چائے پیتے ہوئے اچانک اسے وہ خواب یاد آگیا جسے وہ پچھلے کئی ہفتوں سے دو دو چار چار راتوں کے وقفے سے کئی بار دیکھ چکی تھی اور جسے وہ بیدار ہوتے ہی بھول جاتی تھی۔
چھن چھن ، چھنانن چھن ، اس کے کانوں میں خواب کی آواز گونجی کیونکہ یہ وہ خواب تھا جسے وہ سنتی زیادہ دیکھتی کم تھی۔
چائے کا ایک گھونٹ اس کے حلق میں اٹک کے رہ گیا جسے نیچے اتارنے کے لیے اسے زور لگانا پڑا ۔ اس کے گلے میں پھانس کی سی چبھن چھوڑتا ہؤا چائے کا گھونٹ گزر گیا اور اس کی آنکھوں میں نمی سی آگئی۔
چھن چھن کی آواز جسے وہ اکثر باہر کی آواز سمجھا کرتی تھی اس کے اس خواب کی آواز تھی جسے سنتے ہوئے اس نے آنکھیں جھپک جھپک کر دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی مگر اسے اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ صرف کانوں میں چھنک پڑتی تھی ۔ صبح اٹھتے ہی روز مرہ کی گہما گہمی میں وہ اس خواب کو بھول جاتی ۔ آج نہ جانے کس طرح اسے یہ خواب یادآگیا تھا۔
اس کی ماں اس کے سامنے بیٹھی بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔ وہ کئی روز سے کوشش کر رہی تھی کہ عشرت سے کچھ پوچھے۔ وہ جانتی تھی کہ کیا پوچھنا چاہتی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آتی تھی کہ جو بات وہ پوچھنا چاہتی تھی کیسے دریافت کرے۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا کہ اس کی بیٹی جب تیار ہو کر ناشتے کی میز پر بیٹھتی تواس کی ماں اس کے سامنے آبیٹھتی اوراسے اپنی نظروں سے جانچتی رہتی یوں جیسے اسے اندر باہر سے دیکھنا چاہتی ہو۔ عشرت کی وضع قطع اور لباس کی کی تراش خراش میں ایک ایسا اہتمام نظر آنے لگا تھا جو اس کی ماں کو کچھ اوپرا اوپر الگتا تھا۔ اپنی بیٹی کے چہرے پر پھیلی معصومیت دیکھتی تو اس کا اضطراب کچھ کم ہو جاتا اور وہ اس سے کچھ پوچھتے پوچھتے رک جاتی ۔ پھر بھی ہر روز اس کی خواہش ہوتی کہ وہ عشرت سے اس کانٹے کے بارے میں ضروربات کرے جو اس کے جی میں کھٹکتا رہتا تھا ۔
لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ کانٹا عشرت کے دل میں چبھ جائے۔ وہ جانتی تھی یہ گھر عشرت کے سہارے چل رہا تھا جس کے باپ کو مرے ہوئے پانچ چھ سال ہوگئے تھے۔
وہ ایک مطمئن انسان تھا اوراطمینان سے مر گیا تھا ۔ زندگی میں اس نے اپنے وسائل سے گھر کو باعزت طورپر چلا لیا تھا اور چھوٹی موٹی بچت بھی کرلی تھی کیونکہ اس وقت کمائی میںبرکت بھی تھی ۔ وہ سمجھتا تھا حلال کی روزی میں بڑی برکت ہوتی ہے ۔اللہ پر بھروسہ تھا اورمستقبل کی زیادہ فکر نہیں کرتا تھا ۔ اس کا مستقبل بھی حیرت ناک حد تک مختصر نکلا۔
اس کی حادثاتی موت کے بعد پہلے دو ڈھائی سال تو چھوٹی موٹی بچت اور دفتر سے ملنے والی رقم سے نکل گئے پھر اس گھر کی کفالت کا بوجھ عشرت کے جوان کندھوں پر آپڑا۔ اب اس کی کمائی سے گھر چل رہا تھا ۔ اس کی ماں کو گھر میں اس کی حیثیت کا احساس تھا وہ اس سے دبی دبی رہنے لگی تھی۔ اس کی ماں ہونے کے باوجود وہ اب اس کی تنخواہ کی محتاج تھی ، تبھی تو وہ عشرت سے وہ کچھ نہیں پوچھ رہی تھی جو پوچھنا چاہتی تھی۔
آج پھر وہ بیٹی کو اپنی نظروں میں تول رہی تھی اور اسے بالکل اس بات کی خبر نہیں تھی کہ اس کی بیٹی ایک اچانک جاگ جانے والے خواب کی بازگشت سے سہم رہی ہے ۔ عشرت جب اپنی چبھن کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی تو اس کی ماں نے اس سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو اچانک ہی اپنی شکل لے کر اس کی زبان پر آگیا تھا اور جسے اس نے اگل دیا ۔’’ عشرت ،تمہارے دفتر میں اور لڑکیاں بھی کام کرتی ہیں ؟‘‘عشرت نےسر اٹھایا ، ماں کی طرف دیکھا ، اس کی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کی او کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’ ہاں ہاں….اور لڑکیاں بھی ہیں ‘‘ جو اب دے کر وہ مطمئن نہیں ہوئی کیونکہ اس نے دیکھا اس کی ماں کے لیے یہ کافی نہیں ہے ۔ اس کی نظروں میں وہ سوال ابھی تک ٹھہرا ہؤا تھا ۔ عشرت نے سوچا میرا جواب تو مکمل ہے ،اسے لمبا کرنے سے کیا ہوگا ۔ پھر بھی اس نے کہنا چاہا ’’ مگر میری بات دوسری ہے ‘‘۔
باہر دفتر کی وین کا ہارن ہؤا تو عشرت نے ہینڈ بیگ پکڑ ا اور اٹھ کر کھڑی ہوئی ۔ اس کی ماں نے اسے بھرپور نظروں سے دیکھا۔
عشرت نے آج کالے رنگ کی جالی کی قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر چھوٹے چھوٹے سرخ پھول تھے اور انہیں پھولوں کے رنگ کی شلوار اور دوپٹہ تھا جن حصوں پر پھول نہیں تھے وہاں اندر سے عشرت کے جسم کا گلابی رنگ جھلک رہا تھا ۔ گردن میں گلے کا جو حصہ قمیض سے باہر تھا وہ کالے رنگ کے تضاد کی وجہ سے اور بھی نمایاں ہو رہا تھا۔ اس کی ماں نے ایک دفعہ پھر عشرت کے چہرے پر نظر جمانے کی کوشش کی ، وہاں اب بھی اس کی وہی معصومیت تھی جوپہلے ہؤا کرتی تھی جب اس نے نوکری نہیں کی تھی سوائے اس فرق کے کہ اب اس کے چہرے کے نقوش میں ایک پختگی آگئی تھی جو شاید دفتر کے ماحول کی وجہ سے تھی ۔
عشرت جلدی سے ماں کو خدا حافظ کہتی باہر نکل آئی ۔ اپنی پشت سے وہ باہر نکلنے تک ماں کی نظروں کے تعاقب کو محسوس کرتی رہی۔
اسے پتہ تھا کہ اس کی ماں کیا محسوس کرتی ہے مگر وہ اسے کیسے بتاتی کہ اب اس نے دفتری آداب سیکھنا شروع کر دیے ہیں جن میں ڈھنگ کا لباس بھی بہت ضروری تھا ۔ اس نے اپنے باس سے کئی دفعہ ڈانٹ کھائی تھی۔
