بتولکیا بانو قدسیہ اور اشفاق احمد فرسودہ نظریات کے علمبردار تھے؟ -...

کیا بانو قدسیہ اور اشفاق احمد فرسودہ نظریات کے علمبردار تھے؟ – بتول فروری ۲۰۲۱

گزشتہ دنوں پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک نئے تنازعے نے جنم لیا جس میں ادبی حلقوں میں موجود ایک گروہ نے اپنے مخصوص نظریہ حیات کا اظہار کیا ۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ نیلم احمد بشیر جو ترقی پسند ادیبوں ، صحافیوں کے ایک مشہور نام احمد بشیر مرحوم کی صاحبزادی ،اور پاکستان میں شوبز کی انتہائی معروف شخصیت بشریٰ انصاری کی بہن ہیں اور بطور افسانہ نگار بھی اپنی پہچان رکھتی ہیں، انہوں نے ادبی دنیا کے مشہور جوڑے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے بارے میں ایک ویب سائٹ پر شائع شدہ اپنے مضمون میں اپنے خیالات کااظہار کیا۔جیسا کہ ویب سائٹ کا طریق کار ہوتا ہے، اس مضمون کے ضمن میں پڑھنے والوں کے تبصرے بھی اس بحث میںشامل تھے۔ میری ایک طالب علم نے جو انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے وہ گفتگو مجھے بھیجی۔ اس مضمون میں نیلم صاحبہ نے بانو قدسیہ کے مشہور ناول راجہ گدھ پر اپنی رائے کا اظہار کیاہے اور اس کے تناظر میں ان کے حرام و حلال کے فلسفے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مضمون نگارکے خیال میں بانو قدسیہ کا حرام و حلال کا فلسفہ اردو ادب میں اس دقیانوسی اور روایتی (Regressive)سوچ کا عکاس ہے جس نے ادبی حلقوں کو بہت عرصے سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ ان کے نزدیک بانو قدسیہ کا پرندوں اور جانوروں کے اس تمثیلی قصے میں پیش کردہ حلال و حرام کا تصور اور اس سے جڑا ذہنی و جسمانی معذوری کا نظریہ نہ تو واقعیت پر مبنی ہے اور نہ ہی جدید زمانے کے جینیاتی فلسفے اور سائنسی حقائق سے ثابت ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ راجہ گدھ میں بانو قدسیہ نے جس انداز میں گدھ کے کردار کو پیش کیا ہے وہ قدرت کے نظام توازن میں اس جانور کے کردار سے مکمل لا علمی کا عکاس ہے۔ نیلم کا یہ بھی خیال ہے کہ اس ادبی جوڑے کی ایسی بہت سی تحریروں نے اردو ادب پڑھنے والوں کی ذہن سازی کچھ اس انداز میں کی ہے کہ وہ فرسودہ خیالات اور نظریات کے پیرو کار بن کر رہ گئے، اور ان کے ان رجعت پسندانہ اور کمزور عقائد کو چیلنج کرنے کے لیے متضاد سوچ رکھنے والے ادیبوں کو بہت دقت کا سامنا کرنا پڑا۔
یہاں اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ نیلم صاحبہ نے اپنے اس تبصرے میں ان خیالات کا اظہار برسبیلِ تذکرہ ہی کیا ہے ۔ کیونکہ باقی تمام مضمون میں انہوں نے بانو قدسیہ کی جانب سے اپنے والد احمد بشیر کے متعلق لکھے جانے والے کسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے تاریخی ریکارڈ کو درست کرنے کی کوشش کی ہے ۔ نیلم کے مطابق اس مضمون میں بانو قدسیہ نے ان کے والد احمد بشیر کے متعلق غلط اور بے بنیاد باتیں کی ہیں جو ان پر ایک بہتان سے کم نہیں ہیں اور جو بقول نیلم ،بانو آپا کے ’’ برگزیدہ صوفی منش‘‘ظاہر میں چھپے اس کا لے سیاہ گدھ کا عکاس ہے’’ جو موقع ملنے پر ٹھونگا مارنے سے باز نہیں آتا ‘‘۔
نیلم صاحبہ کی تحریر کے ان مندرجات سے قطع نظر جوان کے والد احمد بشیر سے ان کے جذباتی تعلق اور وابستگی سے متعلق ہیں، ان کے بانو قدسیہ کے ادبی نظریات کے متعلق درج خیالات محل نظر ہیں۔ میرے خیال میں بانو قدسیہ سے ایک ذاتی اختلاف یا پر خاش کی آڑ میں نیلم صاحبہ نے اس پورے world viewکو رد کیا ہے جو بانو قدسیہ اور ان سے متاثر ہونے والوں ( ادیبوں اور قارئین ) کی سوچ کی غمازی کرتا ہے ۔ اس کا اظہار مضمون کے اس خاص حصے سے ہوتا ہے جہاں نیلم اپنے والد کا دفاع کرتے ہوئے ضیاء الحق کے نظام مصطفی کے نعرے سے لے کر موجودہ ریاست مدینہ بنانے کے خواب تک کو بیک قلم رد کرتی نظر آتی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ نیلم اپنے والد کو بانو قدسیہ اور اشفاق احمد جیسے ’’ مراعات یافتہ ‘‘ ادیبوں سے الگ کرتے ہوئے ایک ایسا دیوانہ قرار دیتی ہیں ’’ جو نہ تو ضیاء کا لاڈلا تھا اور نہ ہی فوج کا خوشامدی بلکہ آتشِ نمرودمیں بے خوف کو د جانے والا نڈر صحافی تھا ‘‘۔
اگرچہ اس تحریر کے جواب میں بہت سے لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اوراس بنا پر مضمون نگار کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اول توبانو قدسیہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر چکی ہیں، دوسرے، خود نیلم کے مطابق اپنی زندگی میں ہی انہوں نے اپنے الفاظ پرمعذرت نامہ اس ہدایت کے ساتھ لکھ کر دیا کہ اگلے ایڈیشن میں سے یہ باتیں نکال دی جائیں ۔مگر زیادہ ترذاتی گلے شکوے پر مبنی اس تحریر میں کچھ حصہ جو بانو قدسیہ کے فلسفہ زندگی سے مضمون نگار کے اختلاف پر مبنی ہے، اس کی بنیاد پر، یا یوں کہیے کہ اس کو بہانہ بنا کر بہت سے قارئین نے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے خیالات پر شدید الفاظ میں تنقید کی ہے۔ یہاں میں چندتبصروں کا ذکر بھی ضرور کروں گی جو اس بحث کو ایک خاص پس منظر دیتے ہیں جس کا ذکر میں پہلے کر چکی ہوں ۔
واقعہ یہ ہے کہ اردو ادب میں ترقی پسند اور لبرل خواتین و حضرات کے گروہ کو اس خاص ادبی نظریے سے بہت کدہے جو بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ذریعے اردو ادب میں بھرپور انداز سے موجود ہے ۔ اشفاق بانو کے نظریے میں مذہب، روایت، اقدار ، تہذیب اور تصوف سے متعلق پائے جانے والے تمام عقائد و نظریات اس گروہ کے ہاں فرسودہ اور رجعت پسند گردانے جاتے ہیں اور حرام و حلال کی ان پابندیوں کو مکمل طور پر رد کر دیا جاتا ہے جو اس ادبی جوڑے اور ان کے بعد آنے والے لکھاریوں خاص طور پر خواتین لکھاریوں کی تحریروں میں موجود ہیں ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نیلم صاحبہ کی تحریر کی تعریف میں ایک محترمہ بہت سی خواتین لکھاریوں کو ’’بانو قدسیہ کے بیان کردہ فرائض زوجیت کو خوب پروان چڑھانے ‘‘کا طعنہ دینے سے بھی باز نہیں آئیںاور ایک اور محترمہ نے اردو ادب میں موجود تمام عورت کش (misogynist)رویوں کے گناہ کا بار بانو قدسیہ پر ڈالتے ہوئے موجودہ زمانے کی مشہور مصنفہ عمیرہ احمداور اس قبیل کی دوسری لکھنے والیوں کو عورت دشمن تک کہہ ڈالا ۔ ایک اور صاحب سعید ابراہیم جو اپنی اقبال دشمنی میں تمام حدود پھلانگ چکے ہیں، نیلم کو ’’کچھ مقدس دیوتائوں کاپوسٹ مارٹم‘‘ کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ایک اور اسی سوچ کے حامل شخص بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے تصوف والے فلسفے سے برملا نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اس جوڑے کو منافقت کی زندگی جینے کا الزام بھی دیتے ہیں۔
میں نے ان خیالات کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا ہے تاکہ قارئین کو اس طرز فکر کا ادراک ہو سکے جو پاکستان میں اردو اور انگریزی ادب لکھنے والے بہت سے ادیبوں میں پایا جاتا ہے ۔ بدقسمتی سے اردو پڑھنے والے ایک بڑے طبقے کو ان خیالات اوران سے جڑے نظریہ حیات (world view)کا مکمل ادراک نہیں ہے جوخود کو ترقی پسند کہلوانے والے ’’ لبرل‘‘ ادیبوں کی صورت میں پاکستان کے ادبی منظر نامے پر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس خاص نقطہ نظر اور اس سے جنم لینے والے بہت سے سوالات کے، جس میں کچھ نہایت اہم اور Compelling ہیں ، مد لل جواب دینے کے لیے اردو میں لکھنے والے بہت کم اور انگریزی میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ میرے اپنے تعلیمی تجربے اور مشاہدے کے مطابق اس لبرل نظریے کے بہت سے علمبردارنہ صرف اردو بلکہ انگریزی اور دوسری علاقائی زبانوں میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنی تحریروں سے اپنے حلقہ اثر میں روز بروز اضافہ بھی کررہے ہیں ۔
میں یہ بات اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کر رہی ہوں جو ایک مشہور تعلیمی ادارے میں انگریزی ادب کی پوسٹ گریجویٹ کلاس کو پڑھاتے ہوئے مجھے پیش آئے اور جہاں طلبہ کی ایک نمایاں اکثریت نہ صرف ان تحریروں سے واقف ہے بلکہ ان سے متاثر بھی ہے ۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ ان کے خیالات بہت جاندار ہیں بلکہ اس لیے ہے کہ ان خیالات کی کوئی قابل ذکر اور ٹھوس تنقید (grounded critique) موجود نہیں ہے ۔ اس کی وجہ سے ادب کے ایک عام قاری کے پاس اس لبرل نظریے سے متاثر ہوئے بنا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کبھی ان طلبہ کے سامنے مقابل زاویہ نظر رکھا جائے تو وہ اپنے تنقیدی شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے غلط اور صحیح میں تمیزکرنے کے قابل ہوتے ہیں اور اس لبرل اور بہت حد تک subversiveطبقے کے بہت سے دلائل انہیں بو دے اور بے بنیاد محسوس ہونے لگتے ہیں ۔ فطرت کے قانون کے مطابق خالی جگہ (vacuum)کو کسی نہ کسی چیز سے پر ہونا ہوتا ہے لہٰذا افکارو نظریات کی جنگ کو اپنے بیانیے کے زور پر لڑنا ہوگا اور اس کے لیے مسائل اور سوالات خواہ وہ کتنے ہی حساس اور اختلافی کیوں نہ ہوں ان کا نہ صرف ادراک ضروری ہے بلکہ ان کے حل کے لیے روایت اور اقدار کی قابل عمل تشکیلِ نو (Reconstruction)بھی موجودہ زمانے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
جہاں تک نیلم کے اس مضمون اور اس پر کیے جانے والے تبصروں کا تعلق ہے تو ذاتیات سے بالا تر ہو کر ان میں جھلکنے والی طرز فکر کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ نیلم نے اپنے ذاتی پر خاش کی آڑ میں ادب کی ان قدروں اور رحجانات کو رد کیا ہے جو ہمارے معاشرے میں موجود ایک بڑی اکثریت کے لیے آج بھی نہ صرف اہم ہیں بلکہ ان سے ہماری قومی اور ملی شناخت کا براہ راست تعلق ہے ۔ ضیا ء الحق کی اسلامائزیشن کی مخالفت میں پاکستان کے لبرل دانشور (Intelligentsia)اس حد تک نکل گئے ہیں کہ وہ اسلام کے صحیح تصورات اور حدود ( جن کا تعلق حرام اور حلال اور ایمان اور کفر میں تمیز سے ہے ) کا انکار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ بد قسمتی سے ضیا الحق اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں کے شریعت اور دین کے خاص تصور نے پاکستان کی نظریاتی اساس کے متعلق ایسے شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں جن کا ازالہ موجودہ حالات میں بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ایک طرف تو اس تصورریاست نے دین اور اس سے جڑی اقدارکو اصل اسلام اوراس کی روح سے خلط ملط کردیا ہے کہ جس کا اظہاراس گمراہ کن اور conflationaryبیانیے کی صورت میں پاکستان کے لبرل طبقے کی تحریرو تقریر میں نظر آتا ہے ۔دوسری جانب اس پروپیگنڈے کے زیر اثرمعاشرے میں موجود ایک بڑی اکثریت جو آج بھی دین اورروایت سے نہ صرف جڑی ہوئی ہے بلکہ اپنی اجتماعی شناخت کے لیے اس کو نہایت اہم بھی سمجھتی ہے ،تذبذب اورفکری خلجان کا شکار ہو رہی ہے ۔ میرے خیال میں پاکستان کے لبرل طبقے کی سب سے بڑی کمزوری پاکستانی معاشرے کی ان اقدار روایات( جن میں سے بہت سی کا تعلق دین سے بھی ہے )سے مجرمانہ حد تک بے حسی اورلا تعلقی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے معاشرے اوراس کی اکثریت کی صحیح نمائندگی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لہٰذا وہ نامیاتی (organic)تعلق جو ایک زندہ معاشرے کے ادیب اوردانشور اپنے لوگوں اور ان کے مسائل سے رکھتے ہیں اس کی ایک ہلکی سی جھلک بھی پاکستانی معاشرے کے ان لبرل دانشوروں کے ہاں نہیں ملتی ۔جس کے نتیجے میں معاشرہ دن بدن فکری تنزل اور بے یقینی کا شکار ہو رہا ہے ۔
رہی بات بانوقدسیہ کے ناول میں حرام و حلال کی بحث سے تو میرے نزدیک ادب کی تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس بات سے اتفاق کرے گا کہ نیلم صاحبہ اوران کے حامیوں نے راجہ گدھ میں موجود حرام و حلال کے اس تمثیلی حصے کو سمجھے بغیر اس پر طنز و تنقید کے تیر چلا دیے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ راجہ گدھ کی اس سے زیادہ reductive Interpretation نہیں کی جا سکتی حالانکہ یقینا ًیہ اردو ادب کے ان چند Complex اور تہہ دار (Multilayered) ناولوں میں سے ہے جہاں مصنفہ نے حکمت، فلسفہ، وجدان اور ارتقاء جیسے گمبھیر مسائل پر بات کی ہے اور وہ بھی ایک ایسی تمثیلی زبان میں جس کا مقابلہ کسی بھی ادب کے بہترین تمثیلی شہ پاروں (allegorical novels) سے کیا جا سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ جو لوگ اس کہانی میں حرام رزق اور معذوری کے درمیان ایک سیدھا سادہ تعلق دیکھتے ہیں وہ دراصل ناول کی اصل اتھاہ سے ناواقف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بانو قدسیہ نے افراہیم کے کردار کے ذریعے معذوری اور ذہنی معذوری (abnormality) کے روایتی تصورات کو نہ صرف چیلنج کیا ہے بلکہ ارتقاء کے دو سِروں پر موجودخطِ فاصل (abnormalسےsupernormal) کو ایسے کمال طریقے سے جوڑا ہے جو شاعرانہ الہام کے بغیر ممکن نہیں۔ ناول کے آخری حصے میں حرام و حلال کے نقطے کو سمجھنے میں سرگرداں قیوم جب آفتاب اور اس کے بیٹے افراہیم سے ملتا ہے تو اپنے تمام تر علم اور مشاہدے کے باوجود وہ افراہیم کی وجدانی کیفیت کو پاگل پن سے تعبیر نہیں کر سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دیوانگی کی پہلی منزل پر کھڑا اس کا دل گواہی دیتاہے کہ دیوانگی کی آخری منزل پر سربسجدہ افراہیم در حقیقت وہ دیدہ ِبینا رکھتا ہے جس سے وہ اور اس جیسے بہت سے لوگ محروم ہیں ۔
رہا اس ادبی جوڑے کے تصوف کے فلسفے کو منافقت اور دو رنگی کا نام دے کر قابل اعتراض ٹھہرانے کا سوال تو میرے خیال میں ادبی دنیا کی کوئی شخصیت بھی اس دو رنگی سے خالی نہیں ہے۔ اردو ادب کے چند انتہائی قدآور ناموں پر ایسے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ ان کے ادبی نظریات ان کی اصل زندگی اور اس کی حقیقتوں سے لگا نہیں کھاتے بالخصوص فیض صاحب پر تو ایک عرصہ تک منافق ہونے کا الزام لگتا رہا کیونکہ اپنے تمام انقلابی اور اشتراکی فلسفے کے باوجود ان کی ذاتی زندگی کے ٹھاٹ باٹ دراصل اس بورژوائی نظام کا انعام تھا جس کے سب سے بڑے ناقد فیض خود تھے اور جس کی شکست وریخت کا اعلان وہ اپنی شاعری میں بارہا کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک ادیب اور شاعر کی حیثیت سے ان کے انقلابی پیغام کو صرف ان کی ذاتی زندگی کی روشنی میں نہ تو پرکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر رد کیا جا سکتا ہے کہ ان کی زندگی ان کے خیالات کی ترجمان اور عکاس نہیں تھی۔ بالکل اسی طرح بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی طرز زندگی کی آڑ میں ان کے ادبی نظریات کو خاص طور پر وہ جن کا تعلق تصوف اور روحانیت سے ہے، مکمل طور پر ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالا جا سکتا، وہ اس لیے کہ ایک ادیب کی فکر اوراس کا تصور حیات اس کی ذاتی زندگی سے بلند اور ماورا ہے، اور حقیقتاً اپنے اثر اور نفوذ کے اعتبار سے اس کی ذات، شخصیت، خاندان اور طرز زندگی کو out live بھی کرتا ہے اور Transcend بھی۔
فاضل مضمون نگار نے توبانو قدسیہ کو’’ پتی بھگت عورت‘‘ کہنے کے ساتھ ساتھ دونوں میاں بیوی کو’’ فرسودہ خیالات، رجعت پسند نظریات اور نان پروگریسو رویوں‘‘ کے فروغ کا ذمہ دار ہی ٹھہرایا ہے، مگر ان کے مضمون پر تبصرہ کرنے والوں نے تو بانو قدسیہ اور ان سے متاثر قلم کاروں کو’’ عورت دشمن ‘‘ خیالات پھیلانے کا الزام تک دے ڈالا ہے۔
