بھری گود – قانتہ رابعہ

کوئی تبصرہ نہیں

شازیہ محسن کی شادی کو آٹھ سال مکمل ہوچکے تھے جب قدرت نے اسے وہ خوشخبری سنانے کے لیے منتخب کیا جس کے لیے اس کے کان ہمہ وقت منتظر رہتے تھے۔
پہلے پہل تو بزرگ خواتین اور اس کے بعد بچے بوڑھے جوان سب نے پوچھ پوچھ کر ناک میں دم کر دیا تھا۔شادی کو تیسرا مہینہ شروع ہؤا تھا جب عالیہ ممانی نے پوچھا۔
’’شازی کوئی خیر خبر؟‘‘
’’جی اللہ کا شکر ہے سب بہت اچھے ہیں سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں ‘‘آنٹی تو مجھے ابھی کسی کام کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیتیں ‘‘ناسمجھی سے شازیہ نے کہا۔
’’ اوہو ،بےوقوف لڑکی میں دوسری خیر خبر پوچھ رہی ہوں ،گڈ نیوز والی‘‘ انہوں نے آواز اور لہجے کو دھیما کرتے ہوئے وضاحت کی۔
شازیہ کے گلے میں پھندا سا پھنسا ،شاید ماتھے پر ناگواری سے ایک آدھ بل بھی آیا ہو ،تاہم وہ سر نیچے کر کے بیٹھی رہی کہ اس کے تاثرات چھپے رہیں مگر تابکے۔
ایک ماہ دو ماہ یہاں تک کہ نوے چھ چھیانوے ماہ بھی گزر گئے۔پہلے استفسار کیا جاتا رہا پھر استغفار کی نوبت بھی آپہنچی۔
’’شازیہ….محسن کی بیوی ،ہاں تو میری مدثرہ کی اس سے دو ماہ بعد میں شادی ہوئی تھی اللہ کا شکر ہے تین بچے ہیں‘‘۔
’’شازیہ کوئی علاج کروائو کوئی اچھی سی گائناکالوجسٹ کو دکھاؤ میری بہو تین سال تک بے اولاد رہی پھر کسی نے ڈاکٹر شیرازی کا بتایا تیسرے مہینے میں اللہ نے خوشخبری دے دی تھی بہت اچھی ڈاکٹر ہیں بہت سی بانجھ خواتین کو اس کے ہاں سے بچوں کی نوید ملی‘‘۔
بہت مدت تک لفظ بانجھ تیز دھاروالی تلوار کی طرح شازیہ کے پرخچے اڑاتا رہا ۔وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھرتی رہی آنسو پیتی رہی سسکیوں کا گلا گھونٹتی رہی ۔
ابھی لفظ بانجھ کا زخم نہیں بھرا تھا کہ بڑی بھابھی جان پاکستان آئیں ۔
ہر فرد اور ہر جگہ ’’صاف گو‘‘کا اپنے اوپر خودساختہ ٹیگ لگانے والی بھابھی نے ائر پورٹ پر اسے سر سے پاؤں تک دو مرتبہ دیکھا۔انہیں اپنے باپ کی وفات کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان آنا یاد رہا نہ شازیہ کی بڑی نند کی ناگہانی موت….شازیہ تعزیت والے دلجوئی کے لفظوں کی لاشعوری طور پر منتظر تھی ،ان کے گلے لگ کر مرے ہوئے ان کے باپ اور اپنی نند کے جانے کا صدمہ پھر سے تازہ ہوگیا ۔
آنسو پیتے ہوئے اس نے بھتیجی کو جھک کر ملنا چاہا تو بھابھی جان کی کرخت آواز سنائی دی ۔
’’اپنے بچے تو اپنے ہی ہوتے ہیں دوسروں کے بچوں کےجتنا مرضی چاؤ لاڈ اٹھا لو ،اپنے تو نہیں بنتے‘‘۔
بے سمجھی سے شازیہ نے ان کی طرف دیکھا۔ بھابھی جان نے وضاحت کی۔
’’دیکھو برا نہ منانا پہلے تو آج کل کی بچیاں اولاد پیدا ہی نہیں کرنا چاہتیں پھر جب ان کی پلاننگ میں اولاد جیسی نعمت کی خواہش شامل ہوتی ہے تو اوپر والا نہیں دیتا بھئی توبہ استغفار کی ضرورت ہے‘‘۔
وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں لیکن اس کالٹھے کی طرح سفید چہرہ دیکھ کر بھائی جان تیزی سے آگے بڑھے۔
’’آہا بھئی یہاں تو ہماری گڑیا بھی آئی ہوئی ہے ….کیسی ہو؟محسن کیسا ہے؟ اور ہاں سچ…. بہت افسوس ہؤا ان کی باجی کی وفات کا سنا تھا ،بندہ بے بس ہے جانے والوں کو کہاں کوئی روک سکا ہے‘‘۔
اتنی دیر میں شازیہ نے بھی اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ یوں کاری زخم کی ٹیسیں فی الوقت دب دبا گئیں ۔
یہ شادی کے دوسرے تیسرے سال کی جھلکیاں تھیں ۔اس کے بعد ہر طلوع ہونے والا دن اپنے جلو میں نئے سے نیا انداز لے کر آتا۔اس نے تھک کر مقامی نجی سکول میں ملازمت کر لی ۔اس کا خیال تھا کہ وہ ذہنی طور پر اتنی زیادہ مصروف رہے گی کہ اس محرومی کے متعلق سوچنے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔ اس سے کم تعلیم یافتہ ٹیچرز اسے دیکھ کر خوامخواہ اپنے بچوں کا تذکرہ لے آتیں۔
بچے بہت شرارتی ہیں۔
’’میرے بچے بہت ضدی ہیں….مجال ہے جو کم پر مان جائیں! منہ سے نکلی ہر فرمائش پوری ہونی چاہیےنواب زادوں کی‘‘۔
تیسری آواز سنائی دیتی۔
’’توبہ ہے…. جن کے بچے نہ ہوں ان کو کیا معلوم بچے اور ان کی رونقیں کیا ہوتی ہیں ۔جس دن چھٹی ہوتی ہے بھئی میرے تو پاؤں میں پہیے لگ جاتے ہیں ،ایک کو فرنچ ٹوسٹ پسند ہیں تو دوسرے کو فل فرائی انڈہ…ایک کو ناشتے میں چینی کا پراٹھا چاہئیے تو دوسرے کو….‘‘
شازیہ کان بند کر لیتی ،موضوع بدلنے کی کوشش کرتی لیکن کہنے والیاں سب کہہ چکی ہوتی تھیں، اب تو ان کے کان شازیہ کے تاثرات سننے اور آنکھیں ردعمل دیکھنے کی منتظر ہوتیں ۔
شازیہ نے شروع میں تو اسے محض اتفاق سمجھا کہ آخر مائیں ہیں بچوں کی باتیں نہیں کریں گی تو کس کی کریں گی لیکن اس کی ایک پڑوسن جو اسی سکول میں معمولی سی ملازمت پر تھی اس نے گھر میں آکر شازیہ کو خبردار کیا۔
’’باجی جی آپ کو کیا پتہ…یہ سب ٹیچریں آپ کے آنے سے پہلے مہنگائی کی ،سسرالی رشتہ داروں کی ،اچھی نوکرانیاں نہ ملنے کی باتیں کیا کرتی ہیں۔آپ کو دیکھتے ہیں ان کوجانے کیا مروڑ اٹھتے ہیں اور بچوں کی باتیں شروع کر دیتی ہیں‘‘۔
اس کے بعد شازیہ بہت کم سٹاف روم میں باقی کولیگز کے ساتھ بیٹھتی۔ اس کی کوشش ہوتی کہ وہ لائبریری میں وقت گزارے یا پورے سکول میں گھوم پھر کر۔اس کے لیے اولاد نہ ہونا آزمائش تھی تو رنگ برنگے تبصرے ،تکلیف دہ جملے ،قیاس آرائیاں آزمائش نہیں سزا تھے ۔کوئی اسے صبر کی تلقین کرتا کوئی پہنچے ہوئے پیر فقیر ان کی درگاہوں پر سجدہ ریز ہونے کا مشورہ دیتی۔
کبھی سجدہ نہ کرنے والی شازیہ نے لمبے سجدوں میں پناہ ڈھونڈ لی۔اب اس کا دل یقین سے بھر چکا تھا۔اسے توکل کا مفہوم سمجھ میں آچکا تھا ۔اسے رب سے جڑ کر پتہ چلا کہ اگر اولاد نہ ہونا آزمائش ہے تو اولاد ہونا اس سے بھی بڑی آزمائش!