’’ دیکھیے مس عشرت ‘‘۔ اس نے کہا تھا ۔ ہمارے دفتر کا ایک امیج ہے ۔ ہمارے ہاں غیر ملکی بھی آتے ہیں ۔ پھر آپ تو میری پرنسپل سیکرٹری ہیں ۔یہ بڑی ذمہ داری کی پوسٹ ہے ۔ بہت سی لڑکیاں اس کی امیدوار تھیں ۔آپ بلاشبہ خوش شکل ہیں ،پڑھی لکھی ہیں مگر آپ آئندہ ڈھنگ کا لباس پہنا کریں اور آداب کا خیال رکھیں ۔ وہی تو اصل ایفی شینسی ہے ‘‘۔ عشرت کی سمجھ میں بات تو آگئی تھی پھر بھی اسے لباس کا ٹیسٹ بدلنے میں وقت لگا ۔ گھر میں آتے ہی وہ دفتری لباس یوں بدلتی تھی جیسے اس میں چیونٹیاں گھس آئی ہوں ۔ عام سا …. استعمال شدہ لباس پہن کر وہ ہلکی پھلکی ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگاتی تھی ۔ وہ اپنے باس کی بات کو اس وجہ سے بھی نظر انداز نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس کی ترقی ، مراعات کا تعلق ان کے صوابدیدی اختیارات سے تھا ۔
شروع شروع میں تو اسے ٹیلی فون اٹنڈ کرنا بھی نہیں آتا تھا ۔ کس کی کال ان کرنی ہے کس کو ٹالنا ہے کہ صاحب نہیں ہیں ۔ آئیں گے تو پیغام دے دیا جائے گا اور پھر آواز کا استعمال کس طرح کرنا ہے ۔ اس کے باس نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا : ’’ آپ کی گفتگو، زبان میں حد درجہ کی شائستگی ہونی چاہیے کہ بات کرنے والا دیر تک اس کے تاثر کو نہ بھولے۔ اس کا جی چاہے کہ وہ آپ کو خود آکر آنکھوں سے دیکھے ۔ بس لہجے کی بات ہے ۔ آپ کو اپنی آواز سے اپنی اصل سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آنا چاہیے ۔ کوئی مشکل بات نہیں ہے ۔ زبان کی مٹھاس کوئی نہیں بھول پاتا‘‘۔
آہستہ آہستہ وہ جاننے لگی تھی کہ یہ بات صحیح تھی ۔ اب اس کی زبان میں وہ لوچ اور گداز آتا جا رہاتھا کہ بات کرنے والا ایک خوشگوار حیرت سے دو چار ہو جاتا تھا ۔دو ایک تو واقعی اسے دیکھنے بھی آئے تھے اور انہوں نے اس کے باس کے سامنے اس کی آواز کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا ۔ ’’ کیا آواز پائی ہے رئیس تمہاری سیکرٹری نے ۔ کانوں میں شہد گرتا ہے ‘‘۔
یہ بہت بڑی کامیابی تھی ۔ اس کا باس بہت خوش ہؤا تھا ’’ تم شایدنہیں جانتے ‘‘ اس نے فخر سے سر بلند کرتے ہوئے کہا تھا اس کی گرومنگ میں نے خود کی ہے ‘‘۔
لیکن پتہ نہیں کیوں گھر آکر عشرت کا لہجہ تلخ ہو جاتا تھا ۔ ذرا ذرا سی بات پر اپنے بھائی کاشف اور چھوٹی بہن حنا کو ڈانٹ دیتی تھی ۔ وہ ارادتاًایسا نہیں کرتی تھی اور بعد میں اسے افسوس بھی ہوتا تھا ۔ گھر میں اکثر سنجیدہ رہتی ، ہونٹ یوں بھنچے رہتے جیسے داڑھ میں درد ہو رہا ہے ۔ جب کہ دفتر میں وہ مسکراتی رہتی تھی ۔ مسلسل مسکراتے رہنا اس کی عادت بنی ہوئی تھی ۔ ٹیلی فون کرتے ہوئے مسکرا رہی ہے،صاحب کے مہمان کو کافی کا کپ تھماتے ہوئے مسکرا رہی ہے۔
بہت دیر پہلے جب ابھی اسے دفتری آداب نہیں آتے تھے تو اس کے باس نے ایک دن اسے ڈانٹ پلائی تھی۔
’’ مس عشرت ۔ یہاں میرے دفتر میں آپ جاب کرنے آئی ہیں ، کسی کی تعزیت پرنہیں آتیں ۔ آپ کا چہرہ مسکرانے کے لیے بنا ہے اور پھر یہ آپ کی ڈیوٹی بھی ہے ‘‘۔ شاید اسی لیے جب وہ ڈیوٹی سے فارغ ہوتی تھی تو یہ مسکراہٹ اتار کر دفتر میں ہی پھینک آتی تھی۔مسکرا مسکرا کر تھکی ہونے کی وجہ سے وہ گھر پر سنجیدہ رہتی تھی اور ہنسنے کو اس کا بالکل جی نہیں چاہتا تھا۔
پھر اس کے باس کو اس کے ہاتھ کی بنی کافی بہت پسند تھی۔ صرف وہی نہیں اس کے دوست بھی اکثر اس کے پاس کافی پینے آ جاتے تھے ۔ کوئی نہیں جانتا تھا یہ کافی بنانا عشرت کو اس کے باپ نے سکھایا تھا یہاں تک کہ خود عشرت نے بھی یہ بات بھلا دی تھی کہ باپ کے متعلق سوچتے ہوئے اسے دکھ ہوتا تھا جو اسے اداس کرتا تھا اوروہ دفتر میں کسی طرح بھی اداس ہونا یا اداس رہنا افورڈ نہیں کر سکتی تھی ۔ یہ دفتری ماحول اورآداب کے خلاف تھا۔
اس روز جب وہ کالی جالی اور سرخ پھولوں والی قمیض پہن کر آئی تھی اس کے باس نے اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی کا پہلا سپ لیتے ہی تڑپ کر کہا تھا ۔ ’’ واہ بھئی ، کمال کا ذائقہ ہے ۔ ایک گھونٹ نے اندر روشن کردیا ‘‘۔
عشرت مسکرا رہی تھی کیوں کہ کافی پیتے ہوئے اس کے باس کا دوست جو خود بہت بڑا انڈسٹریلسٹ تھا اسے دیکھے جا رہا تھا ۔ عشرت جانتی تھی ۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ وہ اس کے ہاتھ کی بنی کافی پی رہا تھا۔
’’ یار تم اپنی یہ سیکرٹری مجھے نہیں دے سکتے ؟‘‘ عشرت جب شیشے کے دروازے سے صاحب کے دفتر سے باہر نکل رہی تھی ، اس کے باس کے دوست نے کہا تھا ۔ عشرت وہیں رگ گئی تھی ۔ وہ اپنے باس کا جواب سننا چاہتی تھی ۔
’’ نہیں بھائی ۔ کچھ اور مانگ لو ‘‘۔ اس کے باس نے شوخی سے کہا۔
’’ پلیز…. اس کے بدلے میں سمر قند اور بخارا سے کم کوئی قیمت قبول نہیں کر سکتا ‘‘۔
عشرت اپنے باس کے چیمبر سے باہر نکل آئی تھی اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر مسکرانے لگی ۔ اسے لگا اس کی آنکھوں میں کوئی چیز چبھ رہی ہے ۔
شام کو کھانے کی میز پر کاشف نے اس س پوچھا۔
’’ باجی ، آپ نے اپنے باس سے میری نوکری کی بات کر لی…. ؟‘‘
عشرت کے ماتھے پر تیوری سی نمو دار ہوئی ۔’’ ہو جائے گی بات ، کر لوں گی ‘‘۔ اس کے لہجے میں بیزاری چھلک رہی تھی ۔ یہ کہتے ہوئے اس نے لقمہ منہ میں ڈال لیا جس کا ایک ذرہ اس کی سانس کی نالی میں چلا گیا ۔ اسے اچھو آگیا ۔ کچھ لمحوں کے لیے اس کا سانس بند ہونے لگا ۔ اس کی ماں نے اٹھ کر اس کے کندھوں کو دبا یا ۔ پشت پر دو چار تھبے لگائے تب کہیں جا کر اس کی طبیعت بحال ہوئی ۔ اس نے آستین سے آنکھوں میں آیا پانی خشک کیا ۔ اسے نہیں پتا چلا کہ اس پانی میں دو چار آنسو بھی تھے یا نہیں ۔ حنا اپنے کالج کی بات کرنا چاہتی تھی مگر اپنی باجی کی حالت دیکھ کر چپ رہی ۔
