ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

گواہی – بتول فروری ۲۰۲۲

گلی میں پانی بہانے اور کوڑا کرکٹ گرانے پر گلی کے دونوں طرف کے گھرانوں میں جھگڑا تو پہلے بھی ہوتا تھا اور گالی گلوچ کر کے دونوں طرف کی خواتین چپ ہو کے بیٹھ رہتی تھیں۔ مگر آج تو حد ہو گئی ۔
سامنے والوں کے چار مرد ان غریبوں کے گھر گھس گئے اور گھر کی بوڑھی اماں کے روکنے پر اس کو جھڑک دیا۔ ایک ڈنڈا بھی ماراوہ بھی دائیں بازو پر، ایک سرخ لکیر کا نشان پڑ گیا۔ یہ جسارت اس لیے کی کہ وہ کھاتے پیتے اور اچھے گھر کے مالک تھے اور دوسرے غریب اور معمولی سے گھر میں دو وقت کی روٹی کا مشکل سے بندوبست کرتے تھے ۔
رکشہ چلا کر گھر کا خرچ پورا کرنے والے بیٹے سے ماں کے ساتھ یہ سلوک نہ دیکھا گیا ۔اس نے آگے بڑھ کر ایک دو گھونسے تو رسید کیے مگر وہ چار تھے اس کی خوب درگت بنائی ، چہرے اور ہاتھوں پر خراشیں آئیں اور اس پر مستزاد یہ کہ دراندازی کرنے والوں کی طرف سے پولیس بلوانے کی دھمکی بھی مل گئ۔جیسے آئے ویسے ہی دندناتے اور پھنکارتے ہوئے واپس ہو لیے۔
امارت اور غربت کے اس طقاھتی فرق کی وجہ سے پہلے بھی جھگڑا چلتا رہتا تھا ۔ان کے جانے کے بعد بیوی نے دوڑ کر خاوند کو تھاما،بٹھایا اور پانی پلایا ۔ساتھ ساتھ سامنے والوں کو بدعائیں بھی دیں اور گالیاں تو بے شمار ، ایک بے بس غریب کے پاس بدعا اور گالی کے علاوہ اور ہوتا بھی کیا ہے !
اب اگلے دن پولیس آگئی ۔ اس کو اپنے زخم دکھانے پڑے کہ وہ مار کر گئے اور تھانے میں رپٹ بھی کروا دی ۔ پولیس تو مانتی نہیں تھی کہ زخم تو لوگ مقدمے کا رخ پھیرنے کے لیے خود بھی لگا لیتے ہیں ۔ مگر بوڑھی اماں کی دہائی اور بازو کا نشان دیکھ پولیس والا کچھ نرم پڑ گیا اور دونوں پارٹیوں کو تھانے بلو لیا ۔
اب اس غریب رکشے والے کو کیا سمجھ ، وہ تو صبح رکشہ پر ٹاکی پھیر کر نکلتا ہے اور سارا دن سواریوں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے، پھر شام تک تین سو سے چھ سو تک کی کمائی کر کے گھر پہنچتا ہے۔ اللہ کا شکر گزار ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا اور ایک بوڑھی ماں ،بیوی اور ایک بیٹے کے لیے جو کماتا ہے کافی ہے۔
اب رکشہ چھوڑ کر منہ متھے والے لوگوں کے ترلے کر رہا ہے کہ تھانے سے جان چھڑا لی جائے۔لیکن یہاں جان چھڑوانے والا کون ہے ۔ اس دور پر آشوب میں سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ رکشہ گھر میں کھڑا کر کے دو تین دن کے چکر کاٹ کر قصبے سے باہر ایک بہت بڑی حویلی کے مالک نے تھانے ساتھ چل کر پولیس سے اس کی سفارش کرنے کی حامی بھر ہی لی ۔
دو تین دن سے رکشا گھر میں کھڑا ہونے کی وجہ سے کھانے پینے کے لالے پڑ گئے، یہاں تو روز کمانا اور روز کھانا والی بات تھی ایسی کوئی خاص بچت نہیں تھی کہ کچھ دن اگر کام نہ کیا جائے تو بھی گزارا ہو جائے۔ ایسی’’ کام سے چھٹی‘‘ والی عیاشی سرکاری ملازمین یا ذاتی کاروبار رکھنے والے حضرات کے لیے ہو سکتی ہے۔مزدور کے لیے نہیں ہے جی۔
پولیس والے نے حویلی والے حضرت کی وجہ سے کچھ نرمی کا مظاہرہ کیا اور صلح نامے کے لیے اگلی جمعرات کا وقت دے دیا ۔ مگر اگلی جمعرات کو تگڑی پارٹی حاضر ہی نہ ہوئی اور کسی ایمرجنسی کا بہانہ کر کے تھانیدار سے معذرت کر لی۔ اب جناب نئ تاریخ اور کوئی نیا حمایتی ڈھونڈنے میں دو چار دن اور نکل گئے کیونکہ پہلے والے حضرت نے مصروفیت کا بہانہ کر کے معذرت کر لی ،قرین قیاس یہی ہے کہ مخالف پارٹی کی سازباز بھی ہو سکتی ہے مگر یہ معصوم رکشہ والا ایسا نہیں سمجھتا ۔ کیونکہ اتنی سمجھ ہی نہیں۔

اب پھر رکشہ کھڑا کر کے گھر والوں کی روزی روٹی خطرے میں ڈال کر گلیوں میں مارا مارا پھر رہا ہے کبھی ایک در کبھی دوسرے در۔ تین دن ہو گئے ہیں اس نے قصبے کے امیر گھروں کی اکثریت کی خاک چھان لی ہے مگر کوئی حامی ابھی تک نہیں بھری گئی ۔ اب جو رہ گئے ہیں ان کی طرف جانے کا سوچ رہا ہے۔ رکشے میں پٹرول بھی ختم ہے شاید پیدل ہی جوتے گھسیٹنے پڑیں۔ کیونکہ اگلی پیشی بھی قریب ہے ۔
یہ جنوری 2022 کے پاکستان کے ایک پسماندہ قصبے کی سچی داستان ہے ۔خدا کرے اس رکشے والے کو کوئی ایسا خدا ترس امیر انسان مل جائے جو اس کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہو اور تھانے جا کر پولیس والوں کو بتائے کہ کسی کے گھر میں یوں گھس کر مار پٹائی کرنے والوں پر کونسی دفعہ نافذ ہوتی ہے اور یہ بھی کہ خاتون کے اوپر ہاتھ اٹھانے والوں کی کیا سزا ہے ۔ اور یہ کہ زخم اگر گواہی دے رہے ہوں تو پرچہ کس پر کٹتا ہے ۔
ہماری ناقص رائے کے مطابق اس رکشہ ڈرائیور کو اپنے محفوظ مستقبل کے لیے لازم ہے کہ اگر ایسا کوئی انسان اسے نہ ملے تو تگڑے پڑوسیوں سے جا کر معافی مانگے اور حالات کی باگ ڈور صالح لوگوں کے ہاتھ میں آجانے کی دعا کیا کرے۔
٭ ٭ ٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
4.3 4 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x