کتنی بہادر کتنی پیاری تھیں وہ! ۔ شہناز یونس

کوئی تبصرہ نہیں

میں بہت چھوٹی کلاس میں تھی ایک دن سکول سے روتی ہوئی آئی اور گھر آکر داخل ہوتے ہی آپا جی سے لپٹ کرپوچھنا شروع کر دیا کہ میری امی کہاں ہیں؟ سب لڑکیوں کی امی ہیں میری کہاں ہیں؟ انہوںنے بے اختیار ہنستے ہوئے مجھے گلے لگایا اور کہا کہ میں ہی تمہاری امی ہوں تو یقین کرنے کو دل نہ مانا۔ پھر جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی تو معلوم ہؤا کہ آپا جی ہی میری ماں ہیں وہ اپنے بہن بھائیوںمیں سب سے بڑی تھیں ۔ باقی بہن بھائی چھوٹے چھوٹے تھے ۔ وہ سب آپا جی کہتے تھے تو ہم سب بہن بھائی ان کو آپا جی ہی کہنے لگے ۔ اُن کے چچا اور خالائوں کے بچے بھی ان سے چھوٹے تھے لہٰذا وہ سارے خاندان کی آپا جی کہلانے لگیں ۔
جون ،جولائی 1947ہندو مسلم فسادات نے خوفناک شکل اختیار کی تھی۔ مشرقی پنجاب میں حالات بہت دگر گوں تھے ۔ سکھوں کے جتھے کے جتھے نکلتے اور مسلمانوں کو قتل کر کے ان کے گھروں کو آگ لگا دیتے ۔ لوٹ مار اور قتل و غارت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لدھیانہ، جالندھر ، ہوشیار پور، امرتسر میں خون کی ہولی عروج پر تھی۔ ایسی ہی ایک رات میں آپا جی اپنے والدین چھوٹے ماموں جو غالباً11 یا 12 سال کے اور خالہ جو 4 یا 5 سال کی تھیں اور گود میں ایک بچہ جو غالباً ایک سال کچھ ماہ کا تھا ان کولےکر حویلی کے پچھلے دروازے سے نکلیں ۔ سامنے کی طرف لوگوں کے گھروں کے دروازوں کو سکھوں نے آگ لگا دی تھی ۔ پچھلے دروازے سے نکل کر کھیتوں سے ہوتا ہؤا یہ چھوٹا سا قافلہ کچی سڑک پر آیا وہاں ایک بیل گاڑی مل گئی ۔ گاڑی بان نے ان سب کو بٹھا لیا۔ لدھیانہ ریلوے سٹیشن کافی دور تھا اور راستے میں دریائے ستلج تھا جس میں طغیانی تھی ۔ بیل گاڑی نے دریا کنارے اُتار دیا ۔ وہاں پر اور بھی بہت سے لوگ تھے جو مختلف گائوں سے چل کر وہاں پہنچے تھے ۔ اب انتظار تھا کہ پانی اترے تو یہ لوگ دریا پار کرکے دوسری طرف جائیں ۔ صبح کو پرور دگار نے رحم کیا اور پانی کافی حد تک اتر گیا تو یہ سب لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کلمہ کا ورد کرتے ہوئے دریا پار کر گئے ۔ کس طرح لدھیانہ سٹیشن پہنچے وہ ایک الگ داستان ہے ۔
اب سٹیشن پر جو بھی گاڑی آتی وہ چھتوں تک بھرئی ہوئی ہوتی اور بغیر رکے چلی جاتی ۔ سارا دن بھوکے ،پیاسے ساتھ چھوٹا بچہ جو دودھ کے لیے بلک رہا تھا ۔ کسی نے ترس کھا کر کچھ کھانا لا کر دیا ۔ رات کو دو بجے ایک ٹرین آئی اس میں کچھ جگہ تھی ۔ یہ سب لوگ اس میں سوار ہو گئے ۔ گاڑیوں میں بتی نہیں جلائی جاتی تھی اندھیرے میں کچھ پتہ نہ چلا کہ اندر کے کیا حالات ہیں ۔پیروں کو کچھ گیلا اور کچھ چپکنے والی چیز لگ رہی تھی نہ سیٹوں کا کچھ پتہ چل رہا تھا ۔ جب صبح کی کچھ روشنی ہوئی تو چیخیں نکل گئیں ان سب کے پائوں خون میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ جا بجا کٹی ہوئی لاشیں کوئی سیٹ کے اوپر کوئی آدھی لٹکتی ہوئی اور کوئی فرش پر ۔ معصوم بچوں کے سر تن سے جدا تھے ۔ سب نے رونا شروع کر دیا کہ اب جہاں پہ گاڑی رکے گی ان سب کا بھی یہی حشر ہوگا ۔ ٹرین کا ڈرائیور یا تو مسلمان تھا یا کوئی فرشتہ صفت انسان جو گاڑی کو خاصی تیز رفتاری سے لے کر والٹن سٹیشن پہنچ گیا ۔