بانو قدسیہ پر عورت دشمن ہونے کا الزام پہلے اعتراضات کی طرح ہی بے بنیاد محسوس ہوتا ہے جس کا رد ہمیں بانو کی تخلیق کردہ عورت کے کردار میں جابجا ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روایت اور اقدار کی پاسداری کا درس دینے کے باوجود بانو قدسیہ کے ہاں عورت نہ تو منافقانہ سماجی رویوں پر مطمئن نظر آتی ہے اور نہ ہی ان کو خاموشی سے قبول کرنے پر آمادہ۔ اس کے لیے راجہ گدھ میں موجود عابدہ کے کردار کا حوالہ دینا ہی کافی ہے جو سیمی کے برعکس بظاہر ایک گھریلو ،اورلبرل بیانیے کے مطابق ’’چار دیواری میں قید‘‘(domesticated) عورت ہے تاہم اپنی ذہانت خاص طور پر جذباتی ذہانت EQ) (کی بنیاد پر وہ نہ صرف ایک نمایاں کردار کے طور پر سامنے آتی ہے بلکہ اس کہانی کے سب سے اہم مرد کردار قیوم کو متاثر بھی کرتی ہے۔ میری اس رائے سے وہ سب لوگ جو راجہ گدھ کو ذرا غور سے پڑھ چکے ہیں اتفاق کریں گے کہ عابدہ کی صورت میں بانو قدسیہ نے عورت کے شعور اور ذات کی ان گنجلک گہرائیوں تک رسائی دی ہے جنہیں فیمنزم کا ایک مبتدی طالب علم بھی عورت کش نہیں کہہ سکتا۔ نہ صرف یہ بلکہ عابدہ اور اس جیسی بہت سی خواتین کردار بانو قدسیہ اور ان سے متاثر خواتین لکھاریوں کی تحریروں میں دیکھی جا سکتی ہیں جو موجودہ زمانے کی فیمنسٹ تعبیرات کے معیار پر نہ صرف پورا اترتی ہیں بلکہ اکثر اوقات نسائیت اور انسانیت سے متعلق ان سے برتر نمونہ پیش کرتی نظر آتی ہیں۔
اس کی ایک ہلکی سی جھلک موجودہ زمانے کی نامور ادیبہ عمیرہ احمد کے خواتین کرداروں میں دیکھی جا سکتی ہے جن کے بارے میںمضمون نگار کے خیالات کی تائید کرنے والوںنے لکھا کہ وہ کردار’’ فرائض زوجیت کی ادائیگی کے علاوہ کسی اور لائق نہیں ہیں‘‘۔جبکہ عمیرہ احمد کو پڑھنے والے آگاہ ہیں کہ وہ اپنے ناولوں میں ایسی مضبوط عورت کو پیش کرتی ہے جو نہ صرف ذاتی ذہانت اور دماغی صلاحیت کی مالک ہوتی ہے بلکہ دوسری طرف سماج کے غیر منصفانہ اور ظالمانہ رویوں کے خلاف بہادری سے علم بغاوت بلند کرتی ہے اور اس بغاوت کی قیمت دینے کے لیے بھی تیار ہوتی ہے۔ ایک عام شخص جو فیمنسٹ ادب کی ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھتا ہے، عمیرہ اور اس جیسی بہت سی لکھاریوں کی تحریر میں انگریزی ادب کی نمایاں ترین فیمنسٹ کرداروں (جیسے نَورا اور جین ایئر وغیرہ) کی جھلک دیکھ سکتا ہے ۔نہ صرف یہ بلکہ اپنے مخصوص دینی، سماجی اور ثقافتی پس منظر اور sensitivities distinction سے آراستہ یہ خواتین کردار انگریزی ادب کےgynocriticismکے معیار سے بڑھ کر ان خواتین لکھاریوں کے ذریعے تخلیق کیے جانے والے ادب کو ایک خاص شناخت اور مقام دیتے ہیں جو نہ صرف بہت empowering ہے بلکہ مشرقی معاشرے میں صنف کے نام پر ہونے والے بہت سے سٹیریوٹائپس کو رد کرتا ہے جو عورت کی پسماندگی کی بڑی وجہ ہیں۔
اس بات کی تائید میں صرف بانو ،اشفاق احمد کے قلم سے لکھے جانے والے شاہکار ڈرامہ’’ فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی‘‘ کا ذکر کرکے میں اپنی بات کو ختم کرتی ہوں۔ یہ ڈرامہ پی ٹی وی پر اپنے عروج کے زمانے میں نشر ہؤا جب موجودہ زمانے کے عامیانہ اور فارمولا ڈراموں کے برعکس پی ٹی وی کے معیاری اورزندگی سے جڑے تخلیقی ڈراموں نے دیکھنے والوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میرے بچپن کے دیکھے ہوئے ڈراموں میں یہ ایک یادگار ترین ڈرامہ تھا جو ہم نے اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر اپنے بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سیٹ پر دیکھا تھا۔ یہ ڈرامہ اپنی کردارنگاری، ڈائیلاگ اور سیٹ کے اعتبار سے پی ٹی وی کے کلاسیکی ڈراموں میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔اس میں ایک حساس اور ذہین نوعمرلڑکی فہمیدہ معاشرے کے طبقاتی نظام اور وسائل کی نامنصفانہ تقسیم پر بے چین ہوتی نظر آتی ہے۔جابجا ڈرامے میں استانی راحت سے پوچھے گئے فہمیدہ کے چبھتے ہوئے سوال کلاس اور سماج کے نام پر معاشی ناہمواریوں اور طبقاتی کشمکش کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ فہمیدہ کی زود حس اور ذہین شخصیت کی عکاسی بھی کرتے ہیں جس سے ڈرامے اور معاشرے دونوں میں رہنے والے بہت سے مرد حضرات محروم ہیں۔ پھرایک طرف اپنی خوددار لیکن بالکل سادہ زندگی پر احساسِ کمتری اور دوسری طرف نمودونمائش سے بھرپور امیرانہ طرز زندگی تک نارسائی کا احساس اس کو چکی کے دو پاٹوں کی طرح ایسے پیستا ہے کہ وہ آخرکار حساسیت اور غم وغصے کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی زندگی ختم کر لیتی ہے۔ تاہم اس کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات اور کشمکش کی کہانی ایک اور مضبوط عورت، اس کی ماں استانی راحت کے کردار میں ہم تک پہنچتی ہے جو معاشرے میں طبقاتی تقسیم سے جنم لینے والے ظالمانہ رویوںکے ہرممکن ذریعے کو اپنی معصوم بیٹی کا قاتل قرار دے کر مقدمہ درج کروانا چاہتی ہے۔
بانو قدسیہ پر عورت دشمن ہونے یا عورت کو روایت کی غلام بنانے کے الزام کے برعکس ، ان کے اس خاتون کردار کی معاشرے اور نظام پریہ تنقیداس ڈرامے کو ایک ایسی socially conscious critiqueکے طور پر پیش کرتی ہے جو اردو ادب میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ کلاس اور سماج کے ان ظالمانہ رویوں کو فہمیدہ کی حساس نظر کے آئینے میں دیکھتے ہوئے بہت سے لوگ اس ڈرامے کو فیض اور ساحر جیسے ترقی پسند اور انقلابی شعرا کی تخلیق کردہ تحریروں کے ہم پلہ سمجھتے ہیں جس میں اشتراکی فلسفے کی انقلابی روح موجود ہے۔ اس تقابل سے میرا مقصد مارکسی فلسفے کو برتر ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ اس بات کو نمایاں کرنا مقصود ہے کہ بانو قدسیہ اور ان جیسی بہت سی لکھاریوں کی تحریریں نہ صرف عورت دشمن (misogynist) نہیںبلکہ اس کے برعکس مشرقی عورت کی حساسیت، ذہانت اور شناخت کے ان پہلوئوں کو اجاگر کرتی ہیں جن سے موجودہ زمانے میں فیمینزم کا سطحی علم رکھنے والے بہت سے مرد و خواتین لکھنے والوں کا قلم ناآشنا ہے۔

ڈاکٹراسما آفتاب

٭ ٭ ٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here