جب رات کافی گزر گئی تو وہ نماز کے لیے کھڑی ہوئی ۔ اس وقت سب سو گئے تھے۔ مگر یہ اس کا خیال تھا ۔ اس کی ماں جاگ رہی تھی جو دروازے کی چھوٹی سی درز میں آنکھ لگا کر اسے اس وقت بار بار دیکھنے آتی تھی جب تک وہ سو نہیں جاتی تھی ۔ ایسی ہی کوئی درز وہ عشرت کے وجود میں ڈھونڈ رہی تھی جس سے وہ اس کے اندر جھانک سکے ۔ دن کے سارے واقعات آگے پیچھے عشرت کے دماغ میں گھوم رہے تھے ۔ اور وہ بار بار الحمد اورقل ہواللہ بھول جاتی تھی اس کی نماز میں یک سوئی نہیں تھی حالانکہ یہی وہ نماز تھی جس میں اسے سب سے زیادہ انہماک ملتا تھا مگر آج اس کے سجدہ کیا تھے بس ٹکریں تھیں جو وہ زمین پر مار رہی تھی بے مزہ سی ، بے حضوری کی نماز سے فارغ ہو کر وہ بستر پر لیٹ گئی اور روشنی بجھا دی ۔ دروازے کی درز سے اس کی ماں نے اپنے آنکھ اٹھائی تو وہ پانی سے چھلک اٹھی۔
رات کا آخری پہر ہوگا جب عشرت کے کانوں میں چھن چھن کی آواز پڑی ۔ اسے لگا وہ جاگ رہی تھی مگر دوسرے ہی لمحے اس نے خواب میں ہی جان لیا کہ یہ خواب ہے جسے اس نے بیدار ہونے پر پھر بھول جانا ہے۔
آج وہ خواب طویل ہوتا جا رہا تھا اور پھر اس نے اس خواب کو سننے کے ساتھ ساتھ دیکھنا بھی شروع کر دیا ۔ اندھیرے میں اندھیرے ہی میں لپٹا ہؤا ایک سایا تھا جس کی آئوٹ لائن ہلکی ہلکی روشن تھی۔ اس نے جانا یہ بھی کوئی وجود تھا ۔ بار بار آنکھیں جھپکنے پر اس نے دیکھا یہ دو پائوں تھے جن میں گھنگھرو بندھے تھے اور چھن چھن کی آواز جو وہ بہت دنوں سے سن رہی تھی انہیں گھنگھروئوں سے آ رہی تھی۔
یہ دو پائوں کسی ایسے وجود کے تھے جواندھیرے میں موجود تھا مگر دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ اس وجود کو دیکھنے کی کوشش میں اس نے جب اپنی آنکھوں پر مزید دبائو ڈالا تو اس کی نیند کھل گئی۔
باہر سویرا پھیل رہا تھا ۔ وہ جاگنے کے بعد آج غیر معمولی طور پر اس خواب کے زیر اثر دیر تک بستر پر کسمساتی رہی اور اسے بھول نہیں پائی۔
اگلی کئی راتیں اس خواب کے بغیر گزر گئیں اور وہ خواب کے سحر سے آزاد ہونے لگی۔
وہ ڈائری میں اپنے باس کی مصروفیات دیکھ رہی تھی جب ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے ریسیور اٹھایا، کان کے ساتھ لگایا اور اسی آوازمیں بولی جو کبھی کبھی اسے اپنی نہیں لگتی تھی ۔ ’’ رئیس صاحب ہیں ؟‘‘ دوسری طرف سے کسی نے پوچھا۔
’’ جی آپ کون بول رہے ہیں ؟‘‘ عشرت نے بڑی بڑی نرمی سے پوچھا۔
’’ میں ….میں وہی ہوں جسے آپ کی آواز اور ہاتھوں کی بنی کافی بہت پسند ہے ‘‘۔
’’ اچھا ۔ آپ رانا صاحب بول رہے ہیں ‘‘۔ عشرت نے نخرے سے کہا ۔
’’ لیجیے صاحب ۔ ہم تولٹ گئے ۔ ہم تو سمجھ بیٹھے تھے آپ ہماری آواز پہچانتی ہیں مگر آپ نے تو ….‘‘ دوسری طرف سے آواز آ رہی تھی جب عشرت نے اسے اپنی چہک سے کاٹ دیا ۔’ میں بھول گئی سر ۔ واقعی آپ کی آواز …. آپ تو فاروقی صاحب ہیں ‘‘۔
