لا‘‘ اللہ کی تلوار ۔ شاہدہ ناز قاضی‘‘

کوئی تبصرہ نہیں

لا کے لغوی معنی ’’نفی‘‘ یا انکارکے ہیں ۔’’ لا‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جواپنی پوری طاقت ۔جبروت اوردبد بے سے انسان کو اس کے سارے توہمات ۔شکوک وشبہات ۔باطل سوچوں ،وسوسوں سے اچانک نکال کرباہرلے آتا ہے۔ہاں کہہ دو….کہہ دو…. کہ ہرشےباطل ہے۔ ہرشےجھوٹ ہےہرشے فنا ہے ، ہرشےپہ موت کا لیبل لگا ہے ہرچیز ٹوٹ بکھرنے والی ہے …. پھرکوئی اورہستی کائنات کوسنبھالنے والی نہیں ۔کوئی اوردیکھنے بھالنے والا نہیں ۔
سوائے….الااللہ کے لا الہٰ الا اللہ …. یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا کی مثال سے دیکھیں …. نیا سامان لا کررکھنا ہو توپرانا سامان ٹھکانے لگادیا جاتا ہے۔یہی قلب وذہن کی حالت ہے۔ تمام فرسودہ نظریات احساسات خیالات جوکم علمی کی وجہ سے روح میں اندھیرا کیے ہوئےہوں انہیں یکلخت ایک لمحے میں ذہن و دل کے بند کیواڑوں سے نکال کرباہر پھینک دینا ’’ لا ‘‘ ہے۔
ہمارے کلمہ طیبہ کاپہلا حرف’’ لا‘‘ ایک تلوارکی طرح ذہن میں اگی ہوئی ساری جنگلی جڑی بوٹیوں کوکاٹ پھینکتا ہے۔ کہو….لا الہٰ الا اللہ ۔ کہہ دو۔بحرو بر میں ،شجر وبحرمیں ،قلیل وکثیرمیں ، ازل میں ابد میں ،اندھیرے اجالے میں ،زمین وآسمان میں ،مشارق اورمغارب میں صرف ایک ہی ہستی کی بادشاہی ہےاوروہ ہے اللہ۔
کہہ دو…. ہاں کہہ دو…. اللہ ہی کافی ہےوہی کارساز ہے وہی حبیب ہے، وہی رقیب ہے،وہی وکیل ہے، وہی کفیل ہے۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ف اَللّٰهُ الصَّمَدُ ف لَمْ یَلِدْ ف وَ لَمْ یُوْلَدْ ف وَ لَمْ یَكُنْ لَهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ف
کہو ۔کہ وہ ذات پاک جس کا نام اللہ ہےوہ یکتا ہے۔ لا شریک ہے۔ کوئی اس کا ساتھی نہیں کوئی دوسرا اس جیسا نہیں ۔ وہ بے نیاز ہے تمام انسانی حاجتوں ، ضرورتوں ،کمیوں ، کوتائیوں ، غلطیوں اورضرورتوں سےپاک۔ نہ تووہ مجبورہےکہ اپنا جانشین بنانے کے لیے اپنی اولاد پیدا کرےاور نہ ہی وہ پیدا ہونے کے لیے اپنے والدین کا محتاج ۔وہ اپنی ذات و وفات میں یکتا ،تنہا ، ایک اکیلا رب ہے۔ جو بے مثل، لازوال اور زماںومکاں کی قید سے آزاد ہے۔
ہر شخص ،ہر ذرہ خواہ آبی ہو ، خاکی ہویا نوری ہو، ہرمخلوق خواہ اسمانوں میں یا زمین میں زمین کی تہوں میں ہویا ہوائوں میں فضائوں میں ہو یا خلا میں …. سب کے سب اسی مالک کے سامنے بے چوں چرا ں اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں ۔
اربوں کھربوں فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔ درختوں ، پودوں ،بوٹیوں کے سائے ادھراُدھر جھک کر اظہار عجز کرتےہیں چاند ، ستارے افق پہ نظرآتے سب شرارے اسی مالک و خالق کے حکم کی پابند ی بجا لاتے ہیں ۔ ذرہ ذرہ ۔اسی مالک کی حمد کاخوگر ہے۔
لا الہ الا اللہ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ پتھرچونے کے بنے مجسموں کو سجدہ نہ کرو بلکہ ہر وہ گمراہی وہ غلط امید جو ہمیں اللہ سے غافل کرتی ہو سر کشی کے بیج ہمارے اندر بوتی ہو وہ بھی ایک بُت ہی ہے جسے رد کرنا ، توڑنا ، ہمارا امتحان ہے۔روزہ کیا ہے سرا سرنفی! کھانا نہیں ،پینا نہیں ، جھوٹ نہیں ، غیبت نہیں ۔یہ لا کا ٹھپہ نہ لگے تو روزہ روزہ نہیں ۔
نماز کیا ہے ؟ اللہ کے سامنے وقت نماز غلاموں کی طرح کھڑے ہوجانا اسی لمحے کوئی کام نہیں ،دھندہ نہیں ، گپ نہیں ، آنکھیں ادھر اُدھر گھمانا نہیں بس یکسوئی سے اللہ کے سامنے اظہار بندگی کرنا ہے ۔
’’ لا‘‘ ایک بہت بڑا پہاڑ ہے ایک بڑی اوٹ ہے ایک امتحان ، ایک وعدہ ہے، ایک عہد ہے کہ اس دل میں اللہ کی بندگی کے سوا اورکسی کی بندگی کا کوئی ذکر نہیں ہوگا ، اس سے بڑھ کر کسی کی عبادت روانہ کھیں گے ۔ بے شک کوئی ہستی اللہ کی طاقت اور سلطنت میں شریک نہیں ۔’’لا‘‘ کی طاقت کوچھوٹا نہ سمجھیں یہ نقطہ آغاز بہت با معنی ، بہت با وقعت اوربہت وزنی ہے ۔٭
٭٭٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp