ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

یہ کیسی راہیں – بتول نومبر ۲۰۲۱

عروج بیوٹی پارلر میں اس وقت کام عروج پر تھا۔ روزی، روبی، تانیہ سمیت تقریباًسب ورکرز ہی مصروف تھیں۔ کچھ خواتین اپنی باری کا انتظار کررہی تھیں۔ عروج ریسپشن پر بیٹھی کال اٹینڈ کررہی تھی۔
’’ہیلو جی! آپ کل صبح11بجے تک آجائیں۔ ‘‘
اس کاانداز پروفیشنل تھا۔ جیسے ہی فون رکھتی پھر کال شروع ہو جاتی۔ سامنے ٹیبل پر کمپیوٹر رکھا تھا جوبھی کال آتی وہ لوگوں کو ٹائم دے کر کمپیوٹر پر اندارج کردیتی۔ آج ریسپشن پر بیٹھنے والی عافیہ غیر حاضر تھی لہٰذا عروج کو اس کی جگہ سنبھالنی پڑ رہی تھی۔ پارلر میں آج رش زیادہ تھا۔4بجنے کے بعد تو روزانہ ہی ایسا رش ہوتاتھا جو کہ رات دس بجے تک جاری رہتا۔
عروج بیوٹی پارلر کا ایک نام اور مقام تھا۔ خواتین اس کی کارکردگی سے مطمئن تھیں اور یہاں سے کام کروانے کو باعثِ فخر سمجھتی تھیں۔
’’ہیلو‘‘اچانک پھر کال آئی’’ جی آپ کا نام؟‘‘
’’میرا نام آسیہ ہے۔ میں نے آپ سے دلہن میک اپ کے لیے ٹائم لیا ہؤاہے‘‘۔
’’تو؟‘‘عروج نے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔
جواب میں خاموشی رہی۔
’’پھر بی بی آپ کیا چاہتی ہیں؟‘‘ عروج قدرے جھنجھلائی۔
’’میں آپ کو بتادوں؟ نہیں،میں دراصل آپ کی اونر سے ضروری بات کرنا چاہتی ہوں‘‘۔
’’کیاضروری بات ہے؟‘‘ساتھ ساتھ میل چیک کرنے لگی۔
’’اس کے لیے میڈم عروج سے ہی بات کروں گی‘‘
’’میں عروج ہی بات کررہی ہوں آپ بات کیجیے پلیز‘‘
’’دیکھیں میرے گھروالوں نے آنے والے بدھ کے دن کے لیے ٹائم لیا ہؤا ہے۔ بدھ کو میری شادی کا دن ہے۔ میرج ہال کی بکنگ کافی پہلے ہی ہوچکی ہے۔ آپ کے پارلر سے بھی میری باجی نے 15دن پہلے سے ہی ٹائم لے لیا تھا۔ آپ نے مجھے منگل کو سروس کے لیے بلایا تھا‘‘۔لڑکی کی آواز دھیمی اور لہجہ پراعتماد تھا۔
یہ تو میرا وقت ضائع کررہی ہے۔عروج کی پیشانی پر بل پڑگئے۔
’’دیکھیے اگر آپ وقت یادن تبدیل کرانا چاہتی ہیں تو آپ کو آکر بات کرنی ہوگی۔ پھر ایکسٹرا چارجز بھی آپ کو دینے ہوں گے‘‘۔یہ کہہ کر عروج نے فون پٹخ دیااورکمپیوٹر پر بدھ کی اپائنٹ منٹس چیک کرنے لگیں۔ آسیہ کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ واقعی میں ایسا ہی تھا جیسا کہ وہ کہہ رہی تھی۔ لیکن یہ سب دہرانے کا مقصد کیا تھا؟ اور وہ جو کہہ رہی تھی کہ میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتی ہوں… عروج کچھ الجھ سی گئیں۔
اتنے میں دوخواتین آکر ان سے اپنا کچھ معاملہ ڈسکس کرنے لگیں تو وہ بھول بھال گئیں۔ ایک گھنٹہ گزرا کہ پھر فون کی گھنٹی بجی۔ پھر وہی آواز تھی۔
’’میں آسیہ بات کر رہی ہوں۔ میں نے ابھی ایک گھنٹہ پہلے آپ سے بات کی تھی‘‘۔
’’جی فرمائیے‘‘عروج نے بیزاری سے کہا’’لیکن مختصر! اور جلدی بولیے‘‘
’’دراصل ‘‘لڑکی بولتے بولتے کچھ رک سی گئی۔ اس کے انداز میں ہچکچاہٹ در آئی۔’’میں آپ سے ایک… ایک ڈیل کرنا چاہتی ہوں‘‘
’’ڈیل‘‘عروج چونکیں’’کیسی ڈیل؟‘‘