اب وہ لوگوں کے رویّے آسانی سے برداشت کر لیتی تھی، اسے معلوم تھا کہ یہ رویّے تکلیف دہ ضرور ہیں لیکن روز حشر کہنے والے اور سننے والے دونوں،رب العزت کی بارگاہ میں آمنے سامنے ہوں گے، صبر سے سننے والے مراد پائیں گے ،ناحق کہنے والے پھنسیں گے، خدا کے قہر کا نشانہ بنیں گے۔اس کا دل اب بدل چکا تھا ،یہاں تک کہ جب اس کی بہن کی نند کی شادی تھی اور وہ غمی خوشی کی تقریبات میں شرکت بہت عرصے سے ترک کر چکی تھی، بہن کا اصرار بڑھا تو اس نے سوچا تقریب میں شرکت لازمی نہیں تحفہ دینا لازم ہے چلو دو ایک دن پہلے بہن کی سسرال میں جاکر تحفہ دے آئے گی۔ شادی میں جانا تو اب تک سراسر اذیت ہی ثابت ہؤا تھا۔ دلہن کو چھوڑ کر سارے لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔کوئی اسے ٹوٹکے بتاتا کوئی گائناکالوجسٹ بدلنے کا مشورہ دیتا۔اس نے بہتر یہی سمجھا کہ گھر میں تحفہ دے گی اور شادی میں شرکت سے معذرت کر لے گی ۔
بہن کو اپنی آمد کا بتا کر جونہی وہ بہن کی سسرال میں داخل ہوئی اس کے کانوں نے اپنی سگی بہن کے الفاظ سنے۔الفاظ کیا تھے تیز خنجر کی دھار!وہ اپنے بچوں کو مخاطب کرکے کہہ رہی تھی کہ شازیہ خالہ کے آنے پر اندر کمرے میں ہی رہنا۔
بچوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی ۔بھلا شازیہ خالہ سے زیادہ کوئی پیار کرسکتا ہے؟شازیہ نے اپنی بہن کو سرگوشی کے انداز میں کہتے سنا ۔
’’جب شازیہ خالہ آئیں تو ان کے سامنے مت آنا…تم چھوٹے ہو ابھی نہیں سمجھو گے …ان کے بچے نہیں ہیں ناں !دعا کرنا اللہ انہیں بچے دے۔ایسے لوگوں کی حسرت بھری نظر لگ سکتی ہے‘‘۔
خونخوار درندے کے دانتوں جیسی نوک رکھنے والے لفظ سننا آسان نہیں تھا ۔پگھلا سیسہ شاید اتنی اذیت نہ پہنچاتا ہو جتنا یہ الفاظ۔ لیکن اس نے اس سے بھی سنگین الفاظ سہے تھے ۔
پھر اس کو جنت قدموں تلے آنے کی بشارت ملی !
