ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

ادارہ بتول

پون صدی کی درخشندہ روایت

کھلتی کلیاں ۲ – نور نومبر ۲۰۲۰

شکر کی عادت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گائوں میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام عدنان تھا ۔ عدنان ایک اچھا انسان تھا ۔ اس کی ایک بیوی اور پانچ بچے تھے۔ وہ کافی خوشخال تھا اور اچھی زندگی بسر کر رہا تھا ۔ وہ کھیتی باڑی کرتا تھا اور خوب منافع کماتا تھا ۔ اس کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا۔ پھر ہوا یوں کہ اسے کاروبار میں خاصا نقصان ہوا اور اس کا سارا سرمایہ ڈوب گیا یہ غم تو ابھی کم تھا کہ اس کے دوچھوٹے بچے بخار میں مبتلا ہو گئے اور انتقال کرگئے ۔اسے ایسا صدمہ پہنچا کہ وہ ہر جگہ اپنی بد قسمتی کے رونے روتا تھا ۔ وہ بہت نا شکرا ہو گیا تھا، لوگ اسے سمجھاتے کہ یہ گناہ ہے مگر وہ باز نہ آیا ۔قسمت میں اورآزمائش لکھی تھی ۔ گندم کی فصل کو کاٹنے کے دن آنے والے تھے کہ اس کے ہمسائے کی توڑی میں آگ لگ گئی جو اس کی فصل تک جا پہنچی اور ساری فصل جل گئی ۔ وہ اس سے سبق حاصل کرنے کی بجائے مزید نا شکرا ہو گیا ۔ لوگ اُسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے۔ پر وہ بے عقل کا بے عقل ہی رہا ۔ ایک دن جب وہ جمعہ کی نماز پڑھنے گیا تو امام صاحب نے نہایت سبق آموز خطبہ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت موسیٰؑ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے جا رہے تھے کہ راستے میں آپ علیہ السلام کو ایک شخص ملا جو شکل و صورت سے بہت امیر لگ رہا تھا ۔ اس نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ میں بہت مالدار ہوں اتنا کہ مجھے مال رکھنے کی جگہ نہیں ملتی۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے پوچھیں کہ میرا مال کیسے کم ہو سکتا ہے ۔ پھر آگے آپ علیہ السلام کو ایک شخص ملا جو ننگا تھا اور اپنا جسم ریت میں چھپائے بیٹھا تھا اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھیں کہ میرے پاس اتنا کم رزق کیوں ہے ؟ آپ علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ سے ان کے بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ’ موسیٰؑ اُن سے کہنا جو کم رزق چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نا شکری کرے او رجو زیادہ رزق چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔‘‘ آپ علیہ السلام جب ان کے پاس گئے اور ان کو ان کی مشکل کا حل بتایا تو جو امیر تھا وہ کہنے لگا ’’ میں اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہ ادا کروں جس نے مجھے یہ سب کچھ دیا ہے ‘‘ تو اس کا مال زیادہ ہونے سے نہ رکا اور جسے شکر کرنے کا حکم دیا اس نے کہا کہ ’’ میں کس بات کاشکر ادا کروں ۔ مجھے اللہ نے دیا ہی کیا ہے ؟‘‘ جب اس نے یہ بات کہی تو وہ جس ریت میں اپنا جسم چھپائے بیٹھا تھا ، وہ ریت بھی ہوا اڑا کر لے گئی ۔ اس سبق آموز کہانی نے عدنان کے دل پر بہت اثر کیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا شروع کردیا ۔ آہستہ آہستہ اس کے حالات بہتر ہو نے لگے اور وہ پھر سے خوشحال ہو گیا۔

(اسماء شبیر ۔فیصل آباد)

٭…٭…٭

نعت

کبھی بیدار یقینا مری قسمت ہو گی
یعنی اک روز مدینے کی زیارت ہو گی

اپنی شدت پہ جو محشر کی تمازت ہو گی
سب کو اس سایہ داماں کی ضرورت ہو گی

خاک یثرب کو میں آنکھوں سے لگائوں اک دن
دوستو اس کے سوا بھی کوئی حسرت ہو گی

سرورِ دیں جو وہیں ہوں گے شفاعت کے لیے
وہ قیامت بھی کسی صبح کی صورت ہو گی

دوستو! حُبِ شہ دیں کو کرو مشعلِ راہ
نہ کرو گے تو شریعت سے بغاوت ہو گی

(شاعر: حسرت حسین حرست)
پسند: غالب فاروق

٭…٭…٭

:شیئر کریں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on linkedin
0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x