’’میںوہ وہ …‘‘
’’ہاں ہاں بولو‘‘انہوں نے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش

کی۔
’’میری شادی میں میری مرضی شامل نہیں ہے۔ میں یہاں شادی نہیں کرنا چاہتی جہاں والدین نے بات طے کی ہے ‘‘آخر کار آسیہ بول ہی پڑی۔ عروج کو ایک کرنٹ سا لگا۔ وہ اپنی کرسی پر اچھل سی گئیں۔ حیرت سے ان کی آواز بلند ہوگئی۔ پارلر میں موجود سب خواتین ان کی طرف دیکھنے لگیں۔
’’میں دراصل کسی اور کو چاہتی ہوں‘‘۔ اس کا لہجہ پراسرار تھا۔
’’پھر آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں؟‘‘انہوں نے حیرت پر قابو پانے کی کوشش کی۔
’’میں آپ سے ایک فیورچاہتی ہوں۔ اگر آپ میری مدد کریں تو میں اپنی محبت حاصل کرسکتی ہوں۔ ‘‘آسیہ نے پر جوش لہجے میں کہا۔
عروج نے ایک ٹھنڈی سانس لی’’ ٹھیک ہے، میں آپ کی مدد کے لیے تیار ہوں، لیکن مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘
’’شکریہ بہت شکریہ‘‘لڑکی نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا’’میں آپ کو رات فون کروں گی پھر سارا لائحہ عمل طے کر لیں گے‘‘۔
’’ٹھیک ہے‘‘ عروج نے اپنی رضا مندی دے دی۔’’آپ میرا موبائل نمبر نوٹ کرلیں‘‘۔
را ت11بجے کے بعد عروج اپنے بیڈروم میں اپنا موبائل سامنے رکھے اسکو گھورنے میں مصروف تھیں۔ ان کو اب سے چھ ماہ پہلے کا واقعہ یاد آرہاتھا جب ان کی ایک مستقل کلائنٹ شازیہ کوبھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ وہ لڑکی اپنی خوش اخلاقی اور ملنساری کی وجہ سے ان کو عزیز تھی۔ انہوں نے اس کے والدین سے ملاقات کی اور ان کو لڑکی کی رضامندی کے مطابق رشتہ طے کرنے کی درخواست کی۔ لیکن اس معاملے میں اہم پہلو یہ تھا کہ وہ لڑکے سے ذاتی طورپر واقف تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے اس کی طرفداری کی اور شازیہ کے والدین کو اس کے روشن مستقبل اور اچھے خیالات کی بنا پر لڑکی کی مرضی کے مطابق رشتہ کرنے پر اکسایا۔ کافی عرصے تک یہ معاملہ چلا۔ عامر اور شازیہ آج تک ان کے شکر گزار تھے اور ان کے والدین بھی…
وہ یہی سوچ رہی تھیں کہ اچانک فون کی بیل بجنے لگی دوسری طرف آسیہ ہی تھی جس کے فون کا وہ بے چینی سے انتظار کررہی تھیں۔
’’ہاں آسیہ!‘‘ انہوں نے میٹھے لہجے میں بات شروع کی۔’’تم مجھ سے کیا فیور چاہتی ہو؟‘‘
’’میں اپنے کلاس فیلو فیصل کو پسند کرتی ہوں‘‘۔آسیہ نے جھجکتے ہوئے بات شروع کی۔’’میری بات بچپن ہی سے میرے چچا کے بیٹے سے طے ہے،آپ نے میری دوست شازیہ کی مددکی تھی آپ میری مدد بھی کریں‘‘۔
’’میں تیار ہوں‘‘ عروج نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا’’تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟‘‘
’’میں سخت نگرانی میں ہوں‘‘۔ آسیہ نے کہا’’ کیونکہ میں اپنے گھروالوں پر یہ بات ظاہر کر چکی ہوں کہ میں گھر سے موقع ملتے ہی بھاگ جائوں گی۔ لیکن وہ میرا فیصلہ نہیں بدل سکتے، مجھ کو گھرسے نکلنے اورفون کرنے کی اجازت نہیں، یہاں تک کہ میرے کمرے کی کھڑکی پر بھی پہرا ہے، میں باہر نہیں دیکھ سکتی، یہ موبائل جس سے میں بات کررہی ہوں اس کو میں نے چھپا کر رکھا ہے۔ اس کے بارے میں ان کو علم نہیں‘‘۔
’’میں سمجھ گئی‘‘ عروج نے پست آواز میں کہا’’لیکن ان کو فیصل پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
’’اعتراض ؟‘‘آسیہ بھڑک اٹھی’’کوئی ایک اعتراض ہو توبتائوں۔ اس کے پا س جاب نہیں، وہ ہماری برادری کا نہیں۔ آپ کو پتانہیں ابھی تو ہمارا رزلٹ بھی نہیں نکلا اتنی جلدی جاب کیسے مل سکتی ہے۔ لیکن کوئی مانتا ہی نہیں،۔ آناً فاناً شادی طے کردی‘‘۔ وہ سخت ناگواری سے بولی۔
’’ٹھیک ہے، اب تم کیا چاہتی ہو، کیا میں تمہارے گھروالوں سے ملوں؟‘‘
’’نہیں میڈم‘‘آسیہ تیزی سے بولی۔’’اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ میں نے آپ سے رابطہ کیا ہے تووہ مجھے جان سے مار دینگے وہ فیصل سے میری شادی ہرگز نہیں کریں گے‘‘۔
’’میں یہ چاہتی ہوں میڈم‘‘ آسیہ بات کرتے کرتے رک سی گئی۔

’’ہاں ہاں بولو‘‘ انہوں نے حوصلہ دیا کیونکہ وہ اس کامدعا معلوم کرنے کے لیے بے چین تھیں۔
’’میں چاہتی ہوں کہ جب میں آپ کے پاس تیار ہونے آئوں تو آپ مجھ کو اپنے پارلر کے پچھلے دروازے سے نکال دیں۔ میں فیصل کے ساتھ نکاح کرلوں گی‘‘۔
’’کیا؟‘‘ان کی زبان سے نکلا اورپورے جسم میں سنسنی دوڑ گئی وہ لرز کر رہ گئیں ایک لمحے کے لیے تو وہ کچھ بول ہی نہیں سکیں۔ پھر اچانک ان کو غصہ آگیا۔
’’تم بے قوف تو نہیں ہو؟‘‘انہوں نے برہمی سے کہا’’میرے پارلر کی ریپوٹیشن خراب ہوجائے گی۔ خواتین میرے پاس آنا چھوڑ دیں گی‘‘۔
’’میری پوری زندگی کا سوال ہے میڈم‘‘آسیہ نے گڑگڑانے والے انداز میں کہا’’آپ کوئی بھی محفوظ پلاننگ کرسکتی ہیں جس سے آپ بچ جائیں۔ میں فیصل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی‘‘۔
’’اچھا‘‘ انہوں نے حیرت کے جھٹکے سے سنبھل کرکہا۔ ’’میں کل سوچ کر جواب دوں گی‘‘۔
’’لیکن جواب اثبات میں ہونا چاہیے میڈم،پلیز‘‘آسیہ نے ملتجی لہجے میں کہا۔’’آپ کے بارے میں بہت سنا ہے کہ آپ محبت کر نے والوں کو ایک کرنے سے دلچسپی رکھتی ہیں، اسی لیے آپ…پلیز پلیز…‘‘
’’ٹھیک ہے‘‘ انہوں نے انتہائی حد تک اپنے لہجہ کو نرم بنانے کی کوشش کی۔ ’’میں پوری کوشش کروں گی کہ میرا فیصلہ تمہارے حق میں ہی ہو۔ تم مجھ سے کل اسی وقت رابطہ کرنا‘‘۔ انہوں نے فون بند کردیا۔
دوسرے دن رات11بجے آسیہ کی پھر کال آئی۔ عروج تو پہلے ہی منتظر تھیں۔ انہوں نے بات شروع کی۔
’’ دیکھو آسیہ! میں نے تمہاری بات پر اچھی طرح غور کیا ہے اور میں نے ایک منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے اس طرح کہ تمہارا کام بھی بن جائے اورمیں بھی محفوظ رہوں‘‘
’’بہت بہت شکریہ میڈم‘‘آسیہ کی آواز خوشی سے لرز رہی تھی۔
’’لیکن میری ایک شرط ہے۔ ‘‘ عروج نے کہا۔