امی بتاتی تھیں کہ جب گاڑی پاکستان کی سرحد میں داخل ہوئی تو کچھ جوانوں کی پاکستان زندہ باد کی آواز آئی ان سب کے دماغ مائوف تھے کہ باقی گھر والے کہاں اور کس حال میں ہوں گے میرے والد اور میرے دو ماموں لاپتہ تھے ۔باقی رشتہ داروں کا بھی کچھ پتہ نہ تھا ۔ والٹن سٹیشن پر اترے ۔ وہاں کچھ خیمے لگے ہوئے تھے جو پہلے سے آئے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں کو ایک درخت کے نیچے جگہ مل گئی ۔ کچھ خیراتی ادارے کے جوان روٹیاں بانٹ رہے تھے جن پر چٹنی رکھی ہوئی تھی ۔ ان کو بھی چند روٹیاں مل گئیں تو سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
وہ تمام زرعی زمین تھی جہاں کنویں تھے لیکن ہندوئوں نے ان میں چونا ڈال دیا تھا کہ مسلمان پیتے ہی مر جائیں ۔ برسات اور حبس کا موسم ، ہیضہ پھیل گیا جس کا پہلا شکار میرا معصوم بھائی بنا ۔ اُس کو وہیں دفنا دیا گیا شام تک کئی لوگ ہیضہ کا شکار ہو کر انتقال کر گئے تھے ۔ آج جہاں بڑی بڑی سڑکیں اور شاپنگ مال بنے ہوئے ہیں اس زمین میں نہ معلوم کتنی معصوم لوگوں کی قبریں ہیں ۔ امی بتایا کرتی تھیں کہ ہم سب بتوں کی طر ح ویران آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھتے دماغ بالکل کام نہیں کر رہے تھے اور نہ قبول کرنے کو تیار تھے کہ ان کے ساتھ یہ کیا ہؤا ہے اور کیوں ہؤا ہے ۔
تین ماہ والٹن کیمپ میں پڑے رہے کیونکہ ہندو کا پروپیگنڈا اتنا شدید تھا کہ پاکستان کون سا قائم رہنا ہے تم لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائو گے ۔3ماہ بعد قافلے اٹھ اٹھ کرمختلف سمتوں میں جانے لگے ۔ نہ کسی شہر کا نہ گائوں کا اور نہ ہی سمت کا پتہ نجانے کس طرح لائل پور موجودہ فیصل آباد پہنچے اور وہاں سے گائوں نمبر 275آر بی۔ پہنچے دو تین دن گائوں کے مقامی لوگوںنے کھانا وغیرہ دیا ۔ چند دن بعد میرے والد اور دو ماموں پوچھتے پچھاتے اسی گائوں میں پہنچ گئے ۔ والد صاحب اور ایک ماموں کانروس بریک ڈائون ہو گیا تھا جہاں بیٹھے ہیں وہیں بیٹھے ہیں گھنٹوں خلائوں میں گھورتے رہتے میرے نانا اللہ ان کو غریق رحمت کرے سب کی ہمت بندھائی سب کو اکٹھا کیا اور سمجھایا کہ زمینیں جائیدادیں ختم ہو گئی ہیں اپنے پائوں پر خود کھڑا ہونا ہے ۔ میری والدہ ( آپا جی) مضبوط اعصاب کی مالک تھیں حالانکہ گود کا بچہ کھو چکی تھیں ۔ کچھ عرصہ سوچ بچار میں گزراذرا ہوش ٹھکانے آئے تو نانا کے کہنے پر کراچی کا رُخ کیا۔
اب یہاں نئی زندگی شروع کرنی تھی ۔ امی مڈل پاس کر کے لدھیانہ سے آئی تھیں ، پرائیویٹ میٹرک کا ارادہ کیا اور کتابیں منگوا لیں ۔ والد صاحب ایک کمپنی میں ملازم ہوئے ، گھر کی دال روٹی چل پڑی اب میرے والد امی ، تین ماموں ، والد صاحب اور والدہ کے خالہ زاد بھائی اور بھانجے سب اس چھوٹے سے گھر میں قیام پذیر ہوئے ۔ کھانا پکانا امی کے ذمہ تھا سب لوگ مل جل کر کام بانٹ کر کر لیتے ۔ جیسے جیسے سب کو کام ملتا گیا حالات سنبھل گئے۔ میرے والد اور والدہ ایک علیحدہ گھر میں شفٹ ہو گئے ۔