’’ یہ تو بہت بڑی بھول ہے ، ہم تو آپ کے لیے اپنی کالا شاہ کاکوکی فیکٹری دینے کو تیار تھے ‘‘۔
’’ معافی سر ۔پہلی اور آخری معافی ‘‘۔ عشرت نے آواز میں لوچ ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ معافی ہو سکتی ہے مگر آپ کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا ‘‘۔فاروقی صاحب نے چہکتے ہوئے کہا ۔
’’ منظور ہے سر۔میں تیارہوں ‘‘۔ عشرت نے خوش دلی سے جواب دیا ۔
’’توآج صرف کافی جرمانہ ہو گا ۔تیارہیں ۔میں ابھی پہنچتا ہوں‘‘۔
یہ کہتےہوئے فاروقی صاحب نے ٹیلی فون بند کر دیا ۔ عشرت اٹھ کر کافی کا سامان تیارکرنے لگی۔
گھرلوٹ کر وہ ان باتوں کویاد کرکے حیران ہوتی رہی جواس نے کرلی تھیں ۔’’ کیا یہ ساری باتیں بے معنی تھیں۔ وقتی تھیں؟‘‘ وہ یہ سوچتےہوئے سوگئی ۔
اس رات کے اندر پھروہی خواب جاگا جوایک ایسی جونک کی طرح اس کے احساس کا خون چوس رہا تھا جوابھی سیر نہیں ہوتی تھی۔وہ دیکھ رہی تھی سن رہی تھی پائوں تھرک رہےتھے گھنگھرو چھنک رہے تھے ۔ وہ باربارآنکھیں جھپک رہی تھی ۔اندھیرے میں لپٹا ہؤاوجودموجود تھا جوکہیں کہیں سے روشن دکھائی دے رہا تھا ۔ پائوں سےاوپر سے اس کی ٹانگوں کا کچھ حصہ اندھیرے کے باوجود نظر آ رہا تھا ۔جب بہت اندھیرا ہو تووہ مقام جہاں کم اندھیرا ہو روشن دکھائی دینے لگتا ہے۔ چھن چھن ، چھنا چھن کی آواز مسلسل آ رہی تھی ۔پائوں،ٹانگوں کے اوپر ایک ایسے جسم کی پرچھائیں موجود تھی جووہاں موجودتھا مگرنظرکی گرفت میں نہیں آ رہا تھا ۔
اس نے خواب میں ہی یہ بات سوچی ایک دن ضرورآئے گا جب میں ان گھنگھرئوںوالے پائوں کے مالک سارے جسم کواس کے چہرے سمیت ضرور دیکھ سکوں گی ۔ یہ سوچتےہوئے اس کی آنکھ کھل گئی ۔ چھن چھن کی آواز توتھم گئ مگرپتہ نہیں کیسے اسے یوں لگا جیسے ناچنے کے بعد والی تھکاوٹ اس کے جسم میں اتر آئی ہو۔ اس کا سانس ہموارنہیں تھا اوراس کا جسم پسینے میں بھیک رہا تھا ۔وہ دیرتک بسترمیں لیٹ کراس بات پرغورکرنا چاہتی تھی کہ اس خواب کا اس کے جسم سےکوئی تعلق بنتا ہے۔
مگرآج اسے جلدی دفترپہنچنا تھا۔ ایک غیرملکی وفد ان کے دفترآ رہا تھا جن کے لیے چائے ، سنیکس وغیرہ کا بندوبست اس کے ذمے تھا ۔ اس مصروفیت میں وہ اپنا خواب بھول گئی۔
میٹنگ بہت اچھی رہی ۔عشرت نے ایک ایک مہمان کو ذاتی طورپر انٹرٹین کیا ۔بڑےسلیقے سے کافی چائے سرو کی اوران کی فرم کوایک نیا کنٹریکٹ مل گیا ۔ جب وفد چلا گیا توچیف ایگزیکٹونے سب کابالخصوص عشرت کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا :
’’ مس عشرت ۔یوہیوڈن ویل ۔آپ کوسپیشل بونس ملے گا ۔ اینڈ یوڈیزرو اے پیٹ آن یوربیک‘‘سب سٹاف کے سامنے یہ عشرت کی تعریف تھی لیکن بہت سی آنکھوں میں چیف کے ان کلمات نے عجیب سی چمک پیدا کردی تھی جوعشرت نے دیکھی ۔ یہ حسدتھا ، رشک تھا یا شک ، اس کا صحیح اندازہ وہ نہیں کرپا رہی تھی مگربعد میں دیر تک وہ اپنی پیٹھ پر اپنے باس کے اس ہاتھ کا دبائو محسوس کرتی رہی جسے اس نے انگریزی محاورے کے طورپراستعمال کیا تھا ۔ لفظوں میں چھپا ہؤا ہاتھ ایک آدھ دفعہ اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی جانب بڑھتےہوئے دیکھا بھی۔
کچھ دنوں بعد وہ رات پھر آگئی جس کا اسے انجانے میں انتظاررہتا تھا ۔ آج اسے گھنگھرئوں کےپائوں والا سارا جسم نظرآ رہا تھا ۔ صرف چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔پتہ نہیں کس ڈر سے اچانک اس کی چیخ نکل گئی جسے سن کر اس کی ماں یوں بھاگی آئی جیسے باہرکھڑی اس کی اسی چیخ کا انتظارکررہی تھی ۔اس نے عشرت کوکندھوں سے پکڑ کرجھنجھوڑا ۔’’ کیا ہؤا عشرت …..؟ بیٹی کس سے ڈر گئیں ؟‘‘ عشرت نے آنکھیں کھول دیں۔اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا اورچہرہ پسینے پسینے ہو رہا تھا۔
’’ امی، میں خواب میں ڈر گئی تھی ‘‘۔ اس نے گھبرا کرکہا ۔ اس کی ماں نے اس کا سراپنے سینے سے لگایا اوربیٹی کی پیٹھ تھپکنے لگی ۔عشرت کوعجیب ساسکون ملا ۔’’کیا خواب تھا ؟‘‘ اس کی ماں نے بڑی محبت سے پوچھا ۔ مگروہ اپنی ماں کوکیا بتاتی۔
اب جب بھی وہ یہ خواب دیکھتی تواس ناچتے وجود کےچہرے کی تلاش اسے بےچین کردیتی ۔وہ ڈرجاتی اورخوف سے لرزتی اٹھ جاتی لیکن یہ اس کی ہمت تھی کہ اس نے خود کواس خواب کے سحرسے بچائے رکھا کہ دفتر میں جاتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتی سوائے اس ٹیس کے جواب اس کے احساس کا مستقل حصہ بن چکی تھی ۔
صبح اٹھتی توکچھ دیرتک وہ سہمی سہمی ،ڈری ڈری سی رہتی ۔ایک روز ماں نے ناشتے کی میز پرپوچھا تو ٹال گئی ۔’’ بس ماں وہی خواب پریشان کرتے ہیں ‘‘۔
آج دفتر سے چھٹی تھی اوررات اپنے خواب میں اس نے پھر ناچتے وجود کے چہرے کودیکھنے کی جان لیوا کوشش کی تھی جس نے اسے تھکا دیا تھا ۔وہ دیر تک بسترمیں پڑی رہی اوراس نے اپنے آپ کواس اضمحلال سے رہا کرانے کی کوشش نہیں کی جواس کے خواب اسے دے جاتے تھے۔
اس کی ماں کو پتہ تھا کہ آج کل عشرت کوبرے برے خواب آتے ہیں ۔ و ہ ضدکرکے شام کو عشرت کو ایک ایسے بزرگ کے پاس لے گئی جن کے متعلق مشہور تھا کہ بہت نیک ہیں ، دلوں کا حال جان لیتے ہیں اوران کی دعا میں بڑا اثر ہے۔ عشرت نے کچھ کہنا چاہا مگر اپنی ماں کی موجودگی سے جھجکتی رہی۔بزرگ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اورعشرت کے خوابوں کاحال سنتے رہے۔ عشرت جب سب کچھ کہہ چکی تو انہوں نے اپنی آنکھیں کھول دیں اوربولے :’’ یہ شیطان ہےجو ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہےجن سے ہمیں اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے۔ شیطان ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے۔اسےنیکی کے راستےسے گمراہ کرنا ہی اس کی منزل ہے ‘‘۔
’’ مگر بابا جی وہ تومیرے خوابوں میں گھنگھرو باندھ کرناچتا ہے۔مجھے پریشان کرتا ہے‘‘۔
’’ ہاں بیٹا ‘‘۔ بزرگ بڑے رسان سے بولے۔ایک وقت تھا شیطان انسان کاروپ دھارکراللہ کے بندوں کوبرائی کی ترغیب دیتا تھا ۔ کچھ لوگ اس کے بہکاوے میں آجاتے تھے اور کچھ اسے پہچان کر اسے دورسےپتھرمارتے تھے ‘‘۔
عشرت بزرگ کی باتیں سن رہی تھی اوراس کے چہرے کی پریشانی جیسے کم ہو رہی تھی یوں جیسے اپنے خوابوں کوسمجھنے لگ گئی ہو۔
’’….. شیطان کوتم زندگی سے نکال نہیں سکتیں لیکن اپنے پاس اتنے پتھر ضروررکھا کرواگرکہیں یہ تمہیں بہت ہی ستانے لگے توتم ان پتھروں سے اسے بھگا سکو‘‘۔
’’ مگر بابا جی یہ اندھیرے اجالے کا کھیل ؟ یہ کیا ہے ؟‘‘عشرت کی بےچینی اس کے سوال میں اب بھی موجود تھی۔
’’بیٹی یہ زندگی کا کھیل ہے ‘‘۔ بابا جی نے ٹھنڈی میٹھی آواز میں کہا۔
’’ اچھا ئی برائی کا وہ کھیل جسے کھیلنا ہرانسان کامقدر ہے۔تمہیں بھی کھیلنا ہے۔ یاد رکھو ۔جیت تک نہ بھی پہنچ سکو تو ہارکواپنا نصیب نہ بننے دینا اوراس کے لیے ضروری ہےکہ تمہارےدامن میں بہت سی روشنیاں ہوں تاکہ تم اندھیروں سے لڑ سکو ۔جائو ہم تمہارے لیے دعا کریں گے ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے یوں آنکھیں بند کرلیں جیسے اسے رخصت کرچکے ہوں ۔
بزرگ کی باتوں سے عشرت کوبہت حوصلہ ہو گیا ۔ اسے یوں لگا جیسے اس کا اضطراب کم ہوگیا ہو اوروہ اپنے خوابوں کےعذاب سے رہائی پا گئی ہو۔
لیکن بہت سی راتوں کےبعد پھر ایک رات آئی جب وہ اپنے پرانے خواب میں داخل ہوگئی ۔ اندھیرے میں گھنگھرو باندھے ناچتا ہؤا وجود آہستہ آہستہ پائوں سےشروع ہوکر روشن ہونا چاہ رہا تھا ۔وہ سانس روکے آنکھیں پھیلائے اس وجود کو واضح ہوتی دیکھتی رہی ۔ چھن چھن چھنانن کی آواز اس کے کانوں میں آ رہی تھی مگرآج شاید اس کی سماعت سے زیادہ اس کی نظر کام کررہی تھی ۔ کندھوں تک جب وہ جسم نظرآنے لگا تواس نے خواب میں ہی اس جسم کا چہرہ دیکھنے کے لیے آنکھوں کو پوری طرح پھیلا دیا ۔ اندھیرے میںلپٹا وہ وجود کسی ایسی روشنی سے منور ہو رہا تھا جواندھیرے کی زد سے باہرتھی ۔ پھر آہستہ آہستہ اس وجود کی گردن ، سر کا پچھلا حصہ روشن ہو گیا مگر اب اس کا رخ دوسری طرف تھا اوروہ دم سادھےاس کے سیدھے رخ کودیکھنا چاہ رہی تھی ۔ پھر ایک جھٹکے سےوہ وجود سیدھے رخ پرآگیا ۔ چہرے پرچھایا دھند لا اندھیرا جو نہی چھٹا اس کی چیخ نکل گئی جسے اس نے خواب میں ہونے کے باوجود اپنے کانوں سے سنا یہ چہرہ اس کا اپنا چہرہ تھا ۔(بشکریہ ’’ وطن دوست‘‘)
٭ ٭ ٭