’’کیا میڈم کیا شرط ہے آپ کی… آپ جو کہیں جتنی بھی رقم کا آپ مطالبہ کریں گی فیصل آپ کو دینے پر تیار ہے‘‘۔ وہ خوشی سے کھنکتی ہوئی آواز میں بولی’’ آپ کو پتہ ہے وہ میری خاطر بڑے سے بڑا خطرہ مول لے سکتاہے۔ اس نے تو یہ پلاننگ کی تھی کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ آکر اسلحے کے زور پر مجھے کو لے جائے ۔ یہ کام وہ شادی ہال میں بھی کرسکتاہے۔ اور پارلر میں بھی۔ لیکن میں نے اس کو منع کیا۔ اسلحہ کاکام بڑا خراب ہوتاہے۔ اگر گولی چل جائے تو معاملہ بگڑ سکتاہے۔ میں چاہتی ہوں کہ بغیر خون خرابے کے کام ہوجائے، حالانکہ فیصل ہر وقت مرنے مارنے کی بات کرتاہے‘‘۔
عروج نے اس کی بات توجہ سے سنی۔ اس کی باتوں سے اس معاملے کو اچھی طرح سمجھنے میں مددمل سکتی تھی اور فیصل کے کردار پر بھی روشنی پڑ سکتی تھی۔
’’اس کا مطلب ہے کہ وہ تم سے بہت محبت کر تاہے‘‘
’’بہت زیادہ میڈم‘‘ آسیہ کا لہجہ فخریہ تھا۔ ’’آپ بتائیں آپ کی کیا شرط ہے‘‘۔
’’میں فیصل سے ملنا چاہتی ہوں‘‘۔ عروج نے مضبوط لہجے میں کہا۔
’’کیا‘‘آسیہ حیرت سے گنگ رہ گئی۔
’’ہاں میری یہی شرط ہے۔ اگر تم کو منظور ہے تو ٹھیک ورنہ پھر ہمارے درمیان کوئی بات طے نہیں ہوسکتی‘‘۔
’’میں آپ کو فیصل سے بات کرکے جواب دوں گی‘‘۔ آسیہ تھوڑا سا گھبرا گئی۔
’’تم مجھ کو کل تک جواب دے دو۔ کل اتوار ہے ۔پیر کو وہ مون ہوٹل میں مجھ سے مل لے‘‘۔
’’ٹھیک ہے میڈم‘‘ آسیہ نے فون بند کردیا۔
٭…٭…٭
پیر کی رات کو عروج کے پاس آسیہ کا فون آیا’’میری فیصل سے بات ہوگئی ہے‘‘۔ اس نے پر مسرت لہجے میں اطلاع کی۔’’فیصل آپ سے مل کر بہت خوش ہوئے ہیں میڈم۔ انہوں نے آپ کی بڑی تعریف کی‘‘۔

’’ہاں آج شام کو میں نے فیصل سے ملاقات کی ہے اورہم نے ساری بات طے کرلی ہے اب تم بالکل بے فکر ہوجائو۔ کل منگل ہے ، کل تم میرے پاس سروس کے لیے آئو گی تومیں تم کو ساری تفصیل سے آگاہ کردوں گی۔ یہ ساری باتیں ویسے بھی فون پر کرنا مناسب نہیں‘‘۔عروج نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے میڈم‘‘ آسیہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے بولی۔
’’چلو تمہاری آزمائش بھی اب ختم ہونے کو ہے۔ پرسوں بدھ ہے، اس دن تم آزاد ہوگی‘‘۔ عروج نے ہلکے پھلکے انداز سے کہا۔
’’جی میڈم‘‘ آسیہ پرمسرت لہجے میں بولی۔ آزادی کا دن بھی اور انتقام کابھی‘‘۔
’’انتقام… کیا مطلب؟‘‘ عروج نے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔
’’میرے والدین اور بھائیوں نے مجھ پر جو ظلم وستم کیا اور مجھ کو میرے کمرے ہی میں قید تنہائی میں مبتلاکردیا۔ میری شادی جو کہ سراسر میرا ذاتی معاملہ ہے اس میں دخل اندازی کی اور مجھ پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی‘‘۔ وہ اپنے گھروالوں کے سنگین جرائم دہراتی چلی گئی۔
عروج بالکل خاموش تھیں، انہوں نے اس کی بات پر تبصرہ نہیں کیا۔ آسیہ بھی ان کی خاموشی سے اکتا گئی۔
’’اچھا میڈم کل ملاقات ہوگی‘‘۔