اب امی نے پرائیویٹ امتحان دینے کا ارادہ کیا ۔ بچے بھی پیدا ہو رہے تھے ساتھ پڑھائی بھی چل رہی تھی ۔ انہی حالات میں میٹرک سکینڈڈویژن میں پاس کیا پھر FA-CTکیا اور گورنمنٹ سکول میں پڑھانا شروع کر دیا 5 بیٹیاں اوپر تلے پیدا ہوئیں ۔ حالات کافی حد تک سنبھل چکے تھے کہ والد صاحب کی طبیعت خراب رہنے لگی ۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کو کراچی کی مرطوب آب و ہوا راس نہیں آئی تھی ان کو پنجاب شفٹ کرنے کا کہا ۔امی نے ہمت کر کے والد صاحب کو ان کے ایک بھانجے جو کہ ڈاکٹر تھے اور اس وقت گورنمنٹ ہسپتال مری میں تعینات تھے ان کو بتایا ۔ وہ آکر والد محترم کو اپنے ساتھ لے گئے اور تقریباً سال ڈیڑھ سال اپنے پاس رکھا ۔
امی ہم سب کو لے کر کراچی ہی رہیں اپنی ملازمت بھی جاری رکھی منجھلے ماموں بھی ساتھ رہتے ۔ ہماری پڑھائی کا حرج نہ ہونے دیا اور ہمارا سال ضائع نہ ہؤا اب والد صاحب لاہور آگئے اور ملازمت تلاش کی۔ کچھ عرصے بعد پیاری آپا جی بھی ہمیں لے کر لاہور آگئیں ۔ ہم سب کو ماڈل ٹائون سکول میں داخل کروا دیا اور خود بھی وہیں ملازمت کی اور پڑھانا شروع کر دیا ۔ زندگی میں ٹھہرائو آگیا تھا۔
والدین کو کبھی صبح کی نماز دیر میں پڑھتے نہ دیکھا، اس کے بعد تمام عمر فجر کے بعد قرآن کی تلاوت معمول تھا ۔ ان معمولات سے فارغ ہونے کے بعد ہم سب کے لیے ناشتہ بناتیں، پھر خود تیار ہوتیں ۔ ہم سب سکول روانہ ہوجاتے واپس آکر جو جلدی آتا وہ کھانا بناتا ۔ ہم سب بہنوں کی ڈیوٹیاں مقرر تھیں مجھے یاد نہیں کہ ہم سب بہنوں نے باقاعدہ سالن بنانا یا روٹی بنانا آپا جی سے سیکھا ہو ۔ ہوش سنبھالا تو سب کچھ آتا تھا ۔ اس وقت واشنگ مشین کا استعمال عام نہ ہؤا تھا ۔ اتوار کے دن آپا جی صبح صبح سب کے کپڑے دھو کر ناشتہ سے پہلے صحن میں پھیلا دیتیں ۔ گرمیوں کی چھٹیاں آتیں تو بڑے بڑے مرتبان اچار ، چٹنی اور مربے کے بناتیں ۔ ہم سب کو ساتھ لگا لیتیں ۔ صاف ستھرے بستروں کاوہم تھا ۔ گرمیوں میں لحاف کھول کر دھلوائے جاتے اور روئی کو پنجوا کر لحافوں کی سلائی خود کرتیں ( اب یہ روئی کو پنجنے والے نظر نہیں آتے )۔
ماڈل ٹائون سکول میں ہر کلاس میں طالبات کی تعداد 30-35 تھی جو بعد میںبڑھتے بڑھتے 45-40ہو گئی تھی ۔ وہ انتہائی محنتی استاد تھیں طبیعت کی ذرا سخت جس کی وجہ سے کلاس میں کبھی ڈسپلن کا مسئلہ نہ ہؤا ۔ تمام اساتذہ ان کی بے انتہا عزت کرتے تھے ۔ لڑکیوں کے والدین آپا جی ( سکول میں مسزچوہدری کہلاتی تھیں )کے سیکشن کی سفارش کرتے کیونکہ تعلیم کے ساتھ ان کی اخلاقی تعلیم پر بہت زو ردیتی تھیں ۔امتحانوں کا وقت کافی مشکل ہوتا سو ، سو پرچوں کے بنڈل آتے جو ایک مقررہ وقت پر چیک کر کے دینے ہوتے ۔ ہم بہنیں نمبر ٹوٹل کرتے اور لسٹیں بنانے میں ان کی مدد کرتے ۔ ان دنوں میں ہم بہنوں کی کچن کی ڈیوٹیاں بڑھ جاتیں کیونکہ ہمارے گھر میں کھانا وقت پر کھایا جاتا اور بے وقت یا رات کو دیر سے کھانا کھانا نا پسند تھا ۔
