نا واقف لوگوں کو یہ سن کر تعجب ہو گا کہ گورنمنٹ کے تمام محکموں میں سب سے عجیب و غریب محکمہ نہر کا ہے ۔لیکن ناظرین اگر اس محکمے کی صرف ان دو خصوصیات پر غور کریں گے تو خود سمجھ جائیں گے ۔اول یہ کہ اس کے علاوہ تمام محکمے ایک دوسرے سے دست و گریباں کی طرح الجھے ہوئے ہیں ، یہ ایک تنہا الگ ہے ۔ نہ اسے کسی اور سے سرو کار ہے اور نہ کوئی اور محکمے والا اس کے کاموں میں دخل دے سکتا ہے ۔ دوم یہ کہ بقیہ تمام محکمے طرح طرح سے روپیہ حاصل کر کے خزانے میں جمع کرتے ہیں اور یہ خاموش، مسکین صورت ، معصوم و ضع گروہ روپیہ خزانوں سے نکال کر اطمینان سے خرچ کرتا ہے ۔ اب اس محکمے کے بقیہ حالات ناظرین خود تصور کرلیں ۔
یہاں ایک ہستی بڑی قابلِ تعریف عجائباتِ قدرت میں سے ہوتی ہے ( سب اوورسیئر کیسے کہوں ، بگڑ جائیں گے ) آپ بابو جی ہیں ۔ بڑے سیدھے ، بڑے نیک ۔ خاکساری آپ کا شیوہ ہے ، انکساری آپ کی طینت ہے ، لیکن وہیں تک یعنی صاحب علاقہ صاحب کے ڈیرے یا بنگلے تک ۔ اس سے ہٹ کر آپ ذرا کھچ بھی جاتے ہیں، ذرا تن بھی جاتے ہیں اورذرا اکڑ بھی جاتے ہیں ۔ اور بھئی ، اگر ایسے ویسے ہی کہو کہ ’’ ہمری چکیا بلیا بھی بنائے دیو ‘‘ تو ان کو ’’ گسّہ‘‘ بھی آجاتا ہے ۔ ذرا یہ ہی عادت بری ہے۔ ویسے آدمی بڑے بھلے مانس ہیں ۔ صورت تو دیکھو ، عینک بھی لگی ہے، داڑھی بھی رکھی ہے ، صافہ بھی دھرا ہؤا ہے ۔ خاکی کوٹ پہنے ہوئے ہیں جس کی بڑی بڑی چار جیبیں کاغذوں اور پاکٹ بکوں سے بھری ہیں ۔ ان ہی میں کہیں سوفٹ کا فیتہ بھی ہے ، میژرمنٹ بک بھی ہے، ہیڈ رسید بک بھی ہے۔ ارے یہ کیوں نہ ہوگی! اپنے ہاتھوں کی دس انگلیوں کے نشان ، پیروں کی دس انگلیوں کے نشان ، اپنی بیوی کی بھی سب انگلیوں کے اور سالے کی سب انگلیوں کے ، ارے ہاں مالی کی بھی سب انگلیوں کے نشان خرچ کر چکے ہیں ۔ پچیس تیس روپے کی رسیدیں ابھی اور بنانی ہیں ۔جہاں کوئی ملاقاتی مل گیا، جھٹ کتاب نکالی ، کچھ دستخط لیے ، کچھ انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشان لیے ۔ چلو کام بن گیا ۔ مزہ ہی مزہ ہے۔
بابو جی بڑے تجربہ کار ہیں ۔ دنیا کی اونچ نیچ سب ہی کچھ دیکھنا پڑتی ہے ۔ اگر کسی بڑے تعمیر کے کام پر تعیناتی ہو گی تو پھر ٹھیکیدار کا باپ بھی بغیر پانچ روپے سیکڑ ا دیے بل نہیں بنوا سکتا ۔ اگر چالو نہر پر آگئے تو بھی دال دلیا نہیں گیا ہے۔ لیکن اگر کہیں کوئی بگڑے دل صاحب علاقہ آگیا ، یا اگر کہیں کسی بالکل ہی چھوٹی چالو نہر پر پہنچ گئے جہاں سال بھر میں لے دے کر ان کے سرکل میں تین چار سو ہی کا خرچ ہے ، تو پھر مصیبت ہی آجاتی ہے ۔دن کاٹنا مشکل ہو جاتے ہیں ۔ تنخواہ تو چالیس روپیہ اور خرچ دو سو روپے مہینے کا ۔ بس یہی ہوتا ہے کہ گھر کی پونجی میں سے خرچ ہونے لگتا ہے ۔
ایک بابو جی اسی قسم کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے ، یعنی ایک چالو نہر پر تھے ۔ کوئی نیا کام ان کے ہاں نہیں ہو رہا تھا ۔ وہاں سال بھر میں چھ سات سو روپے نہر پر خرچ ہوتے تھے ۔ اس میں سے زیادہ سے زیادہ دو تین سو ان کی جیب میں آ سکتے تھے۔کچھ تو در اصل صرف ہی کرنا پڑتے تھے ۔ پھر اس مرے پر سو درے یہ تھے کہ ایک سخت قسم کے صاحب علاقہ سر پر تھے ۔ یہاں سے یہ لکھتے تھے :