’’دیکھو آسیہ‘‘ انہوں نے سمجھانے والے انداز میں کہا’’تمہارے والدین کے گھر اب صرف تمہارے دودن باقی رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد تم چلی جائو گی اور تم ان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہو۔ لہٰذا تم کو چاہیے کہ تم ان سے اپنے پچھلے کیے کی معافی مانگ لو اور اپنے رویے سے ایسا ظاہر کرو گویا تم ان کے فیصلے پر راضی اور مطمئن ہو، اس طرح کسی کوشک بھی نہیں ہوگااور ہمارے لیے اپنی منصوبہ بندی پر عمل کرنا آسان ہوگا‘‘۔
ایک لمحے کے لیے آسیہ چپ سی رہ گئی ’’ٹھیک ہے میڈم میں آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی۔‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد آسیہ نے سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔
٭…٭…٭
آج بدھ کا دن تھا میڈم عروج اپنے پارلر میں موجودتھیں۔ مغرب کی اذانوں کی آواز بلند ہوئی اور آسیہ اپنی بڑی بہن سیما کے ساتھ آموجود ہوئی۔
’’آپ باہر کرسی پر تشریف رکھیں‘‘۔ عروج نے سیما سے کہا’’ ان کا سامان کپڑے زیور وغیرہ مجھے دے دیں۔ ‘‘ وہ آسیہ کو لے کر سامنے موجود کمرے میں چلی گئیں۔ خودکار قفل سے دروازہ مقفل ہوچکاتھا۔ سیما گھنٹہ بھر سے باہر بیٹھی تھیں۔ پارلر کے باہر انکے بھائی ساجد گاڑی لیے کھڑے تھے، حالانکہ آسیہ کا رویہ دودن سے بالکل تبدیل ہوچکاتھا اور اس نے سب گھروالوں سے معافی مانگ لی تھی لیکن پھر بھی ایک خوف تھا جو کہ سب پر ہی ایک عفریت کی طرح پنجے گاڑے بیٹھا تھا۔ گھر میں خوشی کا موقع تھا لیکن انجانے خوف سے سب ایک دوسرے سے نگاہیں چرارہے تھے۔نجانے کب کیا ہوجائے! آسیہ کے عزائم اور ارادے بڑے خطرناک تھے۔
دوگھنٹے ہونے کو تھے، سیما کا اطمینان اور چین رخصت ہوچکاتھا، وہ مستقل اضطرابی کیفیت میں تھیں۔ آخر کتنی دیر لگے گی؟انہوں نے ریسپشن پر بیٹھی لڑکی سے کوئی دسویں بار پوچھا۔ا دھر ساجد نے مستقل کال کرکے ناک میں دم کردیا تھا۔
٭…٭…٭
ہال کے ساتھ بنے برائیڈل روم میں آسیہ دلہن بنی بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں،باوجود میک اپ کے صاف محسوس ہوتاتھا کہ وہ روتی رہی ہے۔ وہ بالکل ساکت بیٹھی تھی سرجھکا ہؤاتھا۔ کچھ ہی دیر میں سیما آگئیں۔
’’آسیہ کچھ کھائوگی؟‘‘
’’نہیں‘‘آسیہ کا لہجہ سپاٹ تھا۔ وہ نیچے دیکھ رہی تھی اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگانا آسان کام نہ تھا کہ وہ کیا سوچ رہی ہے۔
’’آپ مجھ کو تھوڑی دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیں‘‘۔ آسیہ کا اشارہ ان لڑکیوں کو طرف تھا جوکہ دلہن دیکھنے کے شوق میں اس کے اردگرد جمگھٹا لگائے ہوئے تھیں۔ سیما بڑی مشکل سے لڑکیوں کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوئیں۔

’’صرف 15منٹ‘‘سیما نے تنبیہی نگاہوں سے آسیہ کی طرف دیکھا۔’’15منٹ بعد تم کو اسٹیج کی طر ف جانا ہوگا‘‘۔
آسیہ کچھ نہ بولی وہ بالکل خاموشی سے سوچنا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ یہ کیا واقعہ پیش آگیا تھا۔ ساری منصوبہ بندی بالکل درست تھی۔ اپنی دانست میں وہ گھروالوں کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ صبح ہی فیصل سے بات ہوئی تھی5بجے بھی اس کا فون آیا تھا۔ سارے انتظامات مکمل تھے۔ پھر کیا گڑ بڑ ہوئی سمجھ میں نہ آتا تھا۔ میڈم عروج نے بھی بھرپور تعاون کیا۔فیصل سے آٹھ بجے آنے کی بات ہوئی تھی۔ لیکن انتظار کرتے کرتے آٹھ سے نو بج گئے لیکن کہیں فیصل کا پتہ نہ تھا۔ فون کرتے کرتے انگلیاں گھس گئیں۔ بیل جارہی تھی لیکن فون کوئی اٹھاتا نہ تھا۔
روتے روتے آسیہ کی حالت خراب ہو گئی۔ وہ دلہن بننے پر اور میک اپ کرانے پر بالکل راضی نہ تھی لیکن میڈم عروج نے ا س کو قائل کیا کہ یہ تو گڑھے سے نکل کر اندھی کھائی میں گرجانے والی بات ہے بادل نخواستہ وہ تیار ہوئی ادھر ساجد بھائی اورسیما آپی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاتھا۔ سیماآپی نے عروج آنٹی کے خوب لتے لیے کہ اتنا بڑا پارلر اور2گھنٹے ہوئے ایک دلہن تیارنہ ہوسکی۔ انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے سیما آپی کی بری بھلی سنی لیکن سارے معاملے کی بھنک نہ پڑنے دی۔ اب آسیہ دلہن بنی شادی ہال میںموجود تھی۔ لیکن ایسا لگ رہاتھا کہ جیسے اس کے اعصاب جواب دے رہے ہوں ۔ ایسا لگتاتھا کہ سوچتے سوچتے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی۔ آخرفیصل اس کو لینے کیوں نہیں آیا… کیا کوئی حادثہ ہوگیا یاپھر اس نے آسیہ کے ساتھ دھوکے بازی کی؟
٭…٭…٭
’’ہیلو ایس پی صاحب میں عروج بات کررہی ہوں‘‘۔
جی میڈم کیاحال ہیں آپ کے؟‘‘دوسری طرف سے سوال کیاگیا۔
’’میں خیریت سے ہوں آپ سنائیں‘‘عروج نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میڈم جو بندہ آپ نے پکڑوایا ہے وہ تو بڑا کام کا بندہ نکلا‘‘دوسری طرف سے کہا گیا۔
’’اچھا، وہ کیسے؟‘‘عروج نے حیران ہوکر پوچھا۔
’’میڈم ان کا پورا گینگ ہے۔ یہ لوگ لڑکیوں کو اغواکرکے یاپھر عشق ومحبت کے جال میں پھانس کر باہر اسمگل کردیتے ہیں۔ ان کے کافی اڈے ہیں جہاں سے گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ لڑکیاں بھی ملی ہیں جن کو ایک تہہ خانے میں رکھاگیا تھا‘‘۔
ایس پی صاحب سے بات کرکے عروج کچھ دیر تک خاموش بیٹھی رہیں۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھیں، آپ کو کیا معلوم ایس پی صاحب لڑکیاں معصوم ہوتی ہیں۔ ذرا سا پیار بھرا لہجہ، تھوڑی سی تعریف اور محبت کے اظہار کے پیچھے اپنا تن، من وار دیتی ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر دل کا کھوٹ ان پر ظاہر ہو جائے اورہر بدباطن دل کی بے راہ روی ان پر عیاں ہوجائے۔ پھر جب وہ دھوکا کھاتی ہیں تو منہ کے بل گرتی ہیں۔ پھر ان کو اٹھانے والا اور کھڑا کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ہاں انکے اوپر پائوں رکھ کر گزرنے والے بہت ہیں…
اور میں ایسی لڑکیوں کو بچانا چاہتی ہوں…کیونکہ مجھ پر قرض ہے …ان ہاتھوں کا جنہوں نے مجھے بھٹکنے سے بچایا اور میری راہنمائی کی!!
٭٭٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x