اسے یقین ہوگیا کہ کالے سیاہ بادلوں سے بارش برستی ہے۔گھپ اندھیروں میں سے ہی سورج سر نکالتا ہے۔ جب بندہ مایوسی کے اندھیر گھپ بادلوں میں ہوتا ہے تو رب امید کی کرن تھما دیتا ہے۔
اس پر نو مہینے بہت سکینت طاری رہی حالانکہ جب بھی وہ چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتی بیسیوں ٹیسٹ لکھ دیے جاتے۔ کبھی الٹراساؤنڈ کبھی ایکسرے… اس کی رپورٹس اکثر تسلی بخش نہیں ہوتی تھیں۔ پھر بھی اس کا دل شکرانے کے جذبات سے لبریز رہتا تھا۔ جو بھی ہوگا وہ اس پر راضی برضا رہنے کی دعا مانگتی۔
بچے کی پیدائش کے دن قریب تھے کہ سانحہ ہؤا بچے کی پیدائش کے دوران کچھ پیچیدگیاں ہوئیں۔بچہ پیدا ہوتے ہی واپس چلا گیا!بچے کی شکل صورت بالکل شازیہ جیسی تھی۔ کچھ پیچیدگیاں تھیں جن کی وجہ سے بچے کی زندگی چند لمحوں تک ہی رہی۔
اس کے لیے یہ جدائی ناقابل برداشت تھی۔اس نے آنسو بہائے،وہ خوب روئی بغیر آواز کے… آنسووں نے اس کے کرتے کا دامن بھگو دیا۔وہ بستر پر لیٹی مسلسل زیر لب کچھ پڑھ رہی تھی اور کبھی کبھی اس کے منہ سے شکر الحمد للّٰہ کے غیر متوقع الفاظ کانوں میں سنائی دیتے۔
غم ،جسے دنیا کے کسی پیمانے سے ماپا اور تولا نہیں جا سکتا تھا ،بھری گود پل بھر میں اجڑ گئی اور شکر ؟
’’ائے ہئے چچ چچ بیچاری…‘‘بھابھی نے دانتوں تلے زبان دباتے ہوئے کہا ’’دماغ پر اثر لگتا ہے‘‘اس کی امی آگے بڑھیں، اس کے سر پر دست شفقت رکھ کر بولیں ۔
’’شازی بیٹا اللہ کی یہی مرضی تھی…کچھ تودل کی بات کرو اتنا چپ رہنا کہ کسی سے کچھ بھی نہ کہہ سکو صبر نہیں ہوتا ،اللہ اوربچہ دے گا تم دیکھ لینا‘‘۔
شازیہ نے ماں کی طرف دیکھا اور بولی ۔
’’کیا مجھے نہیں معلوم امی؟ مجھے بچے کے جانے کا دکھ ہے لیکن یہ عارضی جدائی ہے دکھ تو کبھی نہ کبھی سکھ میں بدل ہی جاتے ہیں اذیت راحت میں نہیں بدلتی شکر ہے میرے مالک نے مجھے لوگوں کی دی اذیت سے بچا لیا اس نے مجھے بچے کی جدائی کے امتحان میں ڈالا ،شکر ہے اس پروردگار کا اس نے میرے لیے اپنی بنائی جنت کا دروازہ کھول دیا۔ میں بہت مطمئن ہوں مجھے اللہ نے سرخرو کیا ۔اب گود تو ایک کی ہی بھرنا تھی… ماں کی یا قبر کی !میرے لیے کیا یہ کم ہے کہ مجھے آٹھ سالہ اذیت ناک فقروں سے ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی ہے ۔مجھے اب وہ فقرے کبھی نہیں سننا پڑیں گے جو پتھروں کا کلیجہ چیر سکتے ہیں، جو سیسے کو پگھلا سکتے ہیں، جو پہاڑوں کا کلیجہ بھی چھلنی کرسکتے ہیں… میں تو اس پر شکر ادا کر رہی ہوں۔یہ جدائی تو پھر قابل برداشت ہے۔ زندگی موت کے فیصلے اوپر والے نے دنیا میں آنے سے پہلے لکھ دیے اس پر کیا رونا…رونا تو انسان کے انسان کو دیے جانے والے دکھوں پر آتا ہے‘‘۔
شازیہ کے لبوں سے نو سالہ جمع شدہ اذیت نوحوں کی صورت میں نکل رہی تھی۔ اب اس کے نوحے دلوں کو چیر رہے تھے ۔اس کی سسکیاں چاروں اور سنائی دے رہی تھیں اور تعزیت کے لیے جمع خواتین چپ تھیں ، نظریں جھکی… شاید گریبان میں جھانکنے کی کوشش میں !
٭ ٭ ٭

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp