ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ہلکا پھلکا – میاں بیوی – نبیلہ شہزاد

’’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘‘ کا محاورہ شاید بنا ہی ان کے لیے ہے۔ جن میاں بیوی کے
درمیان محبت اور دوستی زیادہ ہوتی ہے ان کے درمیان نوک جھوک ضرور ہوتی ہے۔

 

دو انسانوں کے درمیان بننے والا سب سے پہلا رشتہ میاں بیوی کا ہے جو انسان کے اس روئے زمین پر قدم رکھنے سے پہلے جنت میں ہی بنا دیا گیاجبکہ باقی سب رشتے زمین پر بنے ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کے لیے والدین جیسے اہم ترین رشتے کی بجائے اس کا گھر بسانے اور دل لگانے کے لیے ایک بیوی کا وجود اس کے لیے پیدا فرما دیا اور اس رشتے کے درمیان ایک خاص محبت کی سند اپنی طرف سے عطا فرما دی ۔
یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی، لڑا کے اصیل مرغوں کی طرح آپس کی لڑائی جھگڑے میں چونچوں سے ایک دوسرے کو لہو لہان بھی کر دیں تو ہانپتے ہوئے کچھ دیر لڑائی چھوڑ کر سستانے کے لیے بھی ایک دوسرے کی گردن پر ہی سر رکھ کر آرام فرمائیں گے۔ کہتے ہیں کہ ایک جگہ پر پڑے برتن بھی آپس میں کھٹک جاتے ہیں لیکن یہ رشتہ ایسا رشتہ ہے کہ ان کے کھٹکنے کی آواز ڈھول کی تھاپ سے بھی زیادہ آتی ہے اور حیرت انگیز طور پر تھوڑی دیر بعد ہی صلح صفائی ہو جاتی ہے پھر یہ منہ سے منہ جوڑے دکھ سکھ کی پٹاریاں کھول کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ شاید یہ دو لوگ دنیا کے واحد ایسے دوست ہوتے ہیں جو اگر دل کھول کر ایک دوسرے کو برا بھلا بھی کہہ لیں تو سب سے جلد ان کی آپس کی ناراضگی ختم ہوتی ہے بلکہ ’’پل میں تولہ پل میں ماشہ‘‘ یہ محاورہ شاید بنا ہی ان کے لیے ہے۔ جن میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی زیادہ ہوتی ہے ان کے درمیان نوک جھوک ضرور ہوتی ہے۔ اس نوک جھوک کے محاذ پر پہلے تو وہ جی بھر کر ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ جب انہیں اپنی زبان درازی کا احساس ہو جاتا ہے اور تھک جاتے ہیں تو پھر دونوں یا کوئی ایک اپنی گفتگو کو ریورس گیئر لگا کر مصلحت کی طرف موڑتے ہیں اور یہاں تک پہنچتے ہیں کہ ’’میں تو آپ کو یہ سمجھانا چاہ رہا تھا یا تھی‘‘ سے ہوتے ہوئے ’’چل دفع کرو، چھوڑو ان باتوں کو کوئی اور بات کرتے ہیں‘‘ پر دو گھنٹے سے چلائی گئی فلم اختتام پکڑ لیتی ہے لیکن چند دنوں بعد انہیں کسی اور فلم کا شو ضرور منعقد کرنا ہوتا ہے۔
مشہور محاورہ ہے کہ میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں۔ محاورہ بولنے والے کی سوچ میں پتہ نہیں کون سی گاڑی تھی۔ اگر اس گاڑی سے مراد سائیکل یا موٹر سائیکل تھی تو ٹھیک ہے ورنہ یہ صاحب بہادر جسے شوہر کہا جاتا ہے، زندگی کو چار پہیوں والی کار بنانا تو دور کی بات وہ تین پہیوں والا رکشہ بنانے کا بھی نہیں سوچ سکتا۔ تجربے کے طور پر ذرا بیگم حضور کے سامنے اپنی اس انجینیئرنگ سوچ کا ذکر تو کر کے دیکھے، جس پہیے کا وہ خود کردار ادا کر رہا ہے اس سے بھی ہوا نکلوا بیٹھے گا ،پھر پڑی رہے گی گاڑی جوں کی توں۔
اس رشتے کی آپسی محبت کی شدت کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ یہ دونوں برداشت نہیں کرتے کہ دوسرے کی نظر کا مرکز و محور اس کے علاوہ کوئی اور بھی ہو۔ اس معاملہ میں زیادہ تر مرد اپنی بیوی پر اعتماد کرتے ہیں اور عورت بھی ان کے اعتماد پر پورا اترتی ہے لیکن عورت کے مرد پر اعتماد کی ڈوری ڈانواں ڈول ہی رہتی ہے۔ شوہر اسے جتنا مرضی یقین دلائے کہ وہ ہمیشہ صرف اسی کا رہے گا، اس کی سات پشتوں کی توبہ کہ وہ کبھی اس کے ساتھ کسی اور کو بھی اپنی زندگی کی کشتی پر سوار کرے گا ،لیکن چھوٹے سے بچے کی شرارت میں کہی بات پر یقین کر لینے والی عورت اس معاملے میں اپنے پانچ وقت نمازی شوہر پر بھی کبھی یقین نہیں کرے گی اور ہر محفل یا عوامی مقام پر اس کی نظروں کا محور وہاں کے نظارے کم اور اپنے شوہر کی آنکھیں زیادہ ہوتی ہیں۔ صاحب جی اس وقت کدھر دیکھ رہے ہیں، ایک ایک پل کا ایسے حساب رکھا جا رہا ہوتا ہے کہ اس وقت کراماً کاتبین کو بھی ان مسکینوں پر ترس کھاتے ہوئے اپنی نظریں ان سے بند کر لینی چاہییں۔
میاں بیوی جہاں ایک دوسرے کو رشتہ دار یا دوست احباب کے لوگوں کی اچھائی کی مثالیں دیتے ہیں کہ’’فلاں کا شوہر اتنا اچھا ہے وہ اپنی بیوی کا اس طرح خیال رکھتا ہے، فلاں کی بیوی اتنی اچھی ہے وہ اپنے شوہر کے لیے ایسے ایثار کرتی ہے‘‘ وہاں بھی مرد ہمیشہ اپنی بیوی کے ہاتھ سے بنا کھانا پسند کرتا ہے اور عورت اپنے شوہر کی خریدی ہوئی چیز پر ہی مطمئن ہوتی ہے۔’’شوہر اپنی بیوی سے زیادہ ڈرتا ہے یا بیوی اپنے شوہر سے؟ ‘‘ اس سوال کا جواب ہمیں جدید ترقی یافتہ سائنس بھی نہیں دے سکی۔ بس یہ دونوں ریسلنگ کے رنگ میں دو ایسے ریسلرز ہیں کہ جس کا دل چاہے اپنا مضبوط مکا دکھا کر دوسرے پر اپنا رعب و دبدبہ طاری کردے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مکا دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو جواباً دوسرا ٹانگ کھینچ کر اسے گرا دیتا ہے۔ میاں بیوی گھر کی اکائی بھی ہوتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے وہ بڑے بھی ہوتے ہیں اور دادی دادا، نانی نانا بن کر اس سے بھی بڑا درجہِ حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کے اندر بچہ پن بھی وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ بڑھتا جاتا ہے اور پھر ان کی بچہ پن والی افغانستان اور امریکہ جیسی جنگ سے ان کی آل اولاد بھی بڑے مزے سے لطف اندوز ہوتی ہے۔
کھٹا میٹھا پن، آپسی نوک جھونک ،ایک دوسرے کے لیے ایثار و قربانی، ایک دوسرے کے بہترین دوست معاون و مددگار ہونا، ایک دوسرے کی خوشی میں خوش اور غم میں غمگین ہو جانا، ایک دوسرے کے رشتوں کو اپنا لینا اور اپنا بنا لینا، ایک دوسرے کے مخالفین کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جانا اس رشتے کا خاصہ ہے۔ یہ مقدس رشتہ اور پاکیزہ محبت والا جوڑا ہے کہ ان کی محبت کے درمیان دراڑ ڈالنے والے کو شیطان نے اپنا چیلا عظیم کہا ہے اور ان کے درمیان محبت کو پروان چڑھانے والا رحمٰن کا بندہ خاص بن جاتا ہے۔ اب یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم نے اپنے ارد گرد بسنے والے جوڑوں کے لیے کیا بننا ہے اور اپنا انجام رحمان کے بندوں میں کروانا ہے یا شیطان کے چیلوں میں۔٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
1 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x