وفات : 25جون2009
یہ انٹرویو ستمبر 2006میں لیا گیاجماعت اسلامی کے امیر رہے : (1966سے1987)
٭
السلام علیکم
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
س: اپنی تاریخ پیدائش اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
میری پیدائش نومبر 1913 میں ہوئی۔
ج: میرا تعلق مشرقی پنجاب میں واقع ریاست کپور تھلہ کے ایک گائوں رائے پور آرائیاں سے ہے ۔ ہمارا کاشت کار گھرانہ تھا ۔ میرے دادا کا نام مہر شیر محمد تھا ۔ ان کے سات بیٹے تھے جن میں میرے والد میاں برکت علی سکول ماسٹر تھے ۔ میرے والد اور چچا تایا سبھی لوگ اکٹھے رہتے تھے اس لیے ان کا اپنے علاقے میں بہت رعب و دبدبہ تھا ۔ ان میں بہت سے نمبر دار بھی تھے اور کئی ایک کو ذیل داری بھی ملی تھی۔
میں نے اپنے گائوں کے سکول سے پرائمری تک تعلیم حاصل کی۔ اپنے گائوں کے قریبی قصبے کے ایک سکول سے مڈل تک تعلیم حاصل کی ۔ کپور تھلہ کے ہائی سکول سے میٹرک کیا ۔ اور وہیں کے ایک کالج سے پری انجینئرنگ میں ایف ایسی سی کی ۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی کیا پھر لاء کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
ہم نو بہن بھائی تھے ۔دو بھائی بچپن میں وفات پا گئے تین بہنیں بھی دنیا سے چل بسیں ۔ اب تین بہنیں حیات ہیں میری والدہ بہت دیندار خاتون تھیں ۔ میں نے انہیں تمام عمر گھر داری میں مصروف دیکھا ہے۔ خاندانی معاملات جن میں رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی اور میل ملاقات کو خوش اسلوبی سے ادا کرنے کا فن جانتی تھیں ۔ آپ نیک اطوار ، تہجد گزاراور پابند صوم و صلوٰۃ تھیں۔
س: آپ لاہور کب آئے ؟
ج: 1947 میں ہم دارالسلام پٹھان کوٹ سے لاہور آئے ۔
س: آپ کی شادی کب ہوئی؟
ج:1941 یکم جون کو میری شادی میری ماموں زاد محمودہ بیگم سے ہوئی ۔ میں اپنی شریک حیات کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں ۔ وہ نہایت صابر و شاکر خاتون تھیں اس کے ساتھ ساتھ بے حد محنتی بھی تھیں۔کوئی فن ایسا نہ تھا جو انہیں نہ آتا ہو۔ سلائی کڑھائی بنائی میں اعلیٰ درجے کی مہارت رکھتی تھیں۔ کھانا پکانے، کپڑوں کی دھلائی وغیرہ غرض گھر کا وہ کپور تھلہ کے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ہر کام خود تنہا کرتی تھیں ۔ میری بیٹیوں میں سے کوئی بھی مکمل طور پر ماں جیسی خصوصیات کی حامل نہیں ہے ۔
انہوں نے زندگی کے ہر سرد و گرم میں میرا ساتھ دیا ۔ تحریک نظام مصطفیٰ میں وہ برابر شریک رہیں ۔ پورے ایک ماہ تک وہ گھر میں نظر بند رہیں ۔ اس تحریک کے دوران میرے بیٹے زبیر کی ٹانگ متاثر ہوئی ۔ ابھی تک وہ ٹھیک نہیں ہو سکی ان کے جماعت کی تمام خواتین سے محبت کے تعلقات تھے ۔وہ رخشندہ کوکب(مرحومہ) سے بہت محبت رکھتی تھیں۔ انہیںبتول رسالہ بہت پسند تھا ۔ وہ اور ہماری بیٹیاں بہت شوق سے یہ پرچہ پڑھتی تھیں ۔
س: اپنے بچوں کے بارے میں بتائیں ؟آپ کے بیٹوں کے ناموں کے ساتھ فاروق، لکھا جاتا ہے وہ کس حوالے سے ہے ؟
ج: میری بیٹی طیبہ کا نام مولانا مودودی صاحب نے رکھا تھا ۔ بیٹوں کے ناموںکے ساتھ فاروق مولانا مودودیؒ کے بیٹوں کے ناموں سے متاثر ہو کر رکھے گئے ہیں۔
س: اپنی شادی کا کوئی خاص واقعہ بتائیں ؟
ج: میری شادی کے اگلے روز ایک دل خراش واقعہ پیش آیا میرے ماموں سسر جو بلوچستان سے آئے تھے شادی کے اگلے روز دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے ۔ شادی والے گھر میں کہرام مچ گیا اور دلہن کی رخصتی نہ ہو سکی۔ طے یہ پایاکہ تین ماہ بعد میں جا کر اہلیہ کو لے آئوں گا ۔ جس روز میں اہلیہ کو لینے گیا اسی روز راستے میں کپور تھلہ پہنچ کر دو دینی ساتھی مل گئے انہوں نے بتایا کہ لاہور میں جماعت اسلامی کا پہلا باقاعدہ تاسیسی اجتماع ہورہا ہے آپ بھی ساتھ چلیں ۔میں وہیں سے ان کے ساتھ لاہور آگیا اور اس تاریخی اجتماع میں شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔ اس اجتماع میں پورے ہندوستان سے مخیر ارکان نے شرکت کی ۔ سبھی نے کلمہ شہادت پڑھ کر حلف اٹھایا۔
س: جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد آپ نے وکالت کا پیشہ ترک کر دیا تھا ۔ پھر آپ کیسے گھریلو اخراجات پورے کرتے تھے ؟
ج: مجھے جماعت اسلامی کی طرف سے سو روپیہ ماہوار وظیفہ ملا کرتا تھا۔ اس میں بہت اچھی طرح گزر بسر ہو جاتی تھی بہت سستا زمانہ تھادو روپے من گندم تھی ۔پانچ روپے کی بکری، دس روپے کی گائے اور پچیس روپے کی بھینس آجاتی تھی۔ یہ سن 1945 سے 1950 کے درمیان کی بات ہے ۔
س: ہم نے سنا ہے کہ جب آپ کی بڑی بیٹی طاہرہ کی شادی ہو گئی تو آپ نے جماعت اسلامی کے نظم کو ایک خط لکھا کہ میرے گھر کا ایک فرد کم ہو گیا ہے لہٰذا میرے ماہانہ وظیفے میں کمی کی جائے ۔ کیا یہ بات درست ہے ؟
ج: میاں صاحب نے اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کی ۔
س: جب آپ لاہور آئے تو آپ نے کہاں رہائش اختیار کی ؟
ج:1947 میں ہم لوگ درالسلام پٹھان کوٹ سے لاہور آئے۔ یہاںہم نے بے شمار گھربدلے ۔ سب سے پہلے ریلوے روڈ کے ایک گھر میں پھر اسلامیہ پارک سوہن لال کالج میں چند دن پھر ڈاکٹر ریاض قدیر کے خالی پلاٹ میں واقع ایک سرونٹ کوارٹر میں رہے ۔ پھر اچھرہ آگئے سبھی ساتھیوں نے اچھرہ میں مختلف مکان کرائے پرلیے اور ہم نے مولانا مودودی صاحب کے گھر کی گرائونڈ میں واقع کوارٹر میں کچھ عرصہ گزارا ۔ بعد ازاں ہم کچھ ساتھیوں نے عبد الوحید خان صاحب ، نعیم صدیقی صاحب اور میں نے مل کر 3۔ بی ذیلدار پارک والی کوٹھی جو میاں نجم الدین صاحب کی تھی کچھ عرصہ کے لیے کرایہ پر لے لی ۔ شاہ جمال ، رحمان پورہ، اندرون اچھرہ نیا مدرسہ کے کوارٹر میں بھی ہم رہے 1975 میں ہم لوگ منصورہ شفٹ ہو گئے یہ ایک طویل داستان ہے ۔جب پاکستان بنا اس وقت میرے تین بچے تھے طاہرہ، طیبہ اور احسن جو ابھی چلنا بھی نہیں سیکھا تھا ۔ میری اہلیہ نے ہر موقع پر ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا گھروں کی تبدیلی ہو یا قیدو بند کی صعوبتیں وہ ہمیشہ اللہ کی شکر گزار رہیں۔
س: اپنی زندگی کا کوئی نا خوشگوار یا ناقابل فراموش واقعہ بتائیں؟
ج: میں نے ہمیشہ مطمئن زندگی گزاری ہے مگر ایک واقع نے مجھے رنجیدہ خاطر کر دیا ، مولانا مودودی صاحب ان دنوں علاج کے سلسلے میں امریکہ میں تھے ۔ انہوں نے مجھے وہاں سے خط لکھا کہ آپ خلیل حامدی صاحب سے کہیں کہ مجھے میری کتابوں کی رائلٹی بھیجیں مجھے رقم کی ضرورت ہے ۔مجھے مولانا کا یہ خط نہیں ملا۔ ان دنوں سی آئی ڈی (CID)والے ہمارے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ انہوں نے مولانا کے اس خط کے جواب میں خود سے کسی ہینڈ رائیٹنگ ایکسپرٹ سے ایک خط میری طرف سے میری لکھائی میں لکھوایا اورمولانا کو بھیج دیا جس میں لکھا گیا تھا۔’’ خلیل حامدی صاحب ، جماعت اسلامی کے ملازم ہیں آپ کے نہیں اب وہ جماعت کا کام کریں یا آپ کا کام کریں ‘‘۔
مولانا کو جب یہ خط ملا تو وہ بہت افسردہ ہوئے ۔انہوں نے یہ خط اپنے بیوی بچوں کو بھی دکھایا سبھی مجھ سے بد ظن ہو گئے ۔ مولانا کے خاندان کے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ میں نے ہی یہ خط لکھا ہے ،جگن ، حسین ، حمیرہ سبھی مجھ سے ناراض تھے ۔ صرف اسما اور خالد مجھ سے خوش تھے ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے رسالے میں یہ سارا واقعہ لکھ دیا ۔
مجھے جب یہ معلوم ہؤا تو میں بہت حیران ہؤا کہ میری طرف سے مولاناکو ایسا خط ملا ہے ۔ میں نے کہا میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں مولانا کے خط کا ایسا جواب دے سکتا ہوں اور پھر کچھ ہی عرصے بعد مولانا کی امریکہ میں ہی وفات ہو گئی ۔
س: کوئی ایسا خواب جو آپ کو یاد ہو اور آپ بتانا چاہیں ؟
ج: جی ہاں ! میں نے ایک بار مولانا مودودی صاحب کو خواب میں دیکھا کہ وہ لاہور جیل میں رہا ہو کر آ رہے ہیں تن تنہا ہیں کوئی ساتھ نہیں ہے ۔ انہوں نے چوڑی دار پاجامہ ، گرگابی او رکالی شیروانی پہنی ہوئی ہے میں نے دیکھا وہ میری طرف چلے آ رہے ہیں۔
س: آپ کا عقیدت کا رشتہ کس کے ساتھ رہا؟
ج: کئی بزرگوں سے عقیدت تھی ۔ میری سب سے زیادہ عقیدت مولانا مودودی صاحب سے رہی ۔ ان کے علاوہ مولانا ابو الحسنات تھے جو مسجد وزیر خان کے خطیب بھی رہے ۔ دہلی دروازے میں رہتے تھے ۔ مفتی شفیع صاحب سے بھی میرا دلی تعلق تھا ۔