وقت گزرتا گیا میں پنجاب یونیورسٹی میں چلی گئی، ایک نیشنل کالج آف آرٹس میں ایک فیصل آباد یونیورسٹی ایک لاہور کالج ایک گورنمنٹ کالج۔ سب نے ماسٹر ز کیا ۔ پھر شادیوں کےسلسلے شروع ہوئے ۔ سب بیٹیوں کی بہت با عزت اور با وقار طریقے سے شادیاںکیں سب کی سسرال کے ساتھ بہترین برتائو قائم رکھا ۔ ہم سب بہنوں کو سلائی کڑھائی ، نیٹنگ، کھانا پکانا غرض ہر کام میں ماہر کر دیا ۔ گرمیوں کی دوپہریں بہت طویل ہوتی تھیں خاص طور پر چھٹیوں میں اُن میں ہم سے اپنے اپنے جہیز کی تیاری کرواتیں ۔ فارغ نہ خود بیٹھتیں اور نہ ہمیں بیٹھنے دیتیں ۔ میں نے آج تک کسی ساس سے بہو کی ’’ ماں ‘‘ کی تعریف نہیں سنی مگر میری ساس جو خود بھی بہت اعلیٰ اخلاق کی حامل تھیں (اللہ ان کو جنت کے اعلیٰ درجات عطا کرے آمین ) کہا کرتیں کہ تمہاری ماں نے 5ہیرے تراش کر لوگوں کے حوالے کر دیے یہ بہت اعلیٰ ظرفی کی بات ہے جو انہوں نے کی۔یہ بات جب امی کو بتائی تو انہوں نے الحمد للہ کہا۔
ایک اور بات جو والدہ نے میری شادی کے دن کہی کہ بیٹا اپنے سسرال کی کوئی بات اگر تم کو اچھی نہ لگے تو ہمیں آکر نہ بتانا ، تم سب کو اعلیٰ تعلیم دلوا دی ہے اللہ کے حکم سے اپنے معاملات خود حل کرنا ہمارا نرم گوشہ قدرتی طور پر بیٹی کی طرف ہو گا ، اس طرح رشتوں میں بد مزگی شروع ہو جاتی ہے اس سے اجتناب کرنا ۔ ہاں خوشیوں کی بات ضرور شیئر کرنا اس طرف کی بھی اور اُدھر کی بھی یہ اس قدر کارآمد بات تھی جس کا تمام عمر فائدہ ہؤا۔
چونکہ بیٹیوں والا گھر تھا اس لیے سب کی سہیلیاں خوب آتی تھیں بہت خوش ہوتیں ان کے آنے پر ، کہتیں کچن میں چلے جائو جو بنانا ہے بنائو خود بھی کھائو اور ہمیں بھی کھلائو ۔60 سال کی عمر میں ریٹائر ہوئیں سکول میں الوداعی پارٹی میں طالبات کا رو رو کر برا حال تھا کہ مسز چوہدری جیسی استاد کہاں ملیں گی ۔ خود بھی بہت افسردہ تھیں۔
ایک ہی بھائی ہے اللہ اسے زندگی دے ، سب سے چھوٹا اس کی شادی بہت دھوم دھام سے اپنی بھتیجی سے کی ۔ اس کے پہلے بیٹے کی پیدائش پر بہت خوش تھیں ۔ رات کو وہ اٹھتا تو اس کے رونے کی آواز سن کر دادا ، دادی دونوں ، بہو سے بچے کو لے لیتے ، اپنے پاس سلا لیتے اور بہو کو اپنی نیند پوری کرنے کا کہہ دیتے ۔ بھائی امریکہ چلا گیا 90ء کی دہائی میں اس کے جانے کے بعد بہت اداس تھے پھر آہستہ آہستہ نارمل ہوگئے یہ کہہ کر چڑیا کے بچے بھی جب بڑے ہو جاتے ہیں تو گھونسلہ چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد بھائی نے امریکہ بلالیا لیکن ایک سال رہنے کے بعد واپس لاہور آگئے یہی کہتے رہے کہ ماڈل ٹائون کی ہوائیں یاد آتی ہیں۔
اب دونوں والدین کے بیماریوں کے سلسلے شروع ہو چکے تھے ۔ والد محترم 1996 میں مختصر عرصہ بیمار رہ کر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ والد ہ نے عدت اپنے گھر میں ہی پوری کی ۔ ان کے گھر اور چھوٹی بہن کے گھر کے درمیان راستہ تھا آنے جانے کے لیے ۔ پھر کچھ عرصہ بعد چھوٹی بہن کے گھر ہی شفٹ ہو گئیں ۔ بہنوئی ان کا اپنا بھتیجا تھا جس کی والدہ 1947 کے خونیں بٹوارے میں غم کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں ۔ اپنے بھتیجے سے والدہ کو خاص محبت تھی ۔ ہم تین بیٹیاں لاہور میں تھیں ہمارے گھر وں میں آتی تھیں لیکن تھوڑے دنوں بعد ماڈل ٹائون واپس چلی جاتیں ۔ جیسے جیسے عمر زیادہ ہوتی گئی بیماریاں بھی بڑھتی گئیں لیکن ہمت اور بہادری سے ہر بیماری کا مقابلہ کیا ۔ کبھی درد کا شور نہ مچایا کبھی نہ کہا فوراً ہسپتال لے کر چلو ۔ کمزور زیادہ ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں زیادہ خدمت کا موقع دیا ۔ ہم بیٹیاں ہی ان کو نہلاتی تھیں اور وہ نہلانا ہمارے لیے دعائوں کا ایک خزانہ تھا ۔ اس قدر دعائیں دیتی تھیں کہ شمار مشکل ہے ۔ جس دن طبیعت ذرا بہتر ہوتی تو کہتی کہ میں خود واش روم جائوں گی آج میں بہت بہتر ہوں ۔ ادھر اُدھر کی باتیں کرنا پسند نہ تھا ۔ کبھی اپنی نندوں یا بھابھیوں کی برائی نہ کی اپنے کام سے کام رکھا ۔ لبوں پہ شکایت نہ لائیں ، اپنی بیٹیوں پر فخر کیا مطالعہ کا بہت شوق تھا ۔ ہم سب میٹرک یا کالج میں تھے تو نسیم حجازی کے ناولوں کا پورا سیٹ پڑھوایا سب کو۔ اکثر رو پڑتیں اور کہتیں کیا تھے مسلمان اور کیا ہو گئے ہیں ۔ ملکی سیاست اور حالات دیکھ کر بہت غم زدہ ہوتیں اور کہتیں قائد اعظم اور برصغیر کے مسلمانوں اور ہم سب نے ان چوروں اور لٹیروں کے لیے تو نہیں پاکستان بنایا تھا ۔ حلال کمائی پر نہ صرف عمل کیا بلکہ ہماری رگوں میں یہ تصور بھر دیا کہ کسی کے محل اور دولت سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ، اپنی چادر میں رہنا اور اپنے سے نیچے دیکھ کرشکر گزار رہنا کہ جو میرے پاس ہے وہ ان کے پاس نہیں ۔ آج ہم جو بھی ہیں اور جس جگہ پر بھی ہیں یہ سب والدین کی دعائیں ہیں خا ص طور پر پیاری آپا جی کی۔
مجھےاپنے بچوں کے سلسلے میں کئی بار امریکہ جانا پڑا ۔ جب بھی جاتی دھیان پیچھے ہی لگا رہتا اور اللہ سے دعا کرتی ’’ اے مالک اے پروردگار ماں کے آخر وقت میں میں ان کے پاس موجود ہوں ‘‘ تو بہت رحم کرنے والا ہے ۔ اگست 2017 میں بیمار تھیں ۔ میں ان کے پاس ہی تھی صبح ناشتہ کروانے کی توفیق رب نے دی تھوڑی دیر بعد طبیعت خراب ہوئی اور پھر سنبھل نہ سکیں ۔ اتفاق ہسپتال لے کر گئے ۔ ایمرجنسی میں جاتے ہی ڈاکٹر نے ECGمشین لگائی اور مونیٹر پر سیدھی لکیر تھی ۔ میں والدہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھی ڈاکٹر نے میری طرف دیکھا کہنے کو کچھ نہ تھا ۔ اللہ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچ ہے ۔
’’ او رجب پہنچ جاتی ہے جان حلق کو اور تم دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس ( مرنے والے کے) لیکن تم سب نہیں دیکھ سکتے ( واقعہ آیت 84) اور 17 اگست 2017 کو یہ ان تھک چٹانوں سے مضبوط پہاڑوں سے بلند عزم و ہمت کا پیکر پورے خاندان ، تمام دوست احباب کی ’’ آپا جی‘‘ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ رب کریم ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ( آمین)
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp