قارئینِ کرام سلام مسنون
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔اللہ کرے ہم اس کے فیوض و برکات سے کما حقہ مستفید ہوں۔ بدلتےموسم کے ساتھ طوفانی ہواؤں کا زور رہا۔ بلوچستان میں غیر معمولی اور شدید بارشوں نے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی ،خصوصاً گوادر، جیونی اور سربندن میں بہت نقصان ہؤاہے۔سیلابی ریلوںنےکاروبار زندگی معطل کر کے رکھ دیا ، لوگ مشکل میں ہیں اور انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے خصوصی انتظامات کی اپیل کی ہے۔
ملک میں عام انتخابات پر امن طور پہ منعقد ہوئے ، نتائج کے بارے میں فافن کی رپورٹ ہے کہ پولنگ سٹیشن تک شفافیت قائم تھی مگر ریٹرننگ افسرکی سطح پر جاکر یہ شفافیت چھوڑ دی گئی۔بہرحال اس بار ووٹروں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ یہ ملک میں جمہوریت کے لیے لوگوں کی خواہش اورجمہوری عمل کے ذریعے اپنی پسند کے اظہار کا ثبوت ہے۔اس شعورکو کام میں لاتے ہوئے سیاسی قوتوں کو آئندہ کے کسی ایسے لائحہ عمل پر اتفاق کر لینا چاہیے جس کے تحت حکومتیں بنانے اور گرانے کے فیصلوں میں وہ خود مختار ہوں ، کسی دباؤ یا لالچ کا شکار نہ ہوں، عوامی فیصلوں کو تسلیم کریں اور اپنا مقدمہ صرف عوام کی عدالت میں لے کر جائیں۔اب جبکہ حکومت تشکیل دی جا چکی ہے، دعا ہے کہ آنے والے دن پاکستان کے لیے کسی طور بہتری کی نوید لائیںآمین۔ قراردادِ پاکستان کے اس مہینے میں یہ یادہانی بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنے آئین کے اعتبارسے ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔اس آئین کی بالادستی اور ہر حال میں اس کے پابند رہنا انفرادی اوراجتماعی طور پہ ہم سب کا فرض ہے۔اپنے قومی فرائض کی ادائیگی میں اللہ کو حاضر ناظر جان کراس آئین پرحلف اٹھایا جاتا ہے۔ یہ وہ حلف ہے جس کی پاسداری کے معاملے پر دنیا میں بچ بھی گئے تو آخرت میں سخت جوابدہی ہو گی۔
اہلِ غزہ بدستور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا شکار ہیں۔ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور دنیا بھر کی مذمت اسرائیل اور اس کے سرپرستوں امریکہ وبرطانیہ کو اس جدید دور میں بھی حددرجے کی سفاکی اور درندگی سے باز رکھنے میں ناکام ہے۔یمن کے علاوہ کوئی اسلامی ملک ان کی مدد کوآگے نہیں بڑھ رہا۔امدادنہ پہنچنے کے باعث اب وہاں قحط کی صورتحال ہے۔وہ بھوک سے بے حال ہیں، بے سروسامان ہیں اور بے ٹھکانہ ہیں۔ جہاں جاتے ہیں وہاں ان پر نشانہ باندھ کر بمباری کی جاتی ہے۔ان کے لیے آسمان تلے کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ اس حال میں زندہ رہنا ایک جرم محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے دور میں ہمارے سامنے ایک بے گناہ آبادی کو انسان نہیں سمجھا جارہا، اور ہم یہ سب دیکھتے ہوئے بھی بے بس ہیں۔اس قدر ظلم کا نتیجہ یہ ہے کہ انہی سفاک درندوں کی صفوں میں ایسے انسان ہیں جو یہ ظلم کرنے پہ پشیمان ہیں۔آرون بشنیل ایک امریکی فضائیہ کے نوجوان نے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے خود سوزی کرلی۔شیطان کے چیلوں کی بات الگ ہے، مگراتنا ظالم ہونا انسان کی فطرت میں اللہ نے نہیں رکھا اس لیے جب انسانوں کو اس قدر سفاکی پر مجبور کیا جاتا ہے توان کی فطرت بغاوت کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نیٹو افواج میں خودکشی کے واقعات کثرت سے ہوتے ہیں۔