’’ بہ خدمت حضور فیض گنجور جناب صاحب علاقہ صاحب بہادر حصہ دائم نہر گنگ شمالی ۔
عرض فدوی یہ ہے کہ کمتر ین چند مرتبہ عرض داشت کر چکا ہے کہ رجھا مکرو نہ میل سات پر بھینسوں نے چل چل کر نہر کی پٹری کو خراب و خستہ کر دیا ہے ۔ فدوی کو اجازت دی جائے کہ مذکورہ بالا پٹری کی مرمت کروا دے جس میں کہ تقریباً بارہ سو روپیہ خرچ ہو گا ۔
واجب جان کر عرض کیا گیا ہے ۔
کمترین فدوی
ل م ن
سب اوور سیئر ، سرکل نمبر ۵‘‘
وہاں سے جواب آتا تھا کہ نہیں ، بعد برسات جب سالانہ مرمت ہو گی جب ہی سب ہو جائے گا ۔ ناک میں دم تھا ۔ اول تو خرچ ہی کرنے نہ دے اور جو اجازت بھی دے تو ایسے کام پر جہاں در اصل خرچ کر دینا پڑتا ہے ۔
مگر بابو جی تھے سمجھدار ، تجربہ کار ، بقول شخصے کچھ عرصہ دم سادھے پڑ رہے ۔ آخر وہی ہوا ، ایک دم پو بارہ ہو گئے ۔ صاحب علاقہ صاحب کا تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ ایک نیا ولایت پلٹ صاحب بہادر آگیا ۔ اب بابو جی نے اطمینان کا سانس لیا ۔مہینہ ڈیڑھ مہینہ گا ہے بہ گا ہے حاضری دیتے رہے ، اور معاملات یہیں تک رکے رہے ۔وہ کہیں ،’’ ول بابو ، کیسا ہے ؟‘‘ اور وہ ہاتھ جوڑ کر دانت نکال کر کہیں ،’’ جی حضور ، اچھا ہوں ‘‘۔ یہاں تک تو ہو لیا ۔ اب آگے قدم دھرتے بابو جی کا بھی دل دھک دھک کر ے۔ ڈریں کہ نیا جناور ابھی ولایت سے چلا آ رہا ہے ، کہیں اُچک نہ جائے۔ آخرایک دن دل کڑا کر کے لکھ مارا کہ نہر کے کنارے ایک گڈھا ہو گیا ، اس میں پانی مرتا ہے ۔ حکم ہو جائے تو اسے پٹوا دیا جائے ۔ وہاں سے جواب آگیا :’’ہاں ‘‘۔ تیسرے ہی دن گڈھا پاٹنے کا پچاس روپے کا بل اپنے سالے کے نام بنا بھجوا دیا ۔ لیکن اتنے میں کیا ہوتا ۔ خیر،پھر لکھ دیا کہ وہ گڈھا پٹ تو گیا ہے لیکن ابھی پوری طرح نہیں پٹا ہے ۔ زیادہ خرچ ہؤا جاتا تھا اس لیے رہنے دیا تھا ۔ اگر اجازت ہو جائے تو پھر اس پر کام لگا دیا جائے ، تقریباًآدھا کام اور باقی ہے ۔ اس کی بھی اجازت مل گئی اور سو روپے کا بل بنا کر بھیج دیا ۔ لیکن یہ بھی کم تھے ۔ موقع کے منتظر تھے کہ بیس دن بعد اتفاقیہ بارش ہو گی ۔ جھٹ لکھ دیا کہ بارش کی وجہ سے اس گڈھے میں جو نئی مٹی ڈالی تھی بیٹھ گئی ہے ، اگر اجازت ہو جائے تو اب تھوڑا سا خرچ اور ہے ، اور یہ کام مکمل ہو جائے گا ۔ اس مرتبہ پھر اجازت آگئی اور دو سو روپے کا مٹی ڈلوائی کا بل پھر بن گیا ۔ اب کوئی ڈیڑھ مہینہ گزر گیا ۔ پیسے پیسے کی حیرانی تھی ۔ آخرکچھ عادت سی پڑ گئی تھی ۔ صاحب بہادر بھی اجازت دے دیتے تھے ۔ سوچ ساچ کر لکھا کہ اس گڈھے میں کافی روپیہ خرچ ہو چکا ہے اور اب اس کو پوری طرح سے پاٹے بغیر چھوڑنا اچھا نہیں ہے ۔ ایک کونا ابھی باقی ہے ، اجازت ہو جائے تو اسے بھی بھر دیا جائے تاکہ ہمیشہ کی تکلیف چلی جائے۔
جواب آیا کہ تم فوراً اپنا جواب تحریری دو کہ کیوں پہلی ہی دفعہ گڈھا نہیں پٹ گیا ؟ کیوں دوسری دفعہ بھی کام باقی رہا ؟ کیوں تیسری مرتبہ بھی کام باقی رہ گیا ؟ کس جگہ اور کس موقع پر وہ گڈھا ہے؟ کیسے وہ گڈھا پڑا ؟ کب وہ گڈھاپڑا؟ ہم سات تاریخ کو تمھارے سرکل کے معائنے کو آتے ہیں ۔ تم اپنی سرحد پر ملو ۔ ہم گڈھے کو خود دیکھیں گے۔
خط پڑھنے کے بعد کئی روز تک بابو جی کا کھانا پینا اڑ گیا ۔ تین دن سو چ بچار میں گزارے ۔ چوتھے دن لکھ مارا کہ حضور جب دورے پر تشریف لائیں گے تو فدوی سب باتوں کا جواب دے گا حضور میرا پہلا خط ملا حظہ فرما لیں ۔ اور تیسرے دن ، تن بہ تقدیر ، صاحب بہادر کے معائنے کے واسطے گھوڑی پر بیٹھ اپنی سرحد پر موجود ہو گئے ۔ صبح آٹھ بجے سے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اور پھر اس سرے سے لے کر آخری سرے تک پہنچا دیا ۔ اسی طرح دن کے بارہ بجے تک کوئی بارہ میل کے سرکل کے کئی چکر کیے ۔ راستے بھر تمام گردو نواح کے متعلق باتیںکرتے رہے ۔
’’ اس جگہ شکر کی کاشت بہت اچھی ہوتی ہے ۔ حضور،یہاں کا زمیندار بڑا سرکش ہے ۔ حضور،اگر اس جگہ گول نکل جائے تو یہاں وہاں کی آب پاشی ہو سکتی ہے ۔ حضور، اس گائوں کے پیچھے جھیل ہے ۔ چڑیا کا شکارا چھا ہوتا ہے ۔ کسی دن آپ شکار پر ضرور تشریف لائیں‘‘۔
دو ایک مرتبہ صاحب نے جھنجلا کر کہا ، ’’ ول ، وہ گڈھا کدھر ہے؟‘‘’’ حضور ، بتلاتا ہوں ، آگے آئے گا ‘‘۔ یہ کہہ کر بابو جی نے ٹال دیا ، اور پھر باتوں میں لگا لیا ۔ لیکن ایک بجے بھوک سے جھنجلایا ہؤا بھوکا صاحب گھوڑے سے اتر پڑا اور پیر پٹخ پٹخ کر بولا ، ’’ بابو ، بولو گڈھا۔ ہم گڈھا مانگتا ہے ‘‘۔’’ حضور ، باتوں میں بھول گیا ۔ واپسی میں بتائوں گا ۔ اب حضور ٹفن کھا لیں ‘‘۔ خانساماںٹفن لیے حاضر ہو گیا ۔’’ واپسی میں ضرور بتائوں گا ‘‘۔
تین بجے شام کو واپسی شروع ہوئی، اور اب صاحب بہادر نے ہر میل پر پوچھنا شروع کیا ، ’’ گڈھا کہاں ہے ؟‘‘ ’’ گڈھا آگے ہے ‘‘۔ بابو جی اپنی گھوڑی ذرا اور آگے بڑھا کر کہتے جب ایک میل باقی رہ گیا تو صاحب بہادر غصے سے کانپنے لگے اور بولے ، ’’ بابو گڈھا۔ بابو گڈھا ۔ جلدی بولو ، گڈھا کہاں ہے ؟‘‘ہاتھ کو بہت زور زور سے گھما کر چیخ چیخ کر ’’بابو ہم کو جھوٹ بولا ۔ ابھی تم بولے گا گڈھا کدھر ہے ‘‘۔
بابو جی کچھ دیر تو سر جھکائے کھڑے رہے ، پھر انھوں نے آہستہ سے قمیص اٹھائی اور پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ، ’’ حضور ، یہ گڈھا ہے ۔ کیا کروں ، یہ بھرتا ہی نہیں ‘‘۔ صاحب بہادر پہلے تو آنکھیں پھاڑ ے دیکھتے رہے ، پھر مسکرا کر بولے ،’’ ول ، تم پہلے کیوں نہیں بولا تھا ؟بوت بڑا گڈھا ہے ۔ ایسانہیں بھرے گا ۔ اچھا ہم سمجھا‘‘۔
صاحب بہادر سمجھ گئے ۔ پوری طرح سمجھ گئے ۔ اگر بابو جی کو لڑکی کی شادی کرنا تھی تو صاحب بہادر کو بھی ایک نئی رائفل خریدنا تھی ۔ ان کے علاقے میں ایک جگہ نیا پل اور کوٹھی بن رہی تھی ۔ دونوں کام تقریباً تیس ہزار کی قیمت کے تھے ۔ ان ہی کاموں پر بابو جی کو تبدیل کر دیا گیا۔
٭٭٭