جناب نجم الدین صاحب جو رخشندہ کوکب کے والد تھے نہایت نفیس طبیعت کے مالک تھے ۔ کھاتے پیتے لوگوں میں سے جو ابھی تک مجھے ملے ہیں ان میں سے ایک وہ تھے جو نیک پارسا خدا پرست، خدا ترس آدمی تھے ۔ ان کے برابر ان کے خاندان میں کوئی نہ تھا ۔
صابرقرنی صاحب بہت محنتی اورقابل آدمی تھے انہوں نے قرآن مجید کا لفظی ترجمہ گرائمر کے ساتھ لکھا جو بہت ہی اچھا کام ہے ۔ وہ بتول ، نور اور الحسنات نکالتے تھے سبھی رسالے بہت اچھے تھے ۔ بہت خوش مزاج آدمی تھے ۔ میری ان سے محبت تھی اور ان کو مجھ سے محبت تھی وہ ہر وقت کام میں لگے رہتے تھے کبھی فارغ نہیں بیٹھتے تھے۔
س: ادب کے میدان میں آپ خواتین کی شرکت کو کس حد تک ضروری اور مفید خیال کرتے ہیں۔
ج: جتنی شرکت مردوں کی ضروری ہے اتنی ہی عورتوں کی بھی ضروری ہے ۔ دونوں ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔دونوں کے بغیر گاڑی نہیں چلتی ۔ صحابیات نے بھی مردوں کے برابر کام کیا ۔ جماعت اسلامی کے سامنے بھی یہی نمونہ ہے۔
س: ادب کے میدان میں ان خواتین کی خدمات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
ج: ان خواتین نے ادب کے میدان میں بہت وسیع کام کیا ہے۔ ان میں سر فہرست حمیدہ بیگم ، رخشندہ کوکب ، ام زبیر ، بلقیس صوفی، بنت الاسلام شامل ہیں ۔ یہ سب بہت محنتی اور قابل خواتین تھیں خصوصاً بنت الاسلام صاحبہ نے بہت لکھا ہے ۔
س: عفت کے چند ماہ بعد بتول کا اجرا ہؤا۔ اس کا کچھ پس منظر بتائیں اس میں رخشندہ کوکب کا کیا کردار ہے؟
ج: عفت و بتول پہلے پرچے تھے جو لڑکیوں کے لیے نکلے تھے مولانا مودودی صاحب کی رہنمائی میں یہ پرچے نکالے گئے تھے رخشندہ کوکب پہلی مدیرہ تھیں۔ وہ بہت محنتی اور کام کرنے والی خاتون تھیں ۔ اس رسالے کو وہی مرتب کرتی تھیں اور دوسری خواتین سے مضامین بھی وہی حاصل کرتی تھیں ۔ ان کی تحریر بھی بہت اچھی تھی۔
س: ان کی وفات کا کچھ حال بتائیں؟
ج : ان کی نا گہانی وفات پر سبھی کو بہت رنج ہؤا ۔ مولانا مودودی صاحب کو بھی بہت افسوس ہؤا ۔ ان جیسی قدر شناس خواتین کم ہی ہؤ ا کرتی ہیں ۔
س: پاکستان کا مستقبل بتائیں ؟
ج : یہ اللہ کو پتا ہے کہ پاکستان چلے گا یا خدا نخواستہ دشمن اسے ختم کردیں گے ہمارے حکمران اغیار کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔
س: آپ جماعت اسلامی میں سب سے بہتر کس شخص کو پاتے ہیں ؟
ج: اس وقت جماعت اسلامی میں خورشید صاحب جیسا کوئی آدمی موجود نہیں ہے ۔ ان پر بہت ذمہ داریاں ہیں ان کی صحت بھی خراب رہتی ہے ۔
س: آپ کے خیال میں ایک شخص کو تین تین چار چار ذمہ داریاں دینا درست ہے ؟
ج: کوئی صحیح آدمی ملے تو تب ہی اسے ذمہ داری دی جا سکتی ہے ۔ قحط الرجال کے دور میں جو بھی قابل آدمی ملتا ہے تو اسے دو دو تین تین ذمہ داریاں دے رہے ہیں ۔
س: معاشرے میںپہلے دور اور آج کے دور میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