ایک اچھی خبر یہ کہ سندھ ہائیکورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے پاکستان میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے فحش مواد کو فوری ہٹانے کا حکم دے دیاہے۔یہ حکم چیف جسٹس عقیل عباسی نے سوشل میڈیا پر فحش مواد کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران دیا ۔درخواست گزارکے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے اپنی پٹیشن میں عدالت کو بتایا کہ انٹرنیٹ پر پیسہ کمانے کی خاطر ’’فیملی وی لاگنگ ‘‘ کے نام پرفحاشی کو فروغ دیا جارہا ہے۔اِس قسم کے مواد کی اشاعت سے لوگ چونکہ ویوز کی وجہ سے پیسہ کما رہے ہیں اس لیے مستقل اس عمل کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ایڈووکیٹ عثمان فاروق نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ نئی نسل مستقل اس کام کو پیسہ کمانے کا آسان ذریعہ جان کر اس میں شامل ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے وکیل سے کہا کہ فیس بک، ٹکٹاک اور دیگر ایپس سے فحش مواد ہٹایا جائے، کچھ بھی ہو احکامات پر عملدرآمد مکمل طور پرچاہیے اور تمام ویب سائٹس سے قابل اعتراض مواد ہٹا دیں۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے وکیل نے عدالت سے وقت مانگتے ہوئے بتایا کہ فیس بک، یوٹیوب یا کسی ویب سائٹ پر مواد ہٹانے کا اختیارپی ٹی اے کو نہیں ہے، قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے متعلقہ حکام کو لکھنا پڑتا ہے۔ عدالت نےسوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کے خلاف فوری ایکشن لینے اور پورا چارٹ بنا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔دیکھیے اس حکم پر کب اور کس حد تک عمل درآمد دیکھنے کو ملتا ہے۔اظہاررائے اور جاننے کے حق پر قدغن نہیں ہونی چاہیے مگرہمارے ہاںسوشل میڈیا کو تہذیب اور اخلاقیات کا پابند بنانے کے لیے کچھ بنیادی قانون سازی کی ضرورت یقیناً ہےکیونکہ اس کا تعلق محض اظہارِ رائے سے نہیں ہے بلکہ اب یہ کاروبار ہے اور پیسہ کمانے کے ذرائع کو اصول و ضوابط کے تحت لانا ضروری ہے۔
بتول کی دیرینہ رفیق، خوبصورت شاعرہ اور شفیق ہستی نجمہ یاسمین یوسف داغِ مفارقت دے گئیں۔ان کے منظوم اور غزلیہ کلام پر مشتمل کئی مجموعوں کے ساتھ حمدو نعت اور بچوں کے لیےنظموں پر مبنی کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ان سےگزشتہ بائیس تئیس برس کا تعلق تھا۔طویل علالت سے نبرد آزما رہیں مگر جب بھی بات ہوئی آوازمیں زندہ دلی اور حوصلہ جھلکتا رہا،صاحبِ فراش ہونے کے باوجودبتول کے لیے اپنا کلام ارسال کرتی رہیں ۔فون پر کہا کرتی تھیں کہ میرے کلام کو سراہنے والوں کا شکریہ میری طرف سے ادا کردو۔اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت کرے، ادارہ ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
ہم یاددہانی کروا دیں کہ اگلا شمارہ ان شاءاللہ زہرہ آپا کی یاد میں خاص نمبر ہوگا۔اس بار کے عنوانات میں رمضان المبارک، قیام پاکستان اور عالمی یوم خواتین پر چیدہ تحریریں شامل ہیں۔ آپ کی رائے کاانتظاررہے گا۔ایک نظم کی کچھ سطروں کے ساتھ اجازت چاہوں گی اگلے ماہ تک،بشرطِ زندگی!
حقیقت پھر حقیقت ہے، مگر مانا نہیں جاتا
ابھی ہم کچھ نہیں کہتے
ابھی تو میری دنیا کا ہر اک دستور الٹا ہے
ملا ہے بے وقاروں کو خطاب عزت ماٰبی کا
سبب کیسے کوئی سمجھے تباہی کا خرابی کا
یہاں ایمان بکتا ہے یہاں انسان بکتا ہے
یہاں پر دام لگتے ہیں کوئی بے دام بکتا ہے
عجب دَورِ زمانہ ہے حقیقت بھی فسانہ ہے
یہاں پر بولنے والا ابھی موسم نہیں آیا
مگر موسم تو آئے گا،ضمیروں کو جگائے گا
ہر اک مظلوم کا چہرہ ہنسے گا مسکرائے گا
دعاگو، طالبہ دعا
صائمہ اسما