منظور نہیں ہے اس لیے اس کی چھلاوا طبیعت کا بہت اچھا انتظام کیا گیا ہے‘‘۔
شازمہ نے توقف کیا تو عماد بے چین ہوگیا۔
’’ہوا کیا ہے منال کو‘‘
’’وہی جس کا تمہیں بچپن سے انتظار تھا‘‘۔ شازمہ پہیلیاں بجھوارہی تھی۔ عماد جھنجھلا گیا۔
’’کیا مطلب صحیح سے بتائیں نا‘‘۔
’’مطلب یہ کہ تم نے ساری زندگی ماں کو جتنا پریشان کیا ہے اب اس کا بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ اب وہ میری طرف سے گن گن کے بدلے لے گا تم سے‘‘۔
زبردستی کی طاری کی ہوئی سنجیدگی ٹوٹ گئی تھی اور شازمہ کی ہنسی نکل گئی۔ شاہ زر کے چہرے پر بھی خوشگوار تاثرات ابھرے۔منال کے گالوں پہ قوس و قزح کے رنگ اتر آئے۔ باقی لوگ ہنوز ناسمجھی سے شازمہ کا منہ دیکھ رہے تھے کہ سب سے پہلے ہانیہ کا دماغ چلا وہ چہک کے بولی۔
’’اچھا! صبح سے یہ کہہ رہی ہے سر بھاری ہورہا ہے سیدھا سیدھا نہیں کہا کہ پیر بھاری ہو گیا ہے ‘‘۔
’’اف‘‘ شازمہ نے سر پکڑا ۔بیٹے تو بیٹے اس کی تو بہوؤں کی زبان کے آگے بھی خندق تھی۔
عماد کے پریشان چہرے نے یکلخت رنگ بدلا۔ آنکھیں جگر جگر کرنے لگیں۔ رنگت سرخی مائل ہوگئی۔
حماد نے عماد کے کان میں گھس کے لمبی سی’’اوووو‘‘کی آواز نکالی تو عماد نے گھونسا مار کے اسے پیچھے گرادیا۔ دونوں کی دھینگا مشتی شروع ہوگئی۔ ہانیہ ہنستے ہوئے منال کے گلے لگ گئی۔ شازمہ نے بھی اس کے سر پہ ہاتھ رکھا۔ پھوپھی جان کتنی جہاندیدہ خاتون تھیں۔ وہ منال کو دیکھ کے فوراً بھانپ گئی تھیں، بس شازمہ ہی نہ سمجھی۔ اس نے مسکراتی نظروں سے شاہ زر کو دیکھا۔ وہ خوش تھا بے حد خوش، پچھلا وقت پلٹنے والا تھا ،ایک بار پھر وہ دونوں ایک ننھی سی آفت ہنسی خوشی اپنے سر پر سوار کرنے کے لیے بے چین تھے۔
منڈیر پہ بیٹھی خوشی نے ایک مسرت بھری چیخ ماری اور بھاگتی ہوئی ان سب کے درمیان موجود نٹ کھٹ زندگی کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی۔
٭ ٭ ٭
ختم شد