ج: آج کے دور میں گھروں میں خیرو برکت نہیں رہی ۔ دنیا پرستی ذہنوں پر چھا گئی ہے ۔ اب تو ہر کوئی چاہتاہے مکان اچھا ہو گاڑی اچھی ہو ،پہناوا اچھا ہو ۔
س: دنیا پرستی کی وجہ آپ کیا سمجھتے ہیں ۔ کیا نئی نسل کی تربیت صحیح ، نہج پر نہیں ہو رہی؟
ج: نئی نسل کی تربیت کے ذمہ دار والدین ہیں ۔ ماں باپ دونوں قصور وار ہیں ۔ انہوں نے جدید تہذیب کے منفی اثرات زیادہ قبول کیے ہیں ۔ مولانا مودودی صاحب نے ایک واقعہ بتایا جب وہ لندن گئے۔ وہاں کسی آدمی سے ملاقات کر کے بلڈنگ سے باہر آئے تو ایک لڑکی کھڑی رو رہی تھی ، اس نے اپنے باپ کی شکایت کرتے ہوئے کہا یہ میرا باپ ہے جو مجھے اپنے گھر میں نہیں رہنے دیتا ۔ کہتا ہے اب تم جوان ہو جائو اپنا ٹھکانہ خود بنائو ۔
س: آپ نے پاکستان بنتے دیکھا اپنی کچھ یادیں ہم سے شیئر کریں ؟
ج: جب پاکستان کا ریزولیشن پاس ہؤا اس میں میں بھی شامل تھا۔ وہاں میں نے بہادر یار جنگ ، فضل حق اور قائد اعظم کی تقاریر سنیں ۔ میں سب سے زیادہ قائد اعظم سے متاثر ہؤا قائد اعظم کی شخصیت بے نظیر تھی۔
س: جماعت اسلامی کے قیام کی کوئی یاد آپ کے ذہن میں ہو ؟
ج: جب جماعت اسلامی بنی ہے تب میں اس کے اجلاس میں شریک تھا ۔ یہ اللہ سبحان تعالیٰ کا مجھ پر خاص فضل رہا ہےکہ یوم تاسیس کے موقع پر میں بھی پہنچ گیا۔
س: آپ کے عزیز ترین دوست کون سے تھے ؟
ج: دو دوست ایسے تھے جو مجھے ہمیشہ ملتے رہے ان میں ایک اکرام الحق جو گورنر پنجاب کے سیکرٹری جنرل بھی تھے دوسرے ایس اے حمید تھے ، یہ میرے فرسٹ ایئر کے دوست تھے نہایت نفیس نہایت قابل، اپنے کام میں ماہر تھے ۔ ابھی بھی ملتے ہیں ۔ اکرام الحق وفات پا چکے ہیں ۔ ان کی قبر یہیں پر ہے۔
س: آپ کے آج کل کے روزانہ کے معمولات کیا ہیں ؟(یاد رہے ان دنوں میاں صاحب کی بینائی کافی حد تک کمزور ہو چکی تھی وہ خود سے لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے )
ج: دفتر سے آدمی آتا ہے ترجمان القرآن اور اخبار پڑھ کر سنا جاتا ہے۔ بس اتنی سی ضرورت ہوتی ہے ایک سے دو گھنٹے تک وہ میرے پاس رہتا ہے ۔
س: آپ کو کھانے میں کیا پسند ہے؟
ج: مجھے میٹھا بہت پسند ہے ۔ سوجی کا حلوہ اور آئس کریم، پھلوں میں مجھے کینو اور آم پسند ہیں ۔
س: آپ کو رنگ کون ساپسند ہے؟
ج: رنگوں میں سفید رنگ پسند ہے خصوصاً مردوں کے لیے ، حضورؐ بھی سفید رنگ پہنتے تھے ۔
س: کوئی لمحہ مایوسی جو آپ کی زندگی میں آیا ہو؟
ج: لمحہ مایوسی میری زندگی میں کبھی نہیں آیا ، مجھے اپنے کسی کام پر کبھی کوئی ندامت نہیں ہوئی۔ اللہ پر توکل رکھیں تو سبھی کام درست ہو جاتے ہیں ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ ۔ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمیں کچھ یاد گار لمحات دیے ۔٭*
